Lust and thirst-23-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 23

پائل کی بات سن کر ساحل پائل کے اوپر سے ہٹ گیا۔ پائل کی چوت کے پانی سے لتڑا  ہوا ساحل کا لنڈ 0 واٹ بلب کی روشنی میں چمکنے لگا۔ اپنے لنڈ پر لگے پائل چچی کی چوت کے پانی کو ساحل بڑی حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔ 

پائل: ساحل، یہ میری پھدی دا پیار ہے جو اس نے تیرے لنڈ نوں دیا ہے۔ 

یہ کہتے ہوئے اس نے ساحل کو نیچے بستر پر پیٹھ کے بل لیٹنے کو کہا۔ ساحل بستر پر پیٹھ کے بل لیٹ گیا۔ پائل اپنے دونوں گھٹنوں کو ساحل کی کمر کے دونوں طرف رکھ کر اوپر آ گئی۔ 

ساحل: پر چچی، یہ ہے کیا؟ 

پائل: ساحل، جب کوئی عورت گرم ہوتی ہے نا، اس کی پھدی سے یہ سب نکلتا ہے۔ اور جب کوئی آدمی یا لڑکا کسی عورت کو چودتا ہے، تو اُس کا بھی بہت سارا پانی نکلتا ہے۔

یہ کہتے ہوئے، پائل نے اپنا ایک ہاتھ نیچے لے جا کر ساحل کے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اس کے لنڈ کو اپنی چوت کے سوراخ پر لگا کر دھیرے دھیرے اس پر اپنا وزن ڈالنے لگی۔ ساحل کا لنڈ پھر سے پھسلتا ہوا چچی کی چوت میں سما گیا۔ 

پائل: اوہ ساحل، تُوں کتھے سی اب تک۔ آہہہہہہہ سیییییی مجھے پتا ہندا تاں آہہہہہہ میں تیرا لن روز لیندی آہہہہہہہ۔ بول اپنی چچی دی روز لے گے نا۔ 

ساحل: ہاں چچی۔ 

پائل: ہائے میرا سونا، پتر روز ماری میری پھدی  ہاں روز۔ 

ساحل چپ چاپ اپنی چچی کی باتیں سن رہا تھا۔ پائل نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ساحل کے ہاتھوں کو پکڑ کر اپنی چھاتیوں پر رکھ دیا اور اپنے ہاتھوں کو ساحل کے ہاتھوں پر دباتی ہوئی بولی، 

پائل: آہہہہہہ ساحل پٹ نا میرے ممے آہہہہہہہہ۔ 

پائل تیزی سے اپنی گانڈ کو اچھالتے ہوئے، ساحل کے لنڈ پر اپنی چوت کو پٹخنے لگی۔ ساحل تو جیسے پھر سے ستویں آسمان پر تھا۔ اس کا تنا ہوا لنڈ چچی کی چوت کی دیواروں سے رگڑ کھاتا ہوا اندر باہر ہو رہا تھا۔ اور پائل مستی میں آ کر پھر سے سسکیاں بھرنے لگی۔ 

پائل: آہہہہہہ ساحل تیرا لن آہہہہہ چھڈ دے اپنا پانی میری پھدی وچ آہہہہہہ آہہہہہہہ سییییی ہائے میری پھدی آہہہہہہہ کتنا مزہ آ رہا ہے آہہہہہہہ ساحل ہور زور دے دبا میرے ممے آہہہہہہہ آہہہہہہہہ آہہہہہہہہ میں تیرا لن روز لؤاں گی آہہہہہہ روز پھدی مراواں گی آہہہہہہ آہہہہہہ آہہہہہہہ۔ 

پائل ایک بار پھر سے گرم ہو چکی تھی اور پاگلوں کی طرح سسکیاں بھرتے ہوئے، اپنی گانڈ کو اوپر نیچے اچھال کر ساحل کے لنڈ کو اپنی چوت میں لے رہی تھی۔ ساحل بھی دھیرے دھیرے نیچے سے اپنی کمر ہلانے لگا تھا اور اپنی چچی کی لے میں لے ملانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ 

ساحل: آہہہہہہہ چچی آہہہہہہ میرا پیشاب آہہہہہہ نکل جائے گا آہہہہہہہ رکو۔ 

پائل: (تیزی سے ہانپتے ہوئے اپنی گانڈ کو اوپر نیچے اچھالتی ہوئی بولی) آہہہہہہہ پتر موت دے آہہہہہہہہ میری پھدی وچ آہہہہہہہ او دے نال تاں میری پھدی دی پیاس بجھے گی۔ 

تبھی پائل کو ساحل کا لنڈ اپنی چوت میں جھٹکے کھاتا ہوا محسوس ہوا۔ ساحل جھڑنے لگا تھا۔ لیکن  پائل کو اپنی چوت میں ساحل کی منی  کا احساس نہیں ہوا تھا۔ پائل نے پھر سے دھکے لگانا شروع کر دیے اور کانپتے ہوئے جھڑنے لگی۔ 

پائل: آہہہہہہ آہہہہہہہہ ساحل لے میری بھی آہہہہہہہہہہہ لے میں بھی آہہہہہہہہہہہہ آہہہہہہہہہ اوہہہہہہہہہ ہائے ماں۔ 

پائل بھی نڈھال ہو کر ساحل کے اوپر لڑھک گئی۔ دونوں تیزی سے سانسیں لے رہے تھے۔ پائل کے ہونٹوں پر سکون سے بھری مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے ساحل کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چوم لیا۔ ساحل کا لنڈ سکڑ کر پائل کی چوت سے باہر آ گیا۔ 

پائل سیدھی ہو کر بستر پر پیٹھ کے بل لیٹ گئی اور چیک کرنے کے لیے اس نے اپنی چوت میں اپنی انگلی گھسائی اور باہر نکال کر غور سے دیکھنے لگی۔ پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد اسے پتہ چلا کہ ابھی ساحل کی عمر نہیں ہے کہ وہ جھڑتے ہوئے پانی چھوڑ سکے۔ 

پائل کافی پڑھی لکھی تھی، اس لیے وہ اس بات کو جانتی تھی کہ کس عمر میں جا کر لڑکوں کے لنڈ سے پانی نکلتا ہے۔

پائل:  “ساحل، تجھے مزہ تو آیا نا؟” 

ساحل: ہاں چچی، بہت مزہ آیا۔ 

پائل: پھر سے لے گا میری؟ 

ساحل: ہاں۔ 

پائل: اچھا بچو، ابھی دل  نہیں بھرا کیا؟ 

یہ کہتے ہوئے، اس نے ساحل کے پیٹ پر گدگدی کرنا شروع کر دی۔ ساحل اپنے پیٹ پر سے چچی کے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے ہنسنے لگا۔ ساحل کے ہنسنے کی آواز سنتے ہی ونش نیند سے جاگ گیا اور رونے لگا۔ پائل جلدی سے نیچے بچھے بستر سے کھڑی ہوئی اور ویسے ہی بیڈ کی طرف بھاگی۔ 

ساحل لیٹا ہوا پائل کی گانڈ کو تھرکتے ہوئے دیکھنے لگا۔ پائل ونش کے ساتھ بیڈ پر جا کر لیٹ گئی اور ونش کو دودھ پلاتے ہوئے بولی،

پائل: “ساحل، یہ بستر اٹھا کر ٹیبل پر رکھ دو اور دروازہ بند کر کے بیڈ پر ہی آ جاؤ۔” 

ساحل کھڑا ہوا، بستر سمیٹ کر ٹیبل پر رکھا، اور پھر دروازہ بند کر کے پائل کے ساتھ بیڈ پر آ گیا۔ پائل کی پیٹھ ساحل کی طرف تھی۔ پائل نے چہرہ گھما کر ساحل کی طرف دیکھا اور ہونٹوں پر شہوت ناک  مسکراہٹ لاتے ہوئے، ساحل کو پاس سرکنے کا اشارہ کیا۔ ساحل سرکتا ہوا، پائل کے پاس آ کر کروٹ کے بل لیٹ گیا۔ 

پائل نے ساحل کا ہاتھ پکڑ کر اپنے مموں پر رکھتے ہوئے، ساحل کو پیچھے سے اپنے سے چپکا لیا،

پائل: “ساحل، بس ونش سو جائے، پھر میں تمہیں پھر سے دوں گی۔”

 ساحل نے پائل کی کوئی بات کا جواب نہیں دیا اور پائل کے مموں کو تھامے ہوئے لیٹا رہا۔ پائل اور ساحل پچھلی دو راتوں سے کافی دیر سے سو رہے تھے، اس لیے ساحل کو نیند آنے لگی۔ جھڑنے کے بعد پائل بھی بہت ہلکا محسوس کر رہی تھی۔ 

ونش کو دودھ پلاتے پلاتے اس کی بھی آنکھ لگ گئی۔ صبح کے 7 بجے پائل کی آنکھ کھلی، اس نے روم میں چاروں طرف نظر دوڑائی اور پھر پاس لیٹے ہوئے ساحل کو ہلا کر جگایا۔ ساحل پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا۔ نیند آ جانے کی وجہ سے پائل اپنے آپ کو کوسنے لگی۔ 

پائل: (ساحل کے اوپر جھکتے ہوئے) تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟ 

ساحل: وہ چچی، مجھے بھی نیند آ گئی تھی۔ 

پائل: (اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ لاتے ہوئے) چل کوئی بات نہیں۔ 

اور پھر پائل نے ساحل کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ لگا دیے۔ پھر تھوڑی دیر بعد اس نے اپنے ہونٹوں کو ساحل کے ہونٹوں سے الگ کیا اور بولی۔

پائل:  “ساحل، چل کپڑے پہن لے۔ بہت دیر ہو گئی ہے۔ تجھے تو اسکول بھی جانا ہوگا۔”

ساحل جلدی سے اٹھا اور اپنے کپڑے جو ابھی تک پورے طرح سوکھے نہیں تھے، پہننے لگا۔ پائل نے بھی اپنے کپڑے پہنے اور گھر کو تالا لگا کر اپنے گھر واپس جانے لگی۔ 

پائل: (راستے میں) ساحل، دیکھ جو کچھ بھی ہمارے بیچ میں ہوا، اس کا کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے۔ ورنہ تیرے چچا مجھے گھر سے نکال دیں گے۔ 

ساحل: نہیں چچی، میں نہیں بتاؤں گا۔ 

پائل: دیکھ ساحل، اگر تُوں اپنی بات پر پکا رہا تو، میں تجھے اتنا مزہ دوں گی کہ تُوں ساری عمر مجھے یاد کرے گا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page