Perishing legend king-290-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 290

پری:

یہ رہے ماسٹر!!

رکو! یہ کیا۔۔!؟‘ 

پری:

میں نے بس بیک گراؤنڈ اور تھیم تھوڑا سا بدلا ہے۔ آپ کو پسند آیا؟ 

فککک! مجھے نہیں پتا تھا کہ ایسا بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ یہ اچھا ہے۔ پر پورا اسٹیٹس کہاں ہے؟‘ 

پری:

یہ پیج 1 ہے  ماسٹر۔ دائیں سوائپ کریں

اور بے شک، ویر کے سوائپ کرتے ہی،
اوہ مائی۔۔۔۔! یہ زبردست ہے! مجھے پسند آیا! ٹھیک ہے! تو میرے پاس 5892 پوائنٹس ہیں۔ کویسٹ ہنٹ کی قیمت بڑھ کر کتنی ہو گئی ہے؟‘ 

پری:

200 پوائنٹس سے اب لاگت 500 پوائنٹس ہو گئی ہے  ماسٹر۔

 ’فکککک! ٹھیک ہے! اس مشن کو مکمل کرتے ہی مجھے 3 کویسٹ ہنٹ ٹرائیز ملیں گی۔ پری! میں چاہتا ہوں، جیسے ہی مشن مکمل ہو، کویسٹ ہنٹ میں ان تمام کوششوں کا استعمال کر لینا۔ اور پوائنٹس میں سے، زیادہ سے زیادہ 2000 پوائنٹس کا استعمال کر لینا۔‘ 

پری:

تو کل ملا کر، 7 کوششیں۔ ٹھیک ہے ماسٹر! میں کر دوں گی۔

اچھا، اب وقت ہے اس کتیا کو سنبھالنے کا!!!‘

ویر اٹھا  اور چلتے ہوئے قائرہ کے قریب آیا۔

ویر:

تم نے میری دوست کو کلپ دکھا کر کتنا ڈرا دیا۔ اب! میں بھی تمہیں ایک کلپ دکھاتا ہوں۔

اس نے اس کے بغل سے جھکتے ہوئے اپنے فون پر ایک ویڈیو پلے کر دی۔

کلپ میں دو افراد کے درمیان کی گفتگو تھی۔ جو صاف صاف سنائی دے رہی تھی اور ان دو افراد کے چہرے بھی صاف صاف دکھائی دے رہے تھے۔

تم زیادہ ملازمین کو اپنی ہی کمپنی کے پھنساؤ مت۔ کہیں مشکل نہ ہو جائے۔

ہمف~ جیسا کہ تم سے توقع تھی! تم مرد اتنی بزدل کیوں ہوتے ہو؟” 

تمہیں خبردار کرتے ہوئے کہہ رہا ہوں۔” 

اوہ واقعی؟ جیب میں جب وہ 20% مال گھساتے ہو تب کہاں جاتی ہے تمہاری یہ خبرداری؟  ہہ؟” 

و-وہ۔۔” 

ردی! ہمف~ شکر کرو میرا جو اتنا مل پا رہا ہے تمہیں۔ اور بتاؤ،  پیسے لائے  ہو  نا؟” 

ہاں لایا ہوں۔ یہ رہے۔” 

ہاہاہاہا~ یہ ہوئی نہ بات۔ کتنے ہیں!؟” 

تم نے 6 لاکھ دینے کی مانگ کروائی تھی۔ اس میں سے 20% میرا، تو باقی کا بچا ہوا 4 لاکھ، 80 ہزار یہ تمہارے اس میں ہیں۔” 

اچھا اچھا! بیٹھے بیٹھے تمہیں 1 لاکھ 20 ہزار مل گئے۔ اس کے بعد بھی منہ چلانا ہے تمہیں۔” 

کہیں ہم پھنس گئے تو؟” 

ہاہاہا~ اور کیسے پھنسیں گے؟ ان ملازمین کے سارے کمزور نکات ہیں میرے پاس۔ پھنسنے کا سوال ہی نہیں۔ وہ میرے چنگل میں آکے پھنستے ہیں تبھی تو میں کما پاتی ہوں ہاہاہا~” 

*کلپ ختم

ویڈیو کے ختم ہوتے ہی، اس بار قائرہ کے چہرے سے اس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔

کیا چالاک پلان تھا۔ قائرہ نے جان بوجھ کر شریا سے ایپلیکیشن لی تھی۔ اس ایپلیکیشن کو بعد میں اس نے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کو فارورڈ کیا۔

دونوں ہی ایک دوسرے سے پہلے سے ہی ملے ہوئے تھے۔ کل رات کو ہی دونوں ملے تھے اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے اس ہیڈ نے 6 لاکھ میں سے 4 لاکھ 80 ہزار قائرہ کو سونپے تھے۔

یہ 6 لاکھ کی پوری رقم، شریا کو ملنے والی تھی۔ اس کی میڈیکل ایپلیکیشن کی وجہ سے۔ قائرہ نے اس کی ایپلیکیشن تو قبول کی تھی، پر ایک روپیہ نہیں دیا۔  وہ 80% پیسہ ہڑپ چکی تھی۔ یہ کمپنی کا پیسہ تھا۔

اور یہ کام شاید وہ پہلے سے ہی کرتے آ رہے تھے۔ نہ جانے کتنے ملازمین ان کی چپیٹ میں آ چکے تھے اب تک۔ آخر اسی طرح تو اس نے اپنی گانڈ سے لینڈ روور نہیں نکالی تھی!؟

اتنا پیسہ ہڑپ ہڑپ کے اپنی پوری لائف اسٹائل لگژری کر چکی تھی وہ۔ اور آج تک کسی نے بھی اسے نہیں پکڑا تھا۔

سوائے آج کے اس نوجوان نے۔ ویر!!!! 

ویر کو اصل میں 2 دن پہلے تک کوئی سراغ نہیں تھا۔ پر اس کی ذہانت اسی طرح دکھانے کے لئے نہیں،  120 پر تھی۔

وہ سکل جو اسے یہ حاصل کرنے کے قابل بنائی وہ کوئی اور نہیں بلکہ۔۔ بیسک اینیمی ٹریکر!!! 

چونکہ، ممبئی میں اس کے کوئی دشمن نہیں تھے۔ سوائے پرانجل کے۔ پر بیسک اینیمی ٹریکر باس دشمن کو ٹریکر نہیں کرتی تھی۔ یہی تو تھا اس کا نقصان۔ لیکن باس دشمن کے آس پاس موجود ان کے چیلوں کو تو ٹریکر کرتی ہی تھی۔ جیسے راجا  کو کیا تھا۔

پرانجل کو ٹریکر کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا کیونکہ وہ تو باس دشمن تھا۔ اس کا مطلب۔۔۔

جیسے ہی ویر نے سکل استعمال کی تھی۔ اسے اس فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کی لوکیشن مل گئی تھی۔ یقیناً، سکل نے قائرہ کی لوکیشن ٹریکر نہیں کی تھی۔ کیونکہ، قائرہ۔۔ ایک باس دشمن کی کیٹیگری میں شامل ہو چکی تھی۔ مشن کی وجہ سے۔۔۔

کسے پتا تھا، ایک معمولی سکل، ویر کے اتنا کام آنے والی تھی۔ اس کے بعد تو سب صاف تھا۔ ویر نے ان کی ریکارڈنگ کی اور نتیجہ سامنے۔

قائرہ کے ہاتھ فون کو لئے کانپ رہے تھے۔ اس نے ہڑبڑا کے فوراً ہی کلپ کو ڈیلیٹ کر دیا۔

قائرہ:

ہاہ!!! یہ۔۔ یہ ختم ہو گیا۔۔ ہاہا~ میں نے اسے ڈیلیٹ کر دیا۔

ویر (مسکراتے ہوئے):

آؤ!!! کتنا  پیارا!!! 

ویر نے اس کے ہاتھ سے اپنا فون چھینا اور ایک اور کلپ نکالی۔ یہ بھی وہی کلپ تھی۔

ویر:

تمہیں لگتا ہے میں بیوقوف ہوں؟ ہہ؟ تصور کرو! اگر تم شریا کا ویڈیو فارورڈ بھی کر دو گی تو شریا زیادہ سے زیادہ اپنی نوکری کھوئے گی۔ وہ مختلف نوکری ڈھونڈ سکتی ہے۔ پر تمہارا کیا ہوگا؟  اگر میں اسے تمہاری کمپنی کے حکام کو فارورڈ کر دوں تو کیا ہوگا!؟ تم سب کچھ کھو دو گی۔ تمہاری نوکری، تمہارا فخر، سب کچھ۔

قائرہ:

تت-تم!!!!

ویر نے کچھ نہیں کہا۔ وہ سامنے جا کر سیٹ پر بیٹھ گیا، اس نے اپنی جینز کی زِپ کھولی تو ایک بہت بڑی چھڑی جیسی سخت چیز قائرہ کے سامنے نمودار ہوئی۔

قائرہ:

ہہ!!!!؟ ک-کیا۔۔!؟؟

اور پھر ویر کی ایک ہی آواز آئی، 

سک /چوس!!!” 

قائرہ کے پورے بدن میں سائرن دوڑ گئی۔

قائرہ:

ت-تم۔۔ تم۔۔ حرامی!!!! 

*ووووششش

اور اس نے اپنی ٹیبل پر رکھا پیپر ویٹ ویر کی طرف زور سے پھینک دیا۔

اپنے ایک ہاتھ سے ویر نے اس پیپر ویٹ کو پکڑ لیا اور پھر سے بلند آواز میں بولا، 

“کم ہیئر اینڈ سک/یہاں آؤ اور چوس!!!” 

ایک بار پھر، قائرہ کا پورا بدن کانپ اٹھا۔ آج اسے سمجھ آ رہا تھا کہ ان ملازمین کو کیسا لگتا ہوگا جن سے وہ اپنی چوت اور گانڈ چاٹنے  کوکہتی تھی۔

اسے اس کی ہی دوائی کا ڈوز دیا جا رہا تھا۔

قائرہ:

تم حرامی!!! میں تمہیں مار ڈالوں گی۔۔ 

” کم ہیئر بیچ!!!”/یہاں آؤ کتیا!!!” 

پھر سے وہ خاموش رہ گئی۔

ویر (مسکراتے ہوئے):

اگر تم نہیں آرہی، تو یہ کلپ حکام کے پاس جا رہی ہے۔

مجبوراً، قائرہ کو چل کر آگے آنا پڑا۔ اس کی پوری عزت مٹی میں مل چکی تھی۔ وہ مردوں سے نفرت کرتی تھی۔ اور آج اسی مرد کے لن کو چوسنے جا رہی تھی وہ۔

زمین پر بیٹھ کر، اس کی آنکھوں میں نمی تو تھی، پر وہ ویر کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی۔

ویر نے اگلے ہی پل اس کے بال پکڑے اور کھینچے، 

قائرہ:

آہہہہ~

ویر:

تم جیسی چالاک عورت کسی عزت کی مستحق نہیں!!! اب چوس!!!!

قائرہ:

تم!!!! 

ویر آگے اس کے کان کی طرف جھکا۔ اور دھیرے سے ایک بات کہی، 

ویر:

اگر تم سوچ رہی ہو کہ سیکیورٹی کیمرے آن ہوں گے۔ تو۔۔ تم غلط ہو!!!

اور ایک آخری امید بھی قائرہ کی ٹوٹ گئی۔ اس کے آنسو چھلک اٹھے۔

تھر تھراتے ہونٹوں سے وہ کسی اور مرد کے لن  کا سواد چکھنے جا رہی تھی۔

بے کار سا منہ بناتے ہوئے اس نے ویر کے لن  کو جیسے ہی منہ میں رکھا، ویر نے اس کا سر پکڑ ایک دم نیچے کر دیا۔

قائرہ:

ممففف!!؟؟؟؟

ویر (مسکراتے ہوئے):

تمہارا منہ واقعی اچھا ہے!!!

ویر کے لن  کی وہ مہک، وہ ڈھانچہ، وہ بناوٹ، اور وہ مزہ۔۔۔قائرہ کبھی زندگی میں نہیں بھول پائے گی۔

روتے روتے وہ چوستی رہی، اس کے پورے کیبن میں آج، اس کے ملازمین کی نہیں، بلکہ اس کی خود کی رونے کی آواز گونجتی رہی۔ ویر کا لن موٹا تو تھا ہی۔۔۔ مگر اب کافی لمبا بھی ہوچکا تھا۔ جو قائرہ کی منہ میں بڑی مشکل سے ایڈجسٹ ہوا تھا۔

ویر اس کے گلے میں پھندا باندھ رہا تھا۔

ویر (مسکراتے ہوئے):

ایک غلام کو یہ پہننا چاہئے۔ ٹھیک ہے؟

وہ اٹھا تو قائرہ نے پھند اپنے گلے سے نکال کے پھینک دیا۔

قائرہ (چلاتے ہوئے):

تم حرامی!! میں تم پر مقدمہ کروں گی!!! تمہیں لگتا ہے میں تمہاری بات مانوں گی!؟ بس تم انتظار کرو۔۔۔ بس تم۔۔۔

ویر چپ چاپ باہر جانے لگا۔ پر جانے سے پہلے، اس نے ایک آخری بار مڑ کے پیچھے دیکھا۔ ہونٹوں پر ایک حیوانوں والی مسکراہٹ تھی۔  اور بولا، 

اوہہ!!! تم میری بات مانو گی!!!” 

بِیکاز۔۔۔۔

*ڈنگ

آپ نے ایک لیجنڈری کارڈ حاصل کیا ہے۔
۔

۔

میں خاموش بیٹھی تھی۔ آئینے کے سامنے۔۔۔ 

کب شروع ہوا تھا یہ سلسلہ!? کیسے ہو گیا یہ سب!؟  میں۔۔۔ ایک بدقسمت۔۔۔ کس طرح زندگی کے اس موڑ پر آ گئی، کہ مجھے اب یہاں سے اپنا مستقبل بھی نظر نہیں آرہا!؟  بس، ایک دھندلاپن سا چھایا ہوا ہے۔

کیا یہ کٹھن میرے جیون میں پہلے سے ہی لکھا ہوا تھا؟ یا یہ میرے برے کرموں کا نتیجہ ہے؟ یا یہ میرے پچھلے جنم کے گناہوں کا بدلہ لے رہا ہے  بھگوان مجھ سے؟

کیوں؟ کیوں ہوتا ہے میرے ساتھ ایسا؟ اب میں اس مرحلے پر آ چکی ہوں جہاں میں اپنی خوشی کی معنوں کا سامنا بھی نہیں کرتی۔ اپنی خوشی کی پرواہ ہی نہیں کرتی۔

میری رغبت اب اپنی ہی خوشی کے لئے ختم ہو چکی ہے۔ میں اپنی سکھ کی امیدیں، اب چھوڑ چکی ہوں۔

دو ہی چیز چاہئے مجھے بس!!! میرا بچہ! بس مجھے میرا بچہ واپس مل جائے اور میری جوہی اور پورا خاندان سکھ اور شانتی سے رہے۔ بس! یہی دو خواہشیں ہیں میری۔ کیا اتنی خواہش رکھنے کا بھی مجھے حق نہیں ہے؟؟؟

جو  بھگوان  مجھے بار بار، میری ہر کوششوں کو ناکام کر دیتا ہے!؟ دوسروں کا کبھی برا نہیں چاہا میں نے اور نہ ہی کبھی چاہوں گی۔ ہمیشہ دوسروں کی طرف مدد کا ہاتھ ہی آگے بڑھایا میں نے۔

پر کیا ملا  مجھے؟

مدد پانے کے بعد، لوگ کچرا  چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پر میں پھر بھی ان کی مدد کرتی ہوں۔ تم نے مجھے اس طرح کیوں بنایا بھگوان؟

اور ایک بار پھر، گہرائی میں ان باتوں کے بارے میں سوچ کر، میری آنکھوں سے آنسو بہہ چلے۔

دیدییی~ سن رہی ہو!؟؟؟؟؟ میں جا رہی ہوں~” 

پر اچانک آئی شریا کی آواز نے مجھے میرے ہوش میں لایا۔ اپنی ہتھیلیوں سے میں نے اپنے آنسو فٹافٹ پونچھے اور اٹھ کے باہر آگئی۔

یہ نادان لڑکی۔ ہر روز دیر رات تک جاگتی رہے گی، صبح پھر دیر سے اٹھے گی، جلدی جلدی کرے گی اور پھر اس چکر میں اپنا لنچ باکس لے جانا بھول جائے گی۔

پر میں اسے زیادہ الزام بھی نہیں دے سکتی۔ آخر، یہ میری ہی تو چھوٹی بہن ہے۔ جب میں نے کالج میں شروع شروع میں پڑھانا شروع کیا تھا  تب۔۔۔ آخر، میں بھی تو ایسی ہی تھی نا؟  تو میں اسے بھی زیادہ باتیں نہیں سنا پاتی۔

اچھا  بابا~ اور یہ ٹفن رکھ پہلے۔ ورنہ کل کی طرح بھول جاؤ گی۔” 

میں نے اسے یاد دلاتے ہوئے ٹفن اس کے ہاتھ میں ہی تھما دیا۔

اوہ تھینک یو سو مچ دیدی~ یو آر دی بیسٹ!!! آئی لو یو سو مچ موآآآ~” 

ا-ارے!!!؟؟؟” 

ہہہہ بائے!!!” 

اور نکل گئی یہ لڑکی۔ پاگل کہیں کی۔ اس لڑکی کی تو بس بلٹ ٹرین سے ہی کی جا سکتی تھی۔ دونوں ہی ایک دم تیز بھاگتی ہیں۔

اپنے گال پر ہوئے گیلاپن کو صاف کرکے میں کچن میں گئی تو ایک اور بلٹ ٹرین کا خیال آیا میرے من میں۔

سامنے فریج کے دروازے پر سٹیکی نوٹ چپکا ہوا تھا۔ اس نوٹ کو نکال کر میں نے دیکھا تو اس پر بلیک اسکیچ پین سے لکھا ہوا تھا۔۔ 

پاو  باجی! ()‘ 

اور میں مسکرا اٹھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page