Lust and thirst-30-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 30

ادھر نیچے سمرن اور سونو کی تو جیسے گانڈ پھٹ گئی تھی ۔ دونوں نے جلدی سے کپڑے درست کیئے  اور گھر کے آگے کی طرف بھاگ گئے۔

“کیا کر رہی ہے تُوں، مروائیگی کیا؟” ساحل نے کاجل کے منہ سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔

“میں نے کیا کیا، وہ دونوں گندا کام کر رہے تھے، اور تُم انہیں چپ چپ کر دیکھ رہے تھے۔ میں ابھی جا کر دیدی کو بتاتی ہوں۔” کاجل نے اپنا پلو جھاڑتے ہوئے کہا۔ 

ساحل: میں نے کیا کیا؟ وہ تو میں غلطی سے نیچے دیکھنے لگ گیا تھا۔ میری پتنگ نیچے گر گئی تھی۔ میں نے تو گندا کام  نہیں کیا ہے۔ اور اگر اس سونو کو پتہ چل جاتا، تو اسکول میں مجھے مارتا۔ تُم کسی کو بتانا نہیں۔ 

کاجل: (تھوڑی دیر سوچنے کے بعد) تُم سچ کہہ رہے ہو نا؟ 

ساحل: ہاں، ایک دم سچ کہہ رہا ہوں۔ پلیز چچی کو مت بتانا۔ 

کاجل: تُم کیوں دیکھتے ہو ایسی چیزیں؟ 

ساحل: وہ میں نے کہا نا، غلطی سے نیچے نظر پڑ گئی۔ 

کاجل: اچھا، اور وہ کیا تھا؟ جب تُم اپنی نونی کو پکڑ کر دبا رہے تھے جب تُم نیچے دیکھ رہے تھے۔ 

ساحل: اب تمہیں کیسے بتاؤں، وہ تو بس ایسے ہی۔ مگر  پلیز تُم کسی کو بتانا نہیں۔ 

کاجل: مجھے پتہ ہے تُم بہت گندے ہو۔ ہر وقت اپنی نونی کو دباتے رہتے ہو۔ 

ساحل: اچھا اچھا، آگے سے نہیں کروں گا۔ پلیز؟ 

کاجل: ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ میں تمہیں نیچے بلانے آئی تھی۔ دیدی باہر کسی کے گھر میں گئی ہیں۔ نیچے ونش اکیلا ہے۔ نیچے چلو۔ 

پھر ساحل منہ لٹکا کر کاجل کے پیچھے پیچھے نیچے آ گیا۔ دونوں پائل کے روم میں بیڈ پر بیٹھ گئے۔ کاجل کے چنچل دل میں بھی یہ سب جاننے کی خواہش  امڈ رہی تھی۔ وہ بار بار ساحل کی طرف دیکھتی اور اپنی نظریں جھکا لیتی۔ لیکن  دل میں امڈ رہے سوالوں نے اسے بولنے پر مجبور کر دیا۔

 “ساحل، ایک بات پوچھوں؟” کاجل نے ساحل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ 

ساحل: (سر جھکائے ہوئے) ہاں بولو۔ 

کاجل: لوگ یہ گندا کام کیوں کرتے ہیں؟ 

ساحل: (کاجل کے سوال سے تھوڑا چونکتے ہوئے) ہمم، مجھے نہیں پتہ۔ 

کاجل: اچھا، پھر تُم کیوں اپنی سوسو کو دباتے ہو؟ اگر تمہیں نہیں پتہ۔ 

ساحل: میں نے کہا نا، مجھے نہیں پتہ۔ 

کاجل: تو پھر میں دیدی کو بتا دوں گی جو تُم کرتے ہو۔ 

ساحل: میں نے کہا نا مجھے نہیں پتہ۔ 

کاجل:لیکن مجھے جاننا ہے ،  تو پھر کیسے پتہ چلے گا؟ 

ساحل: (تھوڑا ڈرتے ہوئے) میں نے تو نہیں کیا ہے۔ تُم خود کر کے دیکھ لینا۔ 

کاجل: (اپنے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے) ہائے ، تُم مجھے گندا کام کرنے کے لیے کہہ رہے ہو؟ 

ساحل: تُم ہی تو ضد کر رہی ہو۔ میں نے کتنی بار کہا مجھے نہیں پتہ۔ اور اگر تمہیں پتہ کرنا ہے تو خود کر کے دیکھ لو۔ 

کاجل کے دل میں اب خواہش  اور بڑھ گئی تھی۔ اب اسے سیکس کے بارے میں جاننے کی اور خواہش ہونے لگی

کاجل: تو  میں کس کے ساتھ کروں گی؟ تُم کرو گے میرے ساتھ؟ 

کاجل نے یہ سب بڑے ہی بھولے پن میں بول دیا۔ لیکن  ساحل کے اوپر تو جیسے بجلی گر گئی یہ سُن کر۔ اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ جو کاجل تھوڑی دیر پہلے اس کی شکایت کرنے کی دھمکی دے رہی تھی، وہ خود اس سے یہ سب کہہ رہی تھی۔ 

ساحل: تُم چچی کو بتا دو گی۔ 

کاجل: نہیں بتاتی نا۔ پلیز بتاؤ نا، ایسا کرنے سے کیا ہوتا ہے؟ 

ساحل: (تھوڑا گھبراتے ہوئے) تُم کرو گی میرے ساتھ؟ 

کاجل نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

“باہر کا گیٹ تو بند ہے نا؟” ساحل نے باہر گیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

 اس پر بھی کاجل نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

 “پکا نا؟” ساحل نے پھر تصدیق کرنے کے لیے پوچھا۔ 

کاجل: ہاں، کتنی بار کہوں؟ 

ساحل بیڈ پر چڑھ کر لیٹ گیا اور کاجل کو بھی اپنے پاس آ کر لیٹنے کو کہا۔ کاجل بھی اس کی بغل میں آ کر لیٹ گئی۔ ساحل نے ڈرتے ہوئے ایک ہاتھ اس کی گانڈ  پر رکھا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،

ساحل:  “دیکھو، سب سے پہلے ایک لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو کس کرتے ہیں۔ تم نے کبھی کس کیا ہے کسی کو؟”

کاجل: نہیں، میں نے نہیں کیا۔ وہ جیسے فلموں میں کرتے ہیں ویسے؟ 

ساحل: ہاں، ویسے ہی۔ تُم کرو گی میرے ساتھ؟ 

کاجل: کس کرنے سے کیا ہوتا ہے؟ 

ساحل: پتہ نہیں، کر کے دیکھیں؟ 

کاجل نے ایک بار گھبراتے ہوئے ساحل کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر ہاں میں سر ہلا دیا۔ ساحل نے دھیرے دھیرے اپنے ہونٹوں کو کاجل کے گلابی رسیلے ہونٹوں کی طرف بڑھانا شروع کر دیا اور اگلے پل اس نے کاجل کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر کس کرنا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر کاجل کو تھوڑا عجیب سا لگا، لیکن پھر اُس کو اچھا لگنے لگا تو  تھوڑی دیر بعد وہ ساحل کا ساتھ دینے لگی۔ ساحل بھی کاجل کے گلابی رسیلے ہونٹوں کو دبا دبا کر چوسنے لگا۔ اور کاجل کو اپنے بدن میں عجیب سی جھرجھری اٹھتی محسوس ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد ساحل نے اپنے ہونٹوں کو کاجل کے ہونٹوں سے الگ کیا اور کاجل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،

ساحل:  “کیسا لگا تجھے؟”

کاجل: پتہ نہیں، کچھ عجیب سا لگا۔ مگر  برا نہیں تھا۔ 

ساحل: آگے بھی کرنا ہے؟ 

کاجل: (ساحل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے) کیا؟ 

ساحل: وہی جو سمرن اور سونو کر رہے تھے نیچے۔ 

ساحل کی بات سن کر کاجل تھوڑا شرما گئی۔ ساحل نے پھر سے اس سے پوچھا تو اس نے مسکراتے اور شرماتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا۔ ساحل نے کاجل کو پیٹھ کے بل لیٹا دیا اور خود اس کے اوپر جھکتے ہوئے اس کے ٹاپ کو پکڑ کر اوپر اٹھانا شروع کر دیا۔ کاجل ابھی برا نہیں پہنتی تھی۔ اس لیے جیسے ہی ساحل نے کاجل کے ٹاپ کو اوپر اٹھانا شروع کیا تو کاجل نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

 “یہ یہ کیا کر رہے ہو؟” کاجل نے تھوڑا گھبراتے ہوئے کہا۔ 

ساحل: تمہیں نہیں پتہ؟ 

کاجل: نہیں۔ 

ساحل: میں تمہارے دودھ چوسنے والا ہوں۔ 

کاجل: وہ کیوں؟ 

ساحل: اس میں بہت مزہ آئے گا تمہیں۔ سچ میں۔ 

کاجل: تُم سچ کہہ رہے ہو نا؟ کچھ ہو گا تو نہیں؟ 

ساحل: ایک دم سچ، کچھ نہیں ہو گا۔ 

کاجل نے ساحل کی بات سن کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ اور ساحل نے دھیرے دھیرے کاجل کے ٹاپ کو اوپر اٹھا دیا۔ کاجل کے چھوٹے سنترے کی سائز کی چھاتیوں کو دیکھ کر ساحل کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ گئی۔

“ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟ مجھے شرم آ رہی ہے،” کاجل نے اپنا چہرہ دوسری طرف گھماتے ہوئے کہا۔

ساحل : “ہاں، کچھ نہیں۔ چوسوں؟”

ساحل نے کاجل کی چھوٹی چھوٹی چھاتیوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، جن پر گلابی رنگ کے چھوٹے نپل ابھرے ہوئے تھے۔

کاجل : “ہمم،”

کاجل نے ہامی بھری اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا طوفان امڈ رہا تھا۔ 

ساحل نے کاجل کی چھاتیوں کے اوپر جھکتے ہوئے اس کی ایک چھاتی کو منہ میں بھر لیا۔ کاجل کے ابھار ابھی آنا شروع ہی ہوئے تھے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page