Lust and thirst-22-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 22

پائل  ساحل کے گالوں کو چومتے ہوئے ایک پل کے لیے رکی، پھر اچانک ساحل کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بھر لیا۔ باہر آسمان میں پھر سے بجلی کوند گئی۔ پورا آسمان بجلی کے کوندنے کی آواز سے گڑگڑا اٹھا۔ اور نیچے پائل اور ساحل کے ہونٹوں کے ملاپ میں بھی ویسی ہی بےقراری تھی۔ جیسے ہی پائل نے ساحل کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوما تو ساحل کو اس کا پہلا کس یاد آ گیا جب اس نے اور گیتا نے بہت دیر تک ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چوسا تھا۔ ساحل  انہیں   خیالوں میں کھوئے ہوئے، پائل کے نچلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں بھر لیا اور زور زور سے اس کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے اس کے ہونٹوں کا رس پینے لگا۔ ساحل کی اس حرکت سے پائل ایک دم سے حیران رہ گئی۔ لیکن اس نے ساحل کو بغیر کچھ کہے اپنے ہونٹوں کا رس پینے کی کھلی آزادی دے دی۔ 

ساحل پائل کے نچلے ہونٹ کو بڑے زور زور سے چوس رہا تھا۔ پائل کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ساحل اس کے ہونٹوں کو اتنے زبردست طریقے سے چوس سکتا ہے۔ ساحل کے اس طرح ہونٹ چوسنے سے اس کے جسم میں ہوس کی خماری اور بڑھ گئی تھی۔ پائل کی چوت ساحل کے لنڈ کو اندر ہی اندر کس کے دباتی تو کبھی ڈھیلا چھوڑ دیتی۔ 

پائل کے منہ سے گھٹی ہوئی سسکیاں لگاتار نکل رہی تھیں، اور پائل اپنے دونوں ہاتھوں سے ساحل کے سر کو سہلاتے ہوئے، اپنے ہونٹوں کو چسوا کر نہال ہو رہی تھی۔ پائل کی چوت اب آگ اگلنے لگی تھی، اور اب اس سے صبر نہیں ہو رہا تھا۔ اس نے نیچے سے اپنی گانڈ کو دھیرے دھیرے اوپر کی طرف اٹھانا شروع کیا۔ مگر ساحل ویسے ہی لیٹا ہوا چچی کے ہونٹوں کو چوس رہا تھا۔ 

جب پائل نے نیچے سے اپنی گانڈ کو ہلانا شروع کیا تو پائل کی چوت کی دیواریں ساحل کے لنڈ پر رگڑ کھانے لگیں۔ ایک عجیب سی سرسراہٹ ساحل کے لنڈ میں دوڑ گئی۔ اس نے پائل کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹوں کو الگ کیا اور پائل کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔ پائل نے اپنی آنکھیں کھول کر ساحل کی طرف دیکھا۔ اس نے اپنی کمر نیچے سے ہلانی بند کر دی۔ 

جیسے ہی پائل نے اپنی آنکھیں کھولیں، ساحل پھر سے پائل کے ہونٹوں پر جھک گیا، اور اس بار پائل کے اوپر والے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں بھر کر چوسنا شروع کر دیا۔ پائل کے لیے یہ ایک اور چونکا دینے والا لمحہ تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس نے اس طرح کسنگ کرنا کہاں سے سیکھا ہوگا۔ 

لیکن اس وقت پائل نہ تو کچھ بولنے کے موڈ میں تھی اور نہ ہی کچھ پوچھنے کے، وہ تو اپنی چوت کی آگ کو بجھانے کے موڈ میں تھی۔ اس نے پھر سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ پائل کے ہونٹ کھلے ہوئے تھے۔ پھر اچانک ساحل نے اپنی زبان پائل کے منہ میں ڈال دی۔ پائل کو ایک کے بعد ایک جھٹکے پر جھٹکے لگ رہے تھے۔ 

اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ جس ساحل کے ابھی جھانٹ کے بال نہیں اُگے، وہ اتنی سی عمر میں اتنا سب کیسے سیکھ گیا۔ لیکن جو بھی تھا، پائل کو ساحل کی ہر حرکت مست کر رہی  تھی۔ اور پائل اپنی گانڈ کو دھیرے دھیرے اوپر اچھالنے لگی۔ آخر جب اس سے برداشت نہیں ہوا تو اس نے ساحل کے کان میں کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔

پائل: ساحل پتر، مار نا میری۔ 

ساحل: (اپنے ہونٹوں کو پائل کے ہونٹوں سے ہٹاتے ہوئے) کیسے چچی؟ 

پائل: اوہ ساحل، اپنا لن میری پھدی دے اندر باہر کر۔ 

ساحل نے دھیرے دھیرے اپنا لنڈ باہر نکالا۔ جیسے ہی ساحل کا لنڈ ٹوپا تک پائل کی چوت سے باہر آیا، پائل ایک دم سے سسکتے ہوئے، “بس ساحل، امہہہہہہ۔۔ آہہہہہہہ۔۔ اب پھر سے ڈال دے پورا اندر آہہہہہہہ۔”

ساحل نے جیسے ہی اپنی کمر کو آگے کی طرف دبایا، ساحل کا لنڈ پھر سے پھسلتا ہوا پائل کی گیلی چوت میں سما گیا۔ پائل اپنی چوت کی دیواروں پر ساحل کے لنڈ کی رگڑ کو محسوس کرتے ہوئے سسک اٹھی۔ اس نے بھی اپنی زبان کو ساحل کے منہ میں ڈال دیا۔ اور وہ جیسے اس پل کا انتظار کر رہا تھا، اس نے پائل کی زبان کو اپنے منہ میں بھر کر چوسنا شروع کر دیا۔ پائل ایک دم سے مست ہو گئی۔ اس کے منہ سے گھٹی گھٹی سسکیاں نکلنے لگیں۔ 

ساحل دھیرے دھیرے اپنا لنڈ اندر باہر کرنے لگا۔ پائل تو جیسے لذت کے سمندر  میں پہنچ گئی تھی۔ باہر سے جب ٹھنڈی اور تیز ہوا کے ساتھ بارش کے بوچھاڑ آ کر پائل کے جسم سے ٹکراتی، پائل ایک دم سے مست ہو کر ساحل کو اپنے سے اور چپکا دیتی۔ 

پائل بھی اپنی گانڈ کو تیزی سے اوپر اچھال کر اپنی چوت کو ساحل کے لنڈ پر پٹخنے لگی۔ ساحل نے اپنے ہونٹوں کو پائل کے ہونٹوں سے الگ کیا اور پھر اپنی کمر کو آگے پیچھے کرتے ہوئے، پائل کی چوت کے اندر باہر کرنے لگا۔ 

پائل: اوہہ اوہہ ساحل مار لے اپنی چچی دی پھدی۔۔ آہہ مار ۔۔زور دی مار۔۔ پھاڑ دے میری پھدی۔ 

ساحل چچی کی باتیں سن کر اور جوش میں آ گیا اور اپنی کمر کو اور تیزی سے ہلانے لگا۔ اس کا لنڈ پائل کی چوت میں رگڑ کھاتا ہوا اندر باہر ہونے لگا۔ پائل کی چوت سے نکل رہے پانی سے ساحل کا لنڈ ایک دم گیلا ہو گیا تھا اور بغیر کسی رکاوٹ کے اندر باہر ہو رہا تھا۔ 

پائل: آہہہہہہہ ہاں میرے شیرا۔۔ ایسے مار اپنی چچی دی پھدی۔۔ آہہ مار لے۔۔ میں اپنے شیر نوں روز دؤاں گی آہہہہہ آہہہہہہ سیییییی ماں۔۔ تُوں تُوں آہہہہہ لے گے نا میری روز۔ 

ساحل تو جیسے کچھ سن ہی نہیں رہا تھا۔ وہ لگاتار کمر ہلاتے ہوئے چچی کی چوت میں اپنا لنڈ ٹھوکتا جا رہا تھا۔ تبھی اچانک سے پائل کا بدن اکڑنے لگا۔ اس نے ساحل کے کندھوں کو کس کے پکڑ لیا اور تیزی سے اپنی گانڈ کو اوپر کی طرف اچھالنے لگی۔

پائل: “آہہہہہہ ساحل آہہہہہہہ دیکھ میری پھدی دا کم ہون والا آہہہہہہ سی زور نال مار اپنی چچی دی پھدی۔”

پائل نے اپنی دونوں ٹانگوں کو ساحل کی کمر پر لپیٹتے ہوئے، اپنی گانڈ کو پوری طاقت سے اچھالتے ہوئے اپنی چوت کو ساحل کے لنڈ پر پٹخنا شروع کر دیا۔ ساحل بیچارے کا تو ہلانا بھی مشکل ہو گیا۔ لیکن  اپنی چچی کو اس طرح چدتے دیکھ ساحل بھی مدہوش ہو گیا۔ 

پائل: آہہہہہہ ساحل اییییییی لے میں آئی آہیییییہ اوہییییییہ ہائے اوئے میری پھدی آہہہہہہ آہہہہہہہ گئی میں۔ 

پائل کانپتے ہوئے جھڑنے لگی۔ اس نے اپنی بانہوں میں ساحل کو زور سے کس لیا۔ اسے اپنی چوت کے اندر ایک سیلاب سا اُمڑتا ہوا محسوس ہوا۔ لیکن ساحل تو ابھی تک جھڑا نہیں تھا۔ 

پائل بدحواس سی ساحل کے نیچے لیٹے ہوئے، اس کی پیٹھ کو اپنے ہاتھوں سے سہلا رہی تھی۔ اسے اپنی چوت میں ابھی بھی ساحل کے تنے ہوئے لنڈ کا احساس ہو رہا تھا۔ اس نے اپنی آنکھیں کھول کر ساحل کے چہرے کی طرف دیکھا، جو حیرت   کے ساتھ اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ 

پائل: (ہونٹوں پر پیار بھری مسکراہٹ لاتے ہوئے) ہائے اوئے سونیا، تُوں تاں کمال کر دیتا۔ مزہ آ گیا۔ تیرا ابھی تک نہیں ہوا نا۔ چل ہٹ، میں تیرا پانی نکالتی ہوں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page