Perishing legend king-280-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 280

کاویہ:

آؤچ~ (•́︿•̀) کیا دیدی؟ ویڈیو ہی تو دیکھ رہی ہوں نا؟ مارا کیوں آپ نے مجھے؟

 

ویر:

تم دونوں۔۔! سششش! خاموش!

 

کاویہ:

اگھھھ!!

 

اروہی: ۔۔.

 

ویویک:

ویر؟ یہ سب کیا مذاق ہے؟ کیا تم نے یہاں ہمیں اپنا وی لاگ دکھانے کے لیے اکٹھا کیا ہے کیا؟

 

ویر:

بالکل نہیں! جب ویڈیو دیکھیں گے تبھی تو پتا چلے گا   نا؟

 

ویویک (من میں):

آخر کرنا کیا چاہتا ہے یہ ویر۔

 

اور اس کے بعد اچانک ہی سین بدل گیا۔

 

ویر کے سامنے بھومیکا موجود تھی۔ سین تھا راگنی کے گھر کا۔

 

یہ سین آتے ہی بھومیکا کی بھنویں سکڑ گئیں۔ اور وہ سوچ میں پڑ گئی۔

 

یہ۔۔ یہ تو۔۔ یہ تو کل کی بات ہے۔ و-ویر نے مجھے ریکارڈ کیا تھا؟؟؟ پ-پر کیوں؟؟؟

 

ویر پر اس نے نظریں ڈالی پر ویر تو جیسے پورا کا پورا ٹی وی پر فوکسڈ تھا۔

 

اور ادھر بھومیکا سمیت شویتا کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔

 

پھر سین میں ہوئی بات شروع ہوئی۔

 

ویر:

تو کیا ہوا تھا؟ آپ بتائیں گی مجھے؟

 

بھومیکا:

اب میں کیا کہوں ویر؟ کیا بولوں؟ کس منہ سے بولوں؟ اب تو کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ میں اور ماں دونوں ہی۔۔ گلٹ کے اس ساگر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

 

ویر: ۔۔

 

بھومیکا:

سب کچھ *سسکی* سب کچھ اس پرانجل نے کیا ہے ویر۔ سب کچھ اسی کا کیا دھرا ہے۔ *سسکی* وہی اس دن ہوٹل آیا تھا۔ ماں کو ڈنر پر لے کر گیا یہ کہہ کر کہ۔۔ *سسکی* کہ وہ  ماں کو ریلیکس کرانا چاہتا ہے۔ اگلے دن بھی آیا  وہ۔ اینڈ آئی تھاٹ، وہ یہ سب ماں کے لیے کر رہا ہے۔ *سسکی*

 

ویر: ۔۔

 

بھومیکا:

اور پھر۔۔ اس رات جب ماں آئی اس کے اگلے دن ہی یہ پتا لگتا ہے کہ اس نے ماں سے دستخط کروا کر پوری کی پوری ہوٹل ہی اپنے نام کر لی ہے۔

 

ویر:

کیسے؟؟

 

بھومیکا (روتے ہوئے):

آئی ڈونٹ نو! آئی ڈونٹ نو ویر!!! اس کے پاس پتا نہیں ہوٹل کے اصل کاغذات کہاں سے آ گئے۔ اس نے تو ٹرمز اینڈ کنڈیشنز بھی موڈیفائی کیے۔ کاغذات میں اس نے تبدیلیاں کروائیں کہ وہ ہوٹل اب اس کا ہونے جا رہا ہے۔

 

ویر:

الرائٹ!!!

 

ویر اٹھا اور بھومیکا کو وہیں چھوڑ کر وہ باہر نکل گیا۔ وہ بیچاری بس روتی رہی۔

 

اور ادھر ہال میں سبھی لوگ خاموشی سے سب کچھ ویڈیو میں ہوتا دیکھ رہے تھے۔ شویتا اور بھومیکا پل پل ویر کی طرف بے چین ہوکے نظریں گھماتیں پر صرف نراشا ہی انہیں ملتی، کیونکہ ویر ان دونوں کی طرف دیکھ ہی نہیں رہا تھا۔

 

اگلے ہی پل ایک بار پھر سین بدل گیا۔ اس سین میں ویر بائیک ڈرائیو کر رہا تھا۔ شاید اس نے اپنی بریسٹ پاکٹ میں کیمرہ سیٹ کر کے رکھا ہوا تھا۔ جس کے ذریعے وہ سب کچھ ریکارڈ کر کے ایک ویڈیو کے روپ میں سب کچھ پیش کر رہا تھا۔

 

وہ اترا اور کسی جگہ پر گیا۔ اندر تین چار لفنگے بیٹھے ہوئے تھے۔ اور ویر نے گھستے ہی انہیں چوکنا  کر دیا۔

 

ویر:

پرانجل کہاں ہے؟

 

لڑکا 1:

کون ہے بے تو؟ اور بغیر پوچھے اندر کیسے آیا؟

 

ویر بغیر کچھ کہے آگے بڑھا اور اس لڑکے کے صوفے پر سیدھے اپنی لات دے ماری۔ ویر کی ٹانگ اس لڑکے کے چہرے کے بغل سے ہوکے تیزی سے نکلی اور پیچھے صوفے پر جا کر لگی۔

 

*باممممم*

 

لڑکا 1:

سسالے تیری تو۔۔

 

پر وہ بولنے لائق نہ بچا۔ کیونکہ اگلے ہی لمحے ویر نے اس کا ہاتھ پکڑا  اور۔۔

 

*ڈنگ*

 

لمبو!!!

 

*کرییکککک*

 

لڑکا 1:

آآآآرررگھھھ!!!! ممارو سالے کو۔۔ آآآہہ میرا  ہاتھ۔۔

 

اور اس کے بعد تو۔۔

 

کچھ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ پلکیں جھپکتے ہی وہ سارے درد سے کراہتے ہوئے نیچے پڑے ہوئے تھے۔

 

لڑکا 1:

ہ-ہاہہہ!! ممجھے چھوڑ دو۔۔ آآآررگھھھ!! م-میرا  ہاتھ۔۔ میرا  ہاتھ۔۔

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

چھوڑ دوں گا!! بس یہ بتا دو، پرانجل کدھر ہے؟؟

 

لڑکا 1:

ممیں۔۔ میں نہیں۔۔

 

ویر:

اوہہ~ تو شاید مجھے درد اور بڑھانا پڑے گا۔

 

لڑکا 1:

نن-نہیں!!! نہیں!!!! میں۔۔ میں بتاتا ہوں۔

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

گڈ~

 

لڑکا 1:

و-وہ۔۔ وہ سلور۔۔

 

ویر:

ہممم؟؟

 

لڑکا 1:

سلور کلب!! وہ xxxxxxx روڈ  والا  پب۔

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

نائس!!

 

*ڈنگ*

 

لمبو!!!

 

*کرییکککک*

 

لڑکا 1:

آئیییی آآرگھھھ!!!

 

وہ لڑکا کسی کتیا کی طرح ایک بار پھر بلبلا اٹھا۔ اور سین ایک بار اور بدل گیا۔

 

ادھر ہال میں سبھی تجسس لیے سب کچھ ہوتا دیکھ رہے تھے۔ کاویہ کی آنکھوں میں تو سب سے زیادہ چمک تھی۔

 

کاویہ (شرماتے ہوئے):

واہہہ!!! س-سو کول!!! بھئیا~

 

اروہی:

ک-کہیں ویر یہ سب۔۔؟؟

 

اس نے ویر کو دیکھ کر پوچھا۔ تبھی ایک سنسنی مچا دینے والا خیال اس کے دماغ سے ہوتے ہوئے گزرا جس سے اروہی کا پورا بدن سہم اٹھا۔

 

اروہی:

ویر!! ک-کہیں تم۔۔!؟

 

اس کے سوال پر ویر کی مسکراہٹ اور پھیل گئی۔ اروہی نے جب اسے مڑ کر دیکھا تو ویر کی وہ شیطانی مسکراہٹ دیکھ کر اس کے پورے بدن میں رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

 

وہ صحیح سوچ رہی تھی یعنی۔ ویر پرانجل کے ساتھ کچھ کرنے والا تھا۔

 

اور بے شک، ویڈیو میں سین آیا پھر۔۔ سلور کلب کا۔

 

ویر سلور کلب میں داخل ہوا اور۔۔ وہاں کا نظارہ ایک دم ہی ابھارنے والا تھا۔

 

سلور کلب ایک ہائی کلاس پب تھا۔ گھستے ہی ویر کو اندازہ لگ چکا تھا۔ سامنے کے اسٹیج پر لڑکیاں چھوٹے چھوٹے کپڑوں میں تھرکتے ہوئے، اپنی سیکسی نس دکھا رہی تھیں۔ ہر ریدم، ہر بیٹ پر ان کی پتلی کمر ہل رہی تھی۔

 

اور نیچے جوڑے تو کہیں اجنبی ایک دوسرے کے ساتھ اپنی کمر ہلانے میں لگے ہوئے تھے۔ ایک دوسرے کے بدن سے بدن ملانے میں لگے ہوئے تھے۔

 

سیکسی ابھارنے والے گانے زور سے بج رہے تھے۔ ڈسکو لائٹس سے پورا کلب جگمگا رہا تھا۔

اور ان تھرکتے ہوئے لوگوں کے بیچ سے ویر اپنا راستہ بناتے ہوئے گزرتا جا رہا تھا۔ جہاں باقی سبھی کی آنکھوں میں نشہ تھا،  خماری چھائی ہوئی تھی۔ ویر کی آنکھیں کسی باز کی طرح کسی کو ڈھونڈھ رہی تھیں۔

 

اپنے اگلے بغل موجود نشے میں ناچتے ہوئے لوگوں کو نظر انداز کر وہ آگے بڑھتا رہا۔


اور کچھ ہی پلوں میں، جس کی تلاش تھی، وہ اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔

 

پرانجل!!!

 

اس سے کچھ ہی دوری پر وہ کچھ لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ ناچتا ہوا پایا گیا۔ ویر نے جیسے ہی اسے دیکھا تو اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔ اور،  وہ آگے بڑھا۔

 

پرانجل ادھر اپنے خاص دوستوں کو ہوٹل ملنے کی پارٹی دے رہا تھا۔ شراب سے لے کر،  ناچ گانے کے انتظام کے لیے وہ سبھی کو یہاں آج سلور کلب میں لے کر آیا ہوا تھا۔

 

ادھر ویر کے گھر میں بیٹھے جیسے ہی پرانجل کو لڑکیوں کے ساتھ ناچتے ہوئے دیکھا وہ بھی ایسے کلب میں تو سب کے ہوش ہی اڑ گئے۔

 

کاویہ (شرماتے ہوئے):

آہہ!! ی-یہ سب؟؟

 

منورتھ:

کرونیشششش!!!! یہ سب کیا ہے؟؟؟؟ یہ کیا دیکھ رہا ہوں میں؟؟؟ کیا کر رہا ہے تمہارا لڑکا یہ؟؟؟

 

کرونیش:

پپ-پاپا جی۔۔

 

منورتھ ایک دم سے بھڑک کر بول اٹھے۔ انہیں اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں ہو رہا تھا۔ جس پرانجل کو وہ دودھ کا دھلا سمجھ رہے تھے وہ ایسا نکلا؟ پر یہ تو کچھ بھی نہیں تھا۔ آگے جیسے انہیں اور بھی جھٹکے لگنے والے تھے۔

 

 

ادھر واپس ویڈیو میں۔۔ ووفرز میں گانے اتنی زور سے بج رہے تھے کہ اس کا بیس اتنا زیادہ تھا، ویر اپنی چھاتی میں ان وائبریشنز کو اچھی طرح  محسوس کر پا رہا تھا۔ کلب کی وائب ہی الگ تھی۔

 

اور پرانجل جو ہلکے نشے میں ناچ رہا تھا وہ جب مڑا تو سامنے اسے ویر نظر آ گیا۔

 

پہلے وہ چونکا، پھر مسکراتے ہوئے وہ ویر کے قریب آیا۔

 

پرانجل:

ہاہاہاہاہا~ اگر یہ تم نہیں ہو میرے حرامی بھائی!؟

 

ویر: ۔۔

 

پرانجل:

آؤ آؤ۔۔ تم بھی آؤ۔۔ ہاہاہاہا~

 

اور ویر کو کھینچتے ہوئے وہ اپنے دوستوں کے پاس لے گیا۔ آج جیسے وہ بہت خوشی میں تھا۔

 

دوستوں سے پہچان کرا کے، پھر ویر کو وہ بار سائیڈ لایا جہاں لوگ شاٹس اور ڈرنکس لے رہے تھے۔

 

پرانجل:

تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ ہاں؟ کسی لڑکی نے پھدی نہیں دی کیا آج؟ ہاہاہاہاہا~ لگ تو یہی رہا ہے۔ ایک دم سوٹ ووٹ میں ہاں؟ دل توڑ کر بھاگ گئی لگتا۔  ہاہاہاہاہا~

 

ویر: ۔۔

 

پرانجل:

ویسے آج میں خوش ہوں۔ ہاہاہاہا~ بہت خوش۔ تو آج تم جو پینا ہو پیو۔ بل میرے اوپر۔ اپنے دشمن کے اوپر اتنا دلدار تو ہو ہی سکتا ہوں میں۔ ہاہاہاہاہاہا~

 

اور ویٹر کو بول کر پرانجل نے اپنے اور ویر کے لیے ڈرنکس منگوا لیں۔

 

وہ پی رہا تھا اور یہاں ویر بھی پی رہا تھا۔

 

پر جہاں پرانجل کو نشہ چڑھتا جا رہا تھا۔ ویر ایک دم ٹپ ٹاپ اور سوبری کنڈیشن میں تھا۔ اسے کوئی نشہ ہی نہیں چڑھ رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر بس ایک قاتلانہ مسکراہٹ سجی ہوئی تھی۔

 

ان سب کی وجہ تھی۔۔

 

ڈیٹاکسیفیکیشن!!!

 

اس کی نئی اسکل۔ اسے پری کے بول اپنے من میں یاد آنے لگے۔

 

پری:

ماسٹر! یہ اسکل مختلف ہے۔ نام سے لگ رہا ہوگا کہ یہ زہر ڈیٹاکسیفائی کرے گی لیکن نہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ شراب اور سگریٹ سے ہونے والے نقصان کو ڈیٹاکسیفائی کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اگر آپ شراب یا سموک کرتے ہیں تو ڈیٹاکسیفیکیشن اسکل اس میں موجود نشیلی مادوں کو ڈیٹاکسیفائی کر دے گی۔ نہ تو آپ کے جسم کو کوئی نقصان ہوگا اور نہ ہی آپ کو نشہ چڑھے گا۔ تو، اب آپ نشے سے محفوظ ہیں۔

 

یہی وجہ تھی جو ویر مزے میں پرانجل کے ساتھ ڈرنک کر رہا تھا۔ اسے کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔

 

سب سے بہتر بات تھی کہ یہ اسکل آن یا آف کی جا سکتی تھی۔ تو ویر اسے آف کر کے الکوحل کے نشے میں ڈوب بھی سکتا تھا اگر چاہے تو۔

 

پر فی الحال،  وہ آن تھی۔

 

چالاکی سے ویر نے ڈرنکس پر ڈرنکس منگوائیں اور پرانجل کے ساتھ وہ پیتا گیا۔ نشے میں دھُت ہونے کا وہ ناٹک کرنے لگا۔

 

ادھر پرانجل اسے نشے میں ڈوبتے دیکھ کر خود بھی نشے میں گھومنے لگا۔

 

اور پھر، ویر نے اپنی چال چلنا شروع کی۔ شطرنج  کا پہلا پیادہ اس نے بڑھا دیا۔

 

ویر:

ایسا کیوں کیا تم نے!؟

 

پرانجل:

*ہک* کیا کہا؟ میں نے ایسا کیوں کیا؟ *ہک* سسالے  مادرچود!!! سب تیری وجہ سے!! سب تیری وجہ ہے!! اگر تو نہ ہوتا۔۔ *ہک* تو آج سب کچھ میرا ہوتا۔۔ پر تووو۔۔.

 

ویر: ۔۔

 

پرانجل:

تیری وجہ سےمیرا سارا پلان چوپٹ ہو گیا۔ *ہک* تیری وجہ سے۔۔ *ہک* م-میں بھولا نہیں ہوں۔ بینکویٹ میں جو تو نے میرے ساتھ کیا۔۔ میری اتنی بے عزتی۔۔ سب یاد ہے مجھے۔۔

 

ویر:

اور تم نے جو میرے ساتھ کیا اس کا کیا؟

 

پرانجل:

ہ-ہہ!؟؟ *ہک* حرامی وہ سب تو۔۔ تو ڈیزرو کرتا ہے۔ سالے۔۔ تو ڈیزرو کرتا ہے۔۔

 

ویر:

اوہہ! تم ہی تھے نا!؟ جس نے مجھے گھر سے باہر نکلوایا!؟؟

 

پرانجل:

*ہک* ہاہاہاہا~ تجھے اب معلوم پڑ رہا ہے!؟؟؟  ہاہاہاہاہا~ کوئی اتنا بیوقوف کیسے ہوسکتا ہے بلڈی؟ *ہک*

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

کیسے نکلوایا اور تم نے مجھے؟

 

پرانجل:

ہاہاہاہاہاہاہا~ ابے تو اب تک نہیں سمجھ پایا؟ *ہک* سب کچھ میرا پلان تھا گانڈو، *ہک* میرا پلان۔۔ ویویک بھئیا کی کمپنی سے وہ اسپیشل سلپری آئل۔۔ *ہک* میں نے ہی تو ڈالا تھا۔۔تیرے پیروں کے نیچے۔۔ ہاہاہا~ جب تو گرا تھا  نا۔۔ میرے دل کو اتنی زیادہ خوشی کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ سارا پرساد۔۔ *ہک* نیچے۔۔ اور تو باہر۔۔ ہاہاہاہا~

 

ویر:

نائس!! اور!؟ اسے دیکھ کر کچھ یاد آیا؟

 

ویر نے اپنے بلیزر کی اندرونی جیب سے پھر کچھ نکالا اور ٹیبل پر رکھ دیا۔

 

یہ وہی تھا۔

 

منورتھ کی وہیل چیئر کا وہ موڈیفائیڈ پہیہ۔ اور اسے دیکھتے ہی پرانجل تھوڑا چونکا اور پھر اسے اپنے ہاتھوں میں کھینچ لیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page