Perishing legend king-285-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 285

ویر:

ہممم~ کیا  نان سینس؟ یہ انگوٹھی؟ آپ نے تو یہ پہلے ہی اتار دی تھی نا؟ آپ کو کبھی اس بیکار انگوٹھی کی پرواہ نہیں تھی۔ آپ نے بس یہ مجھ سے دوری رکھنے کے لئے پہننا شروع کیا۔ ٹھیک ہے!؟ ہولی والے دن ہی میں نے نوٹس کر لیا تھا یہ انگوٹھی آپ کے ہاتھ میں۔ جس طرح سے آپ مجھ سے فاصلے بنا رہی ہیں، بس اسی میں یہ انگوٹھی آپ کی مدد کر رہی ہے۔  ورنہ، اس انگوٹھی کی آپ کے لئے کوئی اہمیت نہیں۔ کیا میں ٹھیک ہوں یا غلط؟

 

نندنی:

ت-تم!!! تم غلط ہو!!!! یہ ایسی بات نہیں ہے۔۔ 

 

ویر:

کتنا جھوٹ بولو گی آپ؟ مجھے صاف صاف بتائیں۔ آپ کو میری پرواہ ہے۔ ٹھیک ہے؟

 

نندنی:

نہیں!!! مجھے نہیں۔۔ بس چلے جاؤ۔۔ میں ایک شادی شدہ عورت ہوں اور تمہیں کوئی حق نہیں ہے ویر۔۔ میری پرسنل لائف میں بیچ میں آنے کا۔۔ 

 

ویر:

تو پھر آپ میری پرسنل لائف میں کیوں آئیں؟

 

نندنی (جھپٹتے ہوئے):

ہہ؟؟؟

 

ویر:

ہسپتال میں۔۔ جب میں ایڈمٹ تھا۔۔ تب آپ ہی تو میری پرسنل لائف میں آئی تھیں نا؟ بیچ میں؟ میرے گھر پر جا کر جھگڑا کرنا، مجھے اپنے گھر پر رکھنا، کھانا پینا، کپڑے لینا، رہنا گھومنا۔۔ کیوں کیا سب؟ میرے لئے؟ ہاں؟ بولیں!!! کیا اسے پرسنل لائف میں آنا نہیں کہتے؟


نندنی:

میں۔۔ نن-نہیں۔۔ وہ صرف۔۔ صرف ایک ٹیچر ہونے کا فرض نبھایا تھا میں نے۔ بس۔۔ ن-نچھ اور کچھ نہیں۔۔

 

ویر:

اوہ واقعی؟ کون سی ٹیچر اپنے سٹوڈنٹ کے لئے انڈرویئر اور کپڑے لاتی ہے؟

 

نندنی: !!؟؟؟

 

ویر:

جواب دیجئے؟ اپنے گھر میں کون سی ٹیچر رکھتی ہے کسی مرد سٹوڈنٹ کو؟ شاپنگ پر جانا، ساتھ میں کھانا بنانا، ساتھ میں گھومنے جانا۔۔ کون سا ٹیچر کرتا ہے؟ ہاں؟

 

نندنی:

نہیں!!! ج-جاؤ!!! اور ایک بار پھر وہ مڑکے کھڑی ہو گئی۔

 

ویر:

آپ کو پرواہ ہے۔۔! جواب دیجئے!!!

 

نندنی:

نہیں!!! مجھے نہیں۔۔

 

ویر:

آپ کو میری پرواہ ہے! بس کہہ دیجئے۔۔

 

نندنی (زور سے):

مجھے کوئی پرواہ نہیں!!!

 

خاموشی

ہاہہہ

ایک گہرا سناٹا چھا گیا پورے کیبن میں۔ صرف نندنی کی سانسیں لینے کی آواز ہی آ رہی تھی۔

پھر اچانک ہی کیبن کے دروازے کھلنے کی آواز آئی۔ ویر شاید جا رہا تھا۔

نندنی پلٹنا تو چاہتی تھی پر دل پر پتھر رکھ کر وہ نہ پلٹی۔

اور پھر ویر کے کچھ چند الفاظ اس کے کانوں میں پڑے جسے سن کراس کا پورا جسم کانپ اٹھا۔

 

اگر ایک دن۔۔ میں مر جاؤں۔۔ تو کیا آپ کو پرواہ  ہوگی؟؟؟

 

نندنی:

و-وی۔۔ ہہ!!؟؟؟

وہ اچانک ہی پلٹی پر۔۔

تھڈ

تب تک دروازہ بند ہو چکا تھا۔ ویر، جا چکا تھا۔ نندنی اپنی کرسی پر گرتے ہوئے آنکھوں سے آنسوؤں کی موٹی موٹی بوندیں بہانے لگی۔ اور ہر بار کی طرح ہی، خود کو کوسنے لگی۔

کیبن سے باہر آتے ہی ویر ٹیرس کی طرف جا پہنچا۔ موڈ بالکل آف ہو چکا تھا اس کا۔ اب اس کا اروہی کا میچ دیکھنے کا بھی من نہیں کر رہا تھا۔

 

پری:

یہ ٹھیک نہیں ہوا۔ خیر، نندنی جی سے یہی توقع تھی۔ فکر نہ کریں ماسٹر! وہ مستقبل میں سمجھ جائے گی۔

 

ہاں!!! پری۔۔

 

پری:

ہم؟

 

اب میں سمجھ گیا۔۔!‘

 

پری:

!!؟؟

 

ویر جیسے اس وقت کسی اور ہی دنیا میں کھویا ہوا تھا۔

برائی کو ختم کرنے کے لئے۔۔ کبھی کبھی خود برا بننا پڑتا ہے۔۔

 

پری:

[۔۔]

 

اور سوچتے ہوئے وہ واپس نیچے آ گیا جب۔۔

 

چٹاخ!!!

ہہ!؟؟؟

اس کے گانڈ پر کسی نے زور سے تھپڑ مارا۔

پلٹ کے دیکھا تو۔۔ کاویہ تھی۔

 

کاویہ (شرما کر):

ام۔۔ وہ۔۔ آپ جانتے ہیں۔۔ یہ میرا بدلہ ہے! ایہیہی~ آ-آپ نے بھی مجھے ہولی کے دن  مارا  تھا  ناا-اس لئے۔۔ ا-ایہہ!؟؟ ب-بھئیا؟ آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں؟ ہ-ہہ؟ ک-کیا؟

 

ویر:

تم۔۔۔۔ چھوٹی سی شرارتی۔۔!!!!!!”

 

وآآآآ~ بھئیا نہیں!!!~”

بیچاری کاویہ اپنی کلاس کی طرف بھاگی اور ویر اس کا پیچھا کرتا رہا۔ جیسے ہی وہ کلاس میں گھسی، کلاس ایک دم خالی تھی۔ بیچاری کاویہ پھنس چکی تھی۔

وہ معصوم چہرہ بنائے ویر کو اپنی پپی آئیز دکھاتے ہوئے منت کرنے لگی۔

پر ویر کا چہرہ اس وقت شیطان سے کم نہ تھا۔ اگلے ہی پل ویر نے اسے کمر سے پکڑ کے اپنے کندھوں میں ہی اٹھا لیا،

 

آآآآآآآآآآآآآآ~”

اور بنچ پر بیٹھتے ہوئے،  ویر نے کاویہ کو اپنی گود میں لٹایا۔

 

ویر:

مواہاہاہاہاہا~

 

کاویہ:

ایہہ؟؟ ن-نہیں!!! ب-بھئیا!!

چٹاخ!!!

آآآآآہہہہہہہہہہہہہہ~”

چٹاخ!!!

ایئئئئئ ککککککککک~”

چٹاخ!!!

مممممممممممممممممم~”

چٹاخ!!!

ننننننن~”

اس کے بعد، کلاس میں کاویہ کی عجیب سی چیخیں ان بند دیواروں میں پھیل گئیں۔

ہممم!؟ وہ بڑی ہو گئی ہے۔۔!‘

سکوئش سکوئش

ویر کے ہاتھ اس کی نرم گانڈ کے گالوں کو مسلنے میں لگے ہوئے تھے۔ اور ادھر بیچاری کاویہ کا حال بے حال تھا۔ چاروں گال لال تھے اس کے۔ چہرے کے بھی اور گانڈ کے بھی ۔۔۔ اہممم۔۔!!سانسیں تیز اور چہرے پر لالی۔۔

 

کاویہ (شرما کر):

ہاہ آہہہ~ ہاہ ب-بھئیا۔۔ ہاہ اغھووو۔۔ سنف۔۔۔ آپ بہت گندے ہیں۔۔ سنف

 

ویر:

آئندہ سے اپنے بھئیا کو  گانڈ میں مارنے سے پہلے سو بار سوچنا۔ یاد رکھ!!! صرف میں ہی تمہیں تنگ کر سکتا ہوں۔ کوئی  اور نہیں!!!

 

ویر کی آخری بات سنتے ہی کاویہ کا پورا چہرہ شرم سے لال ہوگیا اور وہ بیچاری لیٹے لیٹے اپنے بھئیا کے پیروں میں ہی اپنا منہ چھپانے لگی۔

 

کچھ دیر بعد۔۔

ویر اسی کلاس میں بیٹھا ہوا تھا۔ صبح سے دن بھر کی بھاگ دوڑ سے وہ بور بھی ہو گیا تھا۔ تو کلاس میں مست ڈکٹس کی ہوا میں اسے کب جھپکی لگ گئی اسے پتا ہی نہ چلا۔

کلک

دروازہ کھلا اور کوئی اندر آیا۔ ویر تو سویا ہوا تھا۔ کلاس میں اور کوئی نہیں تھا۔

کوئی شخص اس کے بہت قریب آیا اور اس کے اوپر بیٹھ کر اس کے چہرے کو نہارنے لگا۔

دیکھو! اب بیٹھنے میں بھی درد ہو رہا ہے۔ یہ سب تمہاری وجہ سے۔۔

جی ہاں! یہ کاویہ ہی تھی۔ اچھی خاصی اسپینکنگ کے بعد وہ ہمت جٹا کر ایک بار پھر ویر کے پاس آئی تھی۔

بتاؤ! کیا مزا آتا ہے آپ کو اپنی اتنی پیاری سی چھوٹی بہن کو تنگ کر کے ہاں؟

اپنے دونوں ہاتھوں سے وہ ویر کے چہرے کو تھامے ہوئی تھی۔

بہت گندے ہو آپ۔۔ جانتے ہو؟ ب-بٹ۔۔ بٹ میں پھر بھی آپ سے پیار کرتی ہوں۔۔

اس کے ہونٹ ہلکے سے کھلے اور وہ ویر کے چہرے کی طرف جھکنے لگی۔

م-منال نے کہا تھا۔۔ یہ گرم لگتا ہے۔۔ اور نرم۔۔ ( ˘³˘) ” وہ اور جھکتی گئی اور آخر میں۔۔

پچ

اس کے پیارے نرم گلابی ہونٹ ویر کے ہونٹوں سے جا کے مل گئے۔

آہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ


جھٹکے سے وہ پیچھے ہٹی۔ ایک نیا عجیب احساس آج اسے حاصل ہوا تھا۔

 

یہ۔۔ یہ بہت اچھا تھا!!! دیکھو!!! میں۔۔ میں نے تمہارا پہلا بوسہ لے لیا بھئیا۔۔ ہیہی~ میں جانتی ہوں تمہاری کوئی گرل فرینڈ ہی نہیں ہے۔ یہ ضرور تمہارا پہلا موقع ہوگا۔۔ ہیہی~ تمہیں اسے سنبھال کر رکھنا چاہئے۔ ٹھیک ہے؟ میں تمہیں بعد میں بہت سارے اور دیتی رہوں گی۔۔” 

 

ہم!؟؟” ادھر ویر جیسے ہی اٹھنے کے لئے ہوا تو بیچاری کاویہ ڈر کے مارے ہی اٹھتے ہوئے پھدکتے پھدکتے باہر نکل گئی۔

۔

۔

۔

ممبئی۔۔ 

xxxxxxxxxxxxکمپنی۔۔ 

دوپہر ~ 3:14 بجے

 

ایک بڑی سی کارپوریٹ کی عمارت میں ملازمین اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔

 

اور اسی عمارت کے لیڈیز واش روم میں، ایک واش روم سے عجیب عجیب آوازیں آ رہی تھیں۔

 

صاف کرو کتیوں۔۔ تم رنڈیوں۔۔ چاٹو اسے۔۔ ہاں!!! چوسو اسے۔۔ رنڈیوں میرا گانڈ کا چھید چاٹو۔۔ میری چوت چاٹو۔۔ تم دونوں رنڈیوں کو اپنی جگہ معلوم ہونی چاہئے۔۔ میری گانڈ صاف کرو۔۔!!!! سسس۔۔ آہہہ!!! بالکل ٹھیک۔۔!!! یہی تمہاری جگہ ہے۔۔!!! آفس کے اوقات میں کتنا پسینہ جمع ہوتا ہے تم جانتی ہو نا؟ چاٹو اسے۔۔ اب اپنی رنڈیوں والی زبانوں سے صاف کرو۔۔!!! آہہہ  ہاں۔۔” 

 

ایک انتہائی خوبصورت عورت کے نیچے دو دوسری لڑکیاں اس کی چوت اور گانڈ کے چھید کو ایک ساتھ چاٹنے میں لگی ہوئی تھیں۔



یہ جیسے ان کے لئے روز کا کام تھا۔ کوئی بھی کسی بھی بات کی مخالفت نہیں کر رہا تھا۔

ہممم~ لُک اینڈ دیم بیچز!!! لیکنگ مائی ڈرٹی ایس اینڈ پُسی۔ (ان کتیوں کو دیکھو!!! میری گندی گانڈ اور چوت چاٹ رہی ہیں)۔ ان کے کمزور پوئینٹ میرے پاس ہیں۔۔ دے کانٹ ڈو اینی تھنگ ایٹ آل۔(یہ کچھ بھی نہیں کر سکتیں!!!‘  )

“کلین مائی ہولز بیچیز”(میری چھیدوں کو صاف کرو کتیوں)!!!!!” 

 

آہہہ یسسس  میڈم!!!” 

 

کیسی ہے بُو؟ تمہیں سونگھائی دیتی ہے؟ بتاؤ؟” 

 

اٹس۔۔ اٹس  گُڈ     میم!!!” 

 

ہاؤ  ڈو  یو  مائی ہولز ٹیسٹس(میرے چھیدوں کا ذائقہ کیسا ہے؟؟؟)

 

اٹس ڈائیلاسز میم!!! اٹس ڈائیلاسز ۔(یہ لذیذ ہے میڈم!!! یہ لذیذ ہے!!!” 

 

دیٹس رائٹ بیچز!!! کلین مائی ہولز!!! (بالکل  ٹھیک کتیوں!!! میری چھیدوں کو صاف کرو!!! تاکہ میں صاف ستھری ہوکے اپنے کیبن میں جا سکوں۔” 

 

یسسسس  میم!” 

 

*سلرپ* *سلرپ* *چوم* *چاٹ

 

“گڈ جاب سلوٹ(اچھا کام کیا رنڈیوں)۔ جاؤ اپنے اپنے کیوبیکل میں۔ فکک اف!!!“

 

یسسسس!!!” 

 

اور وہ دونوں ہی لڑکیاں وہاں سے اپنی حالت ٹھیک کر کے نکل گئیں۔

 

کیا بورنگ دن ہے!!! ہممم~ پر آج ان دو رنڈیوں نے اچھی سروس دی!! ہاں! مرد ہمیشہ ردی ہوتے ہیں!!!” 

 

وہ اٹھی اور خود کی حالت ٹھیک کر کے باہر آئی۔

 

ادھر باہر۔۔۔۔

 

ایک کیوبیکل میں بیٹھی دو لڑکیاں آپس میں بات کر رہی تھیں۔

 

ک-کیااا؟  کیا ایسا ہو جاتا ہے؟” 

 

بالکل! کیوں نہیں ہوگا؟ اتنی بڑی کمپنی ہے یار ہماری۔” 

 

یہ دو لڑکیاں کوئی اور نہیں بلکہ شریا  اور اسی کی آفس کی ساتھی عاشی تھیں۔

 

شریا:

تو۔۔ کمپنی پیسے آفر کرتی ہے۔ میڈیکل نیڈ میں ٹھیک ہے؟

 

عاشی:

بالکل!!! اب میرا ہی کیس لے لو۔ میری منگنی ہوگئی تھی۔ تو بوائے فرینڈ کا جب ایکسیڈنٹ ہوا تھا ابھی حال ہی میں تو کمپنی نے مجھے میڈیکل فیس دی تھی تھوڑی۔

 

شریا:

اوہ! یہ تو بہت اچھا ہے۔۔ ہائے مجھے بھی پیسوں کی ضرورت ہے۔

 

عاشی:

اوہ! دیدی کے لئے کیا؟

 

شریا:

ام۔۔ ہاں! انہی کے لئے۔ کیا میں ایسا کر سکتی ہوں؟

 

عاشی:

کیا؟

 

شریا:

میری ماں کو ہارٹ اٹیک آیا تھا حال ہی میں۔ تو میں ایک جعلی طریقے سے آپ جانتے ہیں۔۔۔ اگر انہیں فیملی ڈاکٹر کے ہاں ایڈمٹ کروا کے۔۔۔۔!؟

 

عاشی:

اوہ!!! بٹ  رسکی نہیں ہوگا؟

 

شریا:

وہ سب میں دیکھ لوں گی۔۔ تم بتاؤ  نا، پھر مل جائیں گے نا  پیسے؟

 

عاشی:

ام۔۔ ہاں لگتا ہے۔۔! ? ہاہا!؟

 

شریا  (مسکراتے ہوئے):

تھینکس!!! ممیں کوشش کروں گی۔۔ 2-3 لاکھ بھی مل گئے تو چلے گا۔

 

شریا  (من میں):

اگر میں یہاں سے 4 سے 5 لاکھ کھینچ سکوں۔ تو دیدی نے بھی 7 لاکھ جمع کر لئے ہیں۔ ایف ڈی بھی توڑوا لی تھی انہوں نے ایک۔ پھر ٹوٹل 12-13 تو ہو ہی جائے گا۔ مگر 50 لاکھ۔۔۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔۔۔کہیں نہ کہیں سے۔۔ ہوجائے گا۔ میں دوستوں سے کچھ ادھار لوں گی۔۔ کل پھر!!!! 

۔

۔

۔

**نندنی کا اپارٹمنٹ۔۔** 

صبح ~ 8:05 بجے

 

شریا! ابھی تک تم نہا کے نہیں آئی؟ اور یہ کیا؟ ناشتہ پہلے ہی شروع ہو گیا تمہارا؟” 

 

آواز تھی نندنی کی، جو کچھ دیر پہلے ہی نہا کے باہر نکلی تھی۔ اس کے لمبے بال ابھی بھی گیلے تھے اور بھیگنے کی وجہ سے کالے گھنے رنگ کی چمک اور بھی بڑھ رہی تھی۔ ان پیاری آنکھوں میں بناوٹی غصہ تھا  اس کے ہاتھوں میں پوجا کے لئے کچھ سفید پھول تھے۔ بدن پر کسی ہوئی ایک نارنجی رنگ کی ساڑھی جو اس کے ننگے پیٹ کی مخملی جلد کو نمایاں کر رہی تھی۔

 

کوئی کہہ سکتا تھا کہ ایسی پٹاخہ عورت کو کوئی شوہر اپنے پاس رکھنے میں ناکام رہا؟ کیونکہ اسے دیکھ کر اچھے اچھے نو جوانوں کی نیت بگڑ جاتی تھی۔ پھر ایسی عورت اگر آپ کی اپنی بیوی ہو، تو آپ بھلا کیسے اسے اپنے قریب سے جانے دے سکتے ہیں؟

 

پر ایسا ہوا تھا۔ راجت! نندنی کے شوہر نے اپنی گھناؤنی فیٹیشز کی وجہ سے اپنی بیوی کو کھو دیا تھا۔ دوسروں کو درد دینے میں، خاص کر عورتوں کو جسمانی نقصان پہنچانے میں، راجت کو آنند آتا تھا۔

 

ایک ایسا آنند، جس کا وہ قائل ہو چکا تھا۔ نندنی کو مارنا، پیٹنا، بدن پر گرم پگھلتی ہوئی موم گرانا، بالوں کو زور سے کھینچنا، وغیرہ۔ ان سب مرحلوں سے نندنی کو گزارتا تھا۔ اور نندنی کا وہ بلکتا ہوا، درد سے متاثر چہرہ دیکھ کر اسے ایک لامتناہی سکون ملتا تھا۔ پاگلوں کی طرح وہ ہنستا،  منہ سے زبان نکال کر، جانوروں کی طرح اس کے جذبات ہو جاتے تھے۔ سادہ الفاظ میں،  وہ ایک درندہ تھا۔ جس کے پنجرے میں، نندنی جیسی معصوم کوئل آکے پھنس چکی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page