Lust and thirst-18-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 18

پائل: “آرام سے، ابھی سویا ہے۔ کچی نیند میں ہوگا۔” 

روی: یار، تھکان سے جان نکلی جا رہی ہے۔ 

پائل: (منہ بناتے ہوئے) تو پھر ایسا کام کرتے ہی کیوں ہو۔ کوئی اور کام کر لو۔ 

روی: پاگل ہو کیا۔ پتہ ہے کل کتنا منافع ہوا ہے؟ 

پائل: (خوش ہوتے ہوئے) کتنا جانو؟ 

روی: (ہنستے ہوئے) اچھا، پیسوں کا نام آتے ہی جناب کا مزاج بدل گیا۔ 

پائل: جی، بتاؤ نا۔ 

روی: کل ہماری 8 بھینسیں بک گئیں۔ ہر بھینس سے 5000 کا منافع ہوا ہے۔ کل ملا کر 40000 کا منافع ہوا ہے۔ 

پھر روی اپنی جیب سے 15000 روپے نکال کر پائل کو دیتا ہے اور کہتا ہے، 

روی: یہ لو، منافع کے 15000 روپے۔ 

پائل: اور باقی کے 5000؟ 

روی: وہ میرے پاس ہیں۔ منڈی میں کبھی بھی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ 

پائل: اچھا ٹھیک ہے۔ 

روی: آج 10 بھینسیں اور خریدی ہیں۔ بس ان کے اچھے پیسے مل جائیں تو اس منڈی سے ہماری بلے بلے ہو جائے گی۔ 

پائل اٹھ کر الماری میں پیسے رکھ کر واپس بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔ روی بھی آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا۔ 

پائل: جی، سو گئے کیا؟ 

روی: ہوں یار، بہت نیند آ رہی ہے۔ شام ہوتے ہی پھر سے جانا ہے۔ تھوڑا آرام کرنے دو۔ 

تھوڑی دیر بعد روی گھوڑے بیچ کر سو جاتا ہے۔ پائل کی ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ نیہا دروازے پر دستک دیتی ہے۔ 

پائل: ارے بھابھی، آؤ نا اندر۔ 

نیہا: وہ تمہاری ماں کا فون آیا۔ آ کر بات کر لو۔ 

پائل اٹھ کر نیہا کے ساتھ اس کے روم میں آ گئی۔ وہاں کلونت سنگھ اور ساحل بیڈ پر سو رہے تھے۔ پائل نے ریسیور کان پر لگایا اور کہا، 

پائل: ہاں بولو ماں، کیا بات ہے؟ 

نیلم: (دوسری طرف فون پر) بیٹا، تمہارے ماما کا فون آیا تھا۔ 

پائل: ہاں، کیا کہہ رہے تھے ماما جی؟ 

نیلم: تیرے بھائی (پائل کے ماما کا لڑکا) موہت کے لیے لڑکی دیکھی ہے اب  ان کی منگنی پر بلا رہے ہیں۔ ہم سب جا رہے ہیں، تو بھی ساتھ چل۔ 

پائل: نہیں ماں، میں نہیں جا پاؤں گی۔ آپ کو تو پتہ ہے نا ماں، گھر پر کتنا کام ہوتا ہے۔ 

نیلم: ہاں جانتی ہوں۔ مجھے پتہ تھا، تو منع کر دے گی۔ اچھا سن پھر  ایک کام تو کر دے میرا۔ 

پائل: ہاں بولو ماں۔ 

نیلم: بیٹا، ہم تو سب جا رہے ہیں۔ پیچھے گھر پر کوئی نہیں رہے گا۔ تو تُو شام کو ادھر آ جانا۔ بھینسوں کو پانی اور چارہ ڈال دینا۔ اور ہاں، رات کو وہیں سو جانا۔ تجھے تو پتہ ہے، آج کل کتنی چوریاں ہو رہی ہیں۔ 

پائل: ٹھیک ہے ماں، میں ادھر آ جاؤں گی۔ 

جیسے ہی پائل کی ماں نے اس سے اپنے یہاں رات کو رکنے کے لیے کہا، پائل کا شیطانی دماغ جہاز  کی رفتار پر دوڑنے لگا۔ پھر اس کے ہونٹوں پر لمبی مسکراہٹ پھیل گئی۔ نیہا بیڈ پر بیٹھی پائل کو دیکھ رہی تھی۔ 

نیہا: کیا بات ہے، کس بات پر خوش ہو رہی ہو؟ 

پائل: وہ دیدی، میرے ماما کے لڑکے کی منگنی ہے، سب وہاں جا رہے ہیں۔ 

نیہا: اچھا، یہ تو بہت خوشی کی خبر ہے۔ تُو بھی جائے گی ساتھ میں؟ 

پائل: نہیں دیدی، میں نہیں جا رہی۔ 

نیہا: ارے کیوں؟ 

پائل: دیکھو نا دیدی، اتنی گرمی ہے، اور تمہیں تو پتہ ہے ونش گرمی میں کتنا تنگ کرتا ہے۔ وہاں پر بھیڑ بھاڑ ہوگی، تو اور تنگ کرے گا۔ 

نیہا: ہاں وہ تو ہے۔ 

پائل: ہاں، وہ ماں کہہ رہی تھیں کہ رات کو میں ان کے یہاں چلی جاؤں۔ اور رات کو وہیں سو جاؤں کیونکہ آج کل بہت چوریاں ہو رہی ہیں۔ 

نیہا: ہاں تو چلی جانا نا۔ ویسے بھی ان دونوں بھائیوں نے تو شام کو ہی نکل جانا ہے۔ 

پائل: مگر دیدی، میں وہاں اکیلی کیسے رہوں گی؟۔۔ نہیں مجھے ڈر لگتا ہے اکیلے۔ 

نیہا: ارے تو کیا ہوا۔ ساحل کو ساتھ لے جا۔ 

نیہا کی یہ بات سنتے ہی پائل کے دل کے ستار جھنجھنا اٹھے۔ نیہا نے تو خود اس کی دل کی مراد پوری کر دی تھی۔ لیکن وہ  پھر بھی  ایسے دکھاوا کر رہی تھی جیسے اسے نیہا کی بہت فکر ہو۔ 

پائل: لیکن  دیدی، آپ بھی تو گھر میں اکیلی ہو جاؤ گی۔ 

نیہا: ارے میری چھوڑ، ویسے بھی میں مالا کو بلا لوں گی یہاں سونے کے لیے۔ 

پائل: ٹھیک ہے دیدی۔ میں شام کو ساحل کے ساتھ چلی جاؤں گی۔ 

اس کے بعد پائل اپنے روم میں آ جاتی ہے۔ آج پائل دل ہی دل میں بہت خوش تھی۔ رات کے بارے میں سوچ کر ابھی سے اس کی چوت میں کلبلہٹ ہو رہی تھی۔ دوسری طرف نیہا بھی بہت خوش تھی کیونکہ آج مالا اس کے ساتھ سونے والی تھی۔ مالا کا گھر ان کے پڑوس میں ہی تھا۔ اس کا شوہر ہر وقت نشے میں ڈوبا رہتا تھا۔ 

اور مالا بھی اپنی چوت کی آگ کو لے کر پریشان تھی۔ اسی لیے مالا اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے نیہا کے پاس آ جاتی تھی۔ پھر مالا اور نیہا ایک دوسرے کی آگ بجھانے کا ذریعہ بن گئے۔ دونوں ایک دوسرے کی چوتوں  کو خوب چوستیں، انگلی کرتیں، اور اپنے تن کی آگ ٹھنڈی کرتیں۔ 

اسی لیے نیہا بھی بہت خوش تھی کیونکہ کلونت کے حالات بھی اپنے بھائی جیسے ہو گئے تھے۔ پہلے کلونت سنگھ کچھ اور کام کرتا تھا۔ اور  دو سال پہلے جب اس کا کام بند ہو گیا تو وہ اپنے بھائی کے ساتھ بھینسوں کے کاروبار میں لگ گیا تھا۔ تب سے نیہا بھی پائل کی طرح چداسی ہو گئی تھی۔لیکن  پائل کو اس بات کی بھنک تک نہیں تھی کہ نیہا اور مالا کے بیچ ایسی کوئی بات ہے۔ 

شام کے 4 بجے کلونت سنگھ اور روی جانے کے لیے تیار ہونے لگے۔ پائل اور نیہا نے مل کر کھانا بنایا۔ اور کلونت سنگھ اور روی کھانا کھا کر منڈی کے لیے شہر نکل گئے۔ جیسے ہی دونوں مرد گھر سے باہر گئے، پائل رات کے بارے میں سوچ سوچ کر مچلنے لگی۔ اور جلدی جلدی کام نپٹا کر اپنی ماں کے گھر جانے کی تیاری کرنے لگی۔ 

 ساحل کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔ وہ پہلے ہی اسکول کے گراؤنڈ میں جا چکا تھا۔ پائل تیار ہو کر اپنے ساتھ کچھ سامان لے آئی۔ اور نیہا کے روم میں آ کر ساحل کے بارے میں پوچھنے لگی۔ 

پائل: دیدی، ساحل کہاں ہے؟ 

نیہا: کھیلنے گیا ہوگا۔ کچھ کام تھا کیا؟ 

نیہا جب پائل کی طرف دیکھتی ہے، وہ جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ 

نیہا: اوہ، میں تو بھول ہی گئی۔ میں نے ساحل کو بتایا ہی نہیں کہ اسے تمہارے ساتھ جانا ہے۔ 

پائل: وہ  گیا کہاں ہے؟ 

نیہا: تُو بیٹھ، میں جا کر دیکھتی ہوں۔ 

نیہا باہر آ کر گلی میں دیکھنے لگی۔ باہر کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ نیہا نے انہیں آواز لگائی تو ایک لڑکا نیہا کے پاس آیا۔ 

لڑکا: جی آنٹی۔ 

نیہا: تم نے ساحل کو دیکھا ہے؟ 

لڑکا: ہاں، تھوڑی دیر پہلے بیٹ پکڑ کر اسکول کی طرف جا رہا تھا۔ 

نیہا: جا، اسے بلا لا، جائے گا بلانے؟ 

لڑکا: جی آنٹی، ابھی بلا کر لاتا ہوں۔ 

نیہا: کہنا کہ اسے ممی بلا رہی ہے۔ ضروری کام ہے، جلدی ساتھ لے آنا۔ 

وہ لڑکا دوڑتا ہوا گراؤنڈ کی طرف چلا گیا۔ نیہا اندر آ کر اپنے روم میں آ گئی جہاں پائل بیٹھی ہوئی تھی۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page