Passion of lust -41- ہوس کا جنون

Passion of lust -- ہوس کا جنون

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،

ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں  ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ  سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا،  اور پھر ۔۔۔۔۔

چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس کا جنون قسط -- 41

ثمینہ: چلو، میں امی کو بتاتی ہوں کہ بھیا چھت پر میرے مموں کو گھور رہے تھے۔ 

اس کے منہ سے مموں کا لفظ سن کر میں نے ہلکورا مارا۔ 

میں: میں نے کب دیکھے تیرے ممے؟ وہ تو میں دیکھ رہا ہوں کہ کوئی چیونٹی تو نہیں رہ گئی۔ 

ثمینہ بیٹھی رہی۔ میں سمجھ گیا کہ وہ میرے سامنے برا نہیں پہنے گی، آخر مشرقی لڑکی تھی۔ میں نے منہ پھیر لیا اور اس کی قمیض اٹھا لی۔ میں نے مڑ کر ثمینہ کی طرف دیکھا تو وہ برا پہن رہی تھی۔ برا ابھی اس کے گریبان میں تھا، اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس کے ظالم ممے پھر سے برا میں قید ہو گئے۔ نظارہ اتنا سیکسی تھا کہ میرا لنڈ جواب دے گیا اور بے تحاشہ ہوائی فائرنگ کرنے لگا۔ میں جلدی سے دوسری طرف گھوم گیا کہ ثمینہ کو پتہ نہ چل جائے کہ میرا پانی نکل گیا ہے، کیونکہ اس کی نظریں بھی بار بار لنڈ پر جا رہی تھیں اور گیلے کپڑوں میں لنڈ کی ٹوپی واضح تھی۔ 

میں نے اس کی قمیض اچھی طرح سے جھاڑی اور پھر اس کے پاس جا کر اسے پکڑا دی۔ ثمینہ نے مجھ سے قمیض لی اور پھر کھڑی ہو کر دوسری طرف کر لی۔ اس کی گوری کمر پر برا کی پٹیاں تھیں۔ کمال کی شکل کی کمر تھی اس کی، بل کھاتی ہوئی مموں کے پاس سے چھوٹی، پھر اندر کو گومتی ہوئی اور پھر گانڈ سے تھوڑا اوپر کروی بناتی ہوئی چھوٹی گانڈ سے مل رہی تھی۔ ثمینہ کے ٹائٹ پاجامے میں گانڈ صاف نظر آ رہی تھی۔ میں دو بار فارغ ہو چکا تھا، مگر اس کی کمر اور گانڈ دیکھ کر لنڈ میں پھر سے حرکت پیدا ہوئی۔ ثمینہ قمیض پہننے کے لیے آگے کو جھکی اور گانڈ باہر کو نکل آئی۔ جھکنے سے گانڈ کے چھید پر اگے ہوئے بال نظر آئے۔ لنڈ پھر سے ترترانے لگا۔ شلوار گیلی ہونے کی وجہ سے سب ننگا ہی لگ رہا تھا۔ اس کی ٹائٹ قمیض گیلی ہونے کی وجہ سے بغلوں سے نیچے نہیں جا رہی تھی۔ وہ ویسے بھی کافی ٹائٹ تھی اور اب تو گیلی تھی۔ ثمینہ ہاتھ پیچھے لے جا کر اس کا کنارہ پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر وہ ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔ 

میں: میں مدد کروں؟ 

ثمینہ: ہاں کرو، کوئی شرارت نہ کرنا۔ 

مجھے تو قسمت سے ایک اور موقع مل گیا۔ میں بغیر جھجک کے سیدھا اس کی گانڈ سے جا کر جڑ گیا اور لنڈ خود سے گانڈ کی دراڑ میں سیٹ ہو گیا۔ پھر میں نے اس کی قمیض پکڑی اور اسے نیچے کرنے لگا۔ میں جان بوجھ کر کم زور لگا رہا تھا تاکہ وقت لگے۔ 

میں: ثمینہ، یہ تو بہت ٹائٹ ہے، نیچے نہیں ہو رہی۔ 

ثمینہ: زور سے کرو۔ 

میں نے اوپر کم زور لگایا اور نیچے گانڈ میں لنڈ کو پوری زور سے دبا دیا۔ ہائے، کیا مزا تھا! آج اس کی قمیض تھوڑی نیچے ہوئی، مگر آگے سے مموں پر پھنسی ہوئی تھی۔ میں نے ہاتھ آگے بڑھائے اور مموں کے اوپر سے قمیض نیچے کرنے لگا اور اسی چکر میں بہانے بہانے سے اس کی ممے دبا دبا کر قمیض نیچے کی۔ ثمینہ بھی پورے مزے لے رہی تھی۔ اس نے ایک بار بھی مموں کے دبانے پر احتجاج نہیں کیا تھا۔ پھر کافی کوشش کے بعد اس کی قمیض نیچے ہو گئی اور میں پیچھے ہٹ گیا۔ بارش کافی کم ہو گئی تھی اور چھت سے پانی بھی کافی نکل گیا تھا۔ 

ثمینہ: چلو، اب نیچے چلتے ہیں۔ 

اسے سردی لگ رہی تھی شاید۔ 

میں: تم جاؤ، میں باقی پانی نکال کر آتا ہوں۔ 

ثمینہ نے میری آنکھوں میں دیکھا اور بولی، 

ثمینہ: تم تو بہت سارا پانی نکال چکے ہو۔

اور پھر ہنستے ہوئے نیچے چلی گئی۔ 

ثمینہ کی بات سن کر میں بھی مسکرا دیا۔ وہ نیچے چلی گئی اور میں پانی نکالنے لگا۔ میں آج کے ہونے والے واقعات پر غور کر رہا تھا۔ ثمینہ میرے بہت قریب آ گئی تھی اور کافی حد تک کھل بھی گئی تھی۔ اب تھوڑی سی بے شرمی اور ہمت کی ضرورت تھی اس کے ساتھ مزید آگے بڑھنے کے لیے۔ وہ تو خود انگارہ بنی پھر رہی تھی، کیسے اس نے آج مجھے اپنا ننگا جسم دکھا دیا تھا۔ اس کی چوت میں بھی زور کی آگ لگی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود تھوڑی احتیاط کی بھی ضرورت تھی کہ امی اور آپی کو ہم دونوں کے رومانس کا شک نہ ہو، ورنہ بات بگڑ بھی سکتی تھی۔ ثمینہ کے ساتھ ایسی مستی کرنے میں مجھے بہت مزہ آ رہا تھا۔

کچھ دیر بعد بارش تقریباً رک ہی گئی تھی۔ میں نیچے آ گیا۔ مجھے اب سردی لگ رہی تھی، اور شلوار میں پڑی منی سے بھی کچھ الرجی سی ہو رہی تھی۔ میں واش روم میں گھس گیا اور نہانے لگا۔ آج کافی مستی ہو گئی تھی۔ نہانے کے بعد یاد آیا کہ میں تو خشک کپڑے لایا ہی نہیں۔ واش روم میں اب کیا پہنا جائے؟ پھر کچھ دیر سوچنے کے بعد میں نے ثمینہ کو آواز دی۔ دو تین بار پکارنے کے بعد ثمینہ کی آواز آئی، 

ثمینہ: جی بھائی؟ 

میں: یار میرا ٹراؤزر دینا اور تولیہ بھی، مجھے یاد نہیں رہا لینے کا۔۔

ثمینہ: (چلاتے ہوئے،) کیا تم بھی نا، اچھا چلو دیتی ہوں۔ 

کچھ دیر بعد باہر سے قدموں کی آواز آئی اور پھر دروازے پر دستک ہوئی۔ 

ثمینہ: بھیا، لو اپنے کپڑے۔

میں نے دروازہ کھولا اور باہر جھانکا۔ باہر ثمینہ کھڑی تھی، اس نے ہاتھ میں ٹراؤزر پکڑا ہوا تھا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر ٹراؤزر پکڑا اور ثمینہ نے میرے جسم پر نظر دوڑائی کہ شاید کچھ نظر آ جائے، مگر میں دروازے کے پیچھے تھا۔

ثمینہ: ٹھیک سے پانی نکال دیا تھا  بھیا؟ ۔

اس نے آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔ 

میں اس کی بات کا مطلب سمجھ گیا۔ 

میں: جب تم جیسی کیوٹ بہن پانی نکالنے میں مدد کرے تو پھر کوتاہی کیسے ہو سکتی ہے؟  ۔

ثمینہ: تو اس کا مطلب پانی نکالنا آ گیا جناب کو؟  ۔

ثمینہ نے اس وقت باریک سی سکن  فٹنگ قمیض پہنی ہوئی تھی، اس پر سرخ رنگ کے پھول بنے ہوئے تھے اور نیچے سرخ رنگ کا ہی برا پہنا ہوا تھا جو باریک قمیض میں سے نظر آ رہا تھا۔ گریبان پر سرخ رنگ کا بارڈر تھا، جہاں سے گوری مموں کا اوپر والا حصہ جھانک رہا تھا۔ بارڈر کے اوپر دمکتا ہوا اس کا ننگا گلا کافی سیکسی لگ رہا تھا۔ اس کے بال کندھوں پر پڑے ہوئے تھے۔ بالوں کی لٹ نے ایک ممے کو پورا چھپایا ہوا تھا اور دوسرا ننگا تھا۔ کچھ بال گریبان میں جسم سے جڑے ہوئے تھے۔ نیچے اس نے سرخ رنگ کا ٹائٹ پاجامہ پہنا ہوا تھا۔ میں اسے کچھ دیر دیکھتا رہا۔ وہ نہانے کے بعد بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ 

میں: ہاں میری گڑیا، اب میں کہیں سے بھی پانی نکال سکتا ہوں۔

یہ کہتے ہوئے میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے گال پر چٹکی کاٹ لی۔ ایسا کرتے ہوئے میری ایک ٹانگ اور کافی جسم ایکسپوز ہو گیا، مگرثمینہ کو جس چیز کی تلاش تھی وہ  ابھی چھپی ہوئی تھی۔ 

ثمینہ: (شرارتی آنکھوں سے،) بھیا آپ بہت خراب ہو گئے۔

 میں: یار ثمینہ، تم تولیہ تو لائی نہیں اور سردی بھی ہے، تو ٹراؤزر گیلا ہو جائے گا، جاؤ جلدی سے تولیہ لاؤ۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page