کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ
منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ : ـــــــــ اس طرح کی کہانیاں آپ بیتیاں اور داستانین صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ ساری رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی تفریح فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے دھرایا جارہا ہے کہ یہ کہانی بھی صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔
تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
-
Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026
منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 279
اور بس، ہمدردی کے چلتے وہ ویر پر بھڑک اٹھی، اور اس پر ہاتھ اٹھا دیا۔
ہاتھ بھی تو اپنوں پر ہی اٹھایا جاتا ہے نا؟ پر دقت وہ نہیں تھی۔ دقت تھی کہ ویر نے اس کے جملے کا مطلب غلط سمجھ لیا تھا۔
راگنی:
ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا تم سوچ رہے ہو ویر۔ یہ گھر تمہارا ہی ہے۔۔ پ-پلیز میں تم سے التجا کرتی ہوں۔۔ غغ غلط نہ سمجھو۔۔ میں بس۔۔ میں بس ان کی تکلیف دیکھ کر جذباتی ہو اٹھی۔ آخر کار، میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔۔ پلیز!! میری طرف دیکھو۔۔
اس نے ویر کو موڑا اور اس کے گال کو سہلانے لگی۔ جو اس کے طمانچے سے لال ہو گیا تھا۔ اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
راگنی:
دیکھو تو۔۔ میں نے کیا کر دیا۔ ممیں تمہیں اپنا مانتی ہوں ویر۔ اسی لیے۔۔ میرا ہاتھ تم پر اٹھ گیا۔ بب-بٹ ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا تم سوچ رہے ہو۔ چ-چاہو تو۔۔ چاہو تو تم مجھے مار لو۔ہاں-تم مجھے مار سکتے ہو۔۔
اس نے ویر کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گال پر رکھ دیا۔ اور ویر نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔
ویر:
ن-نیور مائنڈ! میں چلتا ہوں۔۔
وہ پھر مڑا اندر جانے کے لیے پر تبھی۔۔
راگنی نے اسے موڑا اور۔۔
*چو~ ♡*
ویر کے ہونٹ اس نے اپنے ہونٹوں کی گرفت میں لے لیے۔
بس 3 سے 4 سیکنڈ کی اس بوسے نے ان دونوں کے بیچ جو بھی تناؤ تھا، وہ جیسے غائب کر دیا۔
جیسے ہی دونوں کے ہونٹ ایک دوسرے سے الگ ہوئے، راگنی کے چہرے پر خماری چھانے لگی۔
راگنی:
ایک بار پھر۔۔ میں معذرت مانگتی ہوں ویر!!! اور پلیز مجھ پر بھروسہ کرو۔۔ ویسا کچھ بھی نہیں تھا۔ تم اب آرام کر سکتے ہو! میں تمہیں ڈسٹرب نہیں کروں گی۔
پر تبھی نیچے سے پریت کی آواز آئی تو دونوں ہی تھوڑا جھجھک گئے۔
ایک آخری بار وہ پھر آگے بڑھی اور اس نے ویر کے اس لال ہوئے گال کو چوما اور پیچھے ہٹ گئی۔
بغیر کچھ کہے ہی ویر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اور راگنی پلکوں کو جھکائے واپس نیچے آ گئی۔
شویتا:
اب وہ مجھ سے اور بھی نفرت کرے گا۔۔ *سسکی* راگنی۔۔ تم نے ایسا کیوں کیا؟ کیوں کیا ایسا؟؟؟ اس بیچارے نے مجھے بچایا اور اسے یہ صلہ ملا؟ *سسکی*
راگنی:
آپ فکر نہ کریں تائی جی! ویر کو میں سمجھا دوں گی۔ ہمارے بیچ اتنا نازک رشتہ نہیں ہے، جو وہ اس بات سے مجھ سے ناراض ہو جائے گا۔ میں اسے اچھے سے جانتی ہوں۔ اور آپ فکر نہ کریں۔ آپ یہاں رُک سکتی ہیں۔
شویتا:
میں تمہاری زندگی بھر احسان مند رہوں گی راگنی۔۔ *سسکی* زندگی بھر۔۔ میرا تو سب کچھ لٹ چکا ہے۔ اور ایسے وقت میں تم نے مجھے سہارا دیا۔ *سسکی* میں یہ کبھی نہیں بھولوں گی۔۔
کہتے ہوئے وہ راگنی کے پیروں پر گر پڑی تو راگنی نے اسے اس کی بازو پکڑ کر اٹھایا اور اپنے گلے سے لگا لیا۔
راگنی:
ارررے!!!؟؟؟ ی-یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟ م-میں آپ کا دکھ درد سمجھ سکتی ہوں۔ پلیز! ایسا نہ کریں۔ اور۔۔ اور۔۔ بھومیکا کو بھی بتا دیجیے۔ گھر میں سب پریشان ہو رہے ہوں گے۔
راگنی کی بات مان کر، شویتا نے بھومیکا کو سب کچھ بتایا اور شویتا کے بارے میں جان کر بھومیکا خود رات میں ان کے گھر آ گئی تھی۔
دونوں ماں بیٹی کو ایک الگ سے کمرہ دے دیا تھا راگنی نے تو دونوں وہیں سو گئیں۔
ادھر اوپر دیر رات میں ویر کا دماغ خراب تھا۔
*ڈنگ*
مشن: شویتا کو اس کی موت سے پہلے بچائیں۔ مکمل ہو گیا ہے۔
*ڈنگ*
5,000 پوائنٹس انعام میں دیئے گئے ہیں۔
*ڈنگ*
سکل ‘ڈیٹاکسیفیکیشن’ عطا کی گئی ہے۔
‘پررری!!!’
پری:
جی ماسٹر؟
‘سلیپ موڈ میں جاؤ!!!’
پری:
ایز یو وِش (جیسا آپ چاہیں ماسٹر~)
*ڈنگ*
سسٹم سلیپ موڈ میں داخل ہو گیا ہے۔
اور ایک گہری سانس چھوڑتے ہوئے ویر بستر پر لیٹ گیا۔
‘دی فکککک۔۔ آررغغغہ!! موڈ ہی آف ہوگیا بیچ۔ وہ۔۔ میں انہیں معاف نہیں کر سکتا۔۔ انہوں نے کبھی مجھے توجہ نہیں دی۔ اور اب میں معاف کر دوں؟ ہہ~ ہنسی آتی ہے!!! پلس بھابھی مجھ پر بھڑک اٹھیں۔ ویل، میں سمجھ سکتا ہوں کہ اس وقت ان کے من میں کیا چل رہا تھا۔ اور ریفلیکس کے چلتے انہوں نے مجھے طمانچہ مار دیا۔۔ پھر بھی!!! میں اس عورت کو معاف نہیں کر سکتا!!!’
*ناک* *ناک*
وہ سوچ ہی رہا تھا کہ دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی۔
‘ہممم؟‘
اور ویر نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔
تو۔۔۔۔
ویر:
ہممم؟ تم؟
سامنے پریت کھڑی ہوئی تھی۔
پریت:
ہ-ہممم!!!
ویر:
کیا ہوا؟
پریت:
آپ۔۔ آپ ٹھیک ہیں نا؟
ویر:
ہممم؟ مجھے کیا ہوا؟
پریت:
اممم۔۔۔ وہ۔۔۔ راگنی جی نے آپ کو۔۔۔
ویر:
ہممم~ میں ٹھیک ہوں۔
پریت:
او-اوہہ! ممیں بس یہی پوچھنے آئی تھی۔ چچ،، چلتی ہوں۔۔
اور وہ مڑی لیکن۔۔۔
پریت:
آہہہہہ~
ویر نے اسے جانے سے پہلے ہی اندر کھینچ لیا اور دروازہ بند کر کے بستر پر پٹخ دیا۔
ویر:
میری فکر کر رہی تھی؟
پریت (شرماتے ہوئے):
ہہ-ہاں! مم-میں۔۔۔۔
ویر (مسکراتے ہوئے):
پھر تو تمہیں گفٹ ملنا ہی چاہیے۔
پریت:
!!؟؟؟ااا مپھھ~!؟؟؟
اور اگلے ہی پل ویر نے پریت کے گلابی رسیلے ہونٹ منہ میں بھر لیے۔
‘اتنا گرم۔۔ نم۔۔ آئی نیڈ دِس۔۔‘
*سلرپ* *سموچ* *سلرپ*
پریت:
مپھھھ~ آہہ~ ہاہہہ انننغھھھ~ سسس~
دیکھتے ہی دیکھتے پریت کے کپڑے ہوا میں اچھل چکے تھے۔ ویر نے اسے پورا ننگا کر دیا تھا۔
وہ ہاتھ میں آرام سے پکڑنے لائق پستان، پتلی کمر، اور اس کی ہلکے بالوں والی پھدی۔۔۔
ویر کو آج فریسٹریشن سے آزاد کرنے کے لیے سب کچھ تھا۔
بدن کے ہر ایک حصے کو چوم چوم کر ویر نے پریت کو اتنا مدہوش کیا کہ اس کی دو بار پانی نکل چکا تھا۔
اور اپنے ٹراؤزر کے فریسٹریشن کو اس نے پریت کی نازک سی پھدی میں دھکے مار مار کر کئی بار نکال دیا۔
پریت کی صاف ستھری پھدی اب ایک کنٹینر کے مانند لگ رہی تھی جس میں سے سفید سا دہی جیسا مادہ باہر گر کر اس کی پوری ران کو بھگو رہا تھا۔
‘فک آئی نیڈڈ دِس۔۔‘
ویر:
چلو!! اسے صاف کریں۔۔
اور ویر واش روم میں چل دیا۔ پریت ایک دم ننگی اس کے پیچھے بیٹھ کر لوفا سے ویر کا بدن گِھس کر صاف کرنے میں لگی ہوئی تھی۔ اور ویر ادھر آنکھیں بند کر کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔
وہ اپنے ننگے پستان ویر کی پیٹھ پر لگائے اور اوپر نیچے ہوتے ہوئے سارا جھاگ پیٹھ پر اپنے چھاتیوں سے پھیلاتی۔
اور اس عجیب احساس میں ویر کھویا ہوا تھا۔
کبھی وہ اسے سامنے کھینچ کر بوسہ دیتا تو کبھی اس کے دودھ کو نچوڑنے لگتا۔
آخر سب اسی کا تو تھا۔ پریت کوئی مخالفت ہی نہیں کرتی تھی۔
ویر:
تمہیں۔۔ برا تو نہیں لگتا نا جب میں تمہارے ساتھ۔۔!؟
پریت:
آہہ! ن-نہیں!!!
ویر:
اور ایسا کیوں؟
وہ ویر کا بغیر جواب دیئے اس کی چھاتی سے چپک گئی۔ اس کا جسم چھوٹا تھا۔ تو ویر کو ایسا لگا جیسے کوئی بچی اس کے گلے سے لگ گئی ہو۔
پریت:
مجھے برا نہیں لگتا۔۔ گاؤں میں۔۔ مجھے صرف تکلیف ہی ملی وہاں۔۔ پر۔۔۔ مگر ادھر آپ کے ساتھ۔۔۔
سر اوپر کرکے اس نے ویر کو دیکھا اور اس بار خود۔۔ آگے بڑھ کر۔۔ اس نے ویر کے ہونٹ چوم لیے۔
یہی اس کا جواب تھا۔ جس سے ویر سمجھ گیا۔
*رنگ* *رنگ*
پریت (بوسہ توڑتے ہوئے):
آہہ~ آ-آپ کا فون بج رہا ہے۔
ویر:
ڈیم اٹ! اچھا مومنٹ بگاڑ دیا۔ پریت! ذرا فون لے کر آؤ ادھر۔
پریت:
ہممم~
وہ مٹکتی گانڈ لے کر باہر گئی اور ایسی ہی ننگی حالت میں فون لے کر واش روم میں واپس آئی۔ رات کے 1 بج رہے تھے پر اس وقت ان دونوں کے لیے جیسے وقت نام کی کوئی چیز ہی نہیں تھی ابھی۔
ویر:
کس کا ہے؟
پریت:
امم۔۔ کسی راگھو کا ہے۔
ویر:
اوہہ~ کال اٹھاؤ اور لاؤڈ اسپیکر پر کرو۔
پریت:
ہ-ہممم~
اور دوسری طرف سے پھر راگھوکی آواز آئی۔
راگھو:
بااااس!!!!
ویر:
ہممم؟
راگھو:
کام ہو گیا ہے! میں نے اپنے آدمیوں سے ان دو لفنگوں کو اچھا سبق سکھا دیا ہے۔ اور آپ کی کار لے کر آپ کے گھر کے باہر آدمی موجود ہے۔ اس سے چابی لے لیجیے گا۔ اور آگے سے باس۔۔۔۔ان چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے آپ کو خود جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس مجھے ایک کال کر دیا کیجیے۔۔۔ سب سیٹل ہو جایا کرے گا۔
ویر:
ہممم! گڈ! رکھتا ہوں! تم سے بعد میں مل کر ایک کام کی بات کرنی ہے۔
راگھو:
ہاہاہا~ بالکل بالکل!
*کال ختم*
اور اسی طرح آج کا یہ دن کچھ اس طرح ختم ہوا۔
۔
۔
۔
پرسوں کے بعد ایک دن۔۔
ویر کا پرانا گھر۔۔
رات کا وقت ~ 8:36 بجے
منورتھ:
بیٹا کیا چل رہا ہے کوئی بتائے گا؟
کرونیش:
و-ویر؟ یہ سب کیا ہے؟ کچھ تو بتاؤ!!!
سمیترا:
ویر؟؟؟ کچھ کہو بیٹا؟
کاویہ:
بھئیا!؟؟؟ آپ کیا کر رہے ہیں بتائیں نا!؟؟؟
ویر اس وقت اپنے پرانے گھر میں موجود تھا۔
اس کے خاندان والے سوال پر سوال کیے جارہے تھے پر وہ کچھ نہیں بول رہا تھا۔
سبھی کے لیے سامنے سیٹیں موجود تھیں۔
اور سبھی کو اس نے بٹھایا ہوا تھا۔
ٹی وی سے ایک پین ڈرائیو منسلک تھی۔
اس کے بائیں طرف کاویہ بیٹھی ہوئی تھی اور دائیں طرف اروہی۔ وہ دونوں بھی کنفیوز تھیں۔
اروہی:
و-ویر؟؟؟ بتاؤ! یہ سب کیا ہے؟
ویر پھر بھی کچھ نہ بولا۔ اس کے چہرے پر ایک قاتل مسکراہٹ تھی۔ یہاں تک کہ شویتا اور بھومیکا بھی موجود تھیں۔ ویویک بھی۔ پر راگنی نہیں۔
ویر:
شششش!!! بس دیکھتے رہو!!!
اس نے اٹھ کر سائیڈ میں رکھے پاپ کارن اٹھائے اور سب کے ہاتھوں میں تھما دیئے۔
وہ واپس اپنی جگہ جا کر بیٹھا اور اس نے پین ڈرائیو میں ایک فولڈر کھولا اور اس میں ایک ویڈیو پلے کر دی۔
ویڈیو کے شروع میں کچھ ٹیکسٹ لکھ کر آئے۔۔۔
لائٹس! کیمرہ! ایکشن!!!!
اور پھر وہ ویڈیو کلپ پلے ہونا شروع ہو گئی۔
۔
۔
۔
رات کا وقت تھا اور ویر کے پرانے گھر میں سبھی موجود تھے۔ ہال میں ہی لگی بڑی ایل ای ڈی ٹی وی پر ویر نے ایک ویڈیو کلپ پلے کی ہوئی تھی۔
پورے مین ہال میں اندھیرا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی تھیٹر میں آ کر بیٹھ گئے ہوں۔ ٹی وی کی سکرین بھی بہت بڑی تھی، قریباً 55 انچ، تو بالکل سنیما والی فیلنگ آ رہی تھی سبھی کو۔
ان سب کے ہاتھوں میں ویر نے ایک ایک پاپ کارن کا پیکٹ تھمایا ہوا تھا۔ ویر کے لیے جیسے یہ کسی فلم سے کم نہیں تھا۔
کاویہ جو اس کے بائیں طرف بیٹھی ہوئی تھی اسے تجسس سے دیکھے جا رہی تھی۔
کاویہ:
بتائیں نا بھئیا!!! یہ سب کیا چل رہا ہے؟
ویر:
میں نے کہا نا بس دیکھتی جاؤ۔
کاویہ:
پر۔۔ ممففف!!!؟؟ (´⊙ω⊙`)!
اس سے پہلے کہ وہ بیچاری کچھ کہہ پاتی ویر نے اس کی گود میں رکھے پاپ کارن کے پیکٹ سے ہاتھ میں کچھ پاپ کارن لیا اور سیدھے اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔
کاویہ:
اگھییی~ *نوم* *نوم* امموآآآ۔۔. *نوم*
ویر (مسکراتے ہوئے):
انجوائے کرو اور بس دیکھو۔
سوال تو اروہی کے من میں بھی تھا۔ پر جس طرح سے ویر نے کاویہ کے منہ میں پاپ کارن ٹھونسے، اسے دیکھنے کے بعد اروہی نے اپنا منہ بند رکھنا ہی بہتر سمجھا۔
اور پھر سبھی کی نظریں ٹی وی سکرین پر جم گئیں۔
ویڈیو جیسے ہی شروع ہوئی، ویر ایک زبردست بلیک ٹکسڈو میں تھا، اندر وائٹ شرٹ کے ساتھ، وہ کھڑا ہوا تھا ایک آئینے کے سامنے۔
وہ اپنے بال بنا رہا تھا۔ اپنی کالی گھنی زلفوں کو سیٹ کر وہ شیشے میں خود کو تیار کر رہا تھا۔
اور ادھر کاویہ نے جیسے ہی اسے سکرین میں اس قدر دیکھا وہ کہیں کھو گئی۔
کاویہ:
ہووو~ بھ-بھئیا~ سو ہینڈسم۔۔ (๑♡⌓♡๑)
پھر اچانک ہی اسے جیسے دھیان آیا۔
کاویہ:
آہہ!!؟؟ رکو! بھئیا؟ کیا آپ وہی شرٹ پہنے ہوئے ہیں اب؟ اووو~ اس کا مطلب یہ ویڈیو آج کی ہے۔ ہے نا؟ ہے نا؟✧\(>o<)ノ✧
اروہی (سر پر ٹپلی مارتے ہوئے):
ویڈیو پر دھیان دو۔ ای-ایون تھو۔۔
اروہی (سرگوشی کرتے ہوئے):
وہ واقعی ہینڈسم لگ رہا ہے۔۔ *شرماتی ہوئی*
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد
پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں
-
Perishing legend king-330-منحوس سے بادشاہ
January 13, 2026 -
Perishing legend king-329-منحوس سے بادشاہ
January 13, 2026 -
Perishing legend king-328-منحوس سے بادشاہ
January 13, 2026 -
Perishing legend king-327-منحوس سے بادشاہ
January 13, 2026 -
Perishing legend king-326-منحوس سے بادشاہ
January 13, 2026 -
Perishing legend king-325-منحوس سے بادشاہ
January 13, 2026
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے