Perishing legend king-296-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 296

قائرہ نے خواتین منڈل عرف خواتین کی طاقت تنظیم جوائن کی، دیکھتے ہی دیکھتے وہ اپنے پڑھائی، اپنے عہدے، اور اپنی نڈرتا کے چلتے وہاں کی ہیڈ بھی بن گئی۔ کمی تھی تو بس ایک چیز کی۔۔۔۔

قائرہ کو ہمیشہ سے ایک بیٹی چاہئے تھی۔ پر اسے ملا ایک بیٹا۔ تو اپنے بیٹے کے  چلتے  ایک ماں کا رجحان اس کا کم ہو گیا۔ اور وہ اپنے خاندان کو نظرانداز کرتی چلی گئی۔

اور آج وہ اس مقام پر تھی۔

باتھ روم میں جاتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو نائٹی سے آزاد کیا تو اس کا گدرایا گرم بدن سامنے آیا۔ آئینے میں خود کے جسم کو نہارتے ہوئے وہ شاور لینے لگی۔ پوری طرح سے نہا لینے کے بعد جب وہ باہر ایک باتھ روب میں باہر آئی تو دروازے کے باہر سے ہی اسے وکرم کی آواز سنائی دی، 

وو وہ،،،قائرہ،،، قائرہ!؟ تم۔۔۔ تم اٹھ گئی کیا؟” 

قائرہ:

ہاں اٹھ گئی ہوں۔ نہا  رہی تھی۔  کیا ہے؟

وکرم:

وہ،،، وہ آج نوکرانی چلی گئی ہے۔ اس کی طبیعت خراب ہے۔ 4-5 دن نہیں رہے گی۔

قائرہ:

ہاں تو مجھے کیوں بتا رہے ہو؟ ایک منٹ! مطلب ناشتہ ریڈی نہیں ہوا ابھی تک؟ تم کر کیا رہے ہو تب سے؟ تم نے ناشتہ بنایا یا نہیں؟

وکرم:

میں وہی تو بتا رہا ہوں کہ۔۔۔نوکرانی نہیں آئی ہے اور ناشتہ بننا ابھی باقی ہے۔ تو کیا تم۔۔۔!؟

قائرہ:

ہہ!!!؟ میں؟ میں ناشتہ بناؤں؟ آر یو فکنگ نٹس؟ ہہ؟ یہ تمہارے کام ہیں۔ جاؤ جاکے فٹافٹ ناشتہ ریڈی کرو۔ اور ہاں، مجھے سلاد بھی چاہئے۔ گو  ناؤ!!! 

دروازے کی دوسری طرف سے پھر قدموں کے جانے کی آواز آئی۔ وکرم جا چکا تھا۔

*کلک

اپنا وارڈ روب کھول کر، قائرہ نے اپنا باتھ روب نکال کر پھینک دیا اور ننگی ہی اس طرح کھڑے ہوئے وہ وارڈروب میں سے اپنے کپڑے ڈھونڈنے لگی آج کے پہننے کے لئے۔

تبھی اس کی نظر ایک چیز پر پڑی۔۔۔

اسے ہاتھ میں لیتے ہی قائرہ کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔

دیٹ باسٹرڈ…!!!!”

اس کے ہاتھ میں وہی چوکر تھا جو ویر نے اسے پہنایا تھا اس دن اس کے ہی آفس کے کیبن میں۔ کیسے وہ کتیا بنی نیچے بیٹھی ہوئی تھی، آنکھوں میں آنسو لئے،  اور ویر اس کی گردن پر پٹہ باندھ رہا تھا۔

مجال تھی کہ کوئی مرد اس کے ساتھ ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی سکے؟ پر ویر نے نہ صرف وہ کیا، بلکہ اس کے گلے میں ایک مالک کا ٹیگ بھی باندھ دیا۔ کہ اب سے وہ اس کی امانت تھی۔ جیسے مانو قائرہ کوئی انسان نہیں کوئی چیز تھی، جسے ویر نے خرید لیا ہو۔

ابھی وہ غصے میں آگ بگولہ ہو ہی رہی تھی جب بغل سے ہی اسے کسی کے سیٹی بجانے کی آواز آئی، 

*وِسل

ہہ!!!؟” 

جھٹکے سے وہ مڑی اور مڑتے ہی اس نے جو دیکھا، اس کی آنکھیں حیرانی اور شاک کے مارے پھیلتی چلی گئیں۔

سامنے ویر دیوار سے ٹیک لگائے ہاتھوں میں ہاتھ بندھے کھڑا تھا۔ اور اس کے ننگے جسم کو بڑے ہی  پیارسے دیکھ رہا تھا۔

آآآہہہہہہہ!!!!” 

قائرہ بدحواسی سے اپنا باتھ روب اٹھایا اور اپنے ننگے بدن کو ڈھک لیا۔

قائرہ:

تت-تم!!!؟؟؟

ویر (مسکراتے ہوئے):

مجھے نہیں پتا تھا،  کپڑوں کے پیچھے اتنا گرم جسم چھپا ہوا ہوگا۔

قائرہ:

تم… ہ-ہاؤ  ڈڈ  یو!!!؟؟؟

قائرہ کی نظریں ادھر ادھر گئیں تو اسے سمجھ آ گیا کہ ویر اس کے کمرے کے اندر کیسے آیا تھا۔ بغل میں ہی بالکونی تھی۔ اور بالکونی کا گیٹ اس نے صبح اٹھتے ہی کھولا تھا۔ پر وہ حیران اس بات سے تھی کہ ویر اتنی اوپر چڑھ کے کیسے آ گیا بھلا؟  اور تو اور، انٹری گیٹ پر گارڈز کیا کر رہے تھے؟ کیا انہوں نے ویر کو نہیں دیکھا؟

قائرہ:

تم۔۔۔تم اندر کیسے آئے؟؟؟ اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی ادھر آنے کی… کک-کیا، کیا چاہتے ہو تم؟؟

ویر (مسکراتے ہوئے):

ہمم؟ اپنی غلام کے گھر جانے کے لئے مجھے پرمشن لینے کی کیا ضرورت!؟ اور ذرا دیکھو تو۔۔۔ کیا تم یہ میرے لئے کپڑے اتار رہی تھی؟  ہم؟

قائرہ:

یو فکککرر!!!! گیٹ لوسٹ!!! گیٹ لوسٹ رائٹ ناؤ!!! ورنہ میں… میں چیخ دوں گی اور سب کو  اکٹھا کر دوں گی۔

ویر:

گو آن!!! ہاہاہا~ کیا ہوگا جب تمہارا شوہر یہ ڈھونڈے گا کہ تم کسی اور مرد کے ساتھ اندر بیڈروم میں سو رہی تھی۔

قائرہ:

واٹ-واٹ!!!؟؟؟

ویر (مسکراتے ہوئے):

میں تو یہی جواب دوں گا  نا۔۔۔

قائرہ:

یووو،،،  یو فکنگ،،،،

ویر:

سشششش۔۔۔ذرا میں بھی تو دیکھوں پاس سے کہ کیسا بدن ہے میری غلام کا کپڑوں کے پیچھے۔۔۔۔

کہتے ہوئے ویر آہستہ آہستہ جب قائرہ کی طرف بڑھنے لگا تو وہ گھبراتے ہوئے پیچھے کی طرف جاتی گئی اور دیوار سے بھڑ گئی۔

قائرہ:

واٹ-واٹ آر یو ڈوئنگ؟؟ ہ-ہہ؟؟ ڈ-ڈونٹ یو ڈیئر۔۔۔ایسی کوشش بھی مت کرنا۔۔تت-تم جانتے نہیں ہو اس کا انجام کیا ہوگا۔ میں،،،میں تمہارے ساتھ بہت کچھ کرسکتی ہوں سمجھے؟ کک-کچھ بول نہیں رہی ہوں اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم۔۔۔۔

پر اس کی آواز بیچ میں ہی کہیں غائب ہو گئی جب ویر نے اچانک ہی اپنے منہ میں اس کے ہونٹ بھر لئے۔

مممففف!!!؟؟؟” 

*سلرپ* *سلرپ* *شلک

*سک* *لِک* *موآآہہہ

آہہہننن~” 

اور بے رحمی سے ان ہونٹوں کو چوستے چوستے ویر نے قائرہ کے جسم سے وہ باتھ روب کھینچ کر الگ کر دیا۔ قائرہ ایک دم ننگی ویر کی بانہوں میں تھی۔

ویر کا ایک ہاتھ اس کی چھاتیوں کو مسلنے میں لگا ہوا تھا، تو دوسرا اس کی گانڈ کے پٹوں کو سہلانے میں۔ اور اس کے ہونٹ قائرہ کے ہونٹوں سے ان کا رس پینے میں مصروف تھے۔

مخالفت تو کرتی رہی قائرہ، پر ویر آج رکنے والا نہیں تھا۔ دھیرے دھیرے قائرہ کی مخالفت کمزور سی ہوتی چلی گئی۔

*ہف* *ہف* *ہف

قائرہ:

تمم… *ہف* میں تمہیں،،،میں تمہیں جان سے مار دوں گی… *ہف

ویر:

اوو… سو کیوٹ

آہہہہہننننن~” 

ویر نے اگلے ہی پل اسے اپنی گود میں اٹھایا اور وہیں رکھے ایک ریڈ لگژری صوفے پر اسے اچھالتے ہوئے پھینک دیا۔

آآآآآآ~” 

قائرہ:

یو باسٹرڈڈڈ! حرام خور۔۔۔

ویر نے سب ان سنا کیا اور قائرہ کے بدن کو موڑتے ہوئے اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کی گانڈ کے پٹوں کو چیرتے ہوئے کھولا۔

تو ایک عجیب و غریب نظارہ اس کی آنکھوں کے سامنے آیا۔ کھچاؤ کے چلتے قائرہ کی پھدی کے ہونٹ ایک دوسرے سے الگ ہو گئے اور اس کی گانڈ کا چھید پھیل گیا۔

نظارہ اتنا پرکشش تھا کہ ویر کی شہوت بہت زیادہ بڑھ گئےاور اس کا لن سلامی دینے  لگا۔ مطلب وہ تیار تھا۔ اپنا کام کرنے کے لئے۔

ویر:

فکککک!!!! اتنی نرم… اُففف~ ایسا لگ رہا ہے میں آٹا گوندھ رہا ہوں… جہاں بھی دباؤ، بس،،، اسی شکل میں یہ بدل جاتی ہے۔۔۔

اور پھر۔۔۔۔

*چٹاککککک

آئییییییی~” 

ایک زوردار چانٹا ویر نے اس کی گانڈ پر دے مارا۔ تو قائرہ کی گانڈ پانی کے سمان لہریں کھاتے ہوئے ہل پڑی۔

ویر:

ڈیمن! ناؤ… سپریڈ یور ای**… 

*چٹاک

آہہہنننن~” 

مجبوراً، قائرہ کو اپنے ہاتھوں سے اپنی گانڈ کو چیرتے ہوئے کھول کر دکھانا پڑا۔ اس کی سانسیں بہت تیز ہو چکی تھیں۔

ویر کے سامنے پھر سے وہ دلکش نظارہ آ گیا۔

ویر:

اُففف~ لوک ایٹ دٹ ناؤ… سپریڈ مور۔۔۔

*چٹاکککک

آہہہنننننگگگ~” 

اور قائرہ غصے میں ہی سہی پر اپنی گانڈ کو اور چیرنے لگی۔

ویر (مسکراتے ہوئے):

ہم۔۔۔ تو تم نے پہلے ہی ادھر کا افتتاح کروا لیا ہے  ہاں؟ شاید ڈلڈو کا ہی کام ہوگا۔ کیونکہ، تم مردوں سے تو  کرانے سے رہی۔ ویسے اچھا ہی ہے میرے لئے۔۔۔ ہاہاہا

قائرہ:

ہہ!!!!؟

*چٹاککککک

قائرہ:

آہہنن ماآآ

ویر:

سپریڈ  مور۔۔۔۔

ویر:

فککککک ڈ ڈیم اٹ!!! 

ویر نے اسے دوبارہ گود میں اٹھایا اور واش روم کی طرف لے گیا۔

ویر (مسکراتے ہوئے):

اکیلے اکیلے تم نے نہا لیا؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے بھلا؟ سزا تو ملے گی ہی۔

قائرہ:

نن-نہیں چھوڑووو۔۔۔۔

*چٹاککککک

قائرہ:

آآآآہہہہہہہ

ویر نے واش روم کے کیوبیکل میں گھستے ہی شاور آن کر دیا، اور قائرہ کا ننگا بدن پورا گیلا ہونے لگا۔

پانی کی بوندیں اس کے بدن پر سج چکی تھیں۔

اور ویر نے اس کے گدرائے جسم کو مسل کر تھاما اور دیوار سے لگا دیا۔ شاور سے گرتا پانی دونوں کو بھگا رہا تھا۔

ویر نے اپنا پہلا وار کیا۔ سیدھا قائرہ کی چھاتیوں پر۔ اور دودھ چوسنے لگا، 

ویر:

آخر ان میں سے دودھ تو نکالنا ہی پڑے گا نا!؟ تو میری ذمہ داری ہے یہ کہ میں ان دودھ کی تھیلیوں کو خالی کروں۔  رائٹ؟

*سک* *سلررررپ

ویر قائرہ کی چھاتیوں سے دودھ چوس چوس کر پینے لگا۔ اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا تھا اس کے لئے؟ اسے ایک ایسی غلام ملی تھی جو اپنی چھاتیوں سے دودھ بہاتی تھی۔ اس سے زیادہ جذبات سے بھری بات اور کیا ہو سکتی تھی؟ ویر جب چاہے اس کی چھاتیوں کو مسل کر ان میں سے دودھ پی سکتا تھا۔

ویر:

*سلررررپ* اُففف~ کیا  مزہ  ہے۔ 

قائرہ:

آہہہنن ماآآ~ *ہف* *ہف* کتے… کمینے… حرام خور… چھوڑ… *ہف* *ہف* چھوڑ  مجھے… آہہہننن

لیکن ویر چوستا رہا۔ اس کی انگلیاں نیچے قائرہ کی پھدی کو مسلتی رہیں جس کے چلتے قائرہ پانی پانی ہو چکی تھی۔ پھدی سے رس ایسے بہہ رہا تھا جیسے مانو پانی کا بندھ ٹوٹ گیا ہو۔

بھلے ہی قائرہ کا دل اور من مرد کو نہ پسند کرے، پر اس کا بدن تو ایک مرد کے ٹچ کے لئے تڑپ ہی رہا تھا  نا؟

اس کی باڈی اپنے آپ رسپانس دے رہی تھی۔

جب وہ پوری طرح سے گیلی ہو گئی تو ویر نے موقع دیکھا  اور۔۔۔۔

آآآآئییییییییی ماآآآآآآآآآ~” 

اپنا لن قائرہ کی غار میں پیل دیا۔ ایک بچے کو جنم دے چکی تھی قائرہ۔ تو درد تو ہوا اسے پر اتنا نہیں جتنا ایک کنواری لڑکی محسوس کیا کرتی ہے۔ ویر کے جھٹکوں اور اس کی لمبائی کے چلتے قائرہ کی آنکھیں پلٹنے لگیں۔

*پھٹٹٹ

*پھٹٹٹ

*پھٹٹٹ

بس شاور کے پانی گرنے کی اور ویر کی کمر قائرہ کی گانڈ پر پڑنے کی ہی آواز گونج رہی تھی پورے باتھ روم میں۔

چود چود کر ویر نے قائرہ کا حال بے حال کر دیا تھا۔

قائرہ:

نووووو~ نوووو~ آہہہہنننننن واٹ از دس۔۔۔سسسسسس~ *ہف* *ہف* آہہنن

اس کی آنکھیں بند ہوتیں تو کبھی آنکھوں کی پتلیاں پلٹنے لگتیں۔۔۔دھکوں کی وجہ سے پورا جسم اس کا ہچکولے کھا رہا تھا۔ دودھ کی تھیلیاں ادھر سے اُدھر جھوم رہی تھیں اور نپلز سے دودھ کی بوندیں رس رہی تھیں۔ پھدی  اس کی کس کس کر ویر کے لن  کو کھانے کی کوشش کر رہی تھی اور گانڈ کا چھید بار بار اکسا اکسا کر کھل اور بند ہو  رہا تھا۔

آخر لیسبین سیکس، ایک لیسبین سیکس ہی ہوتا ہے۔ اصلی سیکس نہیں۔ آج جب ویر نے قائرہ کو ایک مرد کی طرح چودا۔ تو قائرہ کا روم روم کھل اٹھا۔ اس کا پورا  وجود ہی ہل گیا۔ ایسی چدائی اس نے آج تک اپنی زندگی میں نہیں کی تھی۔

پر تبھی، 

قائرہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ~” 

کمرے کے باہر سے وکرم کی تیز آواز آئی۔

قائرہ:

ہ-ہہ!؟؟

اس سے پہلے کہ وہ آواز دے پاتی، ویر نے اسے گود میں اٹھایا اور چودتے چودتے ہی وہ اسے باہر لے آیا۔

آہہہننننن~” 

وکرم (باہر سے):

قائرہ…!؟

ویر قائرہ کو دروازے سے ٹیک کرکے  ہی چود رہا تھا۔ دروازے پر اپنے دونوں ہاتھ ٹکائے، جھکے ہوئے قائرہ اپنی  پھدی میں ویر سے لن پِیلوا  رہی تھی۔

قائرہ:

آہہہنننگگگ

وکرم:

قائرہ!؟؟؟

قائرہ:

ہ-ہاں… *ہف* *ہف* کککیا ہے!!؟

*پھٹٹٹ* *پھٹٹٹ

*پھٹٹٹ* *پھٹٹٹٹٹ

وکرم:

وہ۔۔۔۔ 

قائرہ:

کیا ہے!!!؟؟ ب-بولو جلدی… *ہف* *ہف* نننگگ

وکرم:

وہ۔۔۔بریک فاسٹ ریڈی ہے۔

قائرہ:

اوہ  اچھا!! ہ-ہاں تو چلو… *ہف* م-میں نہا کر آ رہی ہوں۔

*پھٹٹٹ* *پھٹٹٹ

وکرم:

پر تم تو  نہا  چکی تھیں  نا؟

قائرہ:

نننگگ~ مممم~ ہ-ہاں… پھر سے نہا رہی ہوں… تمہیں کوئی  دقت!!؟؟ *ہف

*پھٹٹٹٹ* *پھٹٹٹ

وکرم:

نہیں!!! بس یہی کہنا تھا جلدی نیچے آ جانا۔ روہیت نیچے ویٹ کر رہا ہے۔

اور وکرم وہاں سے چلا گیا۔

اسے اس بات کا اندازہ تک نہیں تھا کہ اس کی بیوی ٹھیک اسی دروازے کے پیچھے کھڑے ہوکے اپنی پھدی میں ایک غیر مرد کا لن لےرہی تھی۔ وہی  پھدی جس سے روہیت کا جنم ہوا تھا، اس غار کو ویر اب اپنے نام کر چکا تھا۔

وہ چھید اب پوری طرح سے ویر کا ہو چکا تھا۔ لیکن صرف وہی چھید  ہی نہیں۔ باقی سبھی چھید بھی۔

ویر نے پھدی میں جیسے ہی اپنا پانی چھوڑا، پھدی سے لن نکال کر اس نے قائرہ کی گانڈ  چھیدکے اندر پیل دیا۔ اور اس حملے سے قائرہ کی مانو جان ہی نکل گئی۔ وہ ایک دم تلملا اٹھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page