Perishing legend king-262-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 262

ویر :

مس سونیا ~
سونیا : . . . . . ! ؟

ویر :

لسن ! میں . . . میں سمجھاتا ہوں۔

ماہرہ :

واٹ آر یو ایون تھنکنگ ؟  ڈِڈ نٹ  یو پرامس می ؟  یو ہیو ٹو چوائسس۔۔۔۔ ون– پلے  وِد می اینڈ ٹیچ می۔۔۔ ٹو- گیٹ بیٹن اپ۔۔۔(تم بھی کیا سوچ رہے ہو؟ کیا تم نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا؟ آپ کے پاس دو انتخاب ہیں۔1- میرے ساتھ کھیلو اور مجھے سکھاؤ۔ 2 ۔ مار پیٹ کرو۔)

ویر :

 وو-وااٹٹٹٹٹ ؟ ؟ ؟ ؟

سونیا

وویییررر ؟ ؟ ؟

ویر

ا-ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ڈامننن اٹٹٹ !!!

مس سونیا ، آئی ڈڈ نٹ پرامس اینی تھنگ۔

ماہرہ :

آئی سی ! سو ، یو ’ وے چوزن وایولینس۔۔۔ (میں دیکھتی ہوں! تو، آپ نے تشدد کا انتخاب کیا ہے۔)

’ فککککککک ! ! ! ! ! ! ’

ویر :

ویٹ ! لیٹس . . . لیٹس کام ڈاؤن اوکے ؟ مس سونیا ! میں نے مس ماہرہ کو انہیں لائف كے بارے میں ٹیچنگز دینے کا پرامس کیا تھا۔ اینڈ نو ، میں نے کسی کو بھی پرسنلی انوائٹ نہیں کیا ہے۔

سونیا  : (آہ بھرتے ہوئے)

آئی-آئی سی ! دیٹس گڈ دین ! آہ رائٹہے-ہیپی ہولی  ویر!

آئی . . . آئی آلموسٹ  ڈائڈ!!! فککک!!
آج اس کی سمجھ میں آیا تھا۔ کہ سونیا اور ماہرہ دونوں ساتھ میں جب بھی رہے تو کیا ہوتا  تھا۔

اِس بار، سونیا نے گلال لیا اور اچھے سے ویر کو لگایا۔ ویر نے بھی بدلے میں سونیا کو اچھے سے گلال كے رنگ میں رنگ دیا ۔

دونوں ہی ماہرہ اور سونیا  ویر كے ساتھ کھیلنے میں لگ گئیں۔

اور ادھر کھڑی باقی عورتیں۔۔۔ ایکدم جل بھن گئی تھی جیسے۔۔۔

نندنی كے لیے تو یہ اچھا ہی تھا۔ پھر بھی پتہ نہیں کیوں ، اسے اندر بہت ہی عجیب سا محسوس ہو رہا تھا ۔شریا بےمن سے ان کو اِس طرح کھیلتے دیکھ رہی تھی۔

کاویہ تو سیدھے جل رہی تھی۔ وہ منہ پھلاتی ہوئی ویر کو دیکھ رہی تھی۔اور  اروحی ؟
اروحی کی نظریں بلکل مرچکی تھی۔ ویر نے جب اروحی کو دیکھا تو اس کی روح ہی کانپ گئی۔
فککک ! واٹ . . . واٹ ہیپنڈ ٹو ہر ؟ وائے ڈز شی لوکس سو اسکیری ؟ ؟ ؟ (اسے کیا ہوا؟ وہ اتنی  ڈراؤنی کیوں لگ رہی ہے؟؟؟’)

اور  راگنی۔۔۔

اس کی نظروں میں کیا تھا ؟ جیلسی ؟ اینزائٹی ؟ یا  فیئر ؟ ؟ ؟

پھر جو اب تک پیچھے کھڑی ہوئی تھی وہ آئی۔
سہانا! ! !

پاس آتے ہی ویر نے اسے وِش کیا ، ” ہیپی ہولی~ ”

مگر ۔۔۔۔۔۔

سہانا :

ہیپی ہولی ؟  ہیپی ہولی كے بچے . . . ادھر آؤ تم۔۔۔
ویر

ہاہہہہہ؟ ؟

وہ گھسیٹتے ہوئے ویر کو اندر لے گئی۔

سہانا :

ویئر از  مائی گن ؟ ؟

ویر :

آہہ ! میں دینے آنے والا تھا ۔ بٹ کل بزی تھا۔ ویٹ ہیئر !

وہ اوپر گیا اور اس نے اپنے روم سے  گلوک 19‎ اٹھائی اور نیچے آیا۔

وہ گن سہانا کو دینے ہی والا تھا کہ اتنے میں ننھی جوہی دوڑتی ہوئی آئی اور ویر كے ہاتھ سے گن چھین كے لے گئی ۔

جوہی

ہاہاہی ہی  ~ ماموں میرے لیے  نیو پچکاری  لائے۔

اوہہہ فککککککک ~ ’

سہانا

آہہ ! ن-نہیں۔۔۔۔

سہانا بےچاری کا تو چہرہ ہی سُوکھ گیا تھا۔ جوہی ادھر بھاگتی ہوئی باہر نکل گئی اور۔۔۔
*
کِلک *
*
کِلک *
*
کِلک *
وہ ٹریگر پہ ٹریگر دبائے جا رہی تھی۔ پر اس میں سے کچھ نہیں نکلا۔ گن خالی جو تھی۔

ویر اور سہانا كے چہرے اِس وقت ایسے تھے جیسے انہوں نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔

جوہی :

یہ کیسی پچکاری ہے ؟ مما ! ! ! اس میں سے کچھ نکل ہی نہیں رہا ہے۔

نندنی :

ہممم ؟ یہ کس نے دی جوہی ؟

جوہی :

ماموں لے کے آئے۔۔۔ میرے لیے !

وہ نندنی کو گن دینے ہی والی تھی جب ویر بیچ میں آ گیا اور اس کے ہاتھ سے گن چھین لی اس نے۔

ویر

ہاہاہاہاا ~ وہ کیا ہے  نا۔۔۔ یہ گن خراب نکل گئی۔ جوہی ! ماموں تمہیں نیو پچکاری دلائیں گے بَعْد میں ٹھیک ہے ؟

جوہی

اوکےےےے ~

تھینک گاڈ ! ! ! یہ مان گئی ! ! ! ’

چپکے سے ویر نے گن سہانا کو تھمایا تو وہ اپنی ساڑھی میں چھپاتے ہوئے گن کار میں جاکے رکھ آئی،

اور جیسے ہی وہ آئی، سب سے پہلے اس نے ویر کا چہرہ صاف کیا۔۔۔غصے میں ایکدم۔

سہانا

ہمپہہہ ~ کئیر لیس انسان . . .

پر اس کا ہاتھ غلطی سے جاکے اس کی آنکھ میں لگ گیا۔

ویر

آووچچچ . . . . !

سہانا :

آہ ! سوری . . . وہ غلطی سے . . .

راگنی

وویییرر ؟ ؟ ؟ کیا ہواا ؟ ؟ ؟

راگنی جس نے ویر کی آواز سنی وہ اچانک ہی بھاگتی ہوئی آئی۔

اور ویر کی آنکھ دیکھ  کر وہ اسے اندر واشروم میں لے گئی۔

راگنی :

ٹھیک تو ہو نا ؟ مجھے دکھاؤ آنکھ اپنی ۔

ویر :

ٹھیک ہوں بھابھی۔ شاید رنگ چلا گیا ہے۔ آنکھوں میں ٹھنڈے پانی كے چھینٹے مارونگا  تو ٹھیک  ہو جائیگا۔

راگنی :

میں نے کہا نا دکھاؤ ادھر

ویر

و-وااقعی !
اور ویر  وہیں اسٹول پر بیٹھ گیا ۔ راگنی جھکی اور اس کے قریب آئی۔۔۔ اور اس نے اپنے ہاتھوں سے ویر کی آنکھوں میں  چھینٹے  مارے۔

اب ویر کی آنکھ پہلے سے کافی بہتر تھی۔

ویر :

اب سہی ہے بھابھی !

راگنی :

ہمممم ~
ویر : . . .

راگنی : . . .

ویر :

؟ ؟ ؟ ؟

راگنی : . . . .

ویر :

اممم۔۔۔۔۔

راگنی :

تمہیں پتہ ہے ویر ؟

ویر :

ہو ؟

راگنی ( اسمائیلز ) :

پچھلے تہوار میں۔۔۔ دیوالی والی رات۔ تم کس حال میں ملے تھے ! ؟  تم . . . دیوالی تک نہیں منا پائے تھے۔  کتنی تکلیف برداشت کی تھی تم نے۔۔۔

ویر : . . . .

راگنی :

اور آج تمہیں ۔۔۔ ہولی میں ہنسی خوشی کھیلتا دیکھا  نا۔۔۔ تو۔۔۔۔

اچانک ہی راگنی کی آنکھیں نم ہو گئی۔

ویر :

بھابھی ؟ ؟  آپ . . . !

راگنی :

ہممم ~ تمہیں خوش دیکھ كے۔ من خوش ہوگیا  میرا ۔۔۔

ویر :

 بھ-بھابھی . . . !

دونوں كے چہرے بے حد قریب تھے۔ جھکنے کی وجہ سے راگنی کا کلیویج صاف صاف جھلک رہا تھا۔ نا چاہتے ہوئے بھی،،،، ویر اس حسین نظارے کو دیکھ کر ،سیکنڈوں میں اس کا لن سخت ہوکر سلامی دینے لگا تھا۔

جیسے ہی راگنی کی نظر اس کے پاجامے كے اندر كے اُبھار پر پڑی تو اس کے اندر ہی اندر ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

ایک ٹیسٹ سکسیس فل ہو چکا تھا  اس کا۔ یہی کہ۔۔۔ ویر اس کی طرف جنسی طور پر راغب تھا۔ اب دوسرے ٹیسٹ کی باری تھی۔
پر اس کے پہلے۔۔۔ایک چیز کرنی ضروری تھی۔

وہ ویر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کےآگے بڑھی۔ ان دونوں کی سانسیں بھی اب ایک دوسرے کو فِیل ہو رہی تھی۔ دونوں كے چہرے پر گلال لگا ہوا تھا۔ پر ہونٹوں پر نہیں۔۔۔
اور اگلے ہی پل جیسے ہی ویر نے اپنی پلکیں جھپکائیں،

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page