Perishing legend king-282-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 282

ان کی منزل بھی وہی تھی۔ راگنی کا گھر۔ اس کے سوا کہاں جا سکتی تھیں بھلا  وہ!؟

۔

۔

۔

اتنے بڑے کام کے بعد ویر یہاں ابھی بھی چین میں تو نہیں تھا۔

 

یہ اس کے لئے بس ٹریلر تھا۔ میں اس کی زندگی جہنم بنا دوں گا!!!‘

 

پری:

اسے اس کی سزا ملنی چاہئے ماسٹر~ اور اب آپ کو بھی آرام کرنا چاہئے۔

 

ہاں!!!‘

 

وہ اپنے کمرے میں موجود، اپنی شرٹ اتار کر وہ ابھی پینٹ اتارنے ہی والا تھا جب، 

 

آہہ!!؟ و-ویر!؟؟” 

 

کمرے کی دہلیز پر راگنی آ گئی۔ اور اسے اس حالت میں دیکھ کر تھوڑا شرما کر نظریں پھیر لیں۔

 

چوری چوری اس کی آنکھیں ویر کے بدن پر پڑیں اور اسے دیکھتے ہی راگنی کے چہرے پر خماری سی چھانے لگی۔ ویر کا بدن ایسا لگ رہا تھا جیسے اوپر والے نے سالوں سال محنت کر کے تراشا  ہو۔

 

آج تک راگنی نے کبھی کسی مرد کی ایسی باڈی اصلی زندگی میں نہیں دیکھی تھی۔

 

راگنی:

ک-کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟

 

ویر:

ام۔۔ ی-یقیناً

 

وہ بستر پر بیٹھتے ہوئے بولا۔ اسے کوئی شرم نہیں آ رہی تھی۔ ایک الفا میل بھلا اپنی باڈی شوکیس ہونے پر شرماتا  تو نہیں تھا۔

 

راگنی آئی اور اس کے بغل  میں  بیٹھ گئی۔ کچھ دیر تک دونوں میں سے کوئی نہ بولا۔ پھر جیسے تبھی وہ سائیڈ میں جھکی اور ویر کے ننگے کندھوں پر اپنا سر رکھتے ہوئے بولی، 

 

تت-تم مجھ سے ناراض تو نہیں ہو نا؟” 

 

ویر:

ام-ہم۔۔ نہیں

 

راگنی:

پکا؟

 

ویر:

ہممم

 

راگنی:

پکا  والا  پکا؟؟

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

ہممم

 

راگنی (مسکراتے ہوئے):

یہ اچھا ہے پھر۔۔ اور۔۔ 

 

ویر:

ہممم؟؟

 

راگنی آہستہ آہستہ اپنا چہرہ اٹھاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ دونوں ایک دوسرے کی گرم سانسیں محسوس کر پا رہے تھے۔

 

کمرے کی مدھم روشنی میں ویر کے ہونٹ راگنی اچھی  طرح دیکھ پا رہی تھی۔ بس کچھ ہی دوری کا  فاصلہ تھا۔

 

وہ اپنا دھڑکتا دل لے کر آگے بڑھی۔۔ آہستہ آہستہ۔۔ ہولے ہولے۔۔ 

 

اور۔۔ 

 

*ڈنگ ڈانگ

 

دروازے کی گھنٹی نے سب کچھ چوپٹ کر کے رکھ دیا۔

 

راگنی:

آہہ!! میں۔۔ 

 

ویر (نظریں ہٹاتا ہے): ۔۔ 

 

راگنی:

آج کیا ہوا وہاں سب۔۔ وہ۔۔ اور۔۔ وہ بات۔۔ ہم بعد میں بات کریں گے۔ گڈ نائٹ! ویر!!! 

 

*چُو~

 

اور بس گالوں پر ایک میٹھی پپی دیتے ہوئے وہ نکل گئی۔

۔

۔

۔

دیر رات ہو چکی تھی۔ پر کوئی تھا۔۔ جو اس وقت جاگ رہا تھا۔

 

وہ اٹھی اور ویر کے کمرے کی طرف بڑھی۔ جو کہ کھلا ہوا تھا۔ ہلکے ہلکے قدم رکھ کر وہ دبے پاؤں اس کے قریب آئی۔

 

اور اس کے سوتے ہوئے چہرے کو نہارنے لگی۔ آنکھوں سے آنسو ٹپک ٹپک کر گر رہے تھے۔

 

اپنے نرم ہاتھوں سے اس نے ویر کے گال کو سہلایا۔ اور آگے جھکی۔۔۔۔

 

*پُچ~

 

اس کے گال کو چومتے ہوئے اس کے بال سہلانے لگی اور بس جیسے اس کے چہرے میں کھو گئی وہ کہیں۔

 

پھر ان تھر تھراتے ہونٹوں سے بس دو ہی لفظ نکلے اس کے، 

 

میرا  بچہ~ !!!!”

۔

۔

۔

پرانجل کی بلاک بسٹر مووی دیکھے تین دن گزر چکے تھے۔ پر سوال تھا کہ ویر کے وہاں سے جانے کے بعد پرانجل کے ساتھ کیا ہوا؟ ٹھیک ہے، ایک ہی چیز ہوئی۔ پرانجل کو گھر سے باہر نکال دیا گیا تھا۔

 

منورتھ کو جب ویڈیو کی ساری باتیں پتا چلیں تو انہیں اتنا بڑا جھٹکا لگا تھا کہ وہ ایک پل بھی پرانجل کی شکل نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ پرانجل نے اپنے ہی دادا جی کو مندر میں گرا کر انہیں زخمی کیا۔ کیا بھروسہ تھا کہ آگے وہ کسی کی جان ہی نہ لے لے؟

 

پہلے تو یہ بھی سوچا گیا تھا کہ اسے ایک دماغی ہسپتال میں لے جا کر اس کی جانچ کروائی جائے۔ بھلا کون اپنے گھر والوں کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے؟ پر بعد میں یہی فیصلہ لیا گیا کہ اسے گھر سے نکالا جائے۔

 

نہ صرف اس سے اس کی ساری جائیداد چھین لی گئی تھی بلکہ جو پیسے اسے راگھو کے ذریعے ہوٹل بیچنے پر ملے تھے وہ بھی پرانجل کو راگھو کو واپس لوٹانے پڑے۔

 

سب کچھ اپنے دادا جی اور پِتا جی کے کہنے پر پرانجل کو مجبوراً اپنا سب کچھ گنوانا پڑا۔ اور کیسے نہ دیتا؟ اگلے ہی دن راگھو کے آدمی منورتھ کے گھر پر آکے کھڑے ہو گئے تھے۔ غنڈوں کے ڈر سے کرونیش اور منورتھ نے سارے کے سارے پیسے پرانجل سے نکلوا کر راگھو کو واپس کر دئیے۔

 

اور پھر اسے گھر سے اسی طرح باہر نکال دیا گیا تھا۔ منورتھ نے اس کے جاتے وقت بھی اسے کھری کھوٹی سنائی تھی۔

 

جانے دو اسے اسی طرح۔ جب دو وقت کی روٹی خود کمائے گا تب سمجھ آئے گا کہ پیسہ کتنی محنت سے کمایا جاتا ہے۔ نکل جا! نکل جا تو میری نظروں کے سامنے سے۔” 

 

اور بس، پرانجل وہاں سے خالی ہاتھ چل پڑا۔

 

سمیترا یہ سب دیکھتے ہی پوری طرح ٹوٹ چکی تھی۔ اس کی طبیعت بگڑنے لگی تھی۔ اروہی اور کاویہ دونوں ہی اسے سنبھالنے میں لگی ہوئی تھیں۔

 

پر کسی نے بھی دادا جی کی بات کی مخالفت نہیں کی۔ کیونکہ، وہ جانتے تھے کہ پرانجل معافی کے لائق نہیں تھا۔ اور اسے گھر میں رکھنا ایک سانپ کو پالنے جیسا تھا جو کبھی بھی، کسی بھی وقت اپنے ہی لوگوں کو ڈس سکتا تھا۔

 

آخر میں، فیصلہ لے لیا گیا۔

 

پرانجل کا  پتہ  اس کے اپنے ہی گھر سے صاف ہو گیا۔ اور وہ واقعہ ختم ہو گیا۔

۔

۔

۔

آج ایک نیا دن تھا۔ صبح صبح ویر اپنی نیند سے جب جاگا تو اسے اپنے پیروں میں کچھ محسوس ہوا۔

 

ہممم؟‘ 

 

جیسے ہی اس کی آنکھیں کھلیں اس کی نظر نیچے اپنے پیروں کی طرف گئی۔ دیکھا تو پایا کہ۔۔ آنیسہ، اس کے پاؤں دبا رہی تھی۔

 

یہ کیا۔۔!؟‘ 

 

ویر:

آنیسہ!؟؟؟

 

آنیسہ:

آہ! مالک~ آپ اٹھ گئے؟

 

ویر:

ہم~ پر تم یہ کیا کر رہی ہو؟

 

آنیسہ (مسکراتے ہوئے):

آپ کی خدمت۔۔

 

*ڈنگ

 

آنیسہ کی موافقت: 144 

 

آنیسہ کی بات سن کر،  ویر دھڑلے سے اٹھا اور اپنے پاؤں پیچھے کھینچ پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ اور ساتھ ہی موافقت دیکھ کراسے ہر بار کی طرح پھر سے حیرانی ہی ہوئی۔

 

ویر:

آ-آنیسہ۔۔!؟

 

آنیسہ:

ک-کیا ہوا مالک؟ کیا آپ کو اچھا نہیں لگا؟

 

ویر:

نہیں وہ بات نہیں ہے۔ پر آنیسہ، تمہیں یہ سب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

 

آنیسہ (آگے آتے ہوئے):

پر میں کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے اچھا لگتا ہے مالک۔ آپ کی خدمت کرنا۔

 

ویر:

میں جانتا ہوں۔ لیکن، میرے پاؤں دبانے کی تمہیں ضرورت نہیں ہے آنیسہ۔

 

ویر کی بات سن کر آنیسہ نے ایک اداسی بھرا چہرہ بنایا تو ویر نے اسے اپنی بانہوں میں کھینچ لیا۔

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

پگلی~ خدمت تو تم کر ہی رہی ہو۔ اور پاؤں دبانے کی ضرورت نہیں ہے۔

 

آنیسہ:

تو کیا آپ مجھے اپنی داسی نہیں سمجھتے؟

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

تم میری داسی ہی نہیں ہو۔ اس سے بھی بڑھ کر ہو۔ ہر ایک رول نبھاتی ہو تم۔ اور تمہیں ابھی میرے لئے بہت سے اہم کام کرنے ہیں۔

 

آنیسہ:

میں تو آپ کے لئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

اچھا! تو یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی، تمہارا مالک بہت سٹرانگ ہے۔ میرے پیروں میں درد نہیں ہوتا۔ ہاہاہا

 

آنیسہ (منہ پھلاتے ہوئے):

پ-پر میں تو آپ کو خوش کرنا چاہتی تھی۔

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

اور بھی طریقے ہیں خوش کرنے کے مجھے۔۔ تم جانتی ہو۔۔ ہیہی

 

کہتے ہوئے ویر نے آنیسہ کو لٹایا اور قریب 15 منٹ تک اسے پورا نچوڑ کر رکھ دیا۔ ہونٹوں کو بے رحمی سے چوس کر، اس کے بڑے بڑے تھنوں کو بلاؤز سے ننگا کرکے ویر نے ان تربوزوں کو مسل مسل کر لال کر دیا۔

 

وہ اتنی زور سے اس کے نپل کو منہ میں بھر کر چوستا کہ آنیسہ کا پورا جسم اوپر اٹھ جاتا۔ آخر میں آنیسہ کے منہ کو چود چود کر دھکے  مار رہا تھا ویر۔۔۔اور آنیسہ ویر کے  چوتڑوں کو سہلاکر اسے مزید جوش دلا رہی تھی۔ لیکن جیسے ہی آنیسہ کی انگلی ویر کےگانڈ ہول پر رینگنے لگی اچانک ہی ویر کے جسم میں  ایک نشیلی سی لہر دوڑ گئی اور ویر نے اپنا سارا پانی آنیسہ کے منہ میں نکالا اور آنیسہ نے خوشی خوشی سارا   پانی گلے کے نیچے اتار لیا۔ یہ تو اب عادت میں تھا اس کی۔

 

ویر نے صرف اپنے ہی اوپر دھیان نہیں دیا۔ آنیسہ کو بھی اس نے انگلی کر کے اسے جھڑایا اور دونوں ہی جب ریلیکس ہو گئے تو ویر واش روم میں جا کر فریش اپ ہوا اور نہا کر باہر آیا۔

 

کیونکہ، آج اسے اپنے کالج جانا تھا۔ کاویہ کو اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ تین دن کے بعد کالج ضرور آئے گا اس سے ملنے۔ اور آج اسی لئے وہ تیار ہوکے نیچے آیا تھا۔

 

راگنی آنیسہ کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ سرو کرنے میں لگی ہوئی تھی۔ اور کائنات، پریت اور ویر تینوں ہی ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے تھے۔

 

حیرانی والی بات یہ تھی کہ شویتا بھی کھانا بنوانے میں مدد کروا  رہی تھی اور ویر اور باقی سبھی کو ناشتہ سرو کر رہی تھی۔ بھومیکا بھی کمرے سے نکل کرڈائننگ ٹیبل پر آکے بیٹھ چکی تھی۔

 

تین دن سے یہی روٹین چل رہا تھا۔ شویتا ویر کے من پسند کا کھانا بناتی اور اسے اپنے ہاتھوں سے سرو کرتی۔ پر ویر کی طرف سے اسے کوئی ری ایکشن نہ ملتا۔


وہ بس چپ چاپ کھانا کھاتا اور بغیر کچھ بھومیکا اور شویتا سے بولے نکل جاتا۔ پر ایک بات یہ بھی تھی کہ ویر کو کھانا بہت پسند آ رہا تھا۔

 

شویتا ایک بہت ہی ماہر شیف تھی۔ ہوٹل مینجمنٹ اسے یونہی نہیں آتا تھا۔ وہ ہر فیلڈ میں قابل تھی۔ خاص کر کھانا پکانے میں۔ اس سے بہتر ویر کے پورے گھر میں کوئی بھی کھانا نہیں بنا پاتا تھا۔ ہاتھوں میں جادو تھا اس کے۔ شاید ویر کی ایبسلوٹ شیف سے بھی اعلیٰ مہارت تھی شویتا کے ہاتھوں میں۔

 

اور آج اس نے ویر کے لئے اپنے ہاتھوں سے آلو کے پراٹھے، چٹنی کے ساتھ اور ایک فارن اسٹائل کی سلاد بنائی ہوئی تھی۔

 

پریت اور کائنات  اپنی انگلیاں چاٹ چاٹ کر کھانے میں لگی ہوئی تھیں۔ پر ویر چپ چاپ اپنا منہ چلا رہا تھا۔ لیکن من میں اس کے خیالات کچھ اور ہی تھے۔

 

فککک! ماننا پڑے گا۔ یہ بہت زبردست ہے۔۔‘ 

 

شویتا نظریں چُرا چُرا کر ویر کو دیکھتی پر جب ویر اسے ایک بار بھی نہیں دیکھتا تو اس کا من اداس ہو اٹھتا۔

 

بھومیکا کا رویہ بھی بدل چکا تھا۔ وہ ویر سے بات کرنے کے لئے ہر بار ہمت کرتی پر گلانی کے چلتے کچھ کہہ ہی نہ پاتی۔

 

ابھی شویتا  پریت کو ایک پراٹھا پلیٹ میں رکھ ہی رہی تھی کہ اس کی ساڑھی کا پلّو سرکا اور نیچے گر گیا۔ اس کے موٹے موٹے گورے خربوزے آدھے ننگے باہر کو آگئے۔


اس نے تو اس بات پر دھیان نہیں دیا پر جیسے ہی وہ اوپر ہونے کو ہوئی تو اس کی نظریں ویر کی نظروں سے جا ٹکرائیں۔

 

ویر نے اگلے ہی پل اپنی نظریں پھیر لیں پر شویتا کو کچھ پل کے لئے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ تبھی اس کے بعد اس نے جھک کر اپنی حالت پر غور کیا اور۔۔۔ 

 

آہہہ!!!‘ وہ من ہی من چیخی اور اندر ایسی ہی حالت میں کچن کی طرف بھاگ گئی۔

 

اس کی سانسیں تیز ہو چکی تھیں۔ اور وہ اپنے من میں ایک گہرے  پریشانی میں ڈوب گئی۔

 

و-ویر!؟؟ ک-کیا وہ میری۔۔ کیا وہ میری چھاتی دیکھ رہا تھا؟ ممائی بریسٹس!؟

اس کا ہاتھ انجانے میں ہی یہ سب سوچتے ہوئے اس کی اس مرون ساڑھی کے بلاؤز میں قید ایک ممے پر چلا گیا۔

 

ہاہ۔۔ ہاہہہ۔۔” 

 

ن-نہیں!!! وہ تو مجھے دیکھتا تک نہیں۔ اور مجھے ان نظروں سے تو کبھی بھی نہیں دیکھے گا۔ پپ-پر۔۔ میں نے دیکھا تھا اسے اپنی نظریں میرے اوپر سے ہٹاتے ہوئے۔۔ ککیا وہ  انہی کو۔۔!؟‘ 

 

ایک بار پھر اس بارے میں سوچ  کراس کا ہاتھ اپنی چھاتی پر چلا گیا۔ وہ اپنی اس چھاتی کو دیکھنے لگی اور ہلکے ہاتھ سے اسے دبایا۔ اور نہ چاہتے ہوئے بھی ایک ہلکی سی سسکی اس کے منہ سے نکل ہی گئی۔

 

آہہ~”

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page