Lust and thirst-24-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 24

ساحل اور پائل تھوڑی دیر بعد گھر پہنچ گئے۔ نیہا نے ساحل کو تیار کر کے ناشتہ کروایا اور پھر اسے اسکول بھیج دیا۔ پائل آج بہت خوش تھی۔ آج اسے کئی مہینوں بعد پھر سے اپنے جسم کی آگ کو ٹھنڈا کر کے جو سکون ملا تھا، اس کے لیے وہ کب سے ترس رہی تھی۔ 

دوپہر کو جب اسکول سے ساحل واپس آیا، تو تھوڑی دیر بعد گیتا، اس کی ماں، اور بھابھی بھی آ گئیں۔ ان کے ساتھ پائل کے ماما کی چھوٹی بیٹی بھی تھی، جو ساحل کی ہم عمر تھی۔ اس کا نام کاجل تھا۔

کاجل نے نیلم سے کہاکہ بوا، وہ کچھ دن پائل دیدی کے ساتھ رہنا چاہتی ہے اور خاص طور پر ونش کو دیکھنے کے لیے آئی تھی۔ اسی لیے وہ دو دن یہاں رہے گی۔

اس کی بات نیلم نے مان لی۔ دوسری طرف اپنے روم میں ساحل بیڈ پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا کہ گیتا اس کے روم میں آئی اور ساحل کے پاس بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد گیتا نے دھیرے سے ساحل سے کہا۔ 

گیتا: ساحل، کھانا کھا کر اوپر چھت پر آؤ۔ 

ساحل نے گیتا کی طرف دیکھا۔ ساحل کھانا کھا چکا تھا۔ گیتا اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی اور اٹھ کر روم سے باہر جانے لگی۔ ساحل بھی تھوڑی دیر بعد بیڈ سے اٹھا اور روم سے باہر آ گیا۔ لیکن جیسے ہی گیتا سیڑھیاں چڑھنے لگی، پیچھے سے اسے سمرن کی آواز آئی۔ 

سمرن: ہائے گیتا، آج اسکول نہیں آئی؟ 

گیتا: (دل ہی دل میں سمرن کو کوستے ہوئے) وہ یار، ماما کے گھر گئی تھی۔ ان کے بیٹے کی منگنی تھی۔ 

سمرن: اچھا تو ماما کے یہاں سے گھوم کر آ رہی ہو۔ 

گیتا: چل آ جا، چھت پر چل کر باتیں کرتے ہیں۔ 

ساحل اپنے روم میں چلا گیا۔ اور گیتا اور سمرن چھت پر چلی آئیں۔ کل سے بادل ابھی بھی آسمان میں چھائے  ہوئے تھے، اس لیے موسم ٹھنڈا تھا۔ گیتا اور سمرن چارپائی پر آ کر بیٹھ گئیں۔ 

گیتا: اور سنا، تیرے یار دا کی حال ہے؟ 

سمرن: یار، پوچھ مت، بہت تنگ آ گئی ہوں۔ 

گیتا: کیوں، کیا ہوا، دل بھر گیا کیا اس سے؟ 

سمرن: نہیں یار، وہ بات نہیں ہے۔ 

گیتا: (مسکراتے ہوئے) تو کیا بات ہے، گشتی؟ 

سمرن: ہٹ کنجریے۔ 

گیتا: پھر بتا نا کیا بات ہے؟ 

سمرن: یار، کل رات بال بال بچی۔ 

گیتا: کیوں، کیا ہوا؟ 

سمرن: بتا تو رہی ہوں۔ کل رات سونو نے مجھے گھر کی چھت پر بلایا تھا۔ اور جب میں رات کو سب کے سونے کے بعد چھت پر گئی تو اس نے مجھے بانہوں میں جکڑ لیا اور پھر مجھے چھت پر بنے ہوئے سٹور روم میں لے جا کر میری شلوار کا ناڑا کھولنا شروع کر دیا۔

سمرن: میں نے اسے بہت منع کیا کہ ماں بابو نیچے ہیں، پر وہ نہیں مانا۔ بولا، “ایک بار دے دے۔” مجھے اس کی بات ماننی پڑی اور میں نے اپنی شلوار کو گھٹنوں تک اتار دیا۔ اس نے میری ٹانگوں کو موڑ کر اپنا لنڈ میری پھدی میں ڈال کر پھدی مارنی شروع کر دی۔ مزہ تو بہت آ رہا تھا، پر نیچے سے بابو کے کھانسنے کی آواز آئی۔ وہ گانڈو تو اپنی پینٹ اٹھا کر اسی وقت بھاگ گیا۔ 

میں جیسے ہی نیچے جانے کو ہوئی تو بابو اوپر آ گئے اور مجھے گھورتے ہوئے بولے، “اوئے کڑیے، ایں رات نوں ایتھے کی کر رہی ہے؟”

 میں نے بہانہ بنا دیا کہ نیچے بہت گھٹن ہو رہی تھی۔

تو بابو بولے، “رات نوں جوان کڑیاں دا ایسں طرح اوپر آنا ٹھیک نہیں ہے۔”

گیتا سمرن کی بات سن کر ہنسنے لگی۔

 سمرن نے گیتا کے پیٹ پر ہلکی سی کوہنی مارتے ہوئے کہا، “چپ سالی گشتی، جد کدی اپنے یار نوں پھدی دینی پھڑی گئی تے پتا چلے گا۔”

 گیتا نے ہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور بولی، 

گیتا: تیرا کوئی حال نہیں۔ یار نال بہاراں، سدا کھلیاں رہن شلواراں۔۔ ہاہاہا۔ 

سمرن: اڑا لے میرا مذاق، جد تینوں ایک وار لنڈ دا سواد ملیا تے دیکھی تُوں وی شلوار کھول کے ٹانگاں چُک کے پھدی مارائنگی، سالی گشتی۔ 

گیتا: اچھا چل یار، مذاق بھی نہیں کر سکتی۔ تُوں تے ایں وی ناراض ہو جاتی ہے۔ 

تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد دونوں نیچے آ جاتی ہیں۔ گیتا اپنی بھابھی اور ماں کے ساتھ اپنے گھر کے لیے نکل جاتی ہے۔ ساحل کرکٹ کھیلنے کے لیے گراؤنڈ جا چکا تھا۔ روی اور کلونت بھی گھر واپس آ گئے تھے اور کھانا کھا کر سو گئے تھے۔ 

شام کو ساحل گھر واپس آیا تو اس نے اپنے پاپا کلونت سنگھ کو گھر میں دیکھا۔ کلونت سنگھ نے ساحل کو دیکھتے ہی اسے اپنے پاس بلا لیا۔ 

کلونت سنگھ: جناب دی سواری کدھر توں آ رہی ہے؟ 

ساحل: پاپا، وہ میں کھیلنے گیا تھا۔

کلونت سنگھ: بیٹا، سارا دن کھیلتا ہی رہتا ہے کہ پڑھتا بھی ہے؟ 

ساحل: نہیں پاپا، روز پہلے آ کر ہوم ورک کرتا ہوں، پھر کھیلنے جاتا ہوں، پھر شام کو پڑھتا ہوں۔ 

کلونت: شاباش، ایسی ہی من لگا کر پڑھا کرو۔ 

رات کو سب کھانا کھا کر سو گئے۔ کاجل اپنی بہن پائل کے ساتھ اس کے روم میں ہی سو رہی تھی۔ اس کی ملاقات ابھی ساحل سے نہیں ہوئی تھی۔ صبح 4 بجے شور کی آواز سن کر ساحل اٹھا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی ماں اور پاپا دونوں کہیں جانے کے لیے تیار تھے۔ چچا روی بھی بھینسوں کو باہر نکال رہے تھے۔ 

کلونت سنگھ: اٹھ گیا بیٹا۔ میں تجھے جگانے ہی والا تھا۔ 

ساحل: کہاں جا رہے ہو آپ؟ 

کلونت سنگھ: بیٹا، میں اور تیرے چچا تو منڈی جا رہے ہیں، اور تیری ماں تیرے نانا کا پتہ لینے چل رہی ہے۔ شام تک نیہا آ جائے گی۔ 

ساحل: پر دو دن پہلے ہی تو گئی تھی ماں۔ 

کلونت: ہاں پر بیٹا، رشتہ داروں میں جانا پڑتا ہے۔ صبح جلدی تیار ہو جانا، اسکول بھی جانا ہے۔ اب تُوں سو جا۔ صبح جلدی اٹھ کر اسکول چلے جانا۔ 

پھر کلونت سنگھ، نیہا، اور روی گھر سے نکل گئے۔ ساحل اپنے روم میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ تبھی اس نے چچی کے روم کا دروازہ بند ہونے کی آواز سنی۔ شاید پائل باہر کا مین گیٹ بند کر کے واپس آئی تھی۔ ابھی صرف 4 ہی بجے تھے، اس لیے باہر ایک دم اندھیرا تھا۔ ساحل کو کل رات چچی کے ساتھ بتائے پل یاد آنے لگے۔ اس کا 5 انچ کا لنڈ تن کر اس کے شارٹ میں کھڑا ہو گیا۔ بار بار اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ چچی کے روم میں چلا جائے، لیکن چچی آج روم میں اکیلی نہیں تھی۔ 

اس کے ساتھ اس کے ماما کی بیٹی کاجل بھی تھی۔ آخر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ساحل اپنی چچی کے روم کے باہر کھڑا ہو گیا۔ اور پھر ہمت جٹا کر دروازے کو دھکیلا۔ دروازہ اندر سے لاک نہیں تھا۔ دروازہ کھلا اور ساحل اندر داخل ہوا۔ 

اس نے دیکھا کہ کاجل بیڈ پر دیوار والی سائیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔ بیچ میں ونش تھا، اور آخر میں کنارے پر چچی پائل لیٹی ہوئی تھی۔ اس نے اپنی چچی کا بازو پکڑ کر دھیرے سے ہلایا۔ پائل ابھی کچی نیند میں ہی تھی۔ اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے سامنے کھڑے ساحل کو دیکھ کر مسکرانے لگی۔ پھر دوسری طرف منہ گھما کر دیکھا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page