Lust and thirst-38-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 38

گیتا: یہ سب کیسے سیکھا؟ 

ساحل: (تیزی سے سانس لیتے ہوئے) تم نے تو سکھایا تھا۔ 

گیتا اب کوئی بات کر کے وقت نہیں گنوانا چاہتی تھی۔ اس نے لیٹے ہوئے ساحل کو اپنے اوپر کھینچ لیا اور پھر سے اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگی۔ اس بار اس نے کچھ دیر ساحل کے ہونٹ چوسنے کے بعد اپنے ہونٹوں کو الگ کیا اور ساحل کے سر کو اپنی گردن پر جھکاتے ہوئے بولی، 

گیتا: ساحل، مجھے پیار کرو نا۔ مجھے کس کرو۔ میرے بدن کے ہر حصے کو چومو، چاٹو، کھا جاؤ مجھے۔ 

ساحل جیسے ہی گیتا کے اوپر آیا، گیتا نے اپنی ٹانگیں کھول لیں، جس سے ساحل کی ٹانگیں اس کی رانوں کے درمیان آ گئیں اور اس کا تنا ہوا لنڈ اس کی نیکر میں سے گیتا کی شلوار کے اوپر سے اس کی چوت پر جا ٹکرایا۔

گیتا: “آہہ ساحل اُمہہ،”

 گیتا اپنی شلوار کے اوپر سے ہی ساحل کے لنڈ کو اپنی چوت پر محسوس کرتے ہوئے سسک اٹھی۔ اس نے اپنی ٹانگوں کو کینچی کی طرح ساحل کی کمر پر لپیٹ لیا۔ ساحل نے بھی گیتا کی چوت کی آگ کو اور بڑھا دیا۔ اس نے اس کے مموں کو مسلتے ہوئے اپنے ہونٹوں کو اس کی سرخی مائل گردن پر لگا دیا اور اس کی گردن کو چاٹنے لگا۔ گیتا مستی میں پھر سے سسک اٹھی، اس نے ساحل کے سر کے گرد گھیرا بنا کر اسے اپنے سے اور چپکا لیا۔ 

گیتا: اوہہ ساحل ہاں، کھا جا مجھے، آہہ پورا کا پورا، آہہ۔ سییی ساحل، آج میری آگ بجھا دے۔ 

ساحل بھی اب پوری طرح مست ہو کر اس کی چھاتیوں کو مسلتے ہوئے اس کی گردن کو چوم رہا تھا۔ اور گیتا اس کے سر کو سہلا رہی تھی اور بار بار اپنی کمر کو اوپر کی طرف اٹھا کر اپنی چوت کو کپڑوں کے اوپر سے ہی ساحل کے لنڈ پر دبا رہی تھی۔

“اوہہہہہہہہہہ ساحل آہہہہہہہہہہ اور زور سے دبا میرے مموں کو، آہہہہہہہہہہ آہہہہہہہہہہہہہ۔” 

پھر ساحل اس کی گردن کو چومتا ہوا نیچے کی طرف آنے لگا اور اس کے قمیض سے باہر جھانک رہے مموں کے اوپری حصے کو اپنے ہونٹوں میں بھر کر چوسنے کی کوشش کرنے لگا۔

گیتا: “آہہہہہہہہ ہاں چوس، آہہہہہہہہہہہہ ساحل میری جان، آہہہہہہہہہہہ،”

یہ کہتے ہوئے اس نے اپنے ہاتھوں کو ساحل کے سر سے ہٹایا اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو نیچے لے جا کر اپنی قمیض کو پکڑ کر اوپر کرنے لگی۔ یہ دیکھ کر ساحل، جو اپنا سارا وزن گیتا کے اوپر ڈالے لیٹا ہوا تھا، وہ اپنے گھٹنوں کے بل گیتا کی رانوں کے بیچ میں بیٹھ گیا۔ 

گیتا نے اپنی قمیض کو پکڑ کر اوپر کرتے ہوئے اتار دیا اور پھر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اپنی برا کے ہکس کھول کر اسے بھی جسم سے الگ کر دیا۔ برا کو اپنے بدن سے الگ کرنے کے بعد اس نے ساحل کی طرف دیکھا، جو اس کی 36 سائز کی بڑی بڑی چھاتیوں کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ 

گیتا: یہ تمہیں بہت پسند ہیں نا؟

گیتا نے مسکراتے ہوئے ساحل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ساحل نے بھی ہاں میں سر ہلا دیا۔

گیتا: ” اچھا جا اسے (برا کو) میرے بیگ میں ڈال دے۔ ادھر دیدی کے روم میں ہے بیگ۔ 

ساحل نے برا لی اور اٹھ کر اپنی چچی کے روم میں گیا اور برا کو اس کے بیگ میں ڈال کر واپس آ گیا۔ جب وہ دوبارہ روم میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ گیتا نے پھر سے اپنی قمیض پہن رکھی تھی اور اس نے اپنی شلوار اتار رکھی تھی۔ ساحل سوال اٹھاتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بیڈ پر چڑھ گیا۔ 

گیتا نے پھر سے اسے اپنے اوپر کھینچ لیا اور اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے بولی،

گیتا: “ساحل اب جلدی کرو، میں کب سے مری جا رہی ہوں۔”

 ساحل ایک بار پھر اس کی رانوں کے بیچ میں آ گیا تھا۔ گیتا نے اپنے ہاتھوں کو نیچے لے جا کر اس کی نیکر کو پکڑ کر نیچے کھینچ دیا۔ اور پھر ساحل نے خود ہی اپنی نیکر کو اپنی ٹانگوں سے نکال دیا۔

ساحل: “آپ نے قمیض پھر سے کیوں پہن لی؟”

 ساحل نے گیتا کی چھاتیوں کی طرف گھورتے ہوئے کہا۔ 

گیتا: اور کیا، پوری ننگی ہو جاتی؟ اگر اچانک کوئی آ گیا تو کپڑے پہننے میں وقت لگے گا۔ اور پھر کسی کو ہم پر شک ہو گیا تو۔ تجھے یہ پسند ہیں ہی نا، یہ لے، جی بھر کر کھیل ان سے۔ 

یہ کہتے ہوئے گیتا نے اپنی قمیض کو اوپر اٹھا کر اپنی چھاتیوں کو باہر نکال دیا۔ 36 سائز کی موٹی موٹی چھاتیوں کو دیکھ کر ساحل کا لنڈ اب پوری طرح تن گیا تھا، جو اب سیدھا گیتا کی چوت کے ہونٹوں  کے ٹھیک اوپر تھا۔ 

گیتا نے پھر سے اسے بانہوں میں بھرتے ہوئے اس کے سر کو اپنی چھاتیوں پر دبا دیا۔

گیتا:  “آہہہہہہہہ ساحل چوس اسے، آہہہہہہہہہ۔”

 ساحل بھی پاگلوں کی طرح گیتا کی چھاتیوں پر ٹوٹ پڑا اور اس کی ایک چھاتی کو منہ میں بھر کر اس کے انگور کے دانے کے سائز کے نپل کو اپنی زبان سے دبا دبا کر چوسنے لگا۔ گیتا نے اس کے سر کو پھر سے سہلانا شروع کر دیا۔ 

گیتا: آہہہہہہہہ چوس لے، آہہہہہہہہہہہہ ساحل، کھا جا میرے مموں کو، آہہہہہہہہہہہ اُمہہہہہہہہہہ سییی آہہہہہہہہہہہہہ ہائے ماں اوہہہہہہہہہہہہہ ہاں چوس ساحل، اور زور زور سے چوس۔ 

گیتا کی آواز میں اب مدہوشی صاف جھلک رہی تھی۔ اس کا پورا بدن جذبات کی وجہ سے کانپ رہا تھا۔ اس کے گال لال ہو کر دہکنے لگے۔ پھر گیتا کو اپنی چوت کے ہونٹوں  پر ساحل کا لنڈ کا گرم ٹوپا رگڑ کھاتا ہوا محسوس ہوا۔ گیتا ایک دم سے سسک اٹھی۔ اس نے ساحل کے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا۔ اس کا نپل کھنچتا ہوا ساحل کے منہ سے پک کی آواز سے باہر آ گیا۔ 

گیتا: (مستی میں سسکتے ہوئے) ہائے، کتنے ظالم ہو تم۔ 

گیتا کی آنکھیں اب ہوس  اور تشنگی  کے نشے میں ڈوبتی ہوئی بند ہوئی جا رہی تھیں۔ اس نے اپنی نشیلی ادھ کھلی آنکھوں سے ایک بار ساحل کی طرف دیکھا، پھر اس کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ جوڑ دیے۔ ساحل نے بھی گیتا کے نچلے ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں دبا دبا کر چوسنا شروع کر دیا۔

 “اُمہہہہہہہہہ آہہہہہہہہہہہہہہہہ اُنگھہہہہہ،” گیتا گھٹی آواز میں سسک رہی تھی۔ 

اس نے اپنا ایک ہاتھ نیچے لے جا کر ساحل کے لنڈ پر رکھا اور اسے اپنی مٹھی میں بھر لیا۔ ساحل کے بدن میں تیز سرسراہٹ دوڑ گئی۔ گیتا نے اپنے ہونٹوں کو ساحل کے ہونٹوں سے الگ کیا اور اپنی ٹانگوں کو پھیلا کر گھٹنوں سے موڑ کر اوپر اٹھا لیا۔ ساحل تو جیسے اس پل کے انتظار میں تھا۔ وہ اپنے گھٹنوں کے بل گیتا کی رانوں کے بیچ میں آ گیا۔ جیسے ہی اس کی نظر گیتا کی پھولی ہوئی چوت پر پڑی، اس کا لنڈ پھر سے جھٹکے کھانے لگا، جو اس وقت گیتا کے ہاتھ میں تھا۔ گیتا ساحل کے لنڈ کی پھولتی نسوں کو اپنے ہاتھ میں صاف محسوس کر رہی تھی۔ 

اس نے ساحل کے لنڈ کو پکڑ کر اپنی چوت کے سوراخ پر دبایا، تو ساحل کے لنڈ کا ٹوپا اس کی چوت کے ہونٹوں  کو پھیلاتا ہوا سوراخ پر جا لگا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page