Lust and thirst-19-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 19

پائل: کہاں ہے دیدی، ساحل؟ 

نیہا: گراؤنڈ میں گیا ہے۔ پڑوسی کے لڑکے کو بھیجا ہے بلانے کے لیے۔ 

تبھی باہر اچانک تیز ہوا چلنے لگتی ہے۔ نیہا دوڑ کر چھت پر چلی گئی۔ پائل بھی ونش کو بیڈ پر لٹا کر نیہا کے ساتھ اوپر آ گئی اور کپڑے اتارنے لگی۔ ہوا تیز ہوتے ہوئے آندھی کا روپ لے چکی تھی۔ دور آسمان میں کالے بادل اُمنڈ رہے تھے اور اسی طرف آ رہے تھے۔ 

نیہا: لگتا ہے بارش ہونے والی ہے۔ 

پائل: ہاں دیدی، پر اب میں کیسے جاؤں گی؟ 

نیہا: چل پہلے نیچے چلتے ہیں۔ یہ ساحل بھی ابھی تک نہیں آیا۔ 

جیسے ہی دونوں نیچے آئیں، ساحل گیٹ سے اندر داخل ہوا اور نیہا کے پاس آ کر بولنے لگا، 

ساحل: کیا ہوا ماں، کیوں بلایا؟ 

نیہا: ارے، میں تجھے بتانا بھول گئی کہ تجھے چچی کے ساتھ ان کے مائیکے جانا تھا۔ ان کے گھر پر کوئی نہیں ہے۔ تم دونوں رات کو وہیں سو جانا۔ 

پائل: پر بھابھی، باہر تو بارش شروع ہو گئی ہے۔ اب کیسے جائیں گے؟ 

نیہا: تھوڑا انتظار کر لے، بارش رُک جائے گی۔ 

پائل: (دل ہی دل میں بڑبڑاتے ہوئے) پتہ نہیں کب بارش رُکے گی اور میری پھدی پر کب ساون برسے گا۔ 

شام کے 7 بجے تک بارش ہوتی رہی۔ بادل ہونے کی وجہ سے اندھیرا بھی جلدی ہوگیا تھا۔ اور تھوڑی دیر بعد بارش دھیرے دھیرے رُک گئی۔ پائل تو تب سے باہر نظریں جمائے ہوئی تھی۔ جیسے ہی بارش بند ہوئی، پائل ونش کو گود میں اٹھا کر کھڑی ہو گئی۔ 

پائل: دیدی، بارش رُک گئی ہے۔ اب مجھے چلنا چاہیے۔ 

نیہا: اچھا ٹھیک ہے، دھیان سے جانا۔ اندھیرا ہو گیا ہے۔ 

پائل: ٹھیک ہے دیدی۔ 

پھر پائل اور ساحل گھر سے نکل کر آگے بڑھنے لگے۔ ساحل کا اسکول دونوں گاؤں کے بیچ میں تھا۔ وہ لگ بھگ آدھا راستہ طے کر چکے تھے۔ کہ بارش پھر سے شروع ہو گئی۔ پہلے ہلکی سی پھوار پڑتی رہی اور پھر اچانک سے بارش تیز ہو گئی۔ 

پائل نے اپنے ساتھ چھتری لے رکھی تھی اور چھتری کھول کر ونش کے اوپر کر دی۔ بارش اتنی زوردار تھی کہ وہ نہ تو خود کو اور نہ ہی ونش کو بھیگنے سے بچا پائی۔ دونوں تیز قدموں سے چلتے ہوئے کسی نہ کسی طرح پائل کے مائیکے پہنچ گئے۔ پائل کی ماں نے اسے بتایا تھا کہ وہ گھر کی چابیاں اپنی پڑوسن کو پکڑا کر جائیں گی۔ 

پائل نے پڑوس کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، تھوڑی دیر بعد عورت نے دروازہ کھولا اور اسے اندر آنے کو کہا۔ لیکن  اب پائل بہت جلدی میں تھی، اس لیے اس نے اندر جانے سے منع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ گھر کی چابیاں لے آئی۔ پائل نے چابیاں لیں اور گیٹ کھول کر ساحل کے ساتھ اندر آ گئی۔ 

پائل: (ساحل کو تالا پکڑاتے ہوئے) ساحل، یہ لگا دے۔ 

ساحل نے تالا لگایا اور پھر اندر آ کر پائل نے اس روم کو کھولنے کو کہا جہاں اس کی ماں سوتی تھی۔ ساحل نے جلدی سے دروازہ کھولا، اور پائل نے اندر آتے ہی ونش کو ساحل کی بانہوں میں پکڑا دیا۔ پھر جلدی سے بیگ کھول کر ونش کے کپڑے نکال کر دوسرے کپڑے پہنا دیے۔ 

بچے اکثر پیشاب کر کے کپڑے گیلے کر دیتے ہیں، اسی لیے پائل اس کےچند  سوٹ ساتھ لے کر آئی تھی۔ کپڑے پہنانے کے بعد اس نے بیڈ پر ونش کو لٹا دیا۔ ونش کو جیسے ہی تھوڑی سی گرماہٹ ملی، ویسے ہی وہ سو گیا۔  ساحل اور پائل بھی  بھیگے ہوئے تھے۔ وہ تو بیڈ پر بیٹھ کر بیڈ بھی گیلا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ 

پائل نے روم میں ادھر ادھر دیکھا تو اس کی نظر سامنے پڑے ٹیبل پر رکھے تولیے پر پڑی۔

پائل: “تو ساحل، کپڑے اتار کر وہ تولیہ لپیٹ لے۔”

ساحل: چچی، مجھے بہت زور سے پیشاب لگا ہے۔ تولیہ بھی گیلا ہو جائے گا۔ اگر باہر گیا تو۔۔۔ 

پائل: تو جا نا، پہلے جا کر پیشاب کر آ۔ 

ساحل: (باہر کڑکتی ہوئی بجلی کو دیکھ کر) نہیں، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ 

پائل: (ہنستے ہوئے) کیا ڈرتا ہے، اتنا بڑا ہو گیا اور ڈرتا ہے۔ 

ساحل: کہاں بڑا ہو گیا ہوں۔ ابھی تو چھوٹا ہوں۔ یہ دیکھو۔ 

ساحل اپنے کندھے کو چچی کے کندھوں تک اوپر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔  پائل کا قد بھی گیتا کی طرح لمبا تھا۔ وہ گیتا سے قد میں صرف ایک انچ کم تھی۔ اس لیے ساحل محض اس کے کندھوں تک ہی تھا۔

پائل: (ہونٹوں پر قاتلانہ مسکراہٹ لاتے ہوئے)  لیکن  تیرا وہ تو ابھی سے کھڑا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ 

ساحل چچی کی بات سن کر جھینپ جاتا ہے اور اپنا سر جھکا لیتا ہے۔ 

پائل: ہائے اوئے، صدقے جاواں، ساڈا ساحل شرماتا بھی ہے۔ چل، تینوں موت کروا کے لے آؤں۔ 

پھر پائل ساحل کا ہاتھ پکڑ کر باتھ روم کی طرف جانے لگی۔ باتھ روم میں پہنچ کر ساحل سے کہتی ہے،

پائل:  “چل نکل اپنی للی اور موت لے۔” 

ساحل: پہلے تم ادھر منہ کرو۔ 

پائل: (مسکراتے ہوئے) کیوں، مجھ سے شرم آ رہی ہے؟ 

ساحل: ہاں۔ 

پائل: اچھا پتر، جب میرے ممے چوستا ہے تب شرم نہیں آتی۔ چل کر جلدی، نہیں تو میں تیرا نیکر اتاروں گی۔ 

ساحل: نہیں رہنے دو، میں خود کر لیتا ہوں۔ 

نیلم کے مائیکے کے گھر میں جو باتھ روم تھا، اس کے اندر ٹوائلٹ نہیں تھا۔ اس کے گھر والے باتھ روم کو صرف نہانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ٹوائلٹ گیٹ کے پاس بنا ہوا تھا۔ اور ساحل اور پائل باتھ روم میں تھے۔ پائل کو اپنے اوپر پڑتی بارش کی بوندیں آج اور بھڑکا رہی تھیں۔ اس کی چوت میں کلبلہٹ اور بڑھ چکی تھی۔ 

باتھ روم کے اوپر چھت کی جگہ پرانے دروازے رکھے ہوئے تھے، جس سے باتھ روم کی آدھی چھت ہی ڈھکی ہوئی تھی۔ اور آدھی چھت سے بارش کی موٹی موٹی بوندیں نیچے گر رہی تھیں۔ 

پائل اندھیرا ہونے کی وجہ سے صاف نہیں دیکھ پا رہی تھی۔ اوپر سے باتھ روم میں لائٹ کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ پھر پائل کے کانوں میں ساحل کے پیشاب کی فرش پر گرنے کی آواز آئی تو پائل نے شرارتی انداز میں آگے بڑھ کر ساحل کے ساتھ جا کر کھڑی ہو گئی۔ 

ساحل: چچی، اُدھر دیکھو نا۔ 

پائل: (نیچے پنجوں کے بل بیٹھتے ہوئے) کیوں رے، مجھ سے کیوں شرما رہا ہے؟ 

یہ کہتے ہوئے، پائل اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر ساحل کے لنڈ کو مٹھی میں بھر لیتی ہے اور ہلکے ہلکے سہلاتے ہوئے بولی،

پائل: “اچھا اگر تمہیں شرم آتی ہے تو یہ کیوں کھڑا کر رکھا ہے؟” 

ساحل چچی کی یہ بات سن کر جھینپ گیا۔ ساحل اب پیشاب کر چکا تھا۔ پائل نے اسے اپنی طرف گھماتے ہوئے اپنے سے چپکا لیا۔ ساحل کا تنا ہوا لنڈ پائل کی قمیض کے اوپر سے اس کی چھاتیوں کے درمیان رگڑ کھانے لگا۔ 

پائل: (ساحل کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے گالوں کو چومتے ہوئے بولی) آج پیے گا دودھ میرا؟ 

ساحل نے پائل کے چہرے کی طرف دیکھا، جو اندھیرا ہونے کی وجہ سے صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ لیکن پائل کا چہرہ ہوس کی وجہ سے لال ہو کر دہک رہا تھا۔ ساحل نے ہاں میں گردن ہلا دی۔ پائل جھٹ سے کھڑی ہو گئی اور ساحل کے دیکھتے ہی دیکھتے، اس نے اپنی قمیض اتار کر پھینک دی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page