Perishing legend king-295-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 295

نکل باہر بزدل  وکیل!!!! ارے کہاں چھپ کے بیٹھا ہے۔۔!!؟؟ باہر نکل رجت!!!! اووو رجت!!!! بڑا مرد  بنا پھرتا ہے۔۔ پر حرکتیں تو تیری عورتوں جیسی ہیں۔۔ باہر نکل۔۔ میں کہتی ہوں باہر نکل!!!! کیا چوڑیاں پہن کر اندر بیٹھا ہے۔۔ ارے ایک ماں کو درد پہنچایا ہے تو نے۔ ایک ماں ہی دوسری ماں کا درد سمجھ سکتی ہے۔ میں چپ نہیں بیٹھوں گی۔ تیری ہر کرتوت کو سامنے لاؤں گی۔ میری سہیلی کو جو تو نے درد دیا ہے، وہ سب سچ سامنے لا کے رہوں گی۔۔” 

اور شروع ہو گیا۔ آنیسہ کا کھیل۔ وہ چیخ چیخ کے کورٹ کے باہر ہی چلانے لگی۔

اور بیشک، اس کے ایسا کرتے ہی ساری پبلک ایٹریکٹ ہوکے وہاں جمع ہو گئی۔ سب تماشا دیکھنے کھڑے ہو گئے۔ اور آپس میں سوال کرنے لگے۔

آنیسہ کی یہ حرکت،  وہاں موجود پولیس کو پسند نہ آئی اور جو دو پولیس کورٹ میں باہر ہی موجود تھے وہ آنیسہ کے پاس آکے اسے بول کر ہٹانے کی کوشش کرنے لگے۔ پر آج سب بیکار تھا۔ آنیسہ نہیں رکی۔ اور طعنے پر طعنے چیخ چیخ پر مارتی رہی۔

جیسے ہی یہ خبر اندر رجت کے پاس پہنچی، وہ اپنے ایک  منشی کے ساتھ بھاگا بھاگا باہر آیا۔

رجت:

یہہہ-یہ سب کیا ہو رہا ہے؟

آنیسہ:

کیوں رے!!؟؟  نادان بنا پھرتا ہے؟؟ ہاں؟ تم سب دیکھ رہے ہو؟؟؟ دیکھ رہے ہو نا آپ سب اس چہرے کو؟؟؟ یہی حرام خور اپنی پری جیسی بیوی پر کیا کیا  ظلم کرتا ہے آپ کو پتا ہے؟  میں بتاتی ہوں۔ یہ کمینہ نہ صرف اپنی بیوی کو مارتا ہے بلکہ، اس کے جسم پر گرم پگھلتی ہوئی موم گراتا ہے، اسے ٹارچر کرتا ہے، مارتا ہے پیٹتا ہے، اور سب سے بڑی بات۔۔۔۔۔ 

ساری پبلک آنیسہ کے کارناموں کو دیکھنے میں لگی ہوئی تھی۔

آنیسہ:

اس کمینے نے اپنی بیوی سے اس کا بیٹا چھین لیا اور اپنے گھر میں رکھےہوئے ہیں۔ اور اس سے 50 لاکھ کی مانگ کر رہا ہے تاکہ وہ اپنا بچہ لے جا سکے۔  وہ بچہ بیچارا۔۔۔ ایک نو زائیدہ شیر خوار۔۔۔ اسے تو ایک ماں کے دودھ کی ضرورت رہتی ہے کہ نہیں۔۔!!؟؟ بتائیے!!؟

آنیسہ کی بات سن کر وہاں سبھی ہاں میں سر ہلانے لگے جو پاس میں کھڑے ہوئے تھے۔

آنیسہ:

اور اس کمینے نے ایک ماں کو اپنے بیٹے سے الگ کر دیا۔  بتائیے اب۔۔ کیسے اس نو زائیدہ شیر خوار کو ایک ماں کا دودھ حاصل ہوگا جو اس کے لئے بےحد ضروری ہے۔ بولیے!!!؟؟  میری سہیلی۔۔ بیچاری۔۔ اس کے چنگل میں پھنس گئی۔۔ اس کی معاشی حالت کا فائدہ اٹھا رہا ہے یہ کمینہ۔۔ ایسے درندے کو کیا ہمیں معاف کرنا چاہئے!!!؟؟

رجت:

ااے عورت۔۔ ت-تم کون ہو؟؟ میں تو تمہیں جانتا تک نہیں۔ نکل جا یہاں سے۔ بکواس کرنا بند کر دے۔ ورنہ سیدھے اندر کروا دوں گا تجھے۔ اور آپ لوگ کھڑے کھڑے کیا دیکھ رہے ہیں؟ اسے لے کے جائیے۔۔ بکواس کر رہی ہے پاگل کہیں کی۔۔
رجت نے غصے میں پولیس سے کہا تو پولیس صرف سمجھا ہی سکتی تھی۔ ایک خاتون کانسٹیبل کو ہی عورت کو پکڑ کے لے جانے کی اجازت تھی۔ مرد انسپکٹرز کو نہیں۔ مجبوراً وہ کہہ ہی سکتے تھے پر آنیسہ نہ رکی۔

15منٹ تک آنیسہ ہنگامہ کھڑا کرتی رہی۔ اور جب رجت خود آکے اسے گھسیٹ کے لے ہی جانے والا تھا تبھی۔۔۔

نہیں چلے گی۔۔ نہیں چلے گی۔۔ تاناشاہی نہیں چلے گی۔۔ نہیں چلے گی۔۔ نہیں چلے گی۔۔ تاناشاہی نہیں چلے گی۔۔ ہمیں ہمارے حق دو۔۔ ہمیں ہمارے حق دو۔۔” 

بھاری مقدار میں خواتین کی طاقت تنظیم کی آدھے سے زیادہ عورتیں وہاں ہاتھوں میں پوسٹرز اور پروٹیسٹنگ بورڈز لے کر جمع ہوگئیں۔ اور اب پہلی بار، رجت کی گانڈ پھٹی۔

یہ تنظیم بہت ہی اہم  جو خواتین کی طاقت  دکھا رہی تھی۔ بے حد اہم۔ ان کے کارنامے پورے شہر میں مشہور تھے۔

اور وہاں پہنچتے ہی ان ساری خواتین کو آنیسہ کی پریشانی کے بارے میں پتا چل چکا تھا۔ اب تو جیسے انہیں یہاں سے ہٹانا ناممکن سا ہو چکا تھا۔

آنیسہ:

میری سہیلی کا بچہ لوٹاؤ۔۔ تمہیں 50 لاکھ میں دوں گی۔۔ پر اس کا بچہ اسے واپس دو۔

واپس دو۔۔ واپس دو۔۔ !!!” وہ نعرے لگانے لگی۔

اور ادھر رجت کا منہ سکڑ کے لیمن کی طرح ہو چکا تھا۔ اس کے  منشی نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا، 

سر!!! لے دے کے رفا دفع کرو ورنہ بہت دقت ہو جائے گی۔ یہ  تنظیم  والے بہت اونچی چیز ہیں۔ ان سے نہ بھڑو۔ روشی میڈم کو کون نہیں جانتا؟ آپ کے ہی جیسے کورٹ میں وہ بھی بہت اعلیٰ درجے کی وکیل ہیں۔ اور وہ بھی،،،  اسی  تنظیم  کا ایک حصہ ہے۔ ابھی تک تو بات آپ کے گھر کے دروازے کے اندر تھی۔ پر اب باہر آ رہی ہے۔ پھنسیں گے آپ ہی۔” 

اور۔۔ بھگوان نہ کرے کہ یہ  تنظیم والے روشی میم کو وکیل کے روپ میں لے لیں آپ کے خلاف۔ پھر تو دقت ہو جائے گی۔ 50 لاکھ تو مل ہی رہے ہیں۔ ابھی 50 لاکھ لے کے رفا دفع کر دو معاملہ۔ بعد میں آپ اپنا  بچہ اور بھی طریقوں سے لے سکتے ہو۔” 

نا چاہتے ہوئے بھی رجت کو سہمت ہونا پڑا۔ اور اسی طرح سب کچھ ختم ہوا۔ اسی طرح پوری گھٹنا کو انجام دیا تھا  ویر نے۔

وہ اندر کار میں بیٹھے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اور نیچے اس کے لوڑے کو منہ میں بھرے ہوئے تھی، قائرہ بنسل۔ خواتین کی طاقت تنظیم  کی ہیڈ۔۔۔

اگر یہ اچیومنٹ نہیں تھا تو اور کیا تھا؟

ادھر آنیسہ کی ہمت کی سب داد دینے میں لگے تھے۔ انہیں کیا پتا تھا کہ وہی ہمت والی عورت۔۔ کچھ دیر پہلے ہی اپنے مالک کے لوڑے کو چوس کے کار سے باہر نکلی تھی اور اس وقت اس کا چہرہ اپنے مالک کی لن کی گند سے تپا ہوا تھا۔ سب لوگ اس بات سے ناواقف تھے۔

وہیں ویر، کار کے اندر سے آنیسہ کو ایک فخر بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اب باقی تھا۔۔ نندنی کو سرپرائز دینا۔

۔

۔

**xxxxxxxxx ہوٹل** 

**شام ~ 7:46 بجے** 

اس کے بعد جو کچھ بھی ہوا تھا۔ وہ نندنی کے ساتھ ہوا تھا۔ ویر یہاں سب کو دعوت دے چکا تھا۔ اور وہ من ہی من سوچ رہا تھا کہ نندنی کن جذبات کے ساتھ گزر رہی ہوگی اس وقت۔

ماموووو~” 

جوہی بھی آ چکی تھی۔ اس کی گود میں گھومتے ہوئے وہ ویر سے سرپرائز کے بارے میں پوچھتی جا رہی تھی۔ پر سرپرائز تو سرپرائز تھا۔

اور پھر آیا وہ پل۔۔۔۔

جب نندنی وہاں آئی۔ آنکھوں میں پٹی باندھے۔

جیسے ہی اس نے سب کچھ دیکھا۔ وہ  رو پڑی۔ اور ویر کو آج نندنی کو اس حال میں دیکھ کر، خود  رونا آ گیا۔ کتنا کچھ سہا تھا اس نے۔ فائنلی، آج اس کا دھرو   اس کے ہاتھوں میں تھا۔

چھوٹا بھئیااا۔۔. ماموووو~ چھوٹا بھئیااا آ گیا۔۔!!!!”

جوہی دوڑتے ہوئے گئی، دھرو کے پاس جو صوفے پر لیٹے سو رہا تھا اور اس کے گالوں کو ٹٹولنے لگی۔ اس سے زیادہ خوشی کی بات ویر کے لئے ہو ہی نہیں سکتی تھی۔

ویر نے سبھی کے لئے آج رومز بک کروائے ہوئے تھے۔ یہیں پر کھانا پینا اور سونا۔ صبح کا چیک آؤٹ تھا  ان کا۔

جب سب کمرے میں چلے گئے۔ تب۔۔ وہ نندنی کے ساتھ لان میں آیا۔ اور اس نے اپنے دل کی بات کہہ ڈالی۔

نندنی تو روتی رہی۔ قبول کہاں کرتی تھی وہ؟ عادت ہی تھی اس کی۔ پر ویر نے ٹھان لیا تھا۔ ایک نہ ایک دن، نندنی کو اپنا بنا کے ہی رہے گا۔

ان دونوں کے بیچ زیادہ باتیں نہیں ہوئیں۔ نندنی اس حالت میں نہیں تھی۔ لیکن، دونوں ایک دوسرے کی بانہوں میں ضرور بہت دیر تک رہے تھے۔ یہ بھی اپنے آپ میں ایک اچیومنٹ تھا۔

جب نندنی بھی روم میں چلی گئی۔ تو راگھو جو جانے والا تھا  وہ  ویر کے پاس آیا، 

راگھو:

کیا اس کام کے لئے آپ نے فلیٹ بیچا تھا باس؟

ویر:

ہممم!!! 

راگھو:

پر اس طرح۔۔ ان کے  شوہر کا کیا؟ اسے تو فری کا  روکڑا  مل گیا۔ کیا آپ اپنے ہاتھ سے جانے دیں گے فلیٹ اور پیسے؟

ویر:

تم نے سوچ بھی کیسے لیا؟

راگھو:

ہہہہ؟

ویر:

شیر کا شکار کرنے کے لئے تھوڑی دیر کے لئے بکری کو سامنے رکھنا پڑتا ہے  راگھو۔

راگھو: !!!؟؟؟

ویر کی آواز بدلی ہوئی سی تھی۔ اور اس کے ہاتھوں میں وائن کا ایک گلاس تھا۔

راگھو:

 اس کا مطلب۔۔!؟

ویر:

میں اس سے سب کچھ چھین لوں گا!!! 

۔

۔

قائرہ  کا گھر

صبح ~ 10:47 بجے اتوار ~

ہر اتوار کا دن آرام کرنے کا ہی ہوتا تھا۔ قائرہ کے اپنے گھر میں بھی یہی ہو رہا تھا۔ وہ ایک عالیشان ڈبل بیڈ پر اکیلی لیٹی ہوئی تھی۔ ریشم کی ایک مہنگی سرخ نائٹی اس کے گدرائے بدن کو ڈھکے ہوئے تھی۔

ابھی تک وہ نیند کی وادیوں میں تھی۔ اور جب آٹھویں بار اس کا الارم بجا، تو آخر کار الارم کلاک کو بند کر کے وہ انگڑائی لیتے ہوئے اٹھی۔ بدن کو سٹریچ کرتے ہوئے، اس کی بڑی بڑی چھاتیاں بھی اپنا پرچم لہرانے لگیں۔

*ہانپ

اتنے بڑے بستر پر، وہ اکیلی سو رہی تھی۔ نہ اس کا شوہر وکرم بنسل تھا،  نہ ہی اس کا بیٹا، روہیت۔

وکرم نیچے الگ ایک کمرے میں سو رہا تھا۔ اور اسی کے ساتھ اس کا لڑکا۔ صرف قائرہ ہی تھی جو اکیلے سو رہی تھی۔ اور یہ آج کا نہیں تھا۔ شادی کے بعد سے ہی یہ سلسلہ چلتا آ رہا تھا۔

روہیت کے ہو جانے کے بعد، قائرہ نے تین سال تک تو اسے اپنے ہی کمرے میں رکھا، اپنا دودھ پلایا، پر تین سال کے بعد ہی، اس نے یہ ساری ذمہ داری وکرم کو سونپ دی تھی۔

وکرم ہی تھا، جو روہیت کا خیال رکھتا۔ اسے کھانا کھلاتا، اسے سلاتا۔ اتنے عالیشان گھر میں ایک نوکرانی بھی تھی۔ جو گھر کا کام کرتی تھی، کھانا بناتی تھی، روہیت کو اسکول کے لئے تیار بھی وہی کرتی تھی۔ اس کا خیال بھی رکھتی تھی۔

اور جب وکرم تھک ہار کے کالج سے گھر آتا تو روہیت کی دیکھ بھال میں لگ جاتا۔

قائرہ کو کوئی مطلب نہیں رہتا تھا دونوں باپ بیٹے سے۔ وہ تو جیسے اپنی الگ دنیا جی رہی تھی۔ صبح کام پر جاتی، اور پھر رات کو ہی گھر آتی۔

غرور تھا  اسے۔ اور کیوں نہ ہو؟ وکرم سے کئی گنا زیادہ پیسہ کما رہی تھی وہ۔ معاشرے والے کیا سوچتے ہوں گے کہ شوہر سے زیادہ، ایک بیوی پیسہ کما رہی ہے۔

وکرم بری طرح پھنس چکا تھا۔ شادی سے پہلے اسے نہیں پتا تھا کہ قائرہ اس قسم کی عورت نکلے گی۔

قائرہ کو شروع سے ہی ایک ایسا مرد چاہئے تھا جو اس سے ڈر کے رہے۔ اور وکرم کے روپ میں وہ اسے مل گیا۔ وکاس کی جاب پروفائل قائرہ کی جاب پروفائل سے بہت ہی نیچے تھی۔ کہاں وہ ایک سادہ سا پروفیسر، اور کہاں قائرہ؟ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی ایچ آر ہیڈ۔

قائرہ کو شادی اپنے گھر والوں کے دباؤ میں آکر کرنی پڑی تھی۔ یہاں تک کہ بچہ بھی اس نے اسی لئے پیدا کیا تھا۔ وکرم کے ماں باپ دوسرے شہر میں تھے۔ تو کہیں کوئی پابندیاں نہیں تھیں قائرہ کے پاس۔

وہ ایک آزاد پرندے کی طرح تھی جو اپنی من مانی کر سکتی تھی۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔

وکرم قائرہ کے حسن میں پھنسا۔۔۔

شادی ہوئی۔۔۔

روہیت ہوا۔۔۔

اور تین سال بعد۔۔۔

قائرہ نے اپنے اصلی رنگ دکھا کر وکرم کی واٹ ہی لگا دی۔

اب چاہ کر بھی وکرم اسے طلاق نہیں دے سکتا تھا۔ کیونکہ، اس کے بچے کا سوال تھا۔ وہ یہی چاہے گا کہ کسی بھی طرح قائرہ سدھر جائے۔ پر جو عورت مردوں سے ہی نفرت کرتی ہو، وہ بھلا کہاں سے وکرم کی بات مانتی!؟

پر سوال یہ تھا کہ قائرہ مردوں سے اتنی نفرت کیوں کرتی تھی؟ جواب تھا قائرہ کا باپ۔

جی ہاں! قائرہ کے والد، اپنی بیوی پر ظلم کرتے تھے۔ اور یہی دیکھتے دیکھتے ہی قائرہ بڑی ہوئی۔ اس کی سوچ مردوں کے اوپر بدلتی چلی گئی۔ اور اس نے ٹھان لیا تھا کہ اگر وہ شادی کرے گی تو اپنے مرد کو دبا کر رکھے گی۔ اور وہی  ہوا۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page