Perishing legend king-302-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 302

اس کا مطلب…’ 

پری:

یس!!! دوز فیم پوائنٹس۔ 500 فیم پوائنٹس پر۔۔۔ آپ کو ایک ٹرائی ملے گا۔ اسکرول ہنٹ یوز کرنے کا۔ اسکرولز آپ کے صرف فیم پوائنٹس سے ہی پا سکتے ہو۔

آئی سی!!!’ 

پری:

سو؟؟؟ ڈو یو وانٹ ٹو اوپن ون؟ آپ کے پاس کرنٹلی 600 فیم پوائنٹس ہیں۔ ایک بار یوز کر سکتے ہو آپ۔

اس میں بھی کوئی چانس والا سسٹم تو نہیں ہے نا؟ کہیں اس میں بھی کوئی ٹریش اسکرول تو نہیں ہاتھ لگنے والا؟’ 

پری:

نو ماسٹر! اس میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

گڈ دین!’ 

پری:

تو یوز کروں؟

اور کافی کچھ سوچ وچار کے بعد۔۔۔ ویر نے جواب دے دیا، 

یس! گو اہیڈ!!!’ 

۔

۔

*کلک* *کلک* *کلک

*کلک* *کلک* *کلک

سہانا اپنے گھر میں لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہی تھی رات میں۔

جب اس کا فون بج اٹھا، 

اور اسکرین پر نام اس کی ایک واحد خاص سہیلی کا تھا۔

شروتی

سہانا:

ہیلو؟

شروتی:

ہیلو سہانا

سہانا:

بولو؟ کیسے یاد کیا اب؟

شروتی:

یو ول ہیو ٹو کم!!!! 

 

سہانا:

واااٹ!!!؟؟؟

 

شروتی:

میں نے تمہیں بتایا تھا نا۔ آئی نیڈ یو سہانا

 

سہانا:

واٹ؟ پر ایسے اچانک سے۔۔۔!؟

شروتی:

میرے پاس زیادہ ڈیٹیلز میں بتانے کے لئے وقت نہیں ہے سہانا۔ اٹس سیریس!!! اینڈ بہت بڑا۔۔۔

سہانا: !!؟؟؟

شروتی:

آلسو۔۔۔ایک کلائنٹ وہ بھی ہے۔

سہانا:

ہہہ!!؟؟؟

شروتی:

آئی نو اب تم منع نہیں کرو گی۔ رائٹ؟ اور ہوسکے۔۔۔ تو پریپریشن کے ساتھ آؤ۔ یو نو واٹ آئی مین رائٹ؟

سہانا:

شروتی تم۔۔۔۔

شروتی:

میں کچھ نہیں کر سکتی سہانا۔ ون لاسٹ ٹائم۔ پلیز!!! کم!!! اس کے بعد آئی پرامس۔ آئی ول نیور آسک یو فار سچ ریکویسٹس۔

سہانا (آہ بھرتے ہوئے):

میں تم سے دو دن میں بات کرتی ہوں۔ آئی ہیو ٹو تھنک۔ میرا مائنڈ کام کرنا بند ہو گیا تمہاری وجہ سے۔۔۔

شروتی:

دو دن کے صرف۔۔۔ آئی ڈونٹ ہیو مچ ٹائم سہانا۔۔۔ آئی کین اونلی ویٹ فار 4 ڈیز ایٹ میکس۔ پر دو دن کے اندر مجھے تمہارا آنسر چاہئے ہی چاہئے۔ نو۔۔۔ اگر تم نہیں آئی تو میں تمہیں لینے آ جاؤں گی۔

سہانا:

آئی… آئی ول تھنک!!! 

شروتی:

یو ہیو ٹو کم!!!! 

*کال اینڈز*  

اور کال کٹ ہو گیا۔ سہانا!!! گہری سوچوں میں ڈوب گئی۔

اس نئی خبر نے۔۔۔ اسے پورا  مشکل میں ڈال دیا تھا۔ سم تھنگ۔۔۔ موسٹ بی ڈن!.

۔

۔

۔
زززززززززززززززز

زززززززززززززززز

دیر رات میں ۔۔۔کمرے میں آتی بس ایک مدھم سی لائیٹ کی روشنی میں، ویر نیند کی وادیوں میں  تھا۔ ہر رات کی طرح پری سلیپ موڈ میں تھی۔ اور  ہمیشہ کی طرح رات میں اس کے کمرے کا دروازہ آج ہی کھلا ہوا تھا۔

تبھی اس کے کمرے میں اچانک آہٹ ہوئی۔

چچچم۔۔۔چچچم

چوڑیوں  کی کھنک ہوئی۔ اور اس ہلکے سے اجالے میں ایک سایہ سا  ا ُمڈ آیا جس کے اگلے ہی لمحے۔۔۔۔

٭کلک٭

ویر کے روم کا دروازہ اندر سے لاک  ہوگیا۔  ویر اپنے آس پاس ہورہی  ہر موؤمنٹ سے بےخبر  مست ہوکے سو رہا تھا۔ وہ سایہ دھیرے دھیرے  آگے کو بڑھتی ہوئی    ایک عورت کے روپ میں نمودار ہونے لگی اور ویر کے بغل میں بیٹھ گئی۔

ایک کومل سا احساس ویر کے گالوں  پر ہوا۔ نرم  لال ہونٹوں کا بوسہ۔۔۔ اوراس کے بالوں پر ایک ہاتھ رکھ کر اسے سہلانے لگا۔

آج نہیں تو کل۔۔۔میں بھی تمہارے دل میں ایک مستقل مقام بنا ہی لوں گی۔ تم دیکھنا! تمہاری ساری ناراضگی دور کر دوں گی میں، میرے بچے!!! 

جی ہاں، یہ شویتا ہی تھی۔ جو اکثر ویر کے کمرے میں رات کو اسے دلار کرنے کے لئے آ جایا کرتی تھی۔ ویر کے جاگتے ہوئے تو وہ اس سے بات بھی نہیں کرسکتی تھی، کہ صرف یہی  طریقہ تھا اس کے پاس ویر کو قریب سے نہارنے کا۔

پر ہو نہ ہو، اُس دن کے بعد سے شویتا کا من بڑا ہی بےچین رہتا تھا۔ وہی دن، جب ویر کی نظریں مسلسل ہی اس کے پستانوں پر ٹھہر گئی تھیں۔ شویتا آئے دن اس حادثے کو یاد کرتی اور خود سے سوال جواب کرتی۔ کہ آخر کیوں ویر نے اس کے تھنوں پر نظریں  جمائےتھیں؟

بڑھتی عمر میں عورتوں کے جسمانی خوبصورتی تو ایک عام سی بات تھی۔ لیکن، جو سوال اسے سب سے زیادہ ستارہا تھا وہ یہ تھا کہ۔۔۔

گھر میں اتنی عورتوں میں، ویر کی نگاہیں کے صرف اس کے ہی  چھاتیوں پر کیوں گئیں؟؟ وہ بھی ایک نہیں، دو بار۔ جب وہ کچن میں تھی تب بھی تو…!!! ویر نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔ پہلی بار کا تو ایک دُرگھٹنا مان سکتے ہیں پر دوسری بار؟ وہ جانتی تھی کہ دوسری بار صرف ایک حادثہ نہیں تھا۔ ویر نے واقعی مرضی سے اسے دیکھا تھا۔ اور یہی سوچ سوچ کر شویتا کی رات کی نیندیں اڑتی جا رہی تھیں۔ ہر رات اس کی بے چینی میں گزر رہی تھی۔

وہ ابھی بھی ویر کو نہارتے ہوئے اس کے بغل میں لیٹ کر اسی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی جب ایک ہلا دینے والا خیال اس کے من سے ہوتے ہوئے گزرا۔ جس کے بارے میں سوچتے ہی اس کی آنکھیں حیرانی کے مارے پھیل گئیں۔ اور اس کا منہ اچانک ہی کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وہ تیز آواز میں زور سے حیرت بھری آہ بھرنے ہی والی تھی کہ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے کھلے منہ کو ڈھک لیا۔ کہیں کوئی جاگ جاتا تو مصیبت ہو جاتی۔

تھر تھراتے ہاتھوں کو تھام  کر وہ ویر کو دیکھنے لگی اور اس کے نینوں سے آنسوؤں کی بوندیں چھلک اٹھیں۔

تو کیا یہ بات تھی میرے بچے؟ ہاں؟’ 

آنسوؤں کی ایک دھارا اس کے گال سے ہوتے ہوئے ویر کے تکیے پر گرنے لگی۔ جیسے شویتا کو اس کا جواب مل گیا تھا۔ اس سوال کا جواب جو اسے اتنے دنوں سے بے چین کر رہا تھا۔

اوہہ میرا بچہہہہہ~~ !!!!”

اور اگلے ہی پل اس نے ویر کے سر کو تھام کر اپنے سینے میں دھنسا لیا۔ اور وہ اس کے چہرے کو چومنے لگی۔

*چو~* *پچھ* *پچھھ~* *موآآآہہ

اپنا پورا پیار برسنانے لگی۔

میں یہ بات کیسے بھول گئی؟؟؟ کیسے؟؟؟؟” 

اس نے اور کس کر ویر کو اپنے آغوش میں بھر لیا۔ ویر کا چہرہ اس کے بلاؤز میں قید ادھ ننگے تھنوں پر ٹکا ہوا تھا۔ شویتا  اچھی طرح اس ٹچ کے سپرش کو محسوس کر پا رہی تھی۔

میں کتنی بیوقوف ہوں۔ ہے نا؟ جو سمجھ ہی نہ پائی تھی اب تک۔ انجان بنتی رہی۔ پاگل تھی ایک دم۔ جبکہ ایک ماں ہونے کے ناتے مجھے پہلے ہی سمجھ جانا چاہئے تھا۔ پھر بھی میں۔۔۔” 

اس نے ویر کے چہرے کو اپنے چہرے کے پاس کیا، 

میں یہ کیسے بھول گئی کہ جب تم صرف ایک سال کے تھے تب ہی تمہاری اصلی ماں تمہیں چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ نہیں!!! وہ تمہاری اصلی ماں ہو ہی نہیں سکتی۔ اگر وہ تمہاری اصلی ماں ہوتی تو تمہیں اس طرح اکیلا چھوڑ کر نہیں جاتی۔ ہرگز نہیں! وہ بھی ایسی پریوار میں۔ اس دن بھی، کاویہ کی پارٹی میں تمہارے پِتا برجیش مجھے منا رہے تھے۔ پر اب میں واپس نہیں جانے والی۔ وہ عورت کیسے تمہیں اس حالت میں چھوڑ کر جا سکتی ہے؟ میں نے اپنی بھومی کے لئے پوری زندگی گزار دی۔ اور پھر بھی مجھے اس کی اتنی فکر رہتی ہے۔ تو پھر وہ عورت کیسے تمہیں…!!؟؟ ہاں! وہ تمہاری ماں نہیں۔ میں!!! میں تمہاری ماں ہوں ویر۔ شاید بھگوان بھی یہی چاہتے تھے۔ تبھی مجھے کوئی بیٹا نہ ملا۔ اور پھر مجھے اب تم ملے ہو۔ اور تبھی شاید وہ عورت تم سے لاپرواہ ہے۔ ہاں!! یہی بات ہے۔

تم دیکھنا میرے لال۔ میں تمہیں اتنا پیار دوں گی، کہ کبھی تمہیں ایک ماں کی کمی اب سے  محسوس ہی نہیں  ہونے دوں گی۔ ڈھیر سارا، خوب سارا پیار دوں گی اپنے بچے کو۔” 

میں نادان یہ سمجھ رہی تھی کہ تم شہوت کے چلتے میرے پستانوں کو دیکھ رہے تھے۔ اور ہو بھی سکتا ہے کہ یہ ایک وجہ رہا ہو۔ پر،،، پر ایک اور وجہ بھی تھا، ہے نا میرے بچے؟ ہے نا؟ میں سہی ہوں نا؟ تم نے پورے ایک سال تک ہی اپنی ماں کا دودھ پیا ہے۔ اور اسی لئے تم میرے پستانوں کو دیکھ رہے تھے نا؟ ہے نا میرے بیٹے؟ میں بیوقوف اب تک یہ سمجھ نہ پائی کہ میرا بچہ اسی لئے میری چھاتی گھور رہا تھا۔ آف کورس! تبھی تو تم نے مجھے دیکھا۔ نہ راگنی کو، نہ آنیسہ کو، نہ  پریت  کو، نہ اس کائنات کو۔ صرف مجھے!!! کیونکہ خون کے رشتے سے میں تمہاری ایک ماں نہ سہی، پر ایک سٹیپ ماں تو ہوں ہی نا؟ اور تمہارے اندر کا ننھا بچہ ایک ماں کے دودھ کی مانگ کر رہا تھا۔ جس کے لئے وہ ہمیشہ سے تڑپتا آیا ہے۔ اور اسی کے چلتے تمہاری نظریں اپنے آپ ہی میری اوپر چلی گئیں، ہے نا؟

یہی بات ہے نا ویر؟؟؟ ہائے~~~ میں ایک عورت۔ کاش میں اس وقت موجود ہوتی۔ تمہیں اپنے پستانوں سے بریسٹ فیڈنگ کرواپاتی۔ میرا بچہ~!!!”

*موووآآآہہ

جی بھر کے میں اپنے بچے کو پستانوں کی  فیڈنگ کروا پاتی۔ اس سے بڑا سکھ میرے لئے اور کیا ہو سکتا تھا؟” 

وہ  من میں سوچ سوچ کر ویر کو چومتی رہی۔ جب اس بار اچانک ہی اس کے دماغ میں ایک بھونچال پھیلا دینے والا خیال آیا۔ وہ ساکت سی ہوکے رہ گئی، ایک دم ۔

اس کا ایک ہاتھ کانپتے ہوئے اپنے آپ ہی ویر کے سر کے پیچھے گیا۔ اور دوسرا اس کے لال رنگ کے بلاؤز پر۔ آہستہ سے اس کا بلاؤز اس کے ہاتھ سے نیچے سرکا اور ایک سفید برا کا کپ ابھر کے سامنے آیا جس میں اس کےایک ددوھ کی تھیلی قید تھی۔ اس کا سینہ تیز سانسوں کے چلتے زوروں سے اوپر نیچے ہو رہا تھا۔ ویر کے سر پر موجود ہاتھ سے اس نے ویر کو دھکیل کر اپنے پستانوں کی طرف کیا اور۔۔۔۔

اوہہ میرا بچاااا~~~ !!”

اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک اور دھارا بہہ نکلا۔ وہ ویر کو اپنے سینے سے لگائے اس کے سر کو سہلاتی رہی۔

میں اب بھی تمہیں وہ پیار دے سکتی ہوں جو ایک ماں اپنے بچے کو دیتی ہے۔ ہاں۔۔۔ میں یہ کر سکتی ہوں۔ تمہارا وہ ننھا بچہ جو اب بھی تمہارے اندر کہیں چھپا ہوا ہے، اسے میں اپنا دودھ پلاؤں گی۔ ہاں۔۔۔یہ میرا فرض ہے۔” 

شویتا نے اپنی برا کا کپ آہستہ سے نیچے کیا۔ اس کا ایک نازک پستان آزاد ہوا، جس کی نوک پر ایک گہرا بھورا دائرہ نمایاں تھا۔ وہ اپنے ہاتھ سے ویر کے سر کو اس کی طرف لے گئی۔

پر۔۔۔ ویر تو گہری نیند میں تھا۔ اس کا چہرہ بس اس کے پستان پر ٹکا ہوا تھا، لیکن وہ اسے قبول نہیں کر رہا تھا۔

شویتا کی آنکھوں میں ایک عجیب سی مایوسی چھا گئی۔ وہ خود کو روک نہ پائی اور اس نے اپنا پستان ویر کے ہونٹوں کے قریب کیا۔ اس کی نوک ویر کے ہونٹوں سے چھوئی، لیکن ویر اب بھی سو رہا تھا۔

میرا بچہ۔۔۔جاگ جا۔۔۔ اپنی ماں کا یہ پیار قبول کر لے…” 

وہ بڑبڑاتی رہی، لیکن ویر کی نیند نہ ٹوٹی۔ آخر کار، شویتا نے ایک گہری سانس لی اور اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے اپنی برا کو واپس اوپر کیا۔

شاید… یہ صحیح وقت نہیں ہے۔ لیکن میں ہار نہیں مانوں گی۔ میں تمہیں وہ پیار دوں گی جو تمہارے حق کا ہے۔ ایک دن تم خود میری طرف آؤ گے۔” 

اس نے ویر کے ماتھے پر ایک لمبا چوما لیا ۔ وہ دوبارہ اپنے پستان کی نوک ویر کے ہونٹوں پر دبانے لگی مگر ویر گہری نیند سورہا تھا۔ تیسری بار جب شویتا نے پستان پر زور دیا تو نوک سے ویر کے ہونٹ تھوڑے سے کھلے۔ اورجیسے ہی ویر کے ہونٹوں نے شویتا کے پستان کی نوک کو جگہ دی۔  شویتا کے اندرمن میں سے ایک تیز آواز آئی، 

شویتا!!!! یہ تم کیا کر رہی ہو؟

آہہہہہہہ؟؟؟

اس نےجھٹ سے گھبراتے ہوئے ویر کو اپنے پستان سے الگ کیا۔ وہ اچانک وہاں سے اٹھی اور اپنی حالت کو درست کرنے میں لگ گئی۔ پوری پسینے سے بھیگ چکی تھی وہ۔

“ہے بھگوان!!! یہ میں کیا کرنے جا رہی تھی؟؟؟ میرا ویر اب کوئی بچہ نہیں ہے۔ وہ بڑا ہو چکا ہے۔ یہ میں کیا کرنے والی تھی؟ ویر کو اپنا  بریسٹ فیڈنگ کرانے کا  وقت  تو  گزرچکا ہے۔ میں اس  وقت میں موجود نہیں تھی۔ اوہہ نووووو~~~ یہ میں سچ میں۔۔۔کیا کرنے جا رہی تھی؟ جیسے ویر کے اندر کا بچہ دودھ کی تلاش میں تھا، کہیں میرے اندر کا بچہ بھی۔۔۔ اسے بریسٹ فیڈنگ کرانے کی تلاش میں تو نہیں؟ نہیں!! یہ اب ممکن نہیں۔”

ایک آہ بھرتے ہوئے وہ اٹھی اور جانے سے پہلے ایک بار پھر ویر کو دیکھنے لگی۔ اس کا ہاتھ اپنے آپ ہی اس کے ایک پستان پر چلا گیا۔ اور اس نے ہولے سے اسے مسل دیا،

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page