Passion of lust -62- ہوس کا جنون

Passion of lust -- ہوس کا جنون

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،

ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں  ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ  سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا،  اور پھر ۔۔۔۔۔

چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس کا جنون قسط -- 62

افففففف۔۔۔ مموں کا کافی سارا حصہ گلے سے نظر آ رہا تھا۔ ثمینہ کی کرتی کچھ زیادہ ہی سیکسی تھی۔ ییلو کلر کی وہ کرتی بہت ہاٹ اور جچ رہی تھی اس پر۔ اور نیچے سفید تنگ پجامہ، رانیں بھی ننگی ہی لگ رہی تھیں۔ ثمینہ جوانی کے نشے میں جھومتی ہوئی، ممے اوپر نیچے ہلاتی ہوئی میری طرف آئی۔ میرا سانس اٹک  رہا تھا۔ وہ فل بے شرمی سے ممے ہلاتی ہوئی میرے پاس آئی۔ آج کے واقعے نے شاید اس کی شرم اتار دی تھی۔ چلو، یہ بھی اچھا ہے۔ 

ثمینہ: بھیا، کیا گھور گھور کر دیکھ رہے ہیں؟ پہلے کبھی ایسی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی کیا؟ 

میں:( اس کی ہمت پر حیران ہوگیا )۔ بہت دیکھی ہیں، میں تو دیکھ رہا تھا کہ میری بہن کیسی لگتی ہے۔ 

ثمینہ: مجھے پتا، آپ کیا دیکھ رہے تھے۔ 

میں: کیا دیکھ رہا تھا؟

وہ فل موڈ میں تھی

ثمینہ: آپ کی شادی کروا دینی چاہیے اب۔

وہ ہنستے ہوئے بولی

پھر وہ اندر گئی اور تولیہ لے کر باہر آئی۔ اس نے میری طرف دیکھا، ایک جھٹکے سے بال چہرے کے آگے کیے اور آگے کو جھک گئی۔ اففففففف۔۔۔ اس کی چھوٹی سی کرتی سے ممے جیسے باہر ہی آ گئے تھے۔ وہ تولیے کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر بال جھاڑنے لگی۔ اس کے ممے زور زور سے ہلنے لگے۔ مجھے لگا کہ کہیں ثمینہ کی کرتی مموں والی جگہ سے پھٹ ہی نہ جائے۔ بہت سیکسی سین تھا۔ آج وہ مجھے فل ٹیز کرنے کے موڈ میں تھی۔ میرا لنڈ سرکشی کر رہا تھا۔ میرا دل کر رہا تھا کہ ثمینہ کو ادھر ہی چود دوں۔ 

پھر وہ میرے پاس چارپائی پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ گئی۔ 

ثمینہ: بھیا، پیچھے سے میرے بالوں کا جوڑا بناؤ۔ 

میں: مجھے نہیں پتا۔ 

ثمینہ: بناؤ نہ بھیا۔۔۔ پیار نہیں ہے اپنی چھوٹی بہن سے؟ 

میں: ہے تو۔ 

ثمینہ: تو پھر بناؤ۔ 

اس نے اپنی کمر میرے آگے کر دی۔ میں آگے ہو کر گھٹنوں کے بل ہوا اور اس کے بال پکڑ کر جوڑا بنانے لگا۔ اففففف۔۔۔ اوپر سے اس کے ممے کرتی میں دبے ہوئے صاف نظر آ رہے تھے۔ کلیویج کیا، پورے ممے ہی ننگے تھے، صرف نپل کا کچھ حصہ ہی کرتی میں تھا، وہ بھی باہر سے ہی کرتی گیلی ہونے سے نظر آ رہا تھا۔ میں اپنا اکڑا ہوا لنڈ اس کی کمر سے لگا دیا اور اس کے سر کے بال سیٹ کرنے لگا۔ میرا دھیان اس کے مموں پر ہی تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ دونوں سائیڈوں پر چارپائی پر رکھے اور پیچھے کو اور زیادہ جھک گئی۔

 ہائے، میں مر جاؤں، آج تو سالی میرا لنڈ پھاڑ کر ہی چھوڑے گی۔ پیچھے جھکنے سے ممے اور زیادہ تن گئے اور فل فگر میں نظر آنے لگے۔ اگر وہ زور سے مموں کو ہلاتی تو یقیناً ممے اس نازک سی کرتی کو پھاڑ کر باہر آ جاتے۔ میں اس کے مموں کو ہی دیکھ رہا تھا۔ 

ثمینہ: بھیا، میری کرتی کا گلا کیسا ہے؟

اس نے اور زیادہ مموں کو اوپر اٹھاتے ہوئے کہا

افففففف۔۔۔ اب تو کمال کا پوز تھا۔ 

میں: پپ۔۔۔ پیارا ہے۔

میں نے خشک حلق  گیلا کرتے ہوئے کہا

ثمینہ: صرف پیارا ہے؟ 

میں: نہیں، بہت ہی پیارا ہے، بہت خوبصورت  لگ رہا۔ 

ثمینہ: ہاں، یس، آپ کی بہن خوبصورت  ہے نہ؟ 

میں: ہاں، خوبصورت  اور سیکسی۔۔۔۔۔

میں آگے کہتے کہتے رُک گیا

میرا دل کر رہا تھا کہ ابھی اس کے مموں کو پکڑکر مسل دوں۔ بہت خوار کر رہی تھی آج مجھے۔ اب تو مجھے یقین ہو رہا تھا کہ جلدی ہی ایک نئی چوت کی سیل میرے لنڈ سے ٹوٹنے والی ہے۔ ثمینہ کافی دیر بہانوں سے مجھے اپنا جسم  دکھاتی رہی۔ میں اس کے سیکسی بدن کی گہرائیوں میں ڈوبتا رہا۔ لنڈ چوت مانگ رہا تھا، مگر چوت بھی اب تیار ہو رہی تھی۔ میں رات کا سوچنے لگا کہ آج کسی طرح ثمینہ کو چودا جائے۔ بہت تنگ کر دیا ہے آج اس نے۔ پھر وہ ممے مٹکاتی ہوئی کمرے میں چلی گئی اور میں بھی روم میں جا کر لیٹ گیا۔ 

میں نے ایک ترکیب سوچی کہ کیسے ثمینہ کو مزید اوپن کیا جائے جس سے میں جلد ہی اس کی چوت مار لوں۔ پھر میں سو گیا۔ شام کو میں اٹھ کر باہر نکلا۔ ثمینہ صحن صاف کر رہی تھی اور اس کے ممے میرا گلا صاف کر رہے تھے۔ سالی، کیا پٹاخہ جسم ہے۔ جب بھی دیکھتا ہوں، لنڈ کھڑا ہوجاتا ہے۔ شام تک ثمینہ نے مجھے ممے اور گانڈ دکھا دکھا کر پاگل کر دیا۔ اس کی چوت تو اب پھاڑنی ہی پڑے گی۔ رات ہو گئی۔ ہم نے کھانا کھایا۔ اس دوران بھی ثمینہ نے ایسے ایسے پوز دکھائے کہ میں کئی بار فارغ ہوتا ہوتا بچا۔ میں نے بھی آج سوچ لیا تھا کہ ثمینہ کو کیا پوز دکھانا ہے۔ رات کو میں کچھ دیر روم میں لیٹا رہا۔ پھر کچھ دیر بعد میں نے تہبند (دوتی) باندھی اور چھت پر چلا گیا۔ مجھے یقین تھا کہ جب بھی لائٹ جائے، ثمینہ چھت پر ضرور آئے گی۔ لنڈ کا ملنے والا لمس اسے بھی چین سے نہیں بیٹھنے دے گا۔ اب وہ بھی ضرور دوبارہ سے لنڈ لینے آئے گی۔ 

میں چارپائی پر لیٹ کر ثمینہ کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ ڈیڑھ گھنٹے بعد لائٹ چلی گئی۔ جیسے ہی لائٹ گئی، ثمینہ کے آنے کا سوچ کر ہی لنڈ اکڑنے لگا۔ پھر کافی دیر بعد ثمینہ کے قدموں کی آواز آئی۔ ثمینہ کے قدموں کی آواز سن کر میرا لنڈ مزید ٹائٹ ہو گیا۔ میں سیدھا لیٹا ہوا تھا۔ میں نے تہبند کو سائیڈ پر کر دیا جس سے میرا لنڈ فل ننگا ہو گیا۔ لنڈ چاند کی روشنی میں چمکنے لگا۔ پھر ثمینہ چھت پر پہنچ گئی۔ ثمینہ کے ہر قدم کے ساتھ میرا لنڈ مزید سخت ہوتا گیا۔۔۔ 

ثمینہ کے قدم میری چارپائی کے قریب آ کر رُک گئے۔ ہر طرف چاند کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ چاند فل سائز کا تھا۔ میں خراٹے مارنے لگا تاکہ ثمینہ یہی سمجھے کہ میں گہری نیند میں ہوں۔ میں نے ہلکی سی آنکھیں کھول کر ثمینہ کی طرف دیکھا۔ وہ منہ کھولے میرے لنڈ کو دیکھے جا رہی تھی۔ اس کے جسم کی گرمی مجھے اپنے جسم پر  محسوس ہو رہی تھی۔ اسے اس طرح اپنے لنڈ کو ترستا دیکھ کر لنڈ مزید سخت ہو گیا اور مستی میں ایک جھٹکا کھایا۔ ثمینہ کی نظریں لنڈ پر ہی گڑی ہوئی تھیں۔ آج میں اس کے سامنے ننگا ہوا تھا۔ ہمیشہ میں ہی اسے ٹچ کرتا تھا، اس نے آج تک مجھے نہیں چھوا تھا۔ اور میں چاہتا تھا کہ وہ بھی کھل جائے، مجھے چھوئے، میرے لنڈ کو پکڑے۔ میرا لنڈ اس کے ہاتھوں کے لمس کو ترس رہا تھا۔ اور اس وقت وہ مست جوانی میرے پاس کھڑی میرے لنڈ کو ترستی  نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ شاید وہ اپنی زندگی کا پہلا میچور لنڈ دیکھ رہی تھی۔ میرے جسم میں شدید خواہش پیدا ہو رہی تھی کہ وہ میرے لنڈ کو مٹھی میں لے۔ 

بہن کا جوان گرم مست جسم میرے انگ انگ کو بے چین کیے جا رہا تھا۔ نیچے سے میرا جسم ہلکا سا کانپنے لگا۔ ثمینہ بھی لنڈ کو دیکھ دیکھ کر گرم ہو رہی تھی۔ اس بات کا مجھے یوں اندازہ ہوا کہ اس نے ایک ہاتھ اپنی چوت پر رکھ لیا اور اوپر نیچے رگڑنے لگی۔ وہ لنڈ کو انتہائی ترسی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page