Perishing legend king-283-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 283

نہیں! یہ سب میں کیا سوچنے لگی؟ و-وہ صرف مجھے اسی طرح دیکھ رہا ہوگا اور اسی وقت میرا پلّو نیچے گر گیا ہوگا۔ ہاں! یہی ہوا ہوگا۔ اور اس نے پھر میری وہ حالت دیکھ  کرجب مجھے دیکھا تو وہ تھوڑا شرمندہ ہو گیا ہوگا۔ ہاں! پھر میرے دیکھتے ہی اسے سمجھ آیا ہوگا کہ کیا دیکھ رہا تھا وہ۔ اور اس نے نظریں ہٹا لیں۔ ہاں! یقیناً! یہی ہوا ہوگا۔ ورنہ وہ ایسا نہیں کرے گا۔ اور۔۔ اور۔۔ اس عمر میں جوان لڑکوں میں تو جوش رہتا ہی ہے۔ جان کر نہیں ہوا ہوگا اس سے۔ ہاں!‘ 

 

خود سے سوچ کروہ ایک بار پھر کچن کے دروازے کے پاس آکے برتنوں کے ریک میں برتن جمانے لگی۔ تو کچھ سوچتے ہوئے ایک بار پھر اسے ویر کو دیکھنے کا من ہوا۔


جیسے ہی اس نے باہر ڈائننگ ٹیبل پر نظریں ڈالیں تو اسے پھر سے ایک جھٹکا لگا۔

 

آہہ!؟؟‘  

 

ویر تو نظریں گاڑئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اور پھر جب ان کی آنکھیں ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو ویر نے ایک بار پھر نظریں پھیر لیں۔

 

شویتا لمبی لمبی سانسیں لیتے ہوئے کچن میں اور اندر گھس گئی اور فوراً ہی اپنا پلّو ٹھیک کرنے لگی۔

ی-یہ سب!!؟ وہ مجھے ہی دیکھ رہا تھا۔ پر کیوں؟؟؟ کیا۔۔ کیا پھر سے میری چھاتی کو وہ؟؟ پر مجھے دیکھ کر کیا ملے گا۔۔!؟ ان تین دنوں میں تو اس نے مجھے دیکھنے تک کی زحمت نہیں کی۔ پر آج۔۔ ا-اس کا مطلب۔۔ مجھ میں۔۔ مجھ میں اب بھی وہ بات ہے!؟‘ 

 

سوچتے سوچتے اچانک ہی اس کے ہونٹوں پر ایک مسکان سج گئی۔ کون سی ایسی عورت ہوگی جسے یہ جان کر اچھا نہ لگے کہ 40 سے اوپر کی عمر میں بھی جوان لڑکے اس کے حسن کے قائل ہیں!؟  شویتا بھی ویسی ہی تھی۔ ویر کے دیکھنے پر جہاں وہ تھوڑی شرمائی ہوئی تھی تو وہیں خوش بھی تھی۔ ویر نے جدھر بھی دیکھا ہو  اسے، کم سے کم اسے دیکھا تو سہی۔ اس بات کی خوشی تھی اسے۔

 

ت-تو کیا ویر کو بڑی چھاتی پسند ہے؟ فوفو~ ویسے۔۔ وہ اب بڑا  ہو رہا ہے۔ ممیرا بچہ!!! تو۔۔ اس عمر میں کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہی ہوگا۔  ہے نا؟‘ 

 

شویتا اپنے ہی من کے خیالات میں ڈوب گئی۔ پر ادھر ویر خود سے ہی من میں لڑ رہا تھا۔

 

یہ کیا ہوا!؟؟؟ میں نے کیوں۔۔!؟ اغغہ!!! جو بھی ہو!!! مجھے نکلنا چاہئے!!!‘ 

 

ویر:

نکل رہا ہوں بھابھی!!! 

 

راگنی:

ارے؟ پر پراٹھے تو کھا کر جاؤ  ویر۔

 

ویر:

کھا تو لئے 2۔

 

راگنی:

ارے بابا 2 میں کیا ہوگا؟ ویسے ہی ٹفن نہیں لے جا رہے ہو۔ پتا نہیں کب آؤ گے۔ ہیوی ناشتہ کرکے جاؤ ویر۔ کیا پراٹھے اچھے نہیں بنے کیا؟ آج تائی جی نے بنایا ہے سب۔

 

راگنی کا سوال سن کر ویر وہیں رُک گیا۔ جواب دینے جیسے ہی وہ مڑا تو اس نے دیکھا کہ کچن کے دروازے کی دہلیز پر ہی کھڑی شویتا کان لگا کر اس کے جواب سننے کا انتظار کر رہی تھی۔

 

ویر:

و-وہ۔۔ 

 

راگنی:

ہممم؟

 

ویر:

نہیں! ایسی بات نہیں ہے۔ پراٹھے اچھے بنے ہیں۔

 

اور یہ سنتے ہی شویتا کا چہرہ اگلے ہی پل کھل اٹھا۔ آنکھیں نم ہو چلیں۔ جیسے اس کے کان ترس گئے تھے ویر کے منہ سے اپنی تعریف سننے کے لئے۔ اور آج اسے جس کی تلاش تھی وہ اسے مل گیا۔

 

راگنی:

تو پھر؟

 

ویر:

میں آکے کھا لوں گا  نا  بھابھی! ابھی اتنی زیادہ بھوک نہیں ہے۔

 

راگنی:

اچھا بابا ٹھیک ہے۔ جاؤ

 

ویر:

الرائٹ!!! 

 

وہ جانے لگا پر تبھی۔۔ 

 

راگنی:

ہائے!!! 

 

ویر:

ہممم؟

 

راگنی:

تم کچھ بھول نہیں رہے ویر؟

 

ویر:

ہم؟ والٹ ہے، میں۔۔ ام۔۔ رومال بھی ہے۔۔ اور کیا؟

 

راگنی آہستہ آہستہ اس کے قریب آئی اور اسے ہال کے باہر لے کر آئی۔ اور پھر۔۔ 

 

*چُو~

 

ویر:

!!!؟؟

 

راگنی نے ویر کے گال پر ایک پیار بھرا  بوسہ دے دیا۔

 

راگنی (شرما کر):

مجھے ہر بار یاد دلانا پڑے گا کیا ویر؟

 

ویر:

آہ! ن-نہیں۔۔ میں بس۔۔ اہم۔۔ 

 

راگنی (مسکراتے ہوئے):

نیکسٹ ٹائم سے۔۔ یاد رکھنا۔۔ اس بار  معاف کرتی ہوں۔ ( )

اور ویر بس ہاں میں گردن ہلاتے ہوئے وہاں سے نکل پڑا۔

 

آج کالج میں شاید کچھ خاص تھا۔ اس کے علاوہ اور کیا وجہ ہو سکتی تھی کاویہ کے پاس ویر کو بلانے کے لئے؟

ویر یہاں دو ہی وجوہات سے آیا تھا۔ پہلا تو ظاہر ہے کاویہ کا وعدہ پورا کرنے کے لئے۔ اور دوسرا۔۔!؟

دوسرا اس کا تیسرا سمسٹر ختم ہو چکا تھا۔ یعنی کہ برجیش کے ذریعے جو فیس ادا کی گئی تھی وہ صرف ویر کے تیسرے سمسٹر تک کے لئے ہی تھی۔ اور اب چوتھے سمسٹر کے لئے ویر اپنی فیس ادا کرنے آیا تھا۔

اس کے پاس اب پیسے تھے۔ کافی پیسے۔ تو نندنی میڈم کو دیا ہوا وعدہ وہ پورا کرنے ہی والا تھا۔

ادھر کالج میں کاویہ اپنی دوست کے ساتھ ہی پارکنگ ایریا میں انتظار کر رہی تھی۔ دوست کوئی اور نہیں وہی تھی۔ منال۔

 

منال:

اوئے تیرا بھئیا کہاں رہ گئے؟ آ  بھی رہے ہیں یا نہیں؟

 

کاویہ:

کیسے نہیں آئیں گے؟ اس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے!!! وہ آئے گا!!! آہہہہ~ وہ دیکھو!! آ گئے۔۔ ہہ!؟؟ ک-کیااا؟؟؟ وہ۔۔ وہ کار۔۔!؟؟

 

منال:

اوہ مائی گاڈ!!! (✿☉。☉) وہ کون سی کار ہے؟؟ ہہ؟؟ رُکو!!! کار کو گولی  مارو۔۔ اوہ مائی گاڈ!!! ہ-ہو۔۔ تمہارا بھئیا!؟؟ کیا بات ہے؟؟؟ وہ اور بھی ہینڈسم ہو گیا!؟؟

دونوں ہی لڑکیاں اپنے منہ پھاڑے ویر کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ اور دیکھیں بھی کیوں نہ؟ وہ اکیلی نہیں تھیں۔ کیمپس میں موجود ہر لڑکے لڑکیاں ویر کی طرف ہی دیکھ رہی تھیں۔

ویر کے ساتھ ایک اور جان تھا۔شمائل!!! جو اپنی مرسڈیز کا ایک لمیٹڈ ایڈیشن ماڈل لایا ہوا تھا۔

ویر اور وہ دونوں ہی اتنے ڈیشنگ لگ رہے تھے کہ لڑکیاں انہیں ہی دیکھے جا رہی تھیں۔ خاص کر  ویر کو۔ جہاں ان کی آنکھوں میں پیار تھا تو وہیں لونڈے لپاڑے لوگ سبھی جلن سے انہیں دیکھ رہے تھے۔

 

شمائل:

میں فری تھا اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں اس طرح کہیں بھی جاؤں گا ویر۔ کم آن! مجھے اور بھی کام ہوتے ہیں۔ اب بتاؤ ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟

ویر:

ٹھیک ہے! میری چھوٹی بہن نے بلایا ہے۔ میں یقینی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ یہ کوئی لڑکیوں والا پروگرام ہے۔ تو اب اکیلے کون بور ہوئے؟ ساتھ میں ایک کمپنی کا ہونا ضروری ہے نا!؟

 

شمائل:

کیااا۔۔!؟؟؟ (⑉ȏ)

 

ویر:

دیکھو! یہاں اتنی ساری لڑکیاں ہیں۔۔ اپنی آنکھیں ہی سیک لو۔ ہاہا~

 

شمائل:

کیا۔۔!؟ ہ-ہائے۔۔ ویسے۔۔ اوہہ~ فگککک! اہم۔۔ ف-فائن۔۔ تھوڑی بہت ویسے اچھی ہیں یہاں پر۔۔

 

بھئیااااا~”

 

کاویہ انہیں دیکھ کروہیں سے دوڑتے ہوئے آئی اور آتے ہی وہ ویر کی بانہوں میں کود گئی۔

 

کاویہ:

بھئیاااا~

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

اب تو خوش نا؟ آ گیا میں۔

 

کاویہ (سر ہلاتی ہے):

ہممم~(≧▽≦)

منال (شرما کر):

اوہ-اوہہ~ آ-آپ۔۔

 

ویر:

ہم؟ اوہ ہاں! منال ٹھیک ہے؟

 

منال:

آہہ! ہاں!! ہاں!!! (ºº)

 

ویر:

تم سے مل کر خوشی ہوئی~

 

منال:

آہہہہ~ (ºº) س-سیم ہیر!!!

 

ویر نےشمائل کو پھر منال سے انٹروڈیوس کرایا اور پھر سبھی آڈیٹوریم کے لئے جانے لگے۔

 

ویر:

تو تم نے ڈانس کمپٹیشن میں پارٹیسپیٹ کیا ہے ہاں؟ ڈانس آتا بھی ہے میری کاویہ سے؟ ہاں؟ ہاہا~

 

کاویہ:

واٹ ڈو یو مین ڈانس آتا ہے؟ ابھی دیکھنا آپ۔ کیسا ڈانس دکھاتی ہوں۔ ہمف~

 

ویر:

اروہی دیدی کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ وہ کہاں ہے؟

 

کاویہ:

ان کا شطرنج کا مقابلہ ہے۔ وہ اسی میں گئی ہے۔ وہ پری میچز کھیل رہی ہے تاکہ تیاری کر سکے۔

 

ویر:

اوہ میں سمجھا! تمہارا ڈانس دیکھتے ہیں پھر ہم اسے دیکھنے جائیں گے۔

 

کاویہ:

اوکے ()

آڈیٹوریم پہنچتے ہی اندر کافی چہل پہل تھی۔ پورے ہال میں ڈھیر ساری سیٹیں لگی ہوئی تھیں۔ سامنے ججز بیٹھے ہوئے تھے اور اسٹیج پر پرفارمنسز چل رہی تھیں۔

ویر اورشمائل ایک جگہ جا کر بیٹھ گئے۔ پورے وقت لڑکیاں ویر کو ہی گھورنے میں لگی ہوئی تھیں۔ پر ویر نے ایک لڑکی کو بھی گھاس نہیں ڈالی۔ اور کہاں وہ پہلے ان ہی لڑکیوں کو دیکھ کر شرما جاتا تھا۔

جب ماہرہ، سونیا جیسی بیوٹی سامنے ہو، تو باقی سب ایوریج ہی لگتی تھیں اب اسے۔

پہلے وہ کہاں اس پراگیہ نامی لڑکی کو دیکھ کر پِٹ گیا تھا۔ اور اب؟ آج ویر کو اس قصے کو یاد کر کے خود پر ہی ہنسی آ رہی تھی۔

اب چاہے اسے اتفاق کہیں یا قسمت پر پراگیہ کے بارے میں سوچتے ہی ویر کی نظر سائیڈ کی طرف گئی اور۔۔

وہاں پراگیہ بیٹھی ہوئی تھی۔ اور۔۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ نظریں ملتے ہی وہ شرمائی اور اپنی سہیلیوں سے باتیں کرنے میں لگ گئی۔

کاویہ اور منال کا جب ڈانس آیا تو کاویہ کے ڈانس نے واقعی ویر کو حیران کر دیا۔

اسے نہیں پتا تھا یہ بھولی سی چلبلی دکھنے والی لڑکی ڈانس کرنے میں اتنی ماہر تھی۔

ڈانس کے رزلٹس آج نہیں کل ڈیکلئر کئے جانے والے تھے تو کاویہ منال کے ساتھ ویر کے ساتھ ہی آڈیٹوریم سے نکل آئی۔

 

کاویہ:

اب بولو؟ کیسا تھا میرا ڈانس؟ ہم؟

 

ویر:

واقعی! میں حیران ہو گیا!!؟

 

کاویہ:

ایہیہی~ بولا تھا  نا!? ()

ویر نے ایک بات اور نوٹس کی کہ منال اسے دیکھ کر بہت شرما رہی تھی اور وہ زیادہ تر باتیں کاویہ اور شمائل سے ہی کر رہی تھی۔

 

خیر! جب باری آئی اروہی کے شطرنج کے مقابلے کو دیکھنے کی تو سبھی شطرنج کے مقابلے کی کلاس کی طرف چل دیئے۔

الگ الگ خالی کلاسز میں ہی انہیں کرایا جا رہا تھا۔ ویر جیسے ہی اندر داخل ہوا، اروہی ایک دم فوکسڈ تھی اور اس کے مخالف میں کوئی لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔

 

ویر اور باقی سب خاموشی سے اروہی کا میچ دیکھنے لگے۔ اروہی کی توجہ پوری طرح اپنے کھیل پر تھی، اس کی آنکھیں شطرنج کی بساط پر جم گئی تھیں۔ ہر چال کے ساتھ اس کا چہرہ اور زیادہ سنجیدہ ہوتا جا رہا تھا۔ اس کا مخالف لڑکا بھی کم نہ تھا،  وہ بھی پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا، لیکن اروہی کی حکمت عملی اسے واضح طور پر پریشان کر رہی تھی۔

ویر نے نوٹس کیا کہ اروہی کی چالوں میں ایک عجیب سی نفاست تھی۔ وہ نہ صرف اپنے مخالف کی چالوں کا جواب دے رہی تھی بلکہ اسے اپنی چالوں میں پھنسانے کی کوشش بھی کر رہی تھی۔

کاویہ (ہولے سے):

بھئیا، دیدی کافی اچھی کھیل رہی ہے نا؟

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

ہاں، وہ ہمیشہ سے شطرنج میں ماہر رہی ہے۔ لیکن یہ لڑکا بھی کوئی آسان نہیں لگتا۔

 

شمائل(ہلکے سے):

واہ، یہ تو پورا دماغی جنگ کا میدان لگ رہا ہے۔

 

کاویہ:

شششش! آہستہ بولو، دیدی کو ڈسٹرب نہ ہو!

منال خاموشی سے سب دیکھ رہی تھی، لیکن اس کی نظریں بار بار ویر کی طرف جا رہی تھیں۔ وہ کبھی مسکراتی، کبھی نظریں جھکا لیتی۔ ویر نے اسے نوٹس کیا لیکن کچھ کہا نہیں۔ اس کا دھیان اروہی کے کھیل پر تھا۔

کچھ دیر بعد، اروہی نے ایک ایسی چال چلی کہ اس کا مخالف لڑکا  سکتے میں آ گیا۔ اس نے کچھ دیر سوچا، اپنا سر کھجایا، اور پھر ہتھیار ڈال دیئے۔

 

اروہی (ہلکی سی مسکان کے ساتھ):

چیک میٹ۔

ہال میں موجود چند لوگوں نے تالیاں بجائیں۔ اروہی نے اپنی سیٹ سے اٹھ کر ہاتھ ملایا اور پھر ویر کی طرف دیکھا۔ اس کی نظریں ویر سے ملتے ہی اس کے چہرے پر ایک گرمجوش مسکراہٹ آ گئی۔

 

ویر (تالیاں بجاتے ہوئے):

شاباش، دیدی! کیا کھیلا ہے!

 

اروہی (قریب آتے ہوئے):

تو آیا؟

 

ویر:

وعدہ کیا تھا  نا؟

 

اروہی (ہلکی سی شرماتے ہوئے):

ہاں۔۔ شکریہ۔

 

کاویہ:

واہ دیدی! تم تو کمال ہو! اب فائنل میں کون ہے؟

 

اروہی:

ابھی پتا چلے گا۔ لیکن یہ میچ کافی مشکل تھا۔

 

شمائل:

واہ، تم تو شطرنج کی رانی لگ رہی ہو!

 

اروہی (ہنستے ہوئے):

بس بس، اب اتنا بھی مت چڑھاؤ۔

 

سبھی ہنسنے لگے۔ ویر نے دیکھا کہ اروہی کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک تھی۔ شاید وہ اس بات سے خوش تھی کہ ویر اسے دیکھنے آیا۔

 

ویر:

چلو، اب تمہارا میچ ختم ہو گیا۔ میں فیس جمع کرانے جا رہا ہوں۔

 

اروہی:

اوہ  ہاں،  نندنی میڈم سے ملنا ہے نا؟

 

ویر:

ہاں۔ تم لوگ یہاں رہو، میں جلدی واپس آتا ہوں۔

 

کاویہ:

بھئیا، جلدی کرنا! ہم سب کینٹین میں جا رہے ہیں۔

 

ویر:

ٹھیک ہے، بس دس منٹ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page