Passion of lust -65- ہوس کا جنون

Passion of lust -- ہوس کا جنون

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،

ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں  ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ  سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا،  اور پھر ۔۔۔۔۔

چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس کا جنون قسط -- 65

بھٹی کی طرح گرم چوت کے نیچے دبا ہوا لنڈ کبھی رانوں میں پھنستا، کبھی اوپر گانڈ کی دراڑ کی طرف جاتا، تو کبھی چوت اور ناف کے درمیان پھسلنے لگتا۔ جسم کا یہ مساج سب سے غضب کا تھا۔ مزے  سے میرے ہونٹ جڑے، آنکھیں بند تھیں اور ثمینہ کا گداز جسم۔۔۔ 

پھر ثمینہ اٹھی اور میرے پیروں کی طرف منہ کر کے لنڈ کے سامنے گانڈ کر کے بیٹھ گئی۔ میرے تو ہوش ہی اُڑ گئے۔ یہ پوز ہی بڑا قاتلانہ تھا۔ سراحی دار پتلی بل کھاتی ہوئی کمر، نیچے گدرائی  موٹی گانڈ، اس کے ساتھ جڑتی ہوئی رانیں۔ اففففف۔۔۔ میری بس ہو گئی تھی۔ کنٹرول ختم ہونے لگا۔ اتنی قاتل جوانی پاس تھی اور میں آرام سے لیٹا تھا۔ وہ غضب ڈھاتی ہوئی گانڈ جو قابلِ غرور، اورپیار کرنے کے قابلِ  تھی، آج خود مجھ سے پھٹنے آئی تھی۔ اففففففففف۔۔۔ کیا مقدر ہے تیرا عامر۔ میں خود پر رشک کرنے لگا۔ پھر وہ گانڈ تھوڑی اوپر اٹھی اور ثمینہ پیروں کی طرف جھکی۔ گانڈ کا سوراخ نظر آیا جو فل بند تھا۔ پاخانہ کر کے کچھ تو کھلا ہونا چاہیے تھا، سالا وہ بھی سیل پیک ہی تھا۔ اس کے نیچے ظالم چوت۔۔۔ اوہہہ۔۔۔ ممم۔۔۔ مزا۔۔۔ آہہہ۔۔۔ 

پھر وہ گانڈ پیچھے کو ہوئی اور لنڈ کو دباتے ہوئی میرے پیٹ پر سیٹ ہو گئی۔ لنڈ دو بار پانی نکال چکا تھا، اب وہ بھی ٹھنڈا ہوتا دکھائی نہ دے رہا تھا۔ نرم گانڈ نے لنڈ کو ایسا مزا دیا کہ کچھ دیر تو لنڈ بھی سختی بھول گیا۔ اوہہہ۔۔۔ ثمینہ میری جان، تو نے تو غلام بنا لیا مجھے۔ ایسا مزا تو آج تک کسی نے دیا نہیں۔ اور ایسا غضب کا فگر۔۔۔ اففففففف۔۔۔ میں بھی آرام سے گانڈ کے نیچے لنڈ دبوائے مزا لیتا رہا۔ گانڈ میں حرکت ہوئی اور لنڈ گانڈ کے نیچے چوہے کی طرح مچلنے لگا۔ گانڈ آگے پیچھے ہو رہی تھی۔ افففففف۔۔۔ اتنا مزا۔۔۔ آہہہ۔۔۔ اوہہہ۔۔۔ ممم۔۔۔ 

میری برداشت جواب دے گئی۔ میں نے ہاتھ اٹھائے اور نرم گانڈ پر رکھ دیے۔ افففففففف۔۔۔ میرے جسم میں جیسے بجلیاں بھرنے لگیں۔ ثمینہ نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔ ایسا کرنے سے اس کا ایک مما نظر آنے لگا۔ آہہہ۔۔۔ ہائے۔۔۔ سالی ہاٹ گرل۔ 

میں گانڈ کو زور زور سے آگے پیچھے کرنے لگا۔ 

ثمینہ: آہہہ۔۔۔ اٹھ گئے بھیا؟ 

میں: ہاں میری سیکسی بہن، کیا مزا ہے تجھ میں، میری نشے کی پڑیا۔ افففففف۔۔۔ کہاں چھپی تھی اب تک؟ اور یہ کیا کر رہی ہو؟ آہہہ۔۔۔ اوئے تیری بنڈ۔۔۔ آہہہ۔۔۔ اوہہہ۔۔۔ تیری موٹی بنڈ۔۔۔ 

ثمینہ: وہی جو تم دوپہر کو کر رہے تھے میرے ساتھ۔ 

میں: اوہہہ۔۔۔ ممم۔۔۔ آہہہ۔۔۔ تم جاگ رہی تھیں؟ 

ثمینہ: ہاں تو اور کیا، تم بھی تو کب سے جاگ رہے ہو اور مزے لے رہے ہو چپکے سے۔

وہ مجھے آپ سے تم کہہ رہی تھی 

میں: تو بڑی رانڈ ہے ثمینہ۔۔۔ ممم۔۔۔ یمم۔۔۔ اوہہہ۔۔۔ تیری بڑی کمال کی ہے۔ نہیں، تیرے ممے بھی پرفیکٹ ہیں، بلکہ پورا جسم انگارہ ہے۔ امم۔۔۔ آہہہ۔۔۔ تجھے کب سے پتا میں جاگ رہا ہوں؟ 

ثمینہ: چھوڑو اور مزے لو۔ تمہیں اوپن کرنے کے لیے ہی میں تمہیں گانڈ دکھا رہی تھی۔ مجھے پتا ہے میری بنڈ تو کپڑوں میں دیکھ کر ہی تیرا لنڈ ٹائٹ ہو جاتا ہے، میرے پیارے بھیا۔ اور یہ کتنا بڑا لنڈ ہے تیرا۔ روز میرے مموں کو دیکھ کر تیرا لنڈ اکڑتا رہتا تھا اور چوت کو ترساتا رہتا تھا۔ 

اس کے منہ سے چوت اور لنڈ سن کر میں حیران، مگر وہ تو مستی میں گم تھی۔ 

ثمینہ: بھائی، مزا آیا؟ دیکھ کیسے تیرے ننگے لنڈ کو بنڈ سے رگڑ رہی ہوں۔ مزا دے رہی ہوں اپنے بھائی کو بنڈ رگڑ رگڑ کر۔ 

میں: آہہہ۔۔۔ بہت مزا آ رہا ہے۔ 

میں نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا، اسے اپنے اوپر لٹا لیا۔ اس کی کمر میرے سینے سے جڑ گئی۔ میں نے دونوں ہاتھوں میں اس کے ممے پکڑ لیے اور زور زور سے دبانے لگا۔ نیچے سے میں اس کی گانڈ میں لنڈ رگڑ رہا تھا۔ 

میں: ثمینہ، تمہاری باڈی بہت کمال کی ہے، کیا فگر ہے تمہارا۔ اففففففف۔۔۔ 

ثمینہ: ہاں بھیا، مجھے پتا ہے میرا بھیا میرے مموں اور گانڈ پر مرتا ہے۔ اسی لیے جب موقع ملتا، گانڈ میں لنڈ گھسا دیتے تھے نہ؟ 

میں: تیری گانڈ ہے ہی لنڈ لینے والی۔ 

ثمینہ: بھیا، میں تو اتنی لفٹ کرواتی تھی تمہیں، پھر اتنا ٹائم؟ 

میں: میں دیکھنا چاہتا تھا کہ میری بہن کو بھی میرا لنڈ چاہیے یا نہیں۔ 

ثمینہ: چاہیے تھا تو تمہیں ممے دکھاتی تھی نہ، میرے ڈارلنگ بھیا۔ باڈی تو تمہاری بھی کمال کی ہے۔ 

میں: تمہیں کب سے پتا تھا کہ میں سو نہیں رہا؟ 

ثمینہ: شروع سے ہی پتا تھا۔ جب تم لنڈ نکال کر لیٹے ہوئے تھے، میں سمجھ گئی کہ میرا بھیا چاہتا ہے میں اس کے لنڈ سے کھیلوں۔ تو میں شروع ہو گئی۔ اور ویسے بھی جب میں لیٹ کر تمہیں ممے دکھا سکتی ہوں تو تمہاری چال بھی سمجھ سکتی ہوں۔ 

پھر وہ میرے اوپر سیدھی ہو کر لیٹ گئی اور میں نے اس کے نرم ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے لیے۔ 

اوف۔۔۔ آہہہ۔۔۔ 

ثمینہ: تم میری چوت مارنا چاہتے ہو نہ؟ 

میں اس کے منہ سے یہ سن کر حیران رہ گیا کہ کیسے بے شرمی سے نام لے رہی تھی۔ 

میں: ہاں۔۔۔ 

ثمینہ: اچھا، مجھے تو کب سے پتا ہے کہ میرا بھائی میری چوت لینا چاہتا ہے۔ روز رات کو میری چوت میں لنڈ رگڑتے تھے۔ 

میرے پاسینے نکلنے لگے۔ سالی رانڈ مست ہو کر مزے لیتی تھی۔ 

ثمینہ: مگر بھیا، تمہارا لنڈ تو اتنا بڑا ہے، چوت میں کیسے جائے گا؟ میری تو چوت چھوٹی سی ہے۔ یہ دیکھو۔ 

پھر وہ میرے پیٹ پر بیٹھ گئی اور چوت پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی، “دیکھو نہ بھیا، چھوٹی سی چوت۔” اور پھر میرے لنڈ پر گانڈ رگڑتی ہوئی میری رانوں پر بیٹھ گئی۔ اب میرا لنڈ اس کی چوت کے سامنے تھا۔ 

ثمینہ: بھیا، آپ کا لوڑا اتنا بڑا ہے، مگر بہت مزے کا ہے۔ جب تم میری گانڈ میں لگاتے تھے نہ، تو بہت مزا آتا تھا۔ اور جب تم میرے ممے چوستے تھے، تب بھی بہت مزا آتا تھا۔ 

پھر اس نے میرا لنڈ پکڑا اور اوپر ہو کر چوت کے نیچے سیٹ کیا اور چوت کے سوراخ میں لنڈ دبانے لگی، مگر لنڈ باہر ہی رہا۔ کتنی جلدی تھی سالی کو چوت پھڑوانے کی۔ 

ثمینہ: دیکھو نہ بھیا، چوت میں جاتا نہیں۔ اگر گیا تو میری چوت تو پھٹ جائے گی نہ؟ 

اس کی حرکتیں بہت معصوم اور سیکسی تھیں۔ لنڈ ترس ترس کر چوت میں جانے کی اجازت مانگ رہا تھا۔ 

میں: ایسے نہیں جائے گا اندر۔ 

ثمینہ: تو پھر کیسے؟ 

میں: چلو نیچے لیٹو۔ 

پھر ثمینہ نیچے لیٹ گئی۔ میں اس کی رانوں کے درمیان آ کر بیٹھ گیا اور اس کی ٹانگیں کھول کر چوت کا معائنہ کرنے لگا۔ چوت سچ میں بہت ٹائٹ لگ رہی تھی۔ میں نے اس کی چوت میں کافی سارا تھوک لگایا، پھر انگلی سے تھوک سوراخ میں کیا۔ 

ثمینہ: اوئییی۔۔۔ 

میں: ابھی تو انگلی گئی ہے۔ 

ثمینہ: بھیا، چوت نہ مارنا، اوپر اوپر ہی کر لو نہ۔ 

میں: شروع میں درد ہو گا میری گڑیا، پھر ٹھیک ہو جائے گا۔ 

ثمینہ: میری چوت مارنے کو دل کرتا ہے کیا؟ 

میں: ہاں، بہت۔ 

ثمینہ: چلو مار لو میری چوت، مگر درد نہ کرنا۔ 

میں نے لنڈ پر بھی کافی سارا تھوک لگایا، پھر لنڈ چوت کے کٹ میں اوپر نیچے رگڑنے لگا۔ ثمینہ مست ہونے لگی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page