Passion of lust -94- ہوس کا جنون

Passion of lust -- ہوس کا جنون

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔۔ہوس کا جنون۔۔ منڈہ سرگودھا کے قلم سے رومانس، سسپنس ، فنٹسی اورجنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر،

ایک لڑکے کی کہانی جس کا شوق ایکسرسائز اور پہلوانی تھی، لڑکیوں  ، عورتوں میں اُس کو کوئی انٹرسٹ نہیں تھا، لیکن جب اُس کو ایک لڑکی ٹکرائی تو وہ  سب کچھ بھول گیا، اور ہوس کے جنون میں وہ رشتوں کی پہچان بھی فراموش کربیٹا۔ جب اُس کو ہوش آیا تو وہ بہت کچھ ہوچکا تھا،  اور پھر ۔۔۔۔۔

چلو پڑھتے ہیں کہانی۔ اس کو کہانی سمجھ کر ہی پڑھیں یہ ایک ہندی سٹوری کو بہترین انداز میں اردو میں صرف تفریح کے لیئے تحریر کی گئی ہے۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہوس کا جنون قسط -- 94

میں یہی سب سوچ رہا تھا کہ میرے فون کی بیل بجی میں نے  دیکھا تو ثوبی   کا فون تھا میں نے کال اٹینڈ کی اور کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔۔۔۔

 میں ۔  عائزہ کی امی ادھر ہی ہے ابھی ؟

ثوبی ۔ ہاں کیوں؟

میں ۔  ویسے ہی پوچھ رہا ہوں یار وہ جائے گی تو تم سے ملنے تمہارے گھر آنے کا موقع ملے گا نا۔۔۔۔

 ثوبی ۔ نہیں جی اب پورا مہینہ کچھ نہیں کرنا۔۔۔۔

 میں ۔  کیوں  عائزہ کی امی کی وجہ سے؟

ثوبی ۔  نہیں یار اس کا کیا تعلق اس سب سے  ویسے بھی اس نے پرسوں چلے جانا ہے واپس۔۔۔۔ (ثوبی کے ہونٹوں پر میرے مطلب کی بات آ ہی گئی تھی)

میں ۔ اگر اس نے چلی جانا ہے تو پھر مجھے بلاؤ نا اپنے گھر پہ میں  تمہارے گھر میں ہی تمہاری پھدی بجاؤں گا۔۔۔۔

ثوبی ۔ اچھا یار دیکھتی ہوں اوکے اب کل بات ہو گی۔۔۔۔

پھر اس نے کال کٹ کر دی ثوبی کی باتوں سے یہ تو پتہ چل گیا تھا کہ عائزہ کی امی پرسوں جائے گی اور اگر تو میں اسے ملنا چاہتا ہوں تو اس کے لیے ضروری تھا کہ میں پرسوں صبح ہی صبح شہر میں اڈے پر بیٹھ جاؤں تاکہ عائزہ کے امی کو ڈھونڈ سکوں اور  اگر ایسا ہو گیا  میرے بہت مزے ہوں گے اس کے مرمریں جسم ساتھ کھیلنے کا انوکھا مزہ ہوگا اس کی دُگّی پیٹنے میں بھی مزہ آئے گا۔۔۔۔ عائزہ کی امی کے متعلق سوچتے سوچتے ہیں میرا ڈنڈا اپنے جوبن پہ تھا اور میرے ٹراؤزر میں دھمال ڈالے ہوئے تھا۔۔۔۔ اب تقریباً آدھی رات بیت چکی تھی اور میرا ڈنڈا مجھے پریشان کر رہا تھا ساتھ والے کمرے میں دو گرم جوان لڑکیاں سوئی ہوئی تھیں جن کا رس کشید کرنے کے لیے میں بے چین ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔  بالآخر لن کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں اٹھا اور دبے پاؤں اپنی بہنوں کے کمرے میں پہنچ گیا۔۔۔۔ کمرے میں بالکل اندھیرا تھا کچھ دیر کے لیے میں دیوار کیساتھ  لگ  کر کھڑا رہا کمرے میں آپی اور ثمینہ کی سانسوں کی آوازیں گونج رہی تھیں ان میں سے ایک چارپائی پہ اور دوسری بیڈ پہ سوئی ہوئی تھی اب اتنے اندھیرے میں یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ ان میں سے آپی کونسی ہے اور ثمینہ کونسی کیونکہ  ثمینہ کو تو میں کسی بھی ٹائم دبوچ سکتا تھا اس ٹائم تو میں آپی کی دُگّی (پھدی) بجانا چاہتا تھا جو ابھی تک تو پتہ نہیں تھا کہ کب ملے گی۔۔۔۔ میں چارپائی کے نزدیک گیا تو چارپائی پہ سونے والی کا چہرہ صاف نظر نہیں آ رہا تھا مگر اس کا جسم تھوڑا تھوڑا موٹا لگ رہا تھا جس سے مجھے کچھ کچھ اندازہ ہوا کہ یہی آپی ہے۔۔۔۔ اس نے اپنا ایک بازو اپنے چہرے پہ رکھا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ پیٹ پر۔۔۔۔ ٹائیٹ قمیض میں بڑے بڑے ممے کھلے گلے باہر امڈے پڑے تھے جنہیں دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے ہاتھ بڑھا کر بڑا اور نرم ممہ ہاتھ میں دبا لیا مگر زور بلکل ہلکا رکھا کہ کہیں آپی جاگ نہ جائے۔۔۔۔۔ دبانے سے مجھے محسوس ہوا کہ جیسے ممے پر صرف قمیض کا باریک کپڑا ہی تھا  مموں کی کیسنگ (برا) نہیں تھا۔۔۔۔ آپی کا ممہ بہت نرم اور موٹا تھا جس کو ہاتھ میں لے کر دباتے ہی میرے جسم میں سرسراہٹ ہونے لگی تھی ایک عجیب سی لذت پورے  جسم میں محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ مموں کے سائز اور نرمی سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ آپی ہی ہے مگر پھر سوچ آئی کہ آپی نے برا کب اتاری؟ اور کیوں اتاری؟ مگر مگر پھر اپنی ہی سوچ پر مٹی ڈال دی کہ یہ وقت ان سوچوں میں پڑھنے کا نہیں اور اپنا دوسرا ہاتھ آپی کے دوسرے ممے پر بھی رکھ دیا۔۔۔۔ کیا نرم اور بڑے ممے تھے مزہ آ گیا۔۔۔۔ میں ممے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ان کے نپل تلاش کرنے لگا پھر آپی کے موٹے اور قدر لمبے نپل انگلی اور انگوٹھے کے درمیان لے کر مسلنے لگا۔۔۔۔ میں کبھی آپی کے ممے کو ہاتھ میں لے کر دباتا   تو کبھی ان کے نپلز  کو مسلتا کپڑوں کے اوپر سے نرم مموں کو چھیڑنا بہت مزہ دے رہا تھا پھر میں نے ٹراؤزر نیچے کر کے اپنا لن باہر نکال لیا۔۔۔۔ اب میرے ایک ہاتھ میں میرا لن تھا اور دوسرے ہاتھ میں آپی کا بڑا اور نرم ممہ تھا  پھر میں نے اپنے لن کی ٹوپی آپی  کے نرم ممے سے ٹچ کی تو مجھے بہت مزہ آیا اس مزے سے میں مدہوش ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔ سارے جسم میں جیسے آگ لگی ہوئی تھی۔۔۔۔ اپنی ہی سگی بڑی بہن کے مموں کے ساتھ کھیلنا عجیب لذت والا کھیل تھا۔۔۔۔ میں کبھی آپی کے نپل سے لن کا ٹوپہ رگڑتا تو کبھی آپی لن آپی کے  ممے پہ دبا دیتا  میں اپنی ہی مستی میں گم ادھر ادھر کے ماحول  بیگانہ اپنے ہی کھیل میں مصروف تھا کہ اچانک آپی تھوڑا سا ہلی  تو میں جھٹ چارپائی کے نیچے لیٹ گیا۔۔۔۔ کافی دیر چارپائی کے نیچے پڑا انتظار کرتا رہا جب کچھ نیا نہ ہوا تو چارپائی کے نیچے سے نکل آیا میرا لن ابھی بھی ٹراؤزر سے باہر ہی تھا۔۔۔۔ اب آپی نے اپنے چہرے سے بازو ہٹا لیا تھا اور اس کے دونوں بازو اس کے جسم کی سائیڈوں پہ تھے۔۔۔۔ اب تک جو میں قمیض کے اوپر سے مموں کے ساتھ کھیل رہا تھا اب میں نے قمیض کے اندر ہاتھ ڈال دیا۔۔۔۔ قمیض بہت تنگ تھی ہاتھ آگے نہیں جا رہا تھا زبردستی لے جانے سے آپی اٹھ بھی سکتی تھی پھر اچانک مجھے آپی کے گلے کی ڈوری کا خیال آیا تو میں نے گریبان ٹٹولا اور اور احتیاط سے ڈوری کی گرہ کھول دی۔۔۔۔۔۔

ڈوری کھلتے ہی مموں کے پریشر سے گلا اس قدر کھل گیا کہ آپی کے ادھے ممے ننگے ہو گئے اففففففف یہ کیا غضب کا سین تھا اندھیرے میں بھی آپی کے دودھیا ممے چمک رہے تھے۔۔۔۔ میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی میں نے ہاتھ آگے بڑھایا اور ایک ممے کو پکڑ کر گریبان سے باہر نکال لیا۔۔۔۔ میرے ہونٹ اچانک جیسے پیاس کے مارے خشک ہو گئے پھر اگلے ہی لمحے میں نے بغیر کچھ سوچے سمجھے اپنے ہونٹ آپی کے ممے پر رکھ دیے اور نپل کو ہونٹوں میں لے کر ہلکے ہلکے انداز سے  چوسنے لگا۔۔۔۔ پھر آہستہ آہستہ میں اس قدر ہوس میں ڈوب گیا کہ میرے ہونٹوں کی گرفت آپی کے مموں پر ٹائٹ ہوتی گئی اور میں اس کے مموں کو منہ میں لیے زور زور سے چوس  کر نچوڑتا چلا گیا میرے لن میں بھی جیسے آگ لگ گئی تھی پھر میں نے دوسرے ممے کو بھی گلے سے باہر نکال کر اور اس پر اپنے ہونٹ گاڑھ دیے۔۔۔۔ اس بار جو میں نے ممے کو منہ میں ڈالا تو نہ صرف نپل بلکہ نپل کے ارد گرد کا دائرہ اور ممے کا کافی سارا حصہ بھی میرے منہ میں آگیا اور پھر پھچاک کی آواز سے باہر نکالا پھر دوسری بار بھی   جیسے ہی نپل منہ میں لیا تو میرے لن نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی اففففففف آپی کے جسم میں کیسا نشہ تھا کہ میں صرف مموں کو چوس کر ہی ڈسچارج ہو گیا تھا۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page