Lust and thirst-32-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 32

گیتا: کیا کہہ رہی ہے تُو؟ اس نے کیسے دیکھ لیا؟ 

پھر سمرن نے اس دن والی ساری بات گیتا کو بتا دی۔ گیتا تھوڑی دیر چپ رہی۔ پھر سمرن کی طرف دیکھتے ہوئے بولی، 

گیتا: بس اتنی سی بات کو لے کر پریشان ہو رہی ہے؟ تُو گھبرا مت، میں ساحل کو سمجھا دوں گی۔ وہ کسی کو نہیں بتائے گا۔ 

سمرن: تُو پاگل ہے کیا؟ تُم کیسے اس کے ساتھ یہ بات کرو گی؟ 

گیتا: تُو وہ چھوڑ نا۔ بس فکر مت کر، اور باقی سب مجھ پر چھوڑ دے۔ 

سمرن: اچھا جی، مجھے تو دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے۔ کہیں اس کا لن تو نہیں لے لیا اپنی پھدی میں، جو وہ تیری بات مان لے گا؟ 

گیتا: چپ کر گشتی۔۔۔ کیا بکواس کر رہی ہے؟ 

سمرن: اچھا چل یار، اب سب تیرے ہاتھ میں ہے۔ کہیں وہ ساحل کسی کو بتا نہ دے۔ 

گیتا: ٹھیک ہے اب اداس مت ہو۔ اتنے دن سے اتنی سی بات کے لیے پریشان گھوم رہی ہے۔ ایک بار تو مجھے بتا دیتی۔ 

سمرن: چل اب تو بتا دیا نا۔ 

گیتا: اچھا، کیا جو بتا دیا۔ میں آج ہی ساحل سے تیری بات کروں گی اور سمجھا بھی دوں گی۔ 

اس کے بعد گیتا ساحل کے کلاس میں گئی، جہاں ساحل بیٹھا لنچ کر رہا تھا۔ وہ ساحل کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔ 

گیتا: کیسے ہو ساحل؟ 

ساحل: ٹھیک ہوں۔ 

گیتا: تُم تو ہمیں بھول ہی گئے ہو۔ گھر کیوں نہیں آتے آج کل؟ 

ساحل: وہ ماں کہیں جانے نہیں دیتی۔ 

گیتا: تُو مجھے سچ میں بھول گیا ہے۔۔۔ (گیتا نے ناراض ہونے کا ناٹک کرتے ہوئے کہا) 

ساحل: نہیں تو، وہ ماں آنے ہی نہیں دیتی۔ 

گیتا: اچھا، دو دن اور صبر کر لے، پھر تیری خبر لیتی ہوں۔ 

ساحل: دو دن؟ کیوں، کیا ہوا؟ 

گیتا: ارے، تمہیں پائل دیدی نے نہیں بتایا کیا؟ دو دن بعد میرے گھر والے اور پائل دیدی اور جیجا جی سب میرے ماموں کے بیٹے کی شادی کے لیے جا رہے ہیں۔ تھوڑے دن پہلے جو میرے گھر والے گئے تھے نا، ان کے بیٹے کے لیے لڑکی دیکھنے۔ 

ساحل: ہاں۔ 

گیتا: اسی کی شادی ہے پانچ دن بعد۔ سب جا رہے ہیں۔ 

ساحل: پھر تُم بھی تو جاؤ گی نا؟ 

گیتا: نہیں، میں نہیں جا رہی۔ 

ساحل: کیوں؟ 

گیتا: نہیں، میرا دل نہیں ہے۔ اور ویسے بھی پھر میں تیرے گھر آ کر رہوں گی۔ پھر دیکھنا کیسے جنت کی سیر کرواتی ہوں تجھے۔ 

ساحل اب گیتا کی باتوں کا مطلب سمجھنے لگا تھا۔ اس لیے وہ گیتا کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا۔ اس کے بعد گیتا نے سمرن والی بات ساحل سے کی اور اسے یہ بات کسی کو بھی بتانے سے منع کر دیا۔ اسکول کے بعد ساحل اپنے گھر واپس آ گیا۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ چچی پائل سچ میں شادی میں جانے کی تیاری کر رہی تھی۔ وہ کچھ نئے ڈریس لے کر آئی تھی۔ ساحل فریش ہوا اور کھانا کھا کر چھت پر پتنگ اڑانے آ گیا۔

اس طرح دو دن گزر گئے۔ اس دن اتوار تھا، اس لیے ساحل کو کسی نے نہیں اٹھایا تھا۔ قریب نو بجے گھر میں ہو رہے شور کی وجہ سے ساحل کی نیند ٹوٹی، تو وہ اٹھ کر باہر آیا تو دیکھا کہ باہر گیتا اور اس کا پورا خاندان آنگن میں تیار بیٹھے تھے۔ پائل بھی شادی میں جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ اور گیتا کی ماں نیہا سے بات کر رہی تھی۔ ساحل ان دونوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ نیہا نے ساحل کی طرف دیکھا اور پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی،

نیہا:  “اٹھ گیا بیٹا؟ رکو، تھوڑی دیر میں چائے بناتی ہوں۔”

پھر نیلم نے نیہا سے کہا، “بیٹا، سن، گیتا کا خیال رکھنا۔ ہم تین چار دن میں آ جائیں گے۔”

نیہا: جی بھابی، کوئی کہنے والی بات ہے؟ آپ بے فکر ہو کر شادی میں جائیں۔ 

اس کے بعد سبھی لوگ شادی کے لیے چلے گئے۔ پائل کے ساتھ اس کا شوہر روی بھی شادی میں گیا تھا۔ اب گھر پر کلونت، نیہا، ساحل، اور گیتا ہی تھے۔ کلونت رات سے باہر تھا، اس لیے وہ یہ سوچ کر سٹور روم میں جا کر سو گیا کہ روم میں گیتا اور ساحل ٹی وی دیکھ رہے ہیں اور شور کے بیچ اسے نیند نہیں آئے گی۔ اور اسے دوپہر کو واپس بھی جانا تھا۔ 

گیتا اور ساحل دونوں روم میں آ کر ٹی وی دیکھنے لگے۔ نیہا گھر کی صفائی میں لگی ہوئی تھی۔ گیتا بار بار ساحل کی طرف دیکھتی اور اسے آنکھوں سے اشاروں سے چھیڑ دیتی۔ 

نیہا نے صفائی کی اور پھر باقی کے کام نمٹا کر روم میں آ گئی، جہاں گیتا اور ساحل ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ نیہا اپنے ماتھے پر آئے ہوئے پسینے کو اپنے دوپٹے سے صاف کر ہی رہی تھی کہ تبھی ڈور بیل بجی۔ نیہا کھڑی ہوئی اور باہر جا کر گیٹ کھولا، تو اس نے دیکھا کہ اس کی پڑوسن یعنی سمرن کی ماں کملا کھڑی تھی۔ دونوں میں آپس میں بہت بنتی تھی اور دونوں ایک دوسرے کی چوت کی آگ کو ٹھنڈا کیا کرتی تھیں۔ 

کملا: نیہا، مجھے پتہ لگا کہ آج تیری دیورانی شادی میں گئی ہے۔ 

نیہا: ارے اندر تو آ نا، باہر کھڑی ہو کر ہی سوال پوچھنا شروع کر دیا۔ 

کملا: ارے اندر آنے کا ٹائم نہیں ہے۔ جلدی سے گھر آ جا، آج اچھا موقع ہے۔ 

نیہا: کیوں، تیرے گھر پر کوئی نہیں ہے کیا؟ 

کملا: نہیں، سمرن اور اس کا بھائی تو صبح ہی ان کے ساتھ شہر چلے گئے۔ شام کو آئیں گے۔ گھر پر اکیلی ہوں۔ جلدی آ جا۔ 

نیہا: اچھا، تُوں چل، میں آتی ہوں۔ گھر پر ساحل اور گیتا ہیں، ان کو بول کر آتی ہوں۔ 

اس کے بعد کملا اپنے گھر چلی گئی۔ نیہا واپس روم میں آئی اور ساحل اور گیتا کو یہ بول کر چلی گئی کہ وہ پڑوس کے گھر کملا کے پاس جا رہی ہے، تھوڑی دیر میں آ جائے گی۔ جاتے جاتے اس نے گیتا سے کہا کہ اندر سے گیٹ بند کر لے۔ گیتا باہر آئی اور جیسے ہی نیہا باہر گئی، گیتا نے گیٹ بند کر دیا۔ 

کلونت سنگھ گھر پر تھا، اس لیے گیتا کچھ بھی کرنے سے ڈر رہی تھی۔ وہ بس اوپر اوپر سے ہی ساحل کے ساتھ مذاق کر رہی تھی۔ دوسری طرف نیہا کملا کے پاس پہنچ گئی تھی۔ دونوں گھر میں اکیلی تھیں۔ باہر کا گیٹ لاک کر کے کملا اسے اپنے روم میں لے گئی۔ پھر دونوں بیڈ پر بیٹھ گئیں۔ 

کملا: چل جلدی کر، اپنی شلوار کھول۔ دیکھوں  تیری پھدی دا کیا حال ہے۔ 

نیہا: چپ کر کنجریے، تھوڑی دیر آرام کرنے دے۔ ابھی گھر کا کام ختم کیا ہے۔ 

کملا: یار ایک بات کہوں؟ 

نیہا: ہاں بول نا، کیا بات ہے؟ 

کملا: یار بس اب ہم دونوں کب تک اس طرح اپنی چوت کی آگ کو انگلیوں سے ٹھنڈا کرتے رہیں گے؟ 

نیہا: یار اب کیا کہوں، یہ تو اپنے نصیب ہی کھوٹے ہیں۔ 

کملا: یار بس اب اور سہن نہیں ہوتا۔ میں اب ایسے گھٹ گھٹ کر نہیں جی سکتی۔ میں تو اب کچھ نہ کچھ کر کے رہوں گی۔ 

نیہا: آج تُو یہ کیسی باتیں کر رہی ہے؟ کہیں کچھ الٹا سیدھا مت کر بیٹھنا۔ تیرا بسا بسایا گھر برباد ہو جائے گا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page