کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،
ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا، اور پھر ۔۔۔۔۔
چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔
نوٹ : ـــــــــ اس طرح کی کہانیاں آپ بیتیاں اور داستانین صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ ساری رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی تفریح فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے دھرایا جارہا ہے کہ یہ کہانی بھی صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔
تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
-
Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026
ہوس کا جنون قسط -- 63
یقیناً لنڈ کو دیکھ دیکھ کر اس کی چوت میں آگ بھڑکنے لگی تھی۔ چاندنی میں اس کی ٹائٹ قمیض میں ممے تنے ہوئے تھے۔ اس کا سانس تیز تھا۔ ممے اس رومانٹک ماحول میں کچھ زیادہ ہی سیکسی لگ رہے تھے۔ اس نے اپنا ایک ہاتھ ممے پر رکھا اور ایک ہاتھ سے مما اور دوسرے ہاتھ سے چوت دبانے لگی۔ لنڈ ترسی ہوئی نظروں سے ثمینہ سے چوت کی التجا کر رہا تھا اور ثمینہ اس خاموش پکار کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ کافی دیر وہ اسی طرح کرتی رہی۔ پھر اس کی چوت کی ڈیمانڈ بڑھی۔ چوت کو ہاتھ نہیں، لنڈ چاہیے تھا، چاہے بھائی کا ہی ہو۔ اور لنڈ سامنے تھا تو پھر ترسنا کیسا؟
اس نے میرے چہرے کی طرف دیکھا۔ میں خود کو سوتا ہوا ظاہر کرنے کی فل ایکٹنگ کر رہا تھا۔ چہرے کی طرف دیکھ کر اسے کچھ اطمینان ہوا۔ وہ ہلکے آگے بڑھی اور میری ران کے پاس چارپائی پر بیٹھ گئی۔ میں چارپائی کے بالکل سینٹر میں تھا۔ اس کی ران میری ران سے ٹچ ہونے لگی۔ میرا سارا جسم ہوس کے نشے میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس کی نرم ران کا ٹچ میری آگ کو مزید بھڑکانے لگا۔ ثمینہ میرے چہرے کی طرف منہ کر کے بیٹھی تھی۔ اس نے پھر سے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر لنڈ کو۔ پھر اپنی جوانی کی گرمی کے ہاتھوں مجبور ثمینہ کا ہاتھ آگے بڑھا اور لنڈ سے ٹچ ہوا۔
آہہہ۔۔۔
میری ترکیب کامیاب ہو رہی تھی۔ ثمینہ کو میرا لنڈ چاہیے تھا جو آج اس کے سامنے کھلے عام جھٹکے لے رہا تھا۔ ثمینہ نے دو انگلیوں اور انگوٹھے کے درمیان لنڈ کو ٹوپی کے پاس سے پکڑا۔ اس کے ہاتھ کا لمس اپنے لنڈ پر پا کر میرا جسم منمنانے لگا۔ وہ کچھ دیر اسی طرح لنڈ کو پکڑے سختی کا اندازہ لگاتی رہی۔ اس کا ہاتھ پھسلتا ہوا ٹٹوں پر چلا گیا۔ پھر وہ ٹٹے پکڑ پکڑ کر دیکھنے لگی۔ جوانی کے ہاتھوں مجبور ایک گرم لڑکی اپنے بھائی کے جسم سے اپنی ہوس پوری کرنے جا رہی تھی۔ ہوس کے جنون نے اسے پاگل کیا ہوا تھا۔ پھر اس نے میرے لنڈ کو مٹھی میں لیا اور دبانے لگی۔
اففففففف۔۔۔ آہہہ۔۔۔ مزا آ گیا۔ میرے سارے جسم میں اس کے نرم ہاتھوں کا لمس سکون پہنچا رہا تھا۔ وہ کبھی مٹھی ٹائٹ کرتی تو کبھی کھول دیتی۔ کبھی وہ لنڈ کو ہلانے لگتی تو کبھی مٹھی میں لے کر اوپر نیچے کر کے مٹھ مارتی۔ اففففففف۔۔۔ اتنا مزا مجھے آج تک نہیں ملا تھا۔
اچانک اس نے اپنا منہ نیچے کیا، پھر وہ رُک گئی اور میرے چہرے کو دیکھنے لگی۔ مجھے سوتا پا کر اس نے دوبارہ سے منہ نیچے کیا اور لنڈ کو سونگنے لگی۔ پھر اس کے لیپس لنڈ پر ٹچ ہوئے اور اس نے لنڈ کا چوما لے لیا۔ اففففف۔۔۔ اتنا مزا۔۔۔ اگر میں دن میں کئی بار ڈسچارج نہ ہوا ہوتا تو اب تک میرا پانی نکل جاتا۔ ثمینہ نے زبان نکالی اور لنڈ کی ٹوپی پر پھیری۔ نشے سے میری آنکھیں بند ہو گئیں۔ اب میں صرف مزے لے رہا تھا۔ اس نے لنڈ کی ٹوپی ہونٹوں میں دبائی اور پھر ہونٹوں میں دبائے ہوئے ٹوپی چوسنے لگی۔
اففففففففف۔۔۔ آہہہ۔۔۔ سیییی۔۔۔ اتنا مزا۔۔۔ میں بڑی مشکل سے اپنی سسکیاں روک پا رہا تھا۔
مزے سے میرا برا حال تھا۔ میں ہواؤں میں اُڑ رہا تھا۔ ثمینہ میرے لنڈ پر بھوکی بلی کی طرح ٹوٹ پڑی اور زور زور سے لنڈ چوسنے لگی۔ اس کے چوسے مارتے ہوئے کبھی لنڈ پچ کی آواز سے منہ سے باہر نکل آتا اور وہ پھر سے منہ میں دبا لیتی۔ اتنی مزے کی کلفی اسے پہلی بار نصیب ہوئی تھی، تبھی وہ اسے چوس چوس کر بیحال کر رہی تھی۔ میری ہوس بڑھنے لگی، انگ انگ میں مستی بڑھتی گئی۔ اور پھر یہ مستی لنڈ میں اکٹھی ہونے لگی۔ لنڈ سے پچھکاری نکلنے والی تھی۔ لنڈ تقریباً ہاف لنڈ ثمینہ کے منہ میں دبا ہوا تھا۔ میرا جسم اکڑنے لگا۔ میں نے پاؤں کی انگلیاں موڑیں اور پچھکاری کو روکنے کی بہت کوشش کی، مگر بے سود۔ لنڈ کی نالیوں کو چیرتی ہوئی پچھکاری نکلی اور ثمینہ کے گلے میں غائب ہو گئی۔ پچھکاری نکلتے ہی ثمینہ ہڑبڑا گئی۔ اس نے جلدی سے منہ اوپر اٹھایا اور دوسری پچھکاری اس کے منہ اور ناک کو گیلا کرتی چلی گئی۔ وہ حیرانی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ آخری پچھکاری لنڈ سے نکلی اور لنڈ پر بہنے لگی۔ ثمینہ نے میرے تہبند (دوتی) سے منہ صاف کیا اور پھر لنڈ کو دیکھنے لگی۔ لنڈ ابھی بھی اکڑا کھڑا تھا، مگر اس کی سختی تھوڑی کم ہو گئی تھی۔ میں تو ڈسچارج ہوا تھا، مگر جسم میں ابھی بھی آگ لگی تھی۔ اور یہی آگ ثمینہ کی چوت میں بھی لگی ہوئی تھی۔ اس کا انگ انگ بھی آج زور کی چدائی مانگ رہا تھا۔ چوت کو جولذت لنڈ سے ملتی ہے، وہ اور کوئی چیز نہیں دے سکتی تھی۔ اتنے دِنوں سے جسم کے مختلف حصوں سے ٹچ ہونے والا لنڈ آج اسے فائنل راؤنڈ کے لیے بلا رہا تھا۔ میرے لنڈ کے لمس نے اس کی شرم کی چادریں پھاڑ دی تھیں اور آج وہ خود چوت کے ہاتھوں مجبور ہو کر بار بار لنڈ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس نے تہبند سے میرا لنڈ صاف کیا اور پھر سے لنڈ کو گھورنے لگی۔ اب اس نے میری طرف بھی نہیں دیکھا، بلکہ اب اس نے میرے چہرے کو کیوں دیکھنا تھا؟ ہوس کا جنون اُس کو مدہوش کرچکا تھا، اس کے بدن میں صرف آگ تھی اور یہ آگ ایسی زور کی تھی کہ اس کی ساری شرم پر غالب آ گئی تھی۔ اور پھر میں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔
ثمینہ کھڑی ہوئی۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے قمیض کے پلو پکڑے اور پھر اس کی قمیض اوپر اٹھتی چلی گئی۔ اب آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے کی باری میری تھی۔ اس کا چاندی جیسا جسم چمچمانے لگا۔ اس کا ننگا پیٹ۔۔۔ آہہہ۔۔۔ اور پھر دو کپکپاتے ہوئے کبوتر قمیض سے باہر نکلے اور پھڑپھڑانے لگے۔ اتنا سیکسی اور مستی سے بھرپور سین میرے جسم میں جیسے چنگاریاں بھرنے لگی۔ لنڈ پھر سے تپنے لگا۔ اگر اس کے چہرے کے آگے قمیض نہ ہوتی تو وہ یقیناً میری کھلی آنکھیں دیکھ لیتی۔ ثمینہ نے پوری قمیض اتار کر سائیڈ پر پھینک دی۔ نیچے اور کوئی لباس نہیں تھا سوائے پجامے کے۔ اس کے اونچے مخروطی ممے چاند کی روشنی میں دمکنے لگے۔ میں آنکھیں بند کرنا بھول گیا۔ یہ ہوس بھرا سین تھا۔ میرے منہ میں پانی آ گیا۔ ایسے جاندار ممے، ایسا پرشباب جسم، اور وہ بھی چاندنی میں۔ ثمینہ نے گلے میں ایک چین پہن رکھی تھی جو مموں کے درمیان لٹکی ہوئی تھی اور اس کے مموں کو بہت پرکشش اور سیکسی بنا رہی تھی۔ میں خود کو بہت مشکل سے روکے ہوئے تھا۔ اس کے ننگے جسم نے میرے اندر وہ آگ لگا دی تھی کہ میرا دل کر رہا تھا کہ اس کے بدن کے ہر حصے پر لنڈ رگڑوں اور رگڑ رگڑ کر اس کا پورا جسم اپنی منی سے بھر دوں۔
کوئی لڑکی ہوس کے ہاتھوں اتنا مجبور ہو سکتی ہے، یہ میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ لڑکی میں لڑکے سے زیادہ سیکس ہوتا ہے، یہ بات سنی تو تھی، آج ثابت بھی ہو گئی۔ اور آج ثمینہ اپنے جسم کے ہاتھوں مجبور اپنے بھائی پر اپنی جوانی لٹانے جا رہی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے