Perishing legend king-272-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 272

بھوانا (حیران ہوتی ہوئی):

“تت-تم…” 

 

ویر:

“میں…” 

 

*فلیپ* *فلیپ

 

اور اگلے ہی پل بھوانا کے خیمے کی داخلی جگہ کا کپڑا کھل گیا۔ باہر غصے میں سر جارج،  رنویر، اور باقی محققین کھڑے ہوئے تھے۔ اور کچھ ٹرینیز پیچھے کھڑے جھانک جھانک کر دیکھ رہے تھے۔


رنویر:

“وہ  ہے سر!!!” 

 

رنویر نے ویر کی طرف انگلی کرتے ہوئے اشارہ کیا۔

 

ٹھیک ہے… یہ تو  گیا…‘ 

 

فکر نہ کرو! جاؤ!!! 

 

سر جارج:

“تم!!! ادھر آؤ!!! تمہاری جرات کیسے ہوئی…!؟” 

 

ویر کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ مجبوراً اسے باہر جانا پڑا۔

 

اور ابھی وہ سب کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔ سب اسے اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے کہ وہ کوئی مجرم ہو۔

 

بھوانا بھی یہ نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ آخر چل کیا رہا تھا؟

 

اور پھر شروع ہوا بحث کا سلسلہ۔

 

رنویر اپنی بات رکھتا  اور سر جارج ویر سے اس کی تفصیلات مانگتے۔ ویر باتوں میں پھنستا اور یہاں رکنے کے لئے کہتا تو سر جارج اور بھڑک جاتے۔

 

اور بالآخر، بات اس موڑ پر آ گئی کہ سر جارج نے ویر کو باہر کروا دینے کے لئے آرڈر دے دیئے۔ پر تبھی… 

 

بھوانا:

“آہ! سر!!! ر-ر کو!” 

 

سر جارج:

“ہم؟ کیا؟” 

 

بھوانا سر جارج کو سائیڈ میں لے گئی اور نہ جانے ان سے کیا باتیں کرنے لگی۔ سب کنفیوز تھے، سوائے ویر کے۔

 

وہ تو بس مزے لے رہا تھا۔ اسے پہلے ہی پتا تھا کہ اس کی پیاری ماں، بھوانا اس کے ریسکیو کے لئے ضرور میدان میں کودے گی۔ اور وہی ہوا۔

 

سر جارج کے چہرے پر کہیں کنفیوژن تو کہیں حیرت کےتاثرات آ رہے تھے۔

 

اس کے بعد وہ اچانک ہی دوڑتے ہوئے اپنے خیمے میں گئے۔ اور ہاتھ میں کچھ لے کر باہر آئے۔

 

ویر کو گھورتے ہوئے انہوں نے اپنے ہاتھ سے وہ سامان دکھایا۔

 

یہ بھی ایک آرٹفیکٹ تھا۔

 

سر جارج:

“اگر تم مجھے بتا سکو کہ یہ کیا ہے۔ تو میں تمہیں یہاں رہنے کی اجازت دوں گا۔” 

 

بھلا اس سے خوشی کی بات کیا ہو سکتی تھی ویر کے لئے؟

 

چیک!!!!‘

 

*ڈنگ

 

تخت سے محروم بادشاہ کی یادگار

تعارف: بادشاہ بننے کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے، خنس کو بالآخر تخت سے ہٹا دیا گیا اور اس کے عیش و آرام کے سامان کو تباہ کر دیا گیا۔ یہ اس کے پتھر کے تخت کا صرف ایک حصہ ہے۔ ہائروگلیفس کا ترجمہ ہے ~ ’… ساتھ ہی مرے گا۔

 

ویر  نےبھی جیسے اب ایک نئی دنیا میں قدم رکھ دیا تھا۔ اسے ایسی ایسی چیزوں کے بارے میں پتا چل رہا تھا،  وہ بھی اتنی آسانی سے کہ ان کا جواب پانے کے لئے اس کے سامنے لوگ اپنی جان لگا رہے تھے۔ اور ادھر وہ بس چیک کرتے ہوئے سب جواب دے رہا تھا۔

 

یہ تو دھوکہ دہی لگتی ہے  ہاہا~‘ 

 

پری:

یہ دھوکہ دہی ہی ہے ماسٹر(. .) 

 

ویر نے ناٹک کرتے ہوئے اسے دیکھا۔ جیسے دکھانا چاہ رہا ہو کہ وہ سب غور سے مطالعہ کر رہا تھا۔ آس پاس کھڑے لوگ سب اسے آس لگائے دیکھ رہے تھے۔

 

ویر نے کافی وقت لیا۔ وہ اسے ادھر سے تو کبھی ادھر سے دیکھتا رہا۔ بھائی، کسی کو شک نہ ہونے پائے۔

 

اور آخر میں اس نے کہنا شروع کیا۔۔۔

 

ویر:

“یہ ایک یادگار ہے۔ اور کسی پتھر کے تخت کا ٹوٹا ہوا حصہ ہے۔ آہ! بھاڑ میں! میں بھول گیا! مجھے انگریزی میں بولنا ہے۔

 

سر جارج:

“ہہ؟؟؟” 

 

ویر:

“ٹھیک ہے!! یہ ایک  باقیات ہے۔ پتھر کے تخت کا ایک حصہ۔ لگتا ہے تخت کو تباہ کر دیا گیا تھا اور صرف یہ حصہ بچا۔ یہاں ہائروگلیفس زیادہ نہیں ہیں۔ یہ کچھ اس طرح ترجمہ ہوتا ہے ~ ساتھ ہی مرے گا۔” 

 

سر جارج:

“آہہہ!!!!” 

 

باقیوں کا تو پتا نہیں پر سر جارج کی شکل اس وقت ایسی تھی جیسے مانو انہیں آرگزم آ رہا ہو۔

 

یہ کیا ہو رہا ہے؟؟ اس بوڑھے موٹے بندے کو کیا ہو رہا ہے؟‘ 

 

سر جارج:

“شاندار!!!!! یہ ناقابل یقین ہے!!!!! ہاہاہاہا~” 

 

فکککککک!!!‘

 

پھر کیا تھا؟ سر جارج ویر کو گھسیٹ کر اپنے خیمے میں لے گئے۔ اور دیر تک اسے پکاتے رہے۔ اس کے ماسٹر کے بارے میں پوچھتے رہے۔ ویر کی حالت خراب کر کے رکھ دی تھی۔

 

کچھ وقت بعد جیسے ہی ویر باہر آیا تو اس کی شکل دیکھنے لائق تھی۔

 

اور باہر کھڑی بھوانا اس کی اس حالت پر ہنس رہی تھی۔

 

سر جارج اپنے کام کے متعلق بہت پرجوش تھے۔ تو جب کوئی ایسا نوجوان انہیں مل جائے جو آسانی سے اتنی پرکھنے والی نظر رکھتے ہوئے سب بتا دے تو کیا ہوگا؟

 

وہ پاگل ہو جائیں گے!!! وہی ہوا۔ سر جارج کی نظر میں ویر لسٹ میں سب سے اوپر تھا۔ کس لسٹ میں؟ دلچسپ امیدواروں کی لسٹ میں۔

 

بھوانا:

“فففف~ (≧▽≦) شاید… سر جارج تمہارے فین ہو گئے؟  ہم؟”  

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

“اور آپ ہنس رہی ہیں؟ میں تقریباً مر ہی گیا!!” 

 

بھوانا:

“ہاہاہا~” 

 

ویر کچھ اور آگے کہتا کہ تبھی، 

 

کیا  ہوا؟؟؟” 

 

ایک بے حد پیاری سی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔

 

وہ مڑا… 

 

اور جیسے ہی اس نے دیکھا… 

 

اس شخص کو دیکھ  کر جیسے ویر کے لئے وقت تھم سا  گیا۔

 

ایک بے حد خوبصورت لڑکی ان کے قریب چلتے ہوئے آ رہی تھی۔

 

ویر کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔

 

اور ویر نے وہی کیا۔۔۔


چیک!‘

 

*ڈنگ

 

نام: سینا  Seena /

عمر: 24

تعارف: بھوانا کی بیٹی!!! سینا اپنے نام کی طرح ہی ہے۔ وہ ایک پرجوش خاتون ہے۔ اس کی زندگی میں صرف دو مقاصد ہیں۔

1~ آثار قدیمہ میں اپنی ماں کی طرح بننا۔

2~ اپنے گمشدہ بھائی کو ڈھونڈنا۔

اپنی ماں سے بہت پیار کرتی ہے۔ وہ اپنے بھائی کے بارے میں بے تاب ہے۔

 

موافقت: 88

رشتہ: بہن/بڑی بہن۔


*
بوم

 

اور ویر کے دماغ میں جیسے دھماکہ ہوا۔ اس کا دماغ سُن رہ گیا۔

 

سینا!؟؟  سسبلنگ؟؟؟ بڑی بہن؟؟؟

 

واٹ د فک از  ہیپیننگ  ہیئر۔یہ کیا ہو رہا ہے؟؟؟

 

سسسینا!!!‘ 

 

پری:

یہ کافی منفرد نام ہے! مجھے کہنا پڑے گا۔

 

ویر کے حواس جیسے پل بھر کے لئے کام کرنا ہی بند کر دیے تھے۔

 

*ٹک* *ٹک* *ٹک

 

اور ادھر  سینا آہستہ آہستہ ان کے قریب آرہی تھی۔ آنکھوں میں اتنا  نفاست تھا کہ ایک نظر کسی کو دیکھ لے تو اس کے پسینے چھڑا دے۔

 

وہ پاس آئی اور اپنی ماں کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولی، 

 

سینا (مسکراتے ہوئے):

“سب ہو گیا  ماں!! جنریٹرز آ گئے ہیں۔” 

 

بھوانا:

“آہ! اچھا کام کیا بیٹا!!! اور اس شخص سے ملو… یہ بھی انڈیا سے ہی ہے۔ گانیش!!! گانیش… یہ میری بیٹی… سینا!!! پیار سے… سینو کہتے ہیں!!!”   

 

سینا:

“ہممم؟” 

 

ویر:

“نن، نائس ٹو میٹ یو!!!” 

 

ویر کے ہاتھ اس وقت کچھ سخت تھے۔ اتنا بڑا جھٹکا جو لگا تھا اسے۔

 

جیسے ہی سینانے ویر کا ہاتھ تھاما، دونوں ہی طرف جیسے دونوں کو ایک جھٹکا  لگا۔

 

سینا بھی یہاں ویر کے حسن سے حیران تھی۔ اور ساتھ ہی ویر۔

 

88 کی موافقت۔ صاف بتا رہی تھی کہ وہ اپنے بھائی کی تلاش میں تھی۔

 

اگر ویر نے بتا دیا کہ وہی اس کا بھائی ہے تو  شینا کیا ردعمل دے گی؟

 

سینا:

“نیا بھرتی؟” 

 

ویر:

“امم… کچھ اسی طرح…” 

 

سینا (سر ہلاتے ہوئے):

“ٹھیک ہے! ماں… مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔ اہم معاملہ!!” 

 

اور سینا نے بغیر کوئی وقت ضائع کئے اپنی ماں بھوانا کو لے کر خیمے میں لے گئی۔ بھوانا ویر کو کم از کم بائے کہنا چاہتی تھی پر شینانے اسے ایسا کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔

 

اور ادھر ویر کا خیمہ تھا… سر جارج والا۔

 

بھلے ہی اسے اجازت مل گئی تھی۔ پر نگاہ اب بھی برقرار تھی اس پر۔

 

اس کے ہاتھ کی مٹھی غصے میں کَسی ہوئی تھی۔

 

کچھ تو بہت بہت غلط تھا!!! 

 

یہ کوئی معنی نہیں رکھتا!!! 

 

اگر،  اس کی بہن اس سے بڑی تھی۔ 3 سال۔

تو ظاہر ہے کہ اس کا جنم پہلے ہوا ہوگا۔ پھر… اس کا جنم اگر پہلے ہوا… 

 

تو گھر میں اس کی بہن کو لے کر کوئی بھی ذکر کیوں نہیں تھا؟؟؟ بالکل اس کی ماں کی طرح!!؟؟؟

 

یہ گتھی جیسے اور بھی بندھتی جا رہی تھی۔

۔

۔

۔

ممبئی… 

صبح 7:45 بجے… 

 

ممبئی میں یہاں منورتھ کے گھر صبح روز کی طرح  ہی تھی۔

 

سوائے ایک شخص کے۔

 

اروہی!!!! 

 

کل اس نے جو دیکھا تھا، اسے لے کر وہ بےحد پریشان تھی۔

 

اس نے دیکھا تھا کہ پرانجل اس کا بھائی، اس کی تائی جی کے ساتھ لوٹا تھا کل۔ دونوں ہی ایک دم تیار تھے۔

 

بھلا وہ کیا نئی کھچڑی پکا رہا تھا؟ اروہی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

 کل ہی اس نے ویر کو فون لگانے کی کوشش کی تھی۔ پر  ویر کے فون میں کوئی نیٹ ورک ہی نہیں تھا۔

 جس کی وجہ سے وہ بات کل ٹل کے رہ گئی۔

صبح ہوتے ہی اس نے پھر سے ویر کو فون لگانے کی کوشش کی۔ اور بیشک، کچھ بیلز کے بعد ہی۔۔۔۔

 ویر:

“ہیلو؟” 

 اروہی:

“و-ویریررر!!!” 

 ویر:

“ہم؟ اروہی دیدی؟ کیا ہوا؟” 

 اروہی:

“آہ!!! پہلے یہ بتاؤ تمہارا کال کیوں نہیں لگ رہا تھا؟ کل میں نے کتنے کالز کئے۔” 

 ویر:

“میں… ٹھیک ہے… تھوڑا آؤٹر ایریا میں ہوں۔ کہیے!! کیا بات ہے؟” 

 اروہی:

“و-وہ… وہ پرانجل… وہ پرانجل ہے نا… کل میں نے…” 

 اس سے پہلے کہ وہ پرانجل کی بات بتا پاتی کہ تبھی… 

 

آہہہہ!!!!” 

 ویر کے کانوں میں اروہی کی ایک تیز آواز آئی۔

 ویر:

“ہیلو؟ ہیلو؟  اروہی دیدی؟؟ ہیلو؟؟؟”  

 *کال ختم

 یہ کیا…!؟  ابھی کیا ہوا؟‘ 

 پری:

کچھ غلط ہے ماسٹر!! 

 مجھے بھی یہی لگ رہا ہے پری!!! پرانجل کے بارے میں کچھ کہہ رہی تھی وہ… ایک منٹ رکو…‘ 

 پری:

سوچو

 

اس نے کہا… وہ پرانجل… کل میں نے… ہم؟؟ کہیں اس نے اس کی کوئی نئی حرکت پکڑ لی کیا؟؟ اور اس کی وہ چلانے کی آواز… لگتا ہے جیسے…‘ 

 

پری:

اوہہہ نووو

 ویر کو سب سمجھ میں آ گیا۔

 لعنتی!!!! تو اس کا مطلب وہ پرانجل… اس نے دیدی کے ہاتھ سے فون چھین لیا۔ ورنہ دیدی اس طرح ری ایکٹ نہیں کرتی۔فون گرا  ہوتا تو زمین پر اس کے گرنے کے امپیکٹ کی آواز مجھے سنائی دیتی۔  شِٹ!!!!!!‘ 

 پری:

وہ  یقیناً  کچھ پلان کر رہا ہے ماسٹر!!! 

 

میں یہاں اپنے جوابات لئے بغیر جا بھی نہیں سکتا۔ کیا کیا سنبھالوں ایک بار میں؟ لعنتی!!!‘ 

پری:

میں آپ کے ساتھ ہوں ماسٹر!!! براہ کرم ہمت رکھیں!!!

 

وہ حرامی… پرانجل… وہ کچھ سازش کر رہا ہے!!!!‘

۔

۔

۔

ویر کے پاس پرانجل کے لئے فی الحال وقت نہیں تھا۔

 

اسے یہاں سے جلد سے جلد اپنے جوابات لے کر نکلنا تھا۔ وہ مزید وقت ضائع نہیں کر سکتا تھا۔

 

کیمپ کے باہر نکلتے ہی اسے ٹرینیز نظر آئے جو کام میں لگے ہوئے تھے۔

 

رات بھر سر جارج کی خراٹوں کی آواز نے اس کی  نیند حرام کر دی تھی۔

 

اور آج وہ تیار تھا۔ ان سبھی کے ساتھ اندر مقبرے میں جانے کے لئے۔

 

اس پر ابھی بھی لوگوں کی شک کی نظریں بنی ہوئی تھیں۔

 

خاص کر اس کی اپنی ہی بہن،  سینا  کی۔

 

صبح وہ بڑا ہی بدلا بدلا سا برتاؤ کر رہی تھی۔ شاید بھوانا نے ساری بات بتائی تھی کل کی۔۔۔

 

اور وہ سب سننے کے بعد آج اس نے ویر سے کوئی بات نہیں کی۔

 

خیر جو بھی تھا۔ ویر اتنا ضرور جانتا تھا کہ۔۔۔

 

اسے اگر سچ جاننا ہے تو سینا اور بھوانا کے من میں ایک اچھا امپریشن بنانا ہوگا۔

 

اور ویر  وہ کام کرنے والا تھا آج۔

 

کھدائی کے دوران… 

 

آئی ہوپ دس ول ورک آؤٹ(امید ہے یہ کام کرے گا!!!‘)

۔

۔

۔

نیا  دن، نئی پریشانی، نئی کوششیں۔

 

کل وہی ہوا تھا جیسا کہ ویر نے فرض کیا تھا۔ پرانجل کے بارے میں۔ وہی بھیڑیا جو اکثر منہ میں شہد رکھ کر گھومتا تھا۔

 

کل جب اروہی پرانجل کی بات ویر کو بتانے ہی جا رہی تھی۔ اس کی بدقسمتی تھی، جو پرانجل اسی وقت اپنے کمرے سے باہر نکل رہا تھا اور اروہی کو اپنے بارے میں بات کرتا سن لیا۔

 

اروہی کے ہاتھوں سے اس نے اس کا فون چھینا،  ویر کا نمبر ڈیلیٹ کیا، اور اس کے ہاتھوں میں واپس تھما دیا۔ پر ایک وارننگ دیتے ہوئے، 

 

دھیان رہے دیدی!!! میں کیا کر رہا ہوں، کہاں جا رہا ہوں، کس سے بات کر رہا ہوں، اس کی خبر اگر آپ کو لگتی بھی ہے، تو یہ آپ تک ہی محدود  رہنی چاہئیے۔ اگر یہ گھر کے باہر گئی،  تو میں سمجھ جاؤں گا کہ بات آپ کے ان ہی پیارے ہونٹوں سے گزرتے ہوئے باہر گئی ہے۔ اور پھر… انجام اچھا نہیں ہوگا دیدی۔” 

 

اور بس،  وہ پھر اپنی جھوٹ سے بھری وہی پیار بھری مسکان دیتے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page