Perishing legend king-294-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 294

اور ویر نے وہی کیا۔ قائرہ کے دونوں تھنوں کو کس کے ہاتھ میں تھام کے ویر نے نپلز کو منہ میں بھرا اور وہ میٹھا دودھ پینا شروع کر دیا۔ اس طرح پکڑا تھا وہ جیسے مانو ناریل پکڑ کے اس میں سے ناریل  کا پانی پی رہا ہو۔

قائرہ جھٹکے پر جھٹکے کھاتی رہی۔ ویر کا یہ پہلی بار تھا۔ شاید!!! اسے نہیں پتا تھا کہ اس کی ماں بھوانا نے اسے پستانوں سے دودھ کروایا بھی تھا یا کبھی نہیں ؟ یا بغیر کروائے ہی چھوڑ کے چلی گئی تھی اسے؟ کیا اسے کسی اور عورت کا دودھ فیڈکرنا پڑا تھا بچپن میں؟ اسے کچھ نہیں پتا تھا۔

بس اتنا پتا تھا کہ۔۔۔ ابھی وہ قائرہ کے پستانوں سے  دودھ فیڈ کر رہا تھا۔ اور ابھی کے لئے یہی اس کا پہلا  دودھ فیڈ تھا۔

*سلرپ* *لِک* *سلرررررپ

آہہہہہہہہ~” 

ممممم~” 

*سَک* *شششوپپپ

قائرہ کے کیبن میں ایک بار پھر، اس کی سسکیاں بکھر گئیں۔

جب یہ ختم ہوا تو اس کی حالت دیکھنے لائق تھی۔ پورے کپڑے اس کے اسٹ ویسٹ ہوچکے تھے۔ بال بکھر چکے تھے۔ آنکھوں میں مدہوشی چھائی ہوئی تھی۔ پر کچھ ہی سیکنڈز میں اس نے اپنے آپ کو ریکور کیا اور اب آنکھوں میں خماری کی جگہ گھنگھور غصہ اور نفرت نظر آ رہی تھی۔

قائرہ:

تم!!!! میں تمہیں مار ڈالوں گی!!! تم حرامی!!!!! تمہیں پچھتانا پڑے گا۔۔ ہر ایک چیز۔۔ کا حساب چکتاؤں گی میں۔۔ میں تمہیں اپنے پاؤں چٹواؤں گی۔۔ ننگا کر کے تمہیں سڑکوں پر گھماؤں گی۔۔ میری بات یاد رکھو۔۔ *ہف* یاد رکھو۔۔ *ہف

ویر:

آؤ!  کتنا پیارا!!! 

ویر نے ہنستے ہوئے اس کے نپل کو زور سے کھینچ دیا، 

آآآآآہہہہہہہ~” 

اور قائرہ تڑپ اٹھی۔

ویر:

اپنی حالت ٹھیک کرو۔ ہم جا رہے ہیں۔

وہ کچھ نہ کہہ پائی۔ ویسے بھی اس کا پوچھنا بیکار ہی جاتا۔ وہ جانتی تھی ویر اسے کچھ بتانے والا تھا نہیں۔

خود کی حالت کو ٹھیک کرنے کے بعد جب وہ کیبن سے نکلی تو وہیں بیٹھے ملازم نے اسے دیکھ کرسوال کر لیا کہ وہ کہاں جا رہی تھی۔

قائرہ:

اپنے کام پر فوکس کرو اس کے بجائے۔ ہمف!!! میں اہم کام سے کچھ دیر کے لئے باہر جا رہی ہوں۔ کوئی پوچھے تو بتا دینا۔

ملازم:

جی میم

اور قائرہ خود کو پروفیشنل لیڈی کی طرح دکھاتے ہوئے باہر نکل گئی۔ جیسے مانو اندر تو کچھ ہوا ہی نہیں تھا اس کے ساتھ۔

ویر نے پیچھے سے جب اس کی گانڈ دیکھی تو اسے یقین ہو گیا تھا۔ یہ سب سے پھیلی ہوئی اور بڑی گانڈ  دیکھی تھی اس نے اب تک اپنی زندگی میں۔

آنیسہ کی بھی گانڈ بڑی تھی، پر قائرہ کی کچھ زیادہ ہی بڑی تھی۔ آنیسہ ایک ہی ڈیپارٹمنٹ میں سب سے آگے تھی۔ دودھ کے ڈیپارٹمنٹ میں۔ بھلے ہی اس کی چھاتیوں سے دودھ نہیں آتا تھا پر اس کے جتنے بڑے دودھ ابھی تک کسی کے پاس نہیں دیکھے تھے ویر نے۔

باہر آتے ہوئے، ویر نے اپنی کار کی طرف اشارہ کیا بیٹھنے کا تو قائرہ بغیر کوئی سوال کئے کار کا دروازہ کھولی اور اندر بیٹھنے لگی۔

پر۔۔ اندر گھستے ہی اسے کار کی دوسری ونڈو سیٹ پر کوئی بیٹھا نظر آیا۔

قائرہ:

کک-کیااا!!!؟؟؟

اندر آنیسہ بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے گدرائے بدن کو دیکھ کرقائرہ چپ چاپ اندر بیٹھ گئی۔ وہیں یہاں آنیسہ بھی تیکھی نظروں سے قائرہ کے گدرائے بدن کو اوپر سے نیچے تول رہی تھی۔

سوچ رہی تھی کہ اس عورت کا اس کے مالک کے ساتھ کیا رشتہ تھا؟ آنیسہ یہ نہیں جانتی تھی ابھی کہ اس کا مالک اس گدرائے جسم کو مسلنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

ابھی ویر بیٹھنے جا ہی رہا تھا جب اس کے پاس ایک لڑکا آیا۔

لڑکا:

باس!!! راگھو باس نے یہ پیکٹ بھیجا ہے۔

یہ راگھو کے چیلوں میں سے ایک تھا۔

ویر نے جیسے ہی پیکٹ کے اندر دیکھا تو، پایا کہ اندر 50 لاکھ روپے نقد پڑے ہوئے تھے۔

اور اسی وقت راگھو کا فون بھی آ گیا۔

ویر:

ہیلو؟

راگھو:

باس! آپ کو رقم مل گئی؟

ویر:

ہممم

راگھو:

ٹھیک ہے! باس! باقی کے 45 لاکھ جو بچے ہیں وہ کہہ رہا تھا کہ شام تک دے گا۔ میں خود لے کے آپ کو دے جاؤں گا۔ آپ کہاں ملو گے مجھے؟

ویر:

شام کو میں xxxxxxxx ہوٹل میں رہوں گا۔

راگھو:

ٹھیک ہے باس! ویسے۔۔ آپ کو اتنی رقم کی کیوں ضرورت آ پڑی؟ مجھ سے مانگ لئے ہوتے باس۔ یہ فلیٹ بیچنے کی کیا ضرورت تھی؟

ویر (مسکراتے ہوئے):

نہیں! یہ کام مجھے خود کرنا ہے۔ تبھی اس کا پھل اچھا ملے گا۔ اچھا ٹھیک ہے رکھتا ہوں۔

راگھو:

جی باس!!! 

*کال ختم

ویر کی بات صحیح تھی۔ مشن ~ نندنی کا مسئلہ حل کرو۔

سسٹم کا سب سے پہلا مشن۔ ویر جانتا تھا کہ اسے یہ مسئلہ خود سے ہی حل کرنا تھا۔ تبھی تو ریوارڈز اچھے ملتے۔ اگر وہ  راگھو سے پیسے لے لیتا تو بھلا اسے اتنی اچھی ریوارڈز کیسے ملتے؟ فلیٹ گیا تو گیا، کل اور فلیٹس آ جائیں گے۔ پر ایک بار مشن ہاتھ سے گیا تو۔۔ وہ دوبارہ نہیں آئے گا۔ اور پری کو کھونے کا الگ ڈر۔

پری سے ہی یاد آیا۔ ویر کا سسٹم دو لگاتار مشنز کو مکمل کرنے کے بعد اپ گریڈ ہو چکا تھا۔

وہی دو مشن ~ شویتا کا ‘ریسکیو شویتا بیفور شی ڈائیز’ اور شریا کا ‘ریسکیو دی پری فرام دی پریڈیٹر’ والے۔

ان دو کے مکمل ہوتے ہی سسٹم لیول 7 پر آچکا تھا۔ نوٹیفکیشن ویر کو تب ہی آ گیا تھا جب ویر نے قائرہ کے گلے میں اپنی کالر باندھی تھی۔

*ڈنگ

مشن: ریسکیو پری فرام دی پریڈیٹر مکمل ہو چکا ہے۔

*ڈنگ

3000 پوائنٹس ریوارڈ کئے گئے ہیں۔

*ڈنگ

3فری کویسٹ ہنٹ ٹرائیز مختص کئے گئے ہیں۔

*ڈنگ

سسٹم لیول 7 پر پہنچ گیا ہے۔ 

*ڈنگ

اسکرول ہنٹ ان لاک ہو گیا ہے۔ 

ویر کو 3 کویسٹ ہنٹ کے ٹرائیز ملے تھے۔ ایک دم فری۔ پر ان کا کچھ ہوا نہیں۔ کیونکہ تینوں ہی ٹرائیز میں اسے ٹریش کارڈ ہی ملا تھا۔

اس کے پاس 5892 پوائنٹس تھے پہلے سے ہی۔ جو کہ اب 3000 اور ملنے سے 8892 ہو چکے تھے۔

اسی لئے ویر نے 2000 پوائنٹس کو داؤ پر لگایا۔ کویسٹ ہنٹ کھیلنے کے لئے۔ اور بیشک، چوتھے ٹرائی میں ہی اسے لیجنڈری کارڈ مل چکا تھا۔

**انٹیمیڈیٹنگ پریزنس!!!** 

ویر نے پہلے ہی اسے ایکویپ کر لیا تھا جس کے باعث قائرہ پر اس کا اثر کافی کچھ دیکھنے کو مل رہا تھا۔

وہ مردوں سے نفرت کرتی تھی اور انہیں اپنے پاؤں کی جوتی کے برابر سمجھتی تھی۔ پر ویر کو دیکھتے ہی اس کی حالت پتلی ہوجاتی تھی۔ انٹیمیڈیٹنگ پریزنس اپنا  کام بخوبی کر رہا تھا۔

ایک اور بات ہوئی تھی۔ وہ ہے۔۔ 

پری:

مااااسٹٹررررر~ ایہہہہہہ~ کیا آپ نے مجھے مس کیا؟؟؟ میں نے آپ کو بہت مس کیا!!! موآآآآہہہ~ ( ˘ ³˘)

ہہ!!!؟‘ 

پری:

بتاؤ آپ نے مجھے مس کیا!!! بتاؤ۔۔ بتاؤ۔۔ بتاؤووو!!!!! 

واہ!!! پرسکون ہو جاؤ!! ہاں ہاں!! میں نے تمہیں مس کیا۔ تو تم دوسری شخصیت ہو۔ ہم؟؟‘ 

پری:

ہاں ہاں!!!! (~³)~ 

فیو!!! اب میں پچھلی پری کو مس کرنے لگا ہوں۔‘ 

پری:

کیااا؟؟؟ مطلب میں اچھی نہیں؟؟؟ تم برے ہوماسٹر!!!! ہمف~ .·´¯`(><)´¯`·.   

اور کچھ اسی طرح ویر کا سسٹم نئے اپ گریڈ سے ہوکے گزرا تھا۔

خیر!! راگھو کے ذریعے بھیجے گئے پیسے لینے کے بعد، ویر نے اس لڑکے کو ایک کام اور دے دیا۔ ڈرائیور کا  کام۔

اور وہ پیچھے جا کر دونوں ہی عورتوں کے بیچ میں بیٹھ گیا۔

کار اسٹارٹ ہوئی اور چل پڑی۔ اور کچھ دیر بعد ہی، قائرہ نے موقع کا فائدہ دیکھ  کراپنی چال چلی، 

وہ سوچ رہی تھی کہ آنیسہ کے سامنے ویر کی گندی شخصیت کو سامنے لائے۔ اسے یہ نہیں پتا تھا کہ آنیسہ ویر کی ہی داسی تھی۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ آنیسہ کسی بزنس کے کام سے کار میں موجود تھی۔ تو یہ موقع اس کے لئے بہترین تھا۔

قائرہ:

میں ٹھیک تھی۔ سارے مرد کوڑا ہیں۔ تمہیں دیکھو!!! کیا کر رہے تھے تم میرے ساتھ!!؟؟  چھیiiii!!! اتنی گھناؤنی حرکت؟ ہر مرد ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔

ویر اسے دیکھ کر منڈ منڈ مسکرا رہا تھا اور آنیسہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔

تبھی، 

ویر نے قائرہ کو اس کے بالوں سے پکڑا  اور۔۔۔۔

اپنی جینز  نیچے کرکے، 

ویر:

تم بولتی بہت ہو!!! 

اور اپنا لن اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ یہ  اس کےامید سے باہر تھا۔ قریب 5 منٹ تک ویر نے قائرہ کو اسی طرح رکھا۔ بغل میں بیٹھی آنیسہ قائرہ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

*اخوںںںں* *اخوںںںں

قائرہ:

تت-تم۔۔۔۔

ویر:

آنیسہ!!!  

آنیسہ اگلے ہی پل اٹھی اور قائرہ کے کانوں کے نزدیک جا کے اس نے ہولے سے کہا، 

وہ۔۔ میرے مالک ہیں۔” 

جسے سن کر قائرہ کے بدن  میں چیونٹیاں رینگ گئیں۔

قائرہ:

ک-کیااا!!!!؟؟؟

آنیسہ ویر کے سامنے بیٹھی، ہاتھ میں ٹشو لے کر وہ ویر کے لن  سے قائرہ کا تھوک صاف کرنے لگی۔ ویسے تو وہ اپنے منہ سے ہی صاف کرنے والی تھی۔ پر جیسے قائرہ کا گندا تھوک اسے اپنے منہ میں نہیں لینا تھا۔ کیونکہ، اسے دیکھ کے ہی آنیسہ کو غصہ آ رہا تھا۔ ویر نے ادھر پہلے آنیسہ کے ہونٹ چومے اور پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں اس کی آنیسہ کا دل جیت لیتی تھیں۔ وہ چاہتا تو سیدھا آنیسہ کے بال پکڑ  کر اپنے لوڑے کو اس کے منہ میں گھسا سکتا تھا۔ اور آنیسہ منع بھی نہ کرتی۔ پر۔۔ اس نے پہلے ہونٹ چومے۔ اور آنیسہ کو پہلے اپنی خواہش پر چھوڑ دیا۔

ادھر آنیسہ نے ٹشو کا استعمال کیا۔ اور اس کے بعد، اس نے ویر کے لن کو منہ میں لے لیا۔ اپنے تھوک سے رنگنے لگی وہ ویر کے لوڑے کو۔ اور جب اچھے سے پورا لؤڑا گیلا کر دیا۔ تو ٹوپے کو چومنے لگی۔ قائرہ یہاں ایک دم ہکّی بکّی سی مانو صدمے میں جا چکی تھی۔

تو اس کا مطلب۔۔ یہ عورت۔۔ پہلے سے ہی اس ویر کی نوکرانی تھی!!؟؟؟

ویر:

آنیسہ!!! 

آنیسہ:

جی  مالک؟

ویر:

تم تیار ہو  نا؟؟؟

آنیسہ:

جی مالک!!! 

ویر:

ہم پہنچ گئے ہیں۔ جاؤ!!! اور دکھا دو آج۔ کیا ہو تم!!! 

آنیسہ:

جججی  مالک!!!! 

بےچاری آنیسہ جذباتی ہو اٹھی۔ اپنے پورے چہرے پر اس نے ویر کے لن  کو پھرایا۔ جیسے مانو اس کی گند سے اپنے آپ کو نہلانا چاہ رہی تھی۔ بغل میں بیٹھی قائرہ کا منہ پھٹے کے پھٹا ہی رہ گیا تھا۔

قائرہ:

تم۔۔ تم پاگل ہو!!!! 

ویر (مسکراتے ہوئے):

جاؤ!!! 

آنیسہ (مسکراتے ہوئے):

مم~ *پچ~

ایک آخری بار اپنے مالک کے لن کے ٹوپے کو چوم  کروہ کار سے باہر نکل گئی۔

ان کی کار کھڑی ہوئی تھی، کورٹ کے باہر۔

ویر (مسکراتے ہوئے):

اور تم،،، خواتین کی طاقت تنظیم کی  ہیڈ۔،

قائرہ:

ہہہہ!!!؟؟ تتمہیں کیسے۔۔؟؟؟؟

ویر (مسکراتے ہوئے):

مجھے سب پتا ہے۔ ویسے، گلے میں پٹہ باندھا تھا میں نے۔ کہاں گیا؟ اگلی بار اگر مجھے نظر نہیں آیا  تو تمہارا ویڈیو آفیشلز کے پاس جائے گی سیدھی۔ میں تمہیں وارننگ بھی نہیں دوں گا۔

قائرہ:

تم۔۔ چھی!!! حرامی!!!! 

ویر:

اب انہیں کال کرو۔

قائرہ: !!!؟؟؟

ویر:

خواتین کی طاقت تنظیم کو فون لگاؤ اور ان سے کہو کہ اس کورٹ کے باہر ایک عورت کو ان کی مدد کی سخت ضرورت ہے۔ ہر حال میں اس کی مدد کرنی ہی ہے۔

قائرہ:

ک-کیااا!!!!؟؟؟

ویر (مسکراتے ہوئے):

کرو!!! 

مجبوراً، قائرہ کو وہ سب کچھ کرنا پڑا جو ویر کہتا گیا۔ اس نے  (خواتین کی طاقت تنظیم) میں فون بھڑایا اور۔۔ ویسا ہی کہا جیسا ویر نے کرنے کو کہا تھا۔

اور اب شروع ہو رہا تھا۔ دی گرینڈ شو۔

آنیسہ کا دل بھی زوروں سے دھڑک رہا تھا۔ کار کے باہر آ تو گئی تھی، پر اپنے مالک سے بچھڑتے ہی اب اس کا خود اعتماد ڈگمگا رہا تھا۔ جب جب وہ اپنے مالک کے پاس رہتی تھی تو کبھی اسے یہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ پر آج، وہ تھوڑا گھبرائی ہوئی تھی۔ لیکن،  پہلی بار اس کے مالک نے اسے کوئی کام سونپا تھا۔ اور وہ اپنے مالک کو مایوس نہیں کرنے والی تھی۔

وہ دکھانے والی تھی آج کہ وہ ہر ایک روپ سے اپنے مالک کے کام آ سکتی تھی۔ صرف جسمانی روپ سے ہی نہیں۔

اور من میں حوصلہ باندھ کر وہ آگے بڑھی اور شروع کیا اس نے اپنا کھیل، 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page