Perishing legend king-304-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 304

وہیں راگنی بھی آئی اور ٹیبل کی مین چیئر پر بیٹھ وہ اپنی اور آنیسہ اور شویتا کی پلیٹ لگانے لگی۔ شویتا راگنی کے سامنے والی دوسرے چور پر موجود چیئر پر بیٹھ گئی۔ تو خاموشی کو توڑتے ہوئے بھومیکا نے بات شروع کی، 

بھومیکا:

ماں~ کل بھی آپ ہوٹل سے جلدی لوٹ آئیں۔ کیا بات ہے؟

شویتا (ویر کو دیکھتے ہوئے):

میں نے کچھ ڈیسائیڈ کیا ہے بیٹا۔

بھومیکا:

کیا ماں؟؟

ویر کو چھوڑ کر سبھی کی نظریں شویتا کے اوپر تھیں، تو وہیں بیچاری شویتا ویر کو سبھی کی نظروں سے بچ کر چوری چوری دیکھ رہی تھی۔

شویتا:

یہی کہ میں ہوٹل کی دیکھ ریکھ اب چھوڑ رہی ہوں۔

بھومیکا:

واٹٹٹٹ؟؟؟؟

اور اس بار نہ صرف وہ سبھی، بلکہ ویر کا منہ بھی بریڈ رول کو چباتے چباتے رک گیا۔

بھومیکا:

کک-کیا مطلب ہے آپ کا؟

شویتا:

وہی جو تم نے سنا بیٹا۔

بھومیکا:

نہیں!!! پر یہ اچانک سے آپ..!! 

شویتا (ویر کو دیکھتے ہوئے):

میری کچھ اور بھی ذمہ داری ہیں، جن سے میں ہمیشہ سے نظر انداز کرتی آئی ہوں۔ اور اسی لئے، اب میں پورا کا پورا دھیان اس پر دینا چاہتی ہوں۔

وہاں موجود سبھی ہوشیار تھے۔ شویتا نے یہ بات کسے دیکھ کر کس کیلئے کہی تھی وہ سبھی سمجھ  چکے تھے۔ اور وہ خاموش ہی رہے۔ صرف ویر ہی تھا جو اب نارمل ہوکے بیٹھا تھا۔

بھومیکا:

آ،آئی انڈرسٹینڈ موم۔

شویتا:

ہمممم۔۔۔۔!

شویتا کی اس بات نے سب کو حیران کر دیا۔ ویر کے ذہن میں ایک طوفان سا اٹھ گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ شویتا ایسی بات کیوں کر رہی ہے؟ کیا اس کا رات کا وہ عجیب سا احساس اسی سے جڑا ہوا تھا؟

پری:

ماسٹررر~ یہ کچھ بڑا ہو رہا ہے۔ شویتا کی یہ بات۔۔۔ اس کا کوئی گہرا مطلب ہے۔

ہاں پری۔۔۔ مجھے بھی یہی لگ رہا ہے۔ لیکن۔۔۔یہ ذمہ داری کیا ہو سکتی ہے؟’ 

پری:

شاید۔۔۔ وہ آپ کی طرف اشارہ کر رہی ہیں؟ آپ کے بارے میں سوچ رہی ہیں؟ 

واٹ!؟  لیکن۔۔۔ کیوں؟’ 

پری:

ماسٹر، آپ کو یاد ہے وہ اسکرول آف انسائٹ؟ یہ وقت ہو سکتا ہے اسے استعمال کرنے کا۔ اگر آپ شویتا کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو۔۔۔۔ 

ویر نے ایک گہری سانس لی۔ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ شویتا کی اس بات کے پیچھے کوئی راز ہے۔ لیکن کیا وہ واقعی اس راز کو جاننا چاہتا تھا؟

ویر (خود سے):

اگر میں اسکرول استعمال کرتا ہوں۔۔۔ تو کیا مجھے وہ جواب ملے گا جو میں ڈھونڈ رہا ہوں؟ یا یہ مجھے اور الجھن میں ڈال دے گا؟

وہ ٹیبل پر بیٹھے سب کو دیکھ رہا تھا۔ شویتا کی نظریں اب بھی اس پر ٹھہری ہوئی تھیں، لیکن اس بار وہ نظریں عجیب سی گہرائی لیے ہوئے تھیں۔ راگنی خاموشی سے کھانا کھا رہی تھی، لیکن اس کی نظروں میں بھی ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ آنیسہ اور بھومیکا اب بھی شویتا سے سوال کر رہی تھیں، جبکہ پریت خاموشی سے سن رہی تھی۔

ویر کا دل تیز دھڑکنے لگا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اسے فیصلہ کرنا ہوگا۔

پری:

ماسٹر۔۔۔ وقت ہو رہا ہے۔ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اسکرول استعمال کریں یا… کچھ اور؟ 

ویر نے اپنی آنکھیں بند کیں اور سوچا، “شویتا۔۔۔ یا کوئی اور؟” 

اس کے ذہن میں ایک نام بار بار گونج رہا تھا۔ لیکن کیا وہ اس نام پر بھروسہ کر سکتا تھا؟

پری۔۔۔ مجھے کچھ وقت چاہئے۔ لیکن۔۔۔میں جلد فیصلہ کروں گا۔” 

پری:

اوکے ماسٹر۔ جب آپ تیار ہوں، بس بتائیں۔ اسکرول آپ کا انتظار کر رہا ہے۔

ویر نے سر ہلایا اور ٹیبل سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ اسے اکیلے میں سوچنا تھا۔ اس کے دل میں کئی سوال اٹھ رہے تھے، اور وہ جانتا تھا کہ اس کا اگلا قدم اس کی زندگی کو ہمیشہ کے لئے بدل سکتا تھا۔

۔

۔

ویر اپنے کمرے میں بیٹھا اپنے خیالات میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں وہ اسکرول آف انسائٹ کا خیالی وجود تھا، جو اسے کسی ایک شخص کے راز کھولنے کا موقع دے رہا تھا۔

شویتا… نندنی… ماہرہ… یا  راگنی… کون؟” 

اس کا دل ایک نام کی طرف بار بار جھک رہا تھا، لیکن وہ ابھی تک یقین نہیں کر پا رہا تھا۔

پری:

ماسٹر… آپ کا دل کیا کہہ رہا ہے؟ 

ویر نے ایک لمبی سانس لی اور بولا، 

پری… مجھے لگتا ہے۔۔۔میں شویتا کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔” 

پری:

واہ  ماسٹر! فیصلہ ہو گیا! کیا آپ اسکرول ابھی استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ 

ویر ایک لمحے کے لئے رکا، پھر پختہ آواز میں کہا، 

ہاں۔ کر دو۔” 

پری:

اوکے ماسٹر! اسکرول آف انسائٹ ایکٹیویٹ ہو رہا ہے۔

اور اسی لمحے، ویر کے سامنے ایک سنہری روشنی چمکی، اور اس کے ذہن میں شویتا کے بارے میں ایک گہرا  راز کھلنے لگا۔

پری:

اب تیار ہو جائیں ماسٹر۔۔۔ جو آپ جاننے والے ہیں، وہ آپ کی زندگی کو ہمیشہ کے لئے بدل سکتا ہے۔

۔

۔

جب ویر کار نکالتے ہوئے کہیں جانے کے لئے باہر پورچ میں آیا  تو راگنی تیز قدموں کے ساتھ باہر آکے دروازے کی دہلیز پر کھڑی ہوگئی۔

راگنی:

آج کدھر جا رہے ہو؟

ویر:

وہی! کام سے تھوڑا۔

راگنی:

ایسا کیا کام رہتا ہے ویر تمہارا…!!؟

وہ ٹیک کر کھڑے ہوتے ہوئے پوچھنے لگی، 

ویر:

ضروری کام ہے بھابھی آج۔ بزنس سے ریلٹڈ ہی ہے۔

راگنی:

مجھ سے بھی ضروری…!؟

ویر، جو کار کا دروازہ کھولنے ہی جا رہا تھا وہ اچانک راگنی کے اس طرح کے سوال پر پیچھے مڑ اسے حیرت میں دیکھنے لگا، 

ویر:

آئی۔۔۔

راگنی (اسمائل):

کب تک آؤ گے؟؟

ویر:

جلدی آنے کی کوشش کروں گا۔

راگنی مسکان بھرے اس کے نزدیک آئی اور۔۔۔۔

*چو~* 

اس کے گال پر ہر روز کی طرح وہی ایک میٹھی پیاری سی کس اسے دے دی۔ اور اس کے بعد اس نے اپنا گال آگے کر دیا۔ وہ مخملی اور گورا گورا گال اور وہ ہلکے پسینے سے بھیگے کچن میں کام کرنے کی وجہ سے اس کی کلائی کے آس پاس چپکے ہوئے بال۔

ویر نے ایک موقع نہیں گنوایا اور اس نے راگنی کے گال کو اپنے ہونٹوں سے چوم لیا۔

اس کی شرٹ کی کالر کو ٹھیک کرکے راگنی نے اسے روانہ کیا، اور ویر کار کو ریورس لینے لگا۔ تب ریورس لیتے وقت ہی اس کی نظریں اوپر ٹیرس پر چلی گئیں جہاں آنیسہ کھڑی ہوئی تھی۔ ہاتھوں میں اس کے چھت پر سکھانے کے لئے کپڑے تھے، اور وہ عجیب سی مسکان ہونٹوں پر سجائے ویر کو دیکھ رہی تھی۔ راگنی کے گھر کی ٹیرس ایسی تھی کہ وہاں سے پورچ،  پارکنگ ایریا  پورا نظر آتا تھا۔

فککککک!!! اوہ تھینک گاڈ!! آنیسہ ہے….’ 

پل بھر کے لئے ویر کی گانڈ ہی پھٹ گئی تھی۔ اگر اور کوئی ہوتا  تو نہ جانے کیا ہوتا۔

*وررررووووومممم

اور وہ وہاں سے راحت کی ایک سانس لیتے ہوئے روانہ ہو گیا۔

۔

۔

وٹسالا اسٹیل انڈسٹریز** 

شام ~ 4:38 بجے

ویر موجود تھا اس وقت اس بڑی کمپنی کی مین برانچ کے باہر۔ وہ اکیلا نہیں تھا، ساتھ میں شمائل بھی تھا اس کے۔

شمائل:

سب ہو گیا۔ پر میری سمجھ میں نہیں آیا ویر۔ میں نے تمہیں باقی 2 کمپنیوں کے بھی شیئرز کے آفرز دلوائے۔ وہ تو اس سے بھی بڑی تھیں۔ پھر تم نے یہ کیوں چُنی؟  لُک! میرے پاس رپورٹ بھی تیار ہے ویر۔ وٹسالا اسٹیل انڈسٹریز پچھلے کئی مہینوں سے لاس میں چل رہی ہے۔ ایسے میں اپنا پیسہ اس کے شیئرز میں لگانا۔۔۔ ام۔۔۔اور یہ ایک چھوٹی کمپنی ہے اگر ہم باقی دو کمپنیوں سے کمپئر کریں تو۔۔۔۔

ویر (اسمائل):

تمہیں پتا لگ جائے گا جلد ہی کہ کیوں میں نے وٹسالا پر انویسٹ کیا۔

شمائل:

 ہہ؟؟؟

آف کورس!! شمائل  نہیں جانتا تھا، کہ ویر کے پاس کیا تھا۔

اسٹاک  ماسٹر!!! 

وہ سکل جو اس نے پہلی بار یوز کی تھی۔ بھلے ہی اس میں 100% سکسس ریٹ نہیں تھا۔ پر کم سے کم 70% تو تھا۔ اور اسی لئے ویر نے 3 بڑی کمپنیوں میں سے سب سے چھوٹی والی کو اپنا پہلا ٹارگٹ چنا۔ اگر لاس بھی ہوئے تو اتنا نہیں۔

شمائل:

ویل! اینی ویز! آہہ! دن بھر کی بھاگ دوڑ میں تھکان ہو گئی۔ ہاؤ  اباؤٹ سم کافی؟

ویر (اسمائل):

میں چائے والا بندہ ہوں۔

شمائل:( اسمائل):

 یو نو کافی از بیٹر دین چائے۔۔۔

ویر:

اب اس بحث پر میں رات بھر بول سکتا ہوں۔

شمائل:

ہاہاہاہاہا~ لیٹس گو!! 

وہ دونوں کار میں بیٹھے ہی تھے کہ ویر کا فون بج اٹھا۔

*رنگ* *رنگ

کالر  کاویہ تھی، 

ویر:

ہیلو؟  بول کاویہ

کاویہ:

بھئیاااا~ آپ کہاں ہو؟؟؟

ویر:

ام۔۔۔میں تھوڑا  ابھی۔۔۔۔

کاویہ:

میں، اروہی دیدی اور منال سٹی مال میں ہیں اپنے۔ آئی نو آپ کہیں باہر ہی ہونگے، تو آپ یہاں آرہے ہو۔ اوکے؟ بائی بائی!!!! موآآآہہ

ویر:

وا-واٹٹٹٹ؟؟؟

*کال اینڈز

اور ایک جھٹکے میں کاویہ نے اپنی بات بول  کرفون کٹ کر دیا۔

ویر:

یہ لڑکی بھی  نا۔۔۔۔

شمائل:

کیا  ہوا؟

ویر:

کافی نہیں پینا؟ چلو سٹی مال لگاؤ گاڑی۔

شمائل:

واٹٹٹ؟؟؟ ویر  مانا کہ میں رچ فیملی سے بیلانگ کرتا ہوں پر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں مال میں کافی پیئوں گا۔ تمہیں اتنا سب کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔

ویر:

یو  ایڈیٹ!! 

شمائل:

ہ-ہہ؟؟؟

ویر:

کاویہ کا فون تھا۔ اس نے کہا ہے کہ وہ، اروہی دیدی، اور اس کی فرینڈ منال  وہاں پر ہیں تو اس نے مجھے بلایا ہے۔ تو چلو اب، جو بھی پینا ہے اب وہ  وہیں  پیئیں گے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page