Passion of lust -74- ہوس کا جنون

Passion of lust -- ہوس کا جنون

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،

ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں  ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ  سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا،  اور پھر ۔۔۔۔۔

چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس کا جنون قسط -- 74

پھر ہمارا پلان بن گیا کہ کل کالج نہیں جانا، بلکہ شہر جا کر دریا کے کنارے جانا ہے آؤٹنگ کے لیے۔ پھر میں نے بغیر بریک لگے ہی ثوبی کے مموں کو زور سے پکڑ کر دبا دیا۔ سب ہنسنے لگے۔ اسی طرح شرارتیں کرتے ہم شہر پہنچ گئے۔ شہر پہنچ کر ہم سب اپنے اپنے کالج چلے گئے۔ مجھے شہر میں کچھ کام بھی تھا۔ اکیڈمی کے بعد میں شہر میں گھومتا رہا۔ پھر شام کو فارغ ہوا اور بس سٹاپ چلا گیا۔ 

بس میں کافی رش تھا۔ سورج غروب ہونے والا تھا۔ بہت سی سواریاں سیٹوں کے درمیان کھڑی تھیں۔ میں بھی بس میں سوار ہو کر سیٹوں کے درمیان کھڑا ہو گیا۔ اچانک دروازے پر ایک بہت ماڈرن خاتون نظر آئی۔ گورا، انڈے کی طرح سفید رنگ، آنکھوں پر چشمہ، ہونٹوں پر لپ گلوس لگا ہوا۔ خاتون کے چہرے پر شہری تمتراق تھا۔ اس نے سفید رنگ کا بھڑکدار لباس پہنا ہوا تھا۔ گلے پر انتہائی نفیس زری کا کام تھا۔ کافی بڑے بڑے، اوپر کو اٹھے ہوئے ممے، جن پر اس نے اسکن برا پہنا ہوا تھا۔ برا کی کڑائی صاف نظر آ رہی تھی۔ قمیض بہت باریک تھی۔ مموں کے نیچے مناسب کساؤ تھا، نہ پتلا اور نہ بھاری۔ مموں کے بالکل نیچے ایک سرخ رنگ کی گول پٹی تھی جو پیٹ سے ہوتی قامت پر جا رہی تھی۔ یہ پٹی اس کے فگر کو چار چاند لگا رہی تھی۔ گلے میں نیٹ کا چھوٹا سا دوپٹہ تھا جو اس نے سر پر رکھا ہوا تھا اور اس کا ایک سِرا گردن سے ہوتا ہوا کندھے کے اوپر سے کمر پر گر رہا تھا۔ نیچے گلا ننگا نظر آ رہا تھا۔ قمیض کا گلا اتنا کھلا تھا کہ برا کا اوپر والا حصہ بھی اس کے ہلنے پر نظر آنے لگتا تھا۔ گلے سے کافی ممے نظر آ رہے تھے۔ تقریباً سبھی سواریاں اسے گھور رہی تھیں۔ وہ عورت فل ٹائم پٹاخہ نظر آ رہی تھی۔ وہ کنڈکٹر سے سیٹ کے بارے میں پوچھ رہی تھی، مگر اس وقت کوئی سیٹ نہیں تھی۔

سیٹ نہ ملنے پر وہ پیچھے ہو کر کھڑی ہو گئی۔ پھر کنڈکٹر نے کہا کہ اس گاڑی کے بعد بہت دیر سے گاڑی جائے گی اور بہت اندھیرا ہو جائے گا، اور یوں اکیلی عورت کے لیے خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ وہ عورت تھوڑی پریشان ہوئی اور پھر گاڑی میں سوار ہو گئی۔ وہ میرے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے بہت اچھا پرفیوم لگا رکھا تھا۔ پھر میں نے اس پر زیادہ توجہ نہ دی اور ثمینہ کی گانڈ کے بارے میں سوچنے لگا۔ آہستہ آہستہ سواریاں بڑھتی گئیں اور وہ عورت میرے کافی قریب ہو گئی۔ میرے خیال میں وہ کوئی 33-34 سال کی ہو گی۔ اس کی پیٹھ میری طرف تھی۔ میں نے اب غور سے اسے دیکھا۔ اس کی پیٹھ پر برا کا اسٹریپ نظر آ رہا تھا۔ اس عورت نے اپنے جسم کو خوب سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ نیچے اس کی بڑی گانڈ قمیض سے بھی واضح نظر آ رہی تھی۔ اس کے جسم سے آنے والی ہوس انگیز خوشبو، موٹی گانڈ، اور ٹائٹ فٹنگ کا ڈریس میرے دماغ پر اثر کرنے لگا۔ میں اس کی گانڈ دیکھ کر گرم ہونے لگا۔ اندھیرا کافی پھیل گیا تھا، گاڑی میں لائٹس جل رہی تھیں۔ 

اس کی پیٹھ نے بل کھایا اور اس نے ایک ٹانگ سے دوسری ٹانگ پر وزن شفٹ کیا، جس سے اس کی گانڈ بھی ہلی۔ میرے ذہن میں تو صبح سے گانڈ گھوم رہی تھی۔ یہ گرم سین دیکھ کر میرا لنڈ کھڑا ہونے لگا۔ اس کے خوبصورت بال، جن پر اس نے آف وائٹ کلر کیا ہوا تھا، بہت بھلے اور سیکسی لگ رہے تھے۔ میرا لنڈ فل زور سے کھڑا ہو گیا۔ رش مزید بڑھ گیا۔ وہ عورت مزید پیچھے ہوئی اور میرا لنڈ اس کی گانڈ سے تھوڑا اوپر ٹچ ہونے لگا۔ ابھی اس عورت کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کی بیک پر کیا ٹچ ہو رہا ہے۔ 

پھر گاڑی چلی۔ جیسے ہی ڈرائیور نے گیئر لگایا، وہ عورت سیدھی میرے اوپر آگئی۔ میرے لنڈ نے اس کی گانڈ کو میرے جسم سے دور ہی روک لیا اور اس کی پیٹھ میرے سینے  سے آ لگی۔

 افففففففف۔۔۔ ایسی نرم آنٹی۔ ایک لمحے کے لیے تو میرا سارا جسم جھوم گیا۔ پرفیوم میں ڈوبے اس کے بال میرے چہرے سے ٹکرا رہے تھے۔ میں جو پہلے ہی گرم تھا، مزید مست ہو گیا۔ 

اپنی گانڈ پر چبھنے والے گرم ہتھیار کو وہ کیسے نظر انداز کر سکتی تھی؟ شاید اس کا اس طرح کھڑے ہو کر پہلا سفر تھا کہ وہ یوں میرے اوپر گری تھی۔ وہ سیدھی کھڑی ہوئی۔ اس نے چشمہ اٹھا کر سر پر کیا اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔ کیا خوبصورت آنکھیں تھیں، سالی پٹاخہ کی۔ میرا لنڈ اب بھی اس کی گانڈ سے جہاں پیٹھ شروع ہوتی ہے، جڑا  ہوا تھا۔ اس نے میری آنکھوں میں غور سے دیکھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں نے اسے پہلے کہیں دیکھا ہوا ہو۔ 

آنٹی: آپ تھوڑا پیچھے ہوں گے پلیز؟

اس نے ابھی نیچے لنڈ کو نہیں دیکھا تھا۔ سالی، ٹچ سے ہی سمجھ گئی تھی کہ لنڈ نے اس کی گانڈ کا وزٹ کیا ہے۔

میں: پیچھے جگہ نہیں ہے میم، سوری۔ 

آنٹی: ہومم۔۔۔ بہت رش ہے۔ میں کہاں پھنس گئی؟ روزانہ ایسا ہی رش ہوتا ہے؟ 

میں: ہاں میم، روزانہ ایسا ہوتا ہے۔ 

آنٹی: پھر بھی پلیز، کوشش کر کے تھوڑا پیچھے ہو جاؤ۔

پھر وہ  دوسری طرف منہ کر کے کھڑی ہو گئی۔

میں  کوشش کر کے تھوڑا پیچھے ہٹا اور لنڈ کو ہاتھ میں لے کر نیچے جھکایا۔ اب اگر وہ پیچھے ہوتی تو لنڈ سیدھا چوتڑوں کے درمیان گانڈ میں جا ٹکراتا۔ اب ہماری سڑک بھی ایسی ہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں وہ پھر سے مجھ سے ٹکرائی۔ اب پوزیشن سیٹ تھی۔ لنڈ نرم ریشمی کپڑوں کو دباتا ہوا گانڈ میں جا گھسا۔ اس عورت کے آگے ایک بوڑھا آدمی کھڑا تھا جو اس پر وزن ڈالے ہوئے تھا، بلکہ اس کے مموں پر کچھ زیادہ ہی گرا ہوا تھا۔ اب وہ کافی دیر اس پوزیشن میں رہی۔ لنڈ نرم گانڈ میں گھسا پڑا تھا۔ کیا زبردست نرمی تھی اس کی گانڈ میں۔ لنڈ بہت زیادہ ٹائٹ ہو گیا۔ ایسی نرم گانڈ کا لمس مجھے پگھلا رہا تھا۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اس کے کندھوں کو پکڑا اور سیدھا کیا۔ اوف۔۔۔ کیا نرم کندھے تھے اس کے۔ مجھ پر ہوس سوار ہو رہی تھی۔ لنڈ ابھی تک گانڈ میں گھسا ہوا تھا۔ اس عورت نے مجھے دیکھا اور پھر بہت کوشش کر کے ترچھی کھڑی ہو گئی۔ اب اس کی گانڈ ایک سیٹ کے ساتھ جڑی تھی اور میرے سامنے اس کی سائیڈ تھی۔ اب میرا لنڈ اس کی گانڈ کی سائیڈ پر جڑ گیا۔

افففففف۔۔۔ یہاں سے بھی ایسی نرم تھی، سالی کیا زبردست آنٹی تھی۔ میرا دل تو بہت کچھ کرنے کو کر رہا تھا، مگر آنٹی لفٹ نہیں دے رہی تھی۔ اس نے لنڈ کی طرف ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کے سیکسی گرم ممے میرے سامنے تھے۔ 

ابھی تک اس نے چھت سے لگا ہینڈل نہیں پکڑا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ نیچے کیے سیٹ سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔ ابھی جیسے ہی ڈرائیور نے بریک لگائی، میرا منہ سیدھا اس کے مموں پر جا پڑا۔ نرم روئی جیسے ممے۔۔ میں تو مدہوش ہی ہو گیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page