Lust and thirst-39-ہوس اور تشنگی

ہوس اور تشنگی

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں  کی دنیا ویب سائٹ کی نئی کہانی ۔۔ ہوس اور تشنگی ۔۔ جنسی جذبات اور جنسی کھیل کی ترجمانی کرتی ایک بہترین کہانی ۔

ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی جن کی اولاد کوئی نہیں تھی ، اور نہ ہی قدرت ان کو اولاد کے تحفے سے نواز رہی تھی ، تو ان کو مصیبت کا مارا ایک بچہ ملا ، جس کو اُنہوں نے اپنالیا۔ اور اپنے بیٹے کی طرح پالنے لگے۔ لیکن  ماں زیادہ عرصہ اُس کا ساتھ نہ دے سکی اور مرگئی۔ والد نے بچے کو اپنے سالے کو دے دیا ، جو گاؤں میں رہتا تھا ،  ان کی بھی کوئی اولاد نہیں تھی ایک بیٹا بچپن میں ہی مرگیا تھا۔ اور اب وہ بے اولاد ہی تھے تو اُنہوں نے اپنا بیٹا سمجھ کر پالنا شروع کردیا ۔ اور یہاں سے بچے کی کہانی شروع وہوئی جس میں وہ بچہ ہوتے ہی بڑوں کے کام کرنے لگ گیا۔ کیسے؟ ۔۔۔اس کے لیئے کہانی پڑھتے ہیں۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس اور تشنگی قسط -- 39

 گیتا کی کنواری چوت کے ہونٹ ساحل کے لنڈ کے ٹوپا کے چاروں طرف پھیلتے ہوئے کس گئے۔ اپنی چوت کے سوراخ پر ساحل کے لنڈ کے گرم ٹوپے کو محسوس کرتے ہی  اُسے ایسے لگا جیسے اس کے بدن میں  ہزاروں واٹ کی بجلی دوڑ گئی ہو۔ اس کا پورا بدن تھرتھرا گیا۔ 

گیتا کی چوت اس کے رس سے ایک دم گیلی ہو چکی تھی۔ گیتا نے اپنی آنکھوں کو بڑی مشکل سے کھول کر ساحل کی طرف دیکھا اور پھر کانپتی آواز میں بولی، 

گیتا : ” ساحل اب اپنا لن گھسا دے میری پھدی میں”

ساحل بھی  اب اور نہیں رکنا چاہتا تھا۔ اگر گیتا کا من بدل جاتا تو یہ موقع پھر نہیں آنا تھا۔ لہٰذا گیتا کی پھدی مارنے کا یہی صحیح وقت تھا۔ 

ساحل نے جلدی سے گیتا کی دونوں ٹانگوں پر  ہاتھ رکھا اور گیتا پر جھکتے ہوئے ساحل نے اپنے لن کی ٹوپی گیتا کی پھدی کے لبوں میں گھسا دی۔ 

ساحل نے گیتا کی پھدی کے لبوں میں اپنا لن پھیرتے ہوئے اپنے لن کی ٹوپی پھدی کے سوراخ پر رکھی اور ایک ہلکا سا دھکا مارا تو لن کی ٹوپی گیتا کی پھدی کے تنگ سوراخ کو کھولتے ہوئے اندر گھس گئی۔ 

گیتا اس عمل کے لیے تیار تو تھی، لیکن  جیسے ہی ساحل کے  لن کی ٹوپی اس کی تنگ پھدی میں داخل ہوئی، گیتا نے ایک ہلکی چیخ کے ساتھ اپنی بند آنکھیں کھول دیں اور اپنے دونوں ہاتھوں سے ساحل کندھوں کو مضبوطی سے پکڑ کر روک لیا۔ ساحل بھی ڈر گیا۔ کہ پتہ نہیں کیا ہوا کیونکہ ایسا چاچی کے ساتھ تو کبھی نہیں ہوا تھا ، ہاں کاجل کو درد ہوا تھا ، اور یہی اُس کو اب یاد آیا تو وہ پھر سے ڈر گیا۔

ساحل: کیا ہوا ؟ 

گیتا نے درد بھری آواز میں کہا۔ 

گیتا:بہت  زیادہ درد ہو رہا ہے۔ 

ساحل:  لیکن ابھی تو تمہاری پھدی میں میرے لن کی ٹوپی ہی گھسی ہے، میرا باقی لن تو ابھی باہر ہے۔ 

گیتا: تم جھوٹ بول رہے ہو، سارا اندر چلا گیا ہو گا، نہیں تو مجھے اتنا درد نہیں ہوتا۔ 

ساحل: یقین نہیں آتا تو ہاتھ لگا کر دیکھ لو۔ 

گیتا: تم مذاق کر رہے ہو۔ 

ساحل: میں مذاق نہیں کر رہا۔ 

گیتا: سچ میں ہاتھ لگا کر دیکھوں؟ 

میں: ہاں، جلدی سے دیکھ لو، میں اندر کرنے والا ہوں۔ 

گیتا: رکو رکو، مجھے ہاتھ لگانے دو، ابھی ہلنا مت۔ 

گیتا نے یہ کہتے ہوئے اپنا ہاتھ ساحل کے لن پر رکھ دیا اور اس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے چیک کرنے لگی کہ لن سچ میں باہر ہے یا نہیں۔ 

ساحل: اب بولو میری بات کا یقین آیا کہ نہیں؟ 

گیتا: آج تو میری پھدی پھٹ جائے گی۔ 

میں: تمہاری پھدی اتنی تنگ کیوں ہے؟ 

گیتا: پہلے میں انگلی سے کرتی تھی، وہ بھی کبھی کبھی۔ پر آج پہلی بار لن اپنی پھدی میں لے رہی ہوں۔  آرام آرام سے کرنا، مجھے درد ہو رہا ہے۔ 

ساحل: اچھا  موسی ، جیسے تم بولو گی ویسا ہی کروں گا۔ 

یہ کہتے ہوئے ساحل گیتا کے مموں  پر جھک کر چومنے لگا اور تھوڑی دیر بعد گیتا نے بھی ساحل کے سر میں ہاتھ چلانا  شروع کر دیا۔ 

ساحل نے گیتا کی قمیض اچھی طرح سے اوپر کر دی جس سے  گیتاممے اور زیادہ کھل کر نظر آنے لگے، ساحل کے  لن کی ٹوپی ابھی بھی گیتا کی پھدی کے سوراخ میں گھسی ہوئی تھی۔ 

ساحل: گیتا تمہارے ممے بہت خوبصورت ہیں۔ 

گیتا: مجھے پتا ہے۔ 

گیتا نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا اور ساحل کی  تعریف سے اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ 

ساحل نے  گیتا کے مموں کو باری باری چوسنا شروع کر دیا۔ جب ساحل کو گیتا کے ممے چوستے ہوئے کچھ دیر ہو گئی تو گیتا سسکتی ہوئی بولی۔ 

گیتا: ساحل ، میری ٹانگیں درد کر رہی ہیں۔ 

میں: اچھا ،  اپنی ٹانگیں سیدھی کر لو۔

یہ کہتے ہوئے ساحل نے گیتا کی ٹانگیں سیدھی  کرنے لگا ،  تو گیتا اپنی ٹانگیں سیدھی کرتے کرتے رک گئی۔ 

ساحل: کیا ہوا، ٹانگیں سیدھی کر لو نا۔ 

گیتا: میں اپنی ٹانگیں سیدھی کرتی ہوں تو وہ اندر گھسنے لگتا ہے اور مجھے درد ہوتا ہے۔ 

گیتا نے درد بھری آواز میں سسکتی ہوئی کہا۔ 

ساحل: تو کیا ہوا، جانے دو اندر ہی تو جا رہا ہے نا۔ 

گیتا:تمہاری پھدی ہوتی تو تمہیں پتا چلتا کہ جب پہلی بار لن پھدی میں جاتا ہے تو کتنا درد ہوتا ہے۔ خیر ایک دفعہ تو یہ درد ملنا ہی ہے تم ایسا کرو کہ ایک ہی دفعہ میں اندر ڈال دو۔

ساحل نے گیتا کی ٹانگوں پر ہاتھ کس کے پکڑ لیا،  اور اس کے گھٹنے اس کے سینے سے لگا دیے۔ ایسا  کرنے سے گیتا کی بنڈ چارپائی سے تھوڑی اوپر اٹھ گئی۔ 

ساحل نے ایک ہلکا جھٹکا لگایا تو لن تھوڑا سا گیتا کی پھدی میں اور گھس گیا جس کی وجہ سے گیتا اپنی بنڈ کو ہلانے لگی۔ 

ساحل نے آہستہ آہستہ اپنے لن کی ٹوپی کو گیتا کی پھدی سے  باہر کرنے لگا ۔ گیتا کی پھدی سے پتا نہیں کب سے پانی رس رس کر بہہ رہا تھا۔ 

ساحل  تھوڑی دیر اپنا لن  پھدی کے لبوں میں پھیرتے ہوئے گیلا کرنے لگا۔ 

جیسے ہی ساحل نے اپنا لن گیتا کی پھدی پر رگڑنا شروع کیا، گیتا نے تڑپ کر اپنی باہیں  ساحل کی گردن میں ڈال دیں۔ 

گیتا ساحل سے لپٹی ہوئی تیز تیز سانسیں لے رہی تھی اور ہلکی ہلکی آوازیں بھی نکل رہی تھیں۔ 

جیسے ہی ساحل کے لن کی ٹوپی گیتا کی پھدی سے نکلنے والے لیسدار پانی سے تر ہو گئی، ساحل نے لن کی ٹوپی کو پھدی کے لبوں میں پھیرتے ہوئے پھدی کے سوراخ کو بھی تر کر دیا اور لن کی ٹوپی سوراخ پر رکھتے ہوئے ایک دھکا لگایا تو آدھا لن پھدی کے سوراخ کو پھاڑتا ہوا اندر گھس گیا۔ 

پھدی کے اندر لن کے گھستے ہی گیتا نے تڑپتے ہوئے ایک ہلکی سی چیخ جیسی آواز نکالی ۔ لیکن ساحل کو ہٹنے نہ دیا اور اشارے سے اُس کو آگے بڑھنے کا کہا۔

پہلے تو ساحل ڈر گیا تھا کہ یہ کیا ہورہا ہے ، پھر گیتا کا اشارہ سمجھ کر  ساحل نے اپنا  آدھا لن گیتا کی پھدی سے اسے واپس ٹوپے تک باہر نکال لیا اور ایک اور زور دار جھٹکا مارتے ہوئے اپنا سارا لن گیتا کی پھدی میں بھر دیا۔ گیتا نے اس بار چیخ تو نہیں ماری کیونکہ وہ زہنی طور پر اس جھٹکے کے لیئے تیار تھی۔ لیکن وہ تڑپ گئی اور ساحل کو اپنی چھاتی سے چپکا لیا۔

لن کا پورا گیتا کی پھدی میں جاتے ہی ساحل کو ایک عجیب سا مزہ آیا اور وہ مدہوش سا ہوگیا ، کیونکہ گیتا کی پھدی بہت ٹائٹ تھی ، چاچی کی پھدی کے مقابلے میں اور ساحل کو پھدی میں جگڑے ہوئے  لن کو محسوس کرکے بہت مزہ آیا اور  اچانک بے قابو سا ہو گیا۔ ساحل نے گیتا کے درد کی پروا کیے بغیر دھکے لگانے شروع کر دیے۔ ساحل اپنے5 انچ لن کو ٹوپی تک باہر نکالتا اور دوبارہ اندر ایک جھٹکے سے داخل کر دیتا۔

گیتا کی تنگ پھدی میں اپنا لن اندر باہر کرتے ہوئے ساحل اپنے لن پر جلن سی محسوس کر رہا تھا۔ گیتا کی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے لیکن وہ  بس اس کی شکل دیکھتے ہوئے دھکے لگا رہا تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page