Lust and thirst-35-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 35

 بلکہ یوں کہیں کہ اس کے پورے بدن سے چپک گئی تھی۔ کریم کلر ہونے کی وجہ سے اس کا جسم اس میں صاف جھلک رہا تھا، اور اس کے 38 سائز کے بڑے بڑے ممے اس سے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ موہت بھی اس کے مموں کو گھور رہا تھا۔ اب تو نیہا کا اوپری بدن اسے صاف نظر آنے لگا تھا۔ یہاں تک کہ اس کی ناف بھی صاف نظر آ رہی تھی۔ 

نیہا بھی یہ بات جانتی تھی، اس لیے شرم کے مارے اس کے گال لال ہو کر دہکنے لگے تھے۔ وہ اپنے آپ کو آگے کی طرف جھکائے ہوئے کپڑوں کو برش رگڑ رہی تھی۔ ادھر موہت کا لنڈ اس کی پینٹ کو پھاڑ کر باہر آنے کو ہو رہا تھا۔ کملا نے بھی سر جھکائے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر من من مسکرا رہی تھی، اور اپنے بیٹے کی پینٹ میں بنے ہوئے ابھار کو دیکھ کر دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھی۔ اس نے دھیرے دھیرے پھسپھساتے ہوئے کہا،

کملا: “اے دیکھ اس کی طرف، پر دھیان رہے اپنے ہونٹوں پر ایسی قاتل مسکراہٹ لانا کہ وہ ابھی کے ابھی جھڑ جائے۔” 

تھوڑی دیر رکنے کے بعد نیہا نے اچانک ہی اپنا سر اٹھایا اور موہت کی طرف دیکھا، جو ابھی بھی اس کے مموں کو ہی گھور رہا تھا۔ جیسے ہی موہت نے دیکھا کہ نیہا اس کی طرف دیکھ رہی ہے، وہ ایک دم سے گھبرا گیا اور اپنا سر جھکا لیا۔ اس بیچاری کو تو مسکرانے کا موقع بھی نہیں ملا۔لیکن  اب کی بار کمند نیہا نے خود سنبھالی اور تھوڑا حوصلہ دکھاتی ہوئی اس کی طرف ہی دیکھ کر کپڑوں پر برش رگڑنے لگی۔ 

تھوڑی دیر بعد موہت نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے سر اٹھایا تو اس کی نظریں نیہا سے جا ٹکرائیں، اور جیسے ہی دونوں کی نظریں ملیں، نیہا نے ہونٹوں پر دلکش قاتل مسکراہٹ لاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور پھر اپنے نچلے ہونٹ کو کنارے سے نیچے اپنے دانتوں کے نیچے دباتے ہوئے مسکرائی۔ یہ سب دیکھ کر موہت کا لنڈ پھر لوہے کی راڈ کی طرح اکڑ گیا۔ 

موہت دل میں سوچنے لگا کہ اس کا مطلب آنٹی مجھ سے غصہ نہیں ہیں۔ لیکن  پھر بھی وہ تھوڑا گھبرا رہا تھا۔ اب لڑکا اس عمر میں گھبرائے نہیں تو اور کیا کرے گا؟ مگر  پھر بھی نیہا کی وہ قاتل مسکراہٹ اس کے دل میں  سوراخ کر گئی تھی۔ نیہا نے پھر سے جھک کر کپڑے دھونے شروع کر دیے۔ اس بار تو وہ کچھ زیادہ ہی اپنے مموں کو دکھا رہی تھی اور بیچ بیچ میں موہت کی طرف دیکھتی اور پھر اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں میں دبا کر مسکرا دیتی۔ 

جیسے وہ اسے اکسا رہی ہو۔ پھر کملا نے جب دیکھا کہ سب اس کے سوچے ہوئے منصوبے کے مطابق ہو رہا ہے، تو اس نے اپنی اگلی چال چلنے کی سوچی۔  اس بار بھی اگلی چال چلانے سے پہلے اس نے موہت کو آواز لگا کر کچھ اور کپڑے دیے اور کہا،

کملا:  “جا، یہ جھاڑیوں پر ڈال آ۔ ساتھ کے ساتھ خشک بھی ہو جائیں گے۔”

 جیسے ہی موہت کپڑے لے کر جھاڑیوں کی طرف گیا، کملا نے نیہا  کے دونوں مموں کو پکڑ کر زور سے مسل دیا۔ 

کملا: واہ نی گشتئے، کمال کر دیا تیرے مموں نے۔ لے، مُنڈا تیرا دیوانہ ہو گیا۔ ہن اپنے یار دا لن پھدی چ لین لئی تیار ہو جا۔ 

نیہا: چپ کر، دھیرے بول، اگر اس نے سن لیا تو۔ 

کملا: اچھا، سچ سچ بتا، کیسا لگ رہا تھا تجھے؟ سچ بتانا۔ 

نیہا: سچ بتاؤں؟ 

کملا: ہاں، بتا نا۔ 

نیہا: بہت مزہ آ رہا تھا یار کی دسا۔ میری پھدی میں تو ابھی سے کھراس ہونے لگی ہے۔ 

کملا: صبر کر، صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ اچھا سن، اب جب میں اسے اگلی بار بھیجوں گی کپڑے ڈالنے کے لیے، تو اس سے پہلے میں تجھے اپنی کہنی مار دوں گی اشارے کے لیے، اور اس سے پہلے ہی اٹھ کر جھاڑیوں کے پیچھے چلی جانا، موتنے کے بہانے۔ اور وہاں جب وہ آئے تو اسے اپنی گانڈ اور پھدی دکھا دینا بہانے سے۔ ہو سکے تو اپنی پھدی سے نکلتی موت کی دھار بھی دکھا دینا۔ اگر تُوں نے ایسا کر دیا تو سمجھ لینا کہ تیرا کام 90 فیصد بن گیا۔ اور باقی کا 10 فیصد تو ہم دونوں بنا ہی لیں گے۔ ہاں، اگر یہ کرتے ہوئے تم دونوں ایک دوسرے کو دیکھو تو شرمانا نہیں، بس پھر سے وہی قاتل مسکراہٹ دینا اسے۔ پھر تو سمجھ اپنا کام ہو گیا بس۔ ویسے تیری مسکراہٹ ہے سچ میں قاتلانہ۔ 

نیہا: ارے کہاں، یہ تو سب تم سے سیکھا ہے۔ ہا ہاہاہا۔ 

کملا: اور ہاں، جب یہاں تم موتنے جاؤ گی، تو جان بوجھ کر بول کر جانا کہ موتنے جا رہی ہوں، اور ہو سکے تو بولتے بولتے اس کے سامنے اپنی پھدی کو شلوار کے اوپر سے کھجا دینا۔ 

نیہا: یار، اب کیا کیا کروائے گی مجھ سے؟ 

کملا  اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور پھر چپ ہو گئی۔ 

نیہا: پر یار، مجھے تو پیشاب نہیں آ رہا تو اس کے سامنے موتوں گی کیسے؟ 

کملا: وہ تو اگر تُو بولے، تو میں ابھی تیری پھدی سے نکال دیتی ہوں۔ (اور پھر کملا کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔) 

نیہا: چپ کر سالی، جلدی بتا کیا کروں۔ 

کملا: اچھا رُک۔ 

پھر کملا نے اپنے بیٹے کی طرف نظر ڈالی، جو دور جھاڑیوں پر کپڑے سکھانے کے لیے ڈال رہا تھا۔ ابھی اس کے ہاتھ میں بہت سے کپڑے تھے۔ کملا نے ٹائم کا اندازہ لگایا کہ اسے واپس آنے میں کتنا وقت لگے گا۔ پھر نیہا کو دھیرے سے کہا،

کملا: “چل میرے ساتھ۔”

اور وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ اور اسے ٹیوب ویل کے روم کی دیوار کے پیچھے لے گئی۔

کملا: “چل جلدی کر، اپنی شلوار کا ناڑا کھول۔” 

نیہا: پر کیوں؟ 

کملا: ٹائم نہیں ابھی بات کرنے کا۔ جلدی کر۔ 

نیہا نے جلدی سے اپنی شلوار کا ناڑا کھولا اور کملا نے جھک کر اس کی شلوار رانوں تک نیچے سرکا دی۔ اور پھر اس کی قمیض کے پلّو کو پکڑ کر اوپر اٹھاتے ہوئے کہا،

کملا:  “اسے پکڑ۔”

جیسے ہی قمیض کا پلّو اوپر ہوا، نیہا کی گلابی چوت اس کی آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ کملا جلدی سے نیچے بیٹھ گئی اور اپنی دو انگلیوں کو ایک ساتھ اس کی چوت میں گھسا دیا۔ نیہا کی چوت تو کب سے پانی چھوڑ رہی تھی، جس کی وجہ سے کملا کی انگلیاں پھسلتی ہوئی اندر چلی گئیں۔ 

نیہا: آہہ گشتئے، جان کڈھ لئی۔ آہہ آہہ دھیرے۔۔۔ آہہہہ اُمہہ۔ 

کملا نے بغیر کچھ بولے تیزی سے اپنی انگلیوں کو اس کی چوت کے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔ اور انگلیوں کو اندر باہر کرتے ہوئے اس کی چوت کے دانے کو منہ میں بھر کر چوسنا شروع کر دیا۔ نیہا ایک دم سے سسک اٹھی، اس نے اپنے دوسرے ہاتھ سے کملا کے سر کو اپنی چوت پر دباتے ہوئے کھڑے کھڑے ہی اپنی کمر کو اس کے چہرے کی طرف جھٹکے دینے شروع کر دیے۔ 

نیہا: آہہ اُمہہ آہہہ کملا، وہ آ نہ جائے۔۔۔ آہہہہ اوہہ مر گئی ہائے اُئیے آہہ۔ 

کملا نے تقریباً دو منٹ تک اس کی چوت میں انگلیوں کو پیلا اور اس کی چوت کے دانے کو چوس کر پھلا دیا۔ پھر کملا جلدی سے کھڑی ہوئی اور بولی،

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page