Passion of lust -52- ہوس کا جنون

Passion of lust -- ہوس کا جنون

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،

ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں  ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ  سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا،  اور پھر ۔۔۔۔۔

چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس کا جنون قسط -- 52

میں چارپائی کے پاس بیٹھ کر آپی کے پیٹ پر جھکا اور اپنی زبان آپی کی ناف میں گھسا دی۔ اوف۔۔۔ کمال مزا تھا۔ میں نے زبان گھمائی اور ناف کا پسینہ چاٹ لیا۔ مجھے اور زیادہ نشہ چڑھنے لگا۔ میں نے زور سے ناف کو چوسا اور اس کے ساتھ ہی باجی کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی اور اس کی ناف مجھ سے دور ہوتی ہوئی دوسری سائیڈ پر غائب ہو گئی۔ باجی نے کروٹ لے لی تھی۔ 

میں جلدی سے پیچھے ہٹ گیا۔ میرے ٹٹّے ٹھنڈے ہونے لگے۔ مجھے آپی سے ڈر بھی لگتا تھا۔ بچپن میں جب میں اسکول سے چھٹی کرتا تھا تو آپی سے بہت کٹ پڑتی تھی۔ شکر ہے ابھی وہ اٹھی نہیں تھی۔ اگر وہ اٹھ جاتی اور یہ سب دیکھ لیتی تو طوفان مچا دیتی۔ اب آپی کی شلوار کا کونہ اور اس کے اوپر تھوڑی سی ننگی سائیڈ کمر نظر آ رہی تھی، لیکن آپی کی گانڈ پوری ایکسپوز ہو گئی تھی اور یہ نظارہ ننگے پیٹ سے بھی زیادہ سیکسی تھا۔ آپی کی گانڈ ثمینہ سے بڑی تھی اور شادی کے بعد چدائی سے کچھ زیادہ ہی باہر نکل آئی تھی۔ آپی کی شلوار گانڈ کے دراڑ میں پھنسی ہوئی تھی اور سیکسی ہپس الگ الگ نظر آ رہے تھے۔ نظارہ بہت ہاٹ تھا اور میرا دل کر رہا تھا کہ ابھی آپی کی بڑی گانڈ میں لنڈ گھساؤں، مگر ابھی اسے چھیڑنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دینے کے مترادف تھا۔ میں کچھ دیر اسے دیکھتا رہا اور پھر کپڑے چینج کرنے لگا۔ کپڑے چینج کر کے میں واش روم میں گیا اور کافی دیر نہاتا رہا۔ جب میں دوبارہ کمرے میں گیا تو آپی ابھی تک وہیں تھی، مگر اب اس کا پیٹ نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں دوسرے بیڈ پر لیٹا اور سو گیا۔ اتنی چدائی کے بعد بہت آرام کی نیند آئی تھی۔ 

شام کو جب میں اٹھا تو آپی برآمدے میں بیٹھی ڈائجسٹ پڑھ رہی تھی اور ثمینہ چارپائی پر بیٹھی سبزی کاٹ رہی تھی، جب کہ امی کچن میں مصروف تھیں۔ میں ثمینہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ ثمینہ نے حسبِ معمول ٹائٹ قمیض پہنی ہوئی تھی اور دوپٹہ گلے سے غائب تھا، جس سے اس کی پہاڑ جیسی مموں کا کچھ حصہ نظر آ رہا تھا۔ میں اس کی مموں کو دیکھ رہا تھا۔ 

ثمینہ: اٹھ گئے بھیا، بھوک  تو نہیں لگی؟ اور پھر مما آگے کرتے ہوئے، دودھ پیو گے؟ 

میں (اس کے مموں کو نگاہوں میں اتارتے ہوئے): اگر پیاری سی بہنا پلائے گی تو ضرور پیوں گا۔ 

ثمینہ: میں بھلا کیوں نہ اپ کو دودھ پلاؤں گی، لیکن بھیا دودھ ابھی کچا ہے۔ یہ کہتے ہوئے اس نے ہلکے سے مما ہلایا۔ میرا لنڈ اس کے مموں کو ہلتے دیکھ کر ٹائٹ ہو گیا۔ 

میں: تو کوئی بات نہیں، آج کچا ہی پی لیتا ہوں۔ 

ثمینہ: نہیں بھیا، کچا پینے سے پیٹ بھی خراب ہو جاتا ہے۔ چلو میں سبزی تیار کر کے گرم کر دیتی ہوں۔ 

میں: مجھے تو کچا بھی چلے گا، میرا پیٹ نہیں خراب ہوتا۔ 

میں نے دل میں کہا، دودھ گرم ہو نہ ہو، مجھے تو تیری باتوں نے ضرور گرم کر دیا ہے۔ پھر وہ سبزی بنا کر دودھ گرم کر کے لے آئی اور مجھے دودھ پکڑاتے ہوئے کچھ زیادہ ہی جھک گئی۔ اس کے بڑے بڑے ممے نیچے جھک کر قمیض کو پھاڑنے کی کوشش کرنے لگے۔ گلے سے برا کا اوپر والا بارڈر نظر آنے لگا، جس میں وہ بھورے رنگ کے ممے قید تھے۔ برا کے بارڈر پر لیس لگی ہوئی تھی جو ان مموں پر بہت بھلی لگ رہی تھی۔ مموں کا کافی حصہ برا سے باہر نظر آ رہا تھا۔ 

ثمینہ: بھیا، دودھ پیو گے تو مزا آ جائے گا۔ 

میرا برا حال تھا، ہونٹ خشک ہو رہے تھے۔ 

میں: ہاں، تمہارا دودھ پی کر تو سچ میں مزا آ جاتا ہے۔ (اچانک میرے منہ سے نکل گیا) 

ثمینہ نے چونک کر مجھے دیکھا اور بولی، 

ثمینہ: کیا بھیا؟ 

میں (بات بدلتے ہوئے): تمہارے ہاتھ کا دودھ پی کر سچ میں مزا آ جاتا ہے۔ 

ویسے ثمینہ جس اسٹیج پر آ گئی تھی، اب اگر میں بات نہ بھی بدلتا تو مسئلہ نہیں تھا۔ میری بات سن کر وہ ہنسنے لگی۔ 

ثمینہ: بھیا، آپ بہت شرارتی ہو۔ (وہ میرے پاس بیٹھتے ہوئے بولی) 

میں: ہں، اچھا، میں نے اب تم سے ہی شرارتیں کرنی ہیں نہ۔ (اس کی مموں کو دیکھتے ہوئے کہا) 

ثمینہ: ہاں ہاں، روکا کس نے ہے بھیا۔ کل آپی نے بھی چلے جانا ہے۔ 

میں نے اس کی طرف دیکھا۔ مجھے پتا تھا وہ بھی چاہتی تھی کہ آپی جائے اور ہم دونوں دھوم سے موج مستی کریں۔ 

میں: اچھا، اتنی جلدی؟ 

ثمینہ: ہاں، تو آپی کے ہسبینڈ کا فون آیا تھا کہ کل آ جاؤ واپس۔ اب یا تو آپ یا پھر امی چھوڑنے جائیں گی۔ 

میں: ابھی رہ لیتی کچھ دن۔۔۔ 

ثمینہ (ہنستے ہوئے): نہیں یار، شادی کے بعد زیادہ دن نہیں رہنا چاہیے۔ 

پھر اسی طرح ہم باتیں کرتے رہے۔ شام کا کھانا کھایا۔ میں آج گھر ہی رہا۔ ثمینہ اور آپی کے ساتھ باتوں میں اچھا ٹائم گزرا اور ساتھ میں ان کی مموں اور گانڈوں کا دیدار بھی چلتا رہا۔ رات کو ہم سب ہال میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ میں اور ثمینہ صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپی نیچے قالین پر۔ ثمینہ صوفے کے کونے پر فولڈ ہو کر کونے پر کہنی رکھے لیٹی ہوئی تھی۔ اس کے گھٹنے اس کے پیٹ سے جڑے ہوئے تھے اور گانڈ میری طرف تھی، جو فولڈ ہونے سے کچھ زیادہ بھاری اور سیکسی نظر آ رہی تھی۔ میں بھی ویسے ہی صوفے کے دوسرے کونے پر لیٹا ہوا تھا۔ میرے پاؤں اس کی گانڈ کے بالکل سامنے تھے اور میری نظریں ایل ای ڈی پر کم اور اس کی گانڈ پر زیادہ تھیں۔ 

میں نے اپنا پاؤں تھوڑا آگے کیا اور ثمینہ کی نرم گانڈ سے جوڑ دیا۔ جیسے ہی میرا پاؤں اس کی گانڈ سے لگا، اس کا جسم تھوڑا ہلا، مگر اس نے نوٹس نہ لیا اور ٹی وی دیکھتی رہی۔ میرے پاؤں کا تلوا اس کے نرم ہپ پر ٹکا ہوا تھا، جسے میں آہستہ سے پریس کیے ہوئے تھا۔ پاؤں کے نیچے سے اس کی گانڈ کو ٹچ کرنا مجھے بہت مزا دے رہا تھا۔ میں کافی دیر اسی طرح اس کی گانڈ سے مزے لیتا رہا۔ میرا پاؤں کبھی اس کی گانڈ کی دراڑ میں چلا جاتا تو کبھی نرم ہپس پر۔ میرا لنڈ جھوم جھوم کر تھک گیا تھا۔ پھر کافی ٹائم ہو گیا اور آپی اور ثمینہ اپنے روم میں سونے کے لیے چلی گئیں، مگر مجھے ذرا بھی نیند نہیں آ رہی تھی۔ کبھی آپی کا جسم ذہن میں آتا تو کبھی ثمینہ کی نرمی ذہن پر چھانے لگتی۔ خیر، جب معاملہ برداشت سے باہر ہوا تو میں ثمینہ کے روم کی طرف گیا۔ برآمدے میں ہلکی پاور کا بلب جل رہا تھا، جس کی روشنی اندر بھی جا رہی تھی۔ ثمینہ اور آپی دونوں ایک ہی چارپائی پر پنکھے کے نیچے سو رہی تھیں۔ بیڈ پر شاید گرمی تھی، اس لیے آپی چھت کی طرف منہ کیے سیدھی لیٹی تھی اور ثمینہ بھی۔ ثمینہ کی ایک ٹانگ آپی کی ران کے اوپر سے ہو کر اس کی ٹانگوں کے درمیان میں تھی، جس سے ثمینہ کی قمیض شلوار سے تھوڑی اوپر تھی اور ہلکا سا پیٹ جھانک رہا تھا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page