Perishing legend king-289-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 289

قائرہ (مسکراتے ہوئے): یہ رہے تمہارے پیسے! اب جاؤ

شریا:  ہہ؟

قائرہ (مسکراتے ہوئے):

اب جاؤ! اس سے پہلے کہ میں یہ ویڈیو کمپنی کے سبھی حکام کو فارورڈ کروں۔

شریا کے من میں جو ایک آخری امید تھی وہ بھی ٹوٹ گئی۔ کیا کرتی اب؟ یہاں رُکتی تو قائرہ اس کا وہ ویڈیو سب کو بھیج دیتی اور اس کی نوکری چلی جاتی۔ ایک ہی چارہ تھا۔ قائرہ کی بات ماننے کا۔

وہ ایک کٹھ پتلی کی طرح بن چکی تھی۔ جہاں قائرہ اسے نچانے کہتی، اسے مجبوراً  ناچنا پڑتا۔ اور ابھی بھی، بے من سے اسے کیبن کے باہر جانا پڑا۔ شریا بیچاری روتے روتے باہر نکل گئی۔

تم میری اگلی کتیا ہو گی۔ ہاہاہا~‘ قائرہ کو جیسے اپنا نیا کھلونا  مل گیا تھا۔

شریا کے جاتے ہی، 2 منٹ بعد کیبن کا دروازہ پھر کھلا اور ایک جانا مانا شخص اندر آیا۔

قائرہ:

اوہ! یہ تم ہو! تم نے زبردست کیا!!! ہاہاہا

سامنے کھڑا وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ شریا کی اپنی وہی ساتھی، عاشی تھی۔

قائرہ:

اب ادھر کھڑی کھڑی کیا دیکھ رہی ہو؟ تم نے آج زبردست کیا۔ آؤ، میں تمہیں کچھ خاص دوں گی۔ میری چ پھدی چوسو۔۔ کتیا!!!! 

کہتے ہوئے قائرہ نے اپنے پاؤں کرسی پر اوپر کرکے، اپنی صاف شیو کی ہوئی پھدی کے دیدار دے دیئے۔

عاشی:

ہا-ہاں میڈم!!! 

میں بہت معذرت خواہ ہوں شریا! میں بہت معذرت خواہ ہوں!!!!‘ 

اور عاشی من میں سوچ کر، اپنی آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے قائرہ کے پاس گئی اور زمین پر بیٹھ کراس کی بڑی ہونٹوں والی پھدی پر اپنا منہ رکھ دی۔

کیبن میں پھر بس، قائرہ کی دبی دبی سسکیوں کی آواز ہی رہ گئی۔

ہر شخص کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ ان کے کمزور نکات پکڑ لیں۔

یہی تھا۔۔ قائرہ کا اصول۔

۔

۔

یہ پوری آپ بیتی، شریا نے پھر رات میں ویر کے ساتھ شیئر کی تھی۔ کسے بتاتی آخر وہ؟ وہی تو تھا اس کا ایک دوست۔

رات میں اس کی پیٹھ سے لگے ہوئے وہ روتی رہی بس۔ بھرپور آنسو بہائے اس نے۔

شریا:

*سنیف* آئی ایم سو سوری~ آئی ایم سوری میں نے۔۔ *سنیف* میں نے سب گڑبڑ کر دیا۔ میں ہی گڑبڑ ہوں۔۔ *سنیف* مجھ سے کچھ نہیں ہوتا۔۔ *ہک* میں بیوقوف ہوں!!!! *سنیف* صرف ایک بار مدد کرنا چاہتی تھی میں دیدی کی۔۔ بس ایک بار۔۔ اور۔۔ *سنیف

ویر:

فکر نہ کرو۔۔

شریا:

میں کیسے فکر نہ کروں ویر؟ کیسے کروں؟ *سنیف* سب ختم ہو گیا۔ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ *سنیف* اس۔۔ اس کے پاس وہ ریکارڈنگ ہے۔ تم میرے بہترین دوست ہو۔۔ میں بس تمہارے ساتھ شیئر کرنا چاہتی تھی۔۔ *سنیف* یہ ختم ہو گیا  ویر! *ہک* یہ ختم ہو گیا!!! 

ویر:

کیا تم مجھ پر بھروسہ کرتی ہو؟

شریا:

*سنیف* میں۔۔ میں کرتی ہوں

ویر:

تو بس! فکر نہ کرو! میں تمہارے لئے  سب ٹھیک کر دوں گا

شریا:

ہائے۔۔ *سنیف

ویر:

ہممم؟

شریا:

مجھے مضبوطی سے پکڑو!!! 

ویر:

کیا۔۔!؟

شریا:

میں نے کہا مجھے مضبوطی سے پکڑو

ویر:

ٹھیک ہے

ویر نے مڑتے ہوئے پھر شریا کو گلے لگا لیا۔ پر شریا کا من اتنے سے نہیں بھرا تھا  جو،

شریا:

اور مضبوطی سے!!!

ویر: !؟؟؟

شریا:

مجھے اور مضبوطی سے پکڑو!!!

ویر:

ویل۔۔۔

ایک بار پھر، ویر نے اسے کس کے بھینچ لیا۔

شریا:

اور زور سے~

ویر:

اس سے زیادہ زور سے کروں گا تو آپ کو چوٹ لگ جائے گی۔

شریا:

کوئی بات نہیں! میں سہہ لوں گی۔

ویر:

وووواہ!!! نہیں!! بس اتنا ہی، اگر زیادہ زور سے کیا تو کچھ اور ٹائٹ ہو سکتا ہے۔

شریا ویر کی بات سن کر نہ تو اس پر بھڑکی اور نہ ہی کچھ بولی۔ کیونکہ جیسے ہی اس نے نیچے رانوں میں کسی ابھرے ہوئے چیز کا دباؤ محسوس کیا۔ تو  وہ سمجھ گئی  اور بس مسکرائی اور اپنے گال ویر کی چھاتی میں رگڑنے لگی۔

شریا:

تھینک یو!!!

وہ صحیح تھی۔ جو اس نے ویر کے ساتھ کوئی دھوکہ نہیں کیا۔ ویر نے اس کی نوکری لگوائی، تو اب یہ اس کا فرض بنتا تھا کہ وہ اس نوکری کو ضائع نہ کرے۔

وہ سب کچھ سہنے کے لئے تیار تھی۔

۔

۔

**پرسوں کے بعد ایک دن** 

xxxxxxxxxکمپنی

رات ~ 8:38 بجے

اپنے کیبن میں گنگناتی ہوئی اس وقت قائرہ کچھ فائلیں ترتیب کر رہی تھی۔ وہ اکثر دیر سے ہی جایا کرتی تھی گھر۔ پر آج، اسے کچھ زیادہ ہی دیر ہو گئی تھی۔

وہ نکلنے ہی والی تھی جب،

*کریییککک*

اس کے کیبن کا دروازہ اس وقت کھلا اور کوئی اندر آیا۔

قائرہ:

ہممم!؟

قائرہ نے دیکھا کہ ایک نوجوان اپنی جیب میں ہاتھ ڈالے اندر آ چکا تھا۔ پہلے کبھی اس نے اس لڑکے کو نہیں دیکھا تھا۔ اور پہلی نظر میں اس نے اسے دیکھ ایک ملازم سمجھا۔

قائرہ:

کیا ہے!؟

تمہیں جلد پتا چل جائے گا!!!”

اس کی آواز سن کرقائرہ اس بار تھوڑا دھیان سے اسے گھوری۔ ایک بے حد ہینڈسم لڑکا کھڑا تھا اس کے سامنے۔ اور اس کا دماغ فوراً ہی چلنا شروع کر دیا۔

یہ کمپنی کا آدمی نہیں تھا۔ اگر ہوتا، تو ضرور ایسی شکل اسے اچھی طرح یاد ہوتی۔ اور ایسی شکل اس کی نظروں سے بچ کر نکل جائے؟ ناممکن!!!

تو دو ہی معنی نکل رہے تھے۔ یا تو یہ لڑکا کسی آفیشل کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔ یا پھر یہ کوئی اور ہی تھا۔ ایک دم اجنبی۔

قائرہ:

تم کون ہو؟ کیا کام ہے؟

کون ہوں میں؟ ویل! تمہیں پتا چل جائے گا۔ اور کیا کام ہے؟ ہمم! اس کا جواب تو تمہیں پتا ہونا چاہئے۔

قائرہ:

ہوہہہ!؟

وہ نوجوان چلتے چلتے اندر آیا اور اس کے سامنے لگی ہوئی کرسی پر ادب کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اور کون ہو سکتا تھا وہ؟ کوئی اور نہیں بلکہ ویر!!!

اس بار قائرہ بھنویں سکیڑتے ہوئے اس کی اس حرکت کو دیکھا اور بے حد بے کار سا منہ بنایا۔ وہ چڑ رہی تھی۔ کسی کی ہمت کیسے ہوئی اس کے کیبن میں آکر اس طرح کا ایٹی ٹیوڈ دکھانے کی؟ اور وہ بھی ایک مرد کی!؟؟

قائرہ:

نہیں! مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا کام دیا تھا۔ میں تمہیں نہیں جانتی! تو جلدی بتاؤ۔ کیا کام ہے اور یہاں کیوں آئے ہو؟

ویر:

کیا مایوسی!!! اور مجھے لگا کہ تم دلچسپ ہوگی۔ ویل، میں سیدھا بات کرتا ہوں۔ ریکارڈنگ ڈیلیٹ کرو۔ سمپل!

قائرہ:

ہوہہہ؟؟ کیا ریکارڈنگ؟

ویر:

وہی ریکارڈنگ جس سے تم اپنی پیاری ملازم شریا کو اپنے ہاتھوں میں نچانے کا کام کرنے والی ہو۔

جیسے ہی قائرہ نے یہ سنا، اگلے ہی لمحے اسے سارا معاملہ سمجھ میں آ گیا، اور وہ کھلکھلاتی ہوئی ہنستے ہوئے اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی۔

قائرہ:

ہاہاہاہاہاہاہاہا~

ویر: ۔۔.

قائرہ:

ہاہاہاہاہا~ اوہہ ہاہاہا~ تو تم ہو۔ اس کے ذریعے بھیجے گئے اس کے بوائے فرینڈ؟ ہم! ماننا پڑے گا، شکل تو تمہاری ٹھیک ہے۔ پر پاؤں تمہارے زمین پر نہیں، آسمان میں ہیں۔ ہاہاہاہا~

ویر یہاں اپنے آپ کو پرسکون دکھا رہا تھا پر، اندر ہی اندر اس کی پوری پلاننگ بِچھ رہی تھی۔

اندر آتے ہی اور قائرہ کو دیکھتے ہی اس نے وہ کر لیا تھا۔

چیک!!!!‘

*ڈنگ*

نام: قائرہ بنسل

عمر: 33

بائیو: قائرہ بنسل! وِکاس بنسل کی بیوی۔

اس کا ایک 4 سالہ بیٹا ہے جس کا نام آکاش ہے۔

xxxxxxxxxکمپنی میں، ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ کے طور پر کام کرتی ہے۔ خواتین کی طاقت۔۔۔ تنظیم کی ہیڈ بھی ہے۔ وہ مردوں سے نفرت کرتی ہے۔ اس کے مطابق، مرد نااہل ہیں اور ردی ہیں۔ صرف عورتوں کو اوپر ہونا چاہئے۔ قائرہ ایک ظالم اور تلخ فطرت کی ہے۔ وہ عیاشی اور اپنے فخر کو سب سے زیادہ پسند کرتی ہے۔

فیور ابیلٹی: -6

رشتہ: اجنبی

بائیو پڑھتے ہی ویر کو ایک جھٹکا لگ چکا تھا۔ اس کے سامنے کھڑی یہ بم شیل اسے سرپرائز پر سرپرائز دے رہی تھی۔

ویر کبھی خوش ہوتا تو کبھی کنفیوز تو کبھی فکرمند۔ بے شک اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ قائرہ ایک ٹاپ ٹیئر گدرایا  مال تھی۔ ایک بم شیل واقعی۔

پر ویر دوسری باتوں سے حیران تھا۔

خواتین کی طاقت تنظیم کی ہیڈ؟؟؟ یہ پڑھتے ہی اس کی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک آچکی تھی۔

اب میں جانتا ہوں کہ سسٹم کیوں چاہتا تھا کہ میں اسے فتح کروں!!!!‘

ویر کے ہونٹوں کی مسکان بڑھتی ہی جا رہی تھی۔

پھر دوسری بات۔۔۔

قائرہ بنسل! وکاس بنسل کی بیوی۔

یہ دیکھتے ہی ویر اپنی سوچ میں ڈوب گیا۔

وکاس بنسل!؟؟؟ نہیں بتاؤ۔۔!!!‘ 

ویر:

ویسے۔۔۔ 

قائرہ:

ہممم؟

ویر:

تمہارا شوہر! کیا وہ xxxxxxx کالج میں پروفیسر ہے؟

قائرہ اس کے سوال پر اسے گھور کے دیکھی، پھر بولی، 

قائرہ:

ہاں! کوئی مسئلہ ہے؟ اور ویسے بھی، تم جہاں سے آئے ہو وہیں سے نکل جاؤ۔ تمہاری اچھی صورت کے چلتے، میں یہ  سب جانے دوں گی۔

اس کے جواب نے جیسے ایک اور دھماکہ کیا ویر کے من میں۔

یہ وہی ہے!!!! مادر فففکر۔۔!!!! وِکاس!!!!‘ 

ویر کی مٹھی غصے اور جوش میں کستی گئی اور ہونٹوں پر مسکان حیوانوں کی طرح پھیل رہی تھی۔

یہ قائرہ کسی اور کی نہیں، وکاس کی بیوی تھی۔ وہی وکاس، جس نے ایک بار نندنی میم کو شاپنگ کے دوران چھیڑنے کی کوشش کی تھی۔ وہی وکاس، جس کے سامنے آکے ویر نے اپنی میم کو ہراساں  ہونے سے بچایا تھا۔ وہی وکاس، جس کے چلتے ویر کو نندنی میم سے شاپنگ مارٹ میں غلطی سے ایک تھپڑ کھانا پڑا تھا۔

ویر کو وہ پورا واقعہ یاد آ گیا۔ اور وہ خوشی سے پھولا نہیں سما پا رہا تھا۔

وہ آیا تو یہاں بغیر پلان کے تھا۔ پر اب۔۔۔

جیسے سب کچھ A سے Z اسے سمجھ آ چکا تھا۔ سب کچھ!!! 

قائرہ بنسل! ایک فیمینازی/نسائی تھی۔ فیمنسٹ نہیں! ایک فیمینازی!!! دونوں میں فرق ہوتا تھا۔ فیمنسٹ جہاں برابر حقوق اور برابر برتاؤ کی مانگ کرتے ہیں، وہیں فیمینازیز کا الگ ہی تھا۔

یہ وہ عورتیں ہوتی ہیں جو مردوں کو پھسانے کا کام کرتی ہیں فیمنزم کے نام پر۔ اگر بس میں سیٹ نہیں ملی، تو بیٹھے ہوئے مرد کو لیکچر دے دے کے اسے فیمنزم کے نام پر اٹھوا دیں گی۔ اور اگر خود کسی سیٹ میں بیٹھی ہوں، اور کوئی معذور مرد کھڑا ہو تو اسے سیٹ دینے کی کوشش بھی نہیں کریں گی۔ کیوں؟؟؟

کیونکہ سیٹ دینے کے لئے باقی مرد ہیں۔ وہ دیں سیٹ۔ ہم کیوں؟ ہم لڑکیاں ہیں۔ یہ کہلاتی تھیں فیمینازیز۔ فیمنزم کے فوائد تو سارے چاہئیں پر جب خود سے وہی کام کرنے کی نوبت آئی تو ہم لڑکیاں ہیں کا ٹیگ دکھا کے پیچھے ہٹ جانا۔ بس، یہی کام تھا ان کا۔

اور، قائرہ اسی کیٹیگری سے تعلق رکھتی تھی۔ ویر کو سب سمجھ آ چکا تھا۔

شادی تک بھی قائرہ نے شاید مجبوری میں کی تھی۔ ایک بیٹا پیدا کیا اور پھر وہ اپنی زندگی میں مصروف ہو گئی۔ ویر کو اب سمجھ آ رہا تھا کہ کیوں اس دن وکاس شاپنگ کر رہا تھا۔ قائرہ کیوں نہیں؟

غالبًا، قائرہ اسے گھر میں دبا کے رکھتی ہوگی۔ اپنی پیروں کی جوتی کے برابر سلوک رکھتی ہوگی اس سے۔ چونکہ،  وہ مردوں سے نفرت کرتی ہے، سب کچھ واضح تھا۔ آخر، وہ اپنے شوہر سے بھی زیادہ کما  رہی تھی۔ وکاس کا گھر پر کیا حال ہوتا ہوگا، یہ تو کوئی نہیں بتا سکتا۔

تو اسی لئے وہ حرامی وکاس۔۔ اسی لئے وہ نندنی میم پر ڈورے ڈال رہا تھا اس دن۔ نندنی میم بہت نرم ہیں۔ اور اس کمینے کو میم کو دیکھ کر الگ ہی تجربہ ملا ہوگا۔ کہاں اس کی گینڈے جیسی بیوی اور کہاں پری جیسی نندنی میم۔ وہ  چالاک حرامی۔۔!‘

پری:

اب تمہارا موقع ہے ماسٹر! اسے سبق سکھاؤ!

 ’اوہہ!! میں ضرور سکھاؤں گا! میں اسے ایسا سبق سکھاؤں گا جو وہ زندگی بھر یاد رکھے گی۔ پر اس سے پہلے، پری!!!! میرا پورا اسٹیٹس دکھاؤ۔‘ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page