Perishing legend king-310-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 310

یہاں تک کہ۔۔۔ فٹ پرنٹس بھی صاف صاف اجاگر نہیں ہو پائے۔

 

ایویڈنس کے طور پر کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا ہتھیارے نے۔ جیک کی موت چھری کے وار سے ہوئی تھی۔ فلحال تو بلڈ کی جانچھ اور جیک کا پوسٹ مارٹم ہی کچھ بتا سکتے تھے۔ پھر بھی آئی وٹنیسز کے لئے کھوج جاری تھی۔

 

اور وہ سراغ۔۔۔ جسے جیک نے لکھا تھا۔ ظاہر ہے وہ سراغ  ہی تھا۔

 

ڈیکسٹر نے جب بولنا بند کیا تو وہ باہر چلا گیا۔ ٹف کیسز میں شروتی اور ڈیکسٹر دونوں کو ہی یاد کیا جاتا تھا۔ بھلے ہی کوئی انہیں پسند کرے یا  نہ کرے۔ آخر پروفیشنلزم بھی کوئی چیز ہوتی تھی۔

 

اسسٹنٹ شیرف سے خاص پہچان بھی تھی ڈیکسٹر  کی۔ جس وجہ سے اسے اور شروتی کو اکثر یہ کیسز مل جاتے تھے۔

 

نتیجہ؟  پیسہ اور ترقی۔

 

سہانا:

تو یہ بات ہے؟ اسی لئے تم نے مجھے یہاں بلایا؟

 

شروتی:

ہممم! جیک  پہلا نہیں ہے سہانا۔

 

سہانا:

تمہارا مطلب…!؟؟

 

شروتی:

یسسس! جیک تیسرا شکار ہے۔ پہلے دو انویسٹیگیٹرز بھی مارے گئے۔ اور ان کے مرڈررز کا پتا بھی نہیں چلا ابھی تک۔ پر اس بار  جیک۔۔۔  وہ خاص تھا ٹیم کا۔ اور یہ اسی کی وجہ سے جو اس نے ہمارے لئے ایک نوٹ چھوڑا ہے۔ مجھے پہلے ہی پتا تھا یہ سارے مرڈرز کنیکٹڈ ہیں۔ اسی لئے۔۔۔آئی کالڈ فار یور ہیلپ۔


سہانا:

ہممم۔۔۔۔

 

شروتی:

یو ول ہیلپ می۔ رائٹ؟

 

سہانا:

ہممم

 

شروتی (مسکراتے ہوئے):

 تھینکس!!! 

 

سہانا:

تمہیں کیا لگتا ہے ویر!؟

 

ویر کی آنکھیں پروجیکٹر پر ہی جمی ہوئی تھیں۔ اس لکھائی  پر۔۔۔ جیک نے جو لکھا تھا۔۔۔

 

اس کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ تھا کہ۔۔۔

 

جیک آگاہ کر رہا تھا۔ من کے بھرے خیالات سے دور رہو۔ یہ وہاں لے جاتے ہیں جہاں کبھی نہیں جانا چاہئے۔ اور بعد میں یہ مصیبت میں ڈال دیتے ہیں۔ ایسی مصیبت جس سے آپ باہر نہیں آ سکتے۔

 

اور جب آپ کو پتا لگ جائے کہ آپ باہر نہیں آ سکتے۔ تو بھاگو اس سے۔ بھاگو!!! ورنہ۔۔۔یہ موت کی وجہ بنتے ہیں۔

 

کچھ ایسا ہی لکھا ہوا تھا گھما پھرا کے جیک نے۔

 

پر ان سب کا اس کے مرڈر سے کیا لینا دینا؟؟

 

شروتی خود زور دیتے ہوئے دیکھنے لگی جب کچھ دیر بعد ہی۔۔۔۔

 

اس کے پورے بدن کے رُوئیں کھڑے ہوگئے اور وہ اپنی جگہ سے چلاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔

 

آآآآآآہہ…..” 

 

ڈیکسٹر:

واٹٹٹ!!!؟

 

سہانا:

شروتی؟؟؟؟

 

ویر: !!؟؟

 

ایک ایک کی نظر اس کے اوپر جم گئی۔

 

اور وہ ہکلاتے ہوئے پھر بولی، 

آئی-آئی گوٹ اٹ۔۔۔ اٹ واز سو ایزی!! بٹ نووو!!!!! نو نو نو نو نو۔۔۔ دس از ہیووج!!!!! اٹس آ بگ پرابلم۔۔۔ اوہہہہ گووووڈڈڈ!!!!” 

 

شروتی جیسے پاگل ہو چلی تھی۔ نہ جانے اس نے ایسا کیا ڈھونڈھ لیا تھا  جیک کی لکھائی میں۔

۔

۔

۔

ممبئی… 

ایوننگ ~ 6:24 پی ایم

 

*وہوووووووشششش

 

آسمان سے ایک عورت نیچے اتری، ایئرسٹریپ  پر لینڈ کیا۔

 

اندر سے ایک عورت اور ایک نو جوان خوبصورت لڑکی  باہر نکلی۔

 

اور وہ ایک کیب میں سوار ہو گئی۔

 

ہم کِدھر جا رہے ہیں؟ کچھ تو کہیئے!” وہ لڑکی چلاتے ہوئے پوچھی۔

 

میں نے کہا  نا! تم ایک بھی سوال نہیں کرو گی۔” 

 

پر مجھے جاننے کا حق ہے۔ ہم یہاں کس سے ملنے آئے ہیں؟  اور کیا کرنے؟” 

 

میں ابھی نہیں بتا سکتی۔” 

 

پر کیوں؟ آپ ایسا کیا چھپا رہی ہو مجھ سے!؟” 

 

لیکن اس عورت نے ایک نہ سنی۔ کیب ایک ہوٹل کے سامنے رکی اور دونوں ہی خواتین اندر چلی گئیں۔

 

اس عورت نے ریسپشنسٹ کو کچھ دیا اور بدلے میں کمرے کی چابی تھام کر وہ لڑکی کے ساتھ اوپر کمرے کی طرف چلی گئی۔

 

آخر کب تک آپ مجھ سے چھپاؤ گی؟” 

 

ایک بار پھر لڑکی بلند آواز میں پوچھی، 

 

ایک بار میں سمجھ میں نہیں آتی کیا  سینا؟؟ میں نے کہا ہے  نا۔ میں نہیں بتا سکتی ابھی۔” 

 

جی ہاں! یہ سینا اور بھوانا  ہی تھیں۔

 

*تھڈ

 

اور کمرے کے ہی اندر سینا کو لاک کرکے بھوانا  باہر چل دی۔

 

غصے میں آ کر سینا نے اپنا بیگ یوں ہی بستر پر پٹکا اور وہ ونڈو کھول کر کسی سوچ میں ڈوب گئی۔

 

 

ممبئی کی یہ مند مند ہوا  پتا نہیں کیوں پر۔ اسے ایک اپنے پن کا احساس دے رہی تھی۔

 

آئی فیل سٹرینج۔۔۔ سم واٹ۔۔۔ فیمیلئر!!’

وہیں باہر ادھر بھوانا شدید تشویش میں تھی۔ اس کے ہاتھ موبائل کو تھامے ہوئے تھے اور زور زور سے کانپ رہے تھے۔

 

دیٹ واز  اٹ… یس!!! دیٹ واز اٹ۔ میں غلط ہو ہی نہیں سکتی۔ میری آنکھیں  دھوکہ کھا  ہی نہیں سکتی۔ آئی  ڈیفینیٹلی سا  اِٹ۔ اور اگر وہ چوری کا نہیں ہے تو وہ کوئی اور نہیں بلکہ۔۔۔۔’

 

سوچتے سوچتے اس کے جسم میں کپکپی سی دوڑ گئی۔

آنکھ بند کر کے بھی وہ  لاکٹ کو چھو کر پہچان سکتی تھی۔ تو دیکھنا تو دور کی بات تھی۔

 

اس نے  فٹافٹ ایک کال  ملایا، 

 

ہیلو؟” 

 

بھوانا:

ہیلو!  آروچی!!!!! 

 

آروچی:

ہاں؟  بھوانا؟  کیا تم ہو؟

 

بھوانا :

ہاں! میں ہی ہوں، آروچی! بھوانا

 

آروچی:

اوہ  مائی گاڈ!! کہاں سے بول رہی ہو تم؟ کہاں تھی اتنے  دن؟ اب یاد کیا مجھے؟

 

بھوانا:

آروچی! آئی ایم سوری۔۔۔پر ان سب کا سمای نہیں ہے۔

 

آروچی:

ہہہہے  کام ڈاؤن یو نو– 

 

بھوانا:

آئی  نیڈ  یو!!!!! رائٹ ناؤ!!!! 

 

آروچی:

ہو،،،ہہہ؟؟؟

۔

۔

۔

*بیینگ

 

موووم!!!”

 

*بیینگ* *بیینگ

 

موم دروازہ کھولیئے!!! آپ مجھے اندر بند نہیں کر سکتیں۔ میں جانتی ہوں آپ باہر ہی ہیں۔ اوپن دی  ڈور  موم!!!” 

 

دروازے کو پیٹتے ہوئے سینا  کمرے کے اندر سے زور سے چلائی۔

 

اس کی ماں، بھوانا نے اسے کمرے کے اندر ہی بند کر دیا تھا۔ اسے سچ جاننے کا پورا حق تھا کہ آخر یہ سب چل کیا رہا تھا؟

 

تھوڑی دیر۔۔۔میں تھوڑی دیر کے لئے ہوٹل سے باہر جا رہی ہوں۔ تب تک تم چپ چاپ اندر  ہی رہو گی سینا۔  نو کویسچنز  ایسکڈ۔” 

 

بھوانا نے کمرے کے باہر سے آواز لگاتے ہوئے کہا اور پھر وہاں سے نکل گئی۔ سینا اندر ہی  اندر چلاتی  رہ گئی۔

 

پر  فوراً  اس کے اندر خیال آیا، 

 

موم اچانک سے ممبئی مجھے لے کے آئی ہیں۔ اور اب کہیں جا رہی ہیں؟ مجھے بتا بھی نہیں رہی؟  ایسا کیا ریزن آخر۔۔۔ہوہہہ؟؟؟’ 

 

اور ایک تیز سنسنی مچا دینے والا  خیال اس کے من سے ہوکے گزرا۔

 

کک-کہیں۔۔۔ از اٹ بیکاز آف ہیم؟؟؟ ہاں!!! یہی! یہی ریزن ہے۔ دیئرز ایبسولوٹلی نو وے کہ موم  مجھے یہاں بیفالتو میں لے کر آئی ہیں۔ اٹ موسٹ بی بیکاز آف ہیم!! مائی۔۔۔ مائی برادر!!!! اوہ گاڈ!!!! میں نے پہلے کیوں نہیں اس بارے میں سوچا؟  آئی ہیو ٹو سی ہِیم…!!!’ 

 

میں موم کو اکیلے نہیں کرنے دے سکتی کچھ بھی ہو۔ ورنہ میں اپنا  چانس اس سے ملنے کا کھو دوں گی۔ موم  جان بوجھ کے مجھ سے چھپا رہی ہیں باتیں۔ آئی کین نٹ۔۔۔ آئی ایبسولوٹلی کین نٹ لیٹ ہر گو الون۔’ 

 

پریشانی میں ڈوبتے ہوئے وہ کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہلنے لگی، 

 

کیا کروں؟ کیا کروں؟ شٹ!!! آئی ایم ٹریپڈ انسائیڈ۔ سروس کال! رائٹ!! آئی کین کال دیم!’ 

 

اپنے کپڑے ٹھیک کرنے کے بعد اس نے جلدی سے ہوٹل میں روم سروس کے لیے رکھی لینڈ لائن پر کال کی۔

سینا نے بتایا کہ اس کی موم  اسے غلطی سے بند کر کے چلی گئی ہیں۔

 

ہوٹل والوں نے فوراً ہی سینا کی ریکویسٹ سنی اور ایکسٹرا اسپیئر کارڈ سے اس کے کمرے کو ان لاک کیا۔

 

کمرے کے لئے کی کارڈ لگتا تھا۔ جسے سکین کرکے روم کا ڈور ان لاک ہوتا تھا۔ پریشانی  یہ رہتی تھی کہ اگر آپ بغیر کارڈ لئے باہر نکلے اور ڈور بند ہوا تو ڈور پوری طرح سے لاک ہو جاتا تھا۔

 

اسی لئے ہمیشہ کی کارڈ کو ساتھ میں لے کے ہی نکلنا پڑتا تھا۔ بھوانا تو کی کارڈ لے کے باہر نکل گئی تھی۔ اور سینا نے اسی بات کو ایک بہانے میں تبدیل کر دیا۔

 

کہ وہ غلطی سے اندر ٹریپڈ  ہو گئی ہے۔ جبکہ ایسا نہیں تھا۔ اس کی موم جان بوجھ کے اسے بند کر کے گئی تھی۔ خیر! ہوٹل والوں کو کون سا کچھ پتا چلنے والا تھا۔

 

باہر آتے ہی سینا نے جیسے ہی ڈور بند کیا۔ ڈور پھر سے لاک ہو گیا۔ اب وہ بغیر کی کارڈ کے نہیں کھلنے والا تھا۔ جو کہ اچھا ہی تھا۔ اندر ان کا سامان موجود تھا۔

 

اور سینا بھوانا کو ڈھونڈنے جو نکل رہی تھی۔ تو پریشانی  والی کوئی بات ہی نہیں تھی۔

 

وہ تیز قدموں کے ساتھ وہاں سے لفٹ میں گئی اور فوراً ہی نیچے ریسپشن ایریا میں پہنچی۔

 

سینا:

ایکسکیوز  می؟؟؟ آپ نے ابھی کسی لیڈی کو باہر جاتے دیکھا؟ ارے! ابھی بس تھوڑی دیر پہلے آپ نے مجھے ان کے ساتھ چیک ان کرتے دیکھا ہوگا۔

 

ریسپشنسٹ:

یس میم! شی وینٹ آؤٹ سائیڈ۔

 

سینا:

او-اوکے! تھینکس

 

سینا جلدی میں بھاگتے ہوئے باہر نکلی۔ نہ جانے اس کی موم کہاں چلی گئی تھی۔

 

آخر کہاں گئی ہوں گی وہ؟ انہوں نے کہا تھا تھوڑی دیر میں آ جائیں گی۔ باہر نکل کر آس پاس  ڈھونڈتی ہوں۔ ہو سکتا ہے آس پاس ہی کہیں ہو؟’ 

 

یہ سوچ  کر وہ ہوٹل سے باہر نکل آئی۔ دوڑتے بھاگتے ہوئے وہ ہانپ ہانپ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ اپنی نظریں دوڑانے لگی۔ پر بھوانا کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔

 

کہیں وہ  دور نکل گئی کیا؟ شٹ! اگر ایسا ہے تو میں نہیں جان پاؤں گی وہ کیا کرنے گئی ہیں۔’ 

وہ ہار مان ہی چکی تھی جب اچانک سے اس کی نظر روڈ کے اس پار ایک کیفے کی طرف گئی۔

 

ہہ؟’ 

 

اور بے شک، اندر اس کی موم بھوانا بیٹھی ہوئی تھی۔ پر وہ اکیلی نہیں تھی۔ اس کے سامنے والی سیٹ پر ایک اور  عورت   بھی بیٹھی ہوئی تھی۔

 

ی-یہ؟ یہ کس کے ساتھ موم  بیٹھی ہیں؟ آئی موسٹ لسن ٹو  دیم…!’ 

 

سینا ان دونوں کی نظروں سے بچتے ہوئے کیفے میں اندر آئی اور ان کے ہی آس پاس کی ٹیبل پر مینو کارڈ اٹھا کے اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے بیٹھ گئی۔

 

کیفے کی سیٹنگ اس  طرح  کی تھی کہ سینا اور بھوانا کے بیچ ایک سیپریشن تھا۔ اور صرف تھوڑا اٹھ کے ہی اس پار کے نظارے کو دیکھا جا سکتا تھا۔

 

سینا کو دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اسے تو بس دونوں کی باتیں سننی تھیں۔

 

اور بھوانا آروچی اس بات سے انجان کہ سینا ان کے اس قریب بیٹھی ہوئی ہے، اپنی باتوں میں لگی ہوئی تھی۔

 

آروچی:

بھوانا تم اچانک سے یہاں؟ کہیں کچھ۔۔۔!؟

 

بھوانا:

ہاں آروچی ہاں! پریشانی والی ہی بات ہے۔ میں نے دیکھا آروچی۔۔میں نے دیکھا۔۔

 

کہتے ہوئے اس نے آروچی کا ہاتھ اپنے دونوں  ہاتھوں میں تھام لیا۔

 

آروچی:

 کک-کیا دیکھا تم نے بھوانا؟ ایسی کیا بات ہوگئی؟ بتاؤ  مجھے

 

بھوانا:

لاکٹ!!!! میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا آروچی۔ اپنی آنکھوں سے۔ وہ وہی  لاکٹ تھا۔ میں غلط ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔

 

یہ بات سن کر اُس پار بیٹھی سینا کے کان کھڑے ہو گئے۔

 

لاکٹ؟ کیسا لاکٹ؟ موم کیا بات کر رہی ہیں؟’ 

 

پر تبھی اس کے پاس ویٹر آ گیا، “یور آرڈر میم؟” 

 

سینا:

اغغغہ!!! جججسٹ آ کافی۔

 

ویٹر:

اوکے میم!! 

 

جیسے ہی وہ چلا گیا،  سینانے پھر سے ان کی گفتگو سننے کے لیے کان لگائے۔

 

آروچی:

لل لاکٹ؟ ایک،،،ایک منٹ بھوانا۔ تم کیا کہہ رہی ہو میری کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔

 

بھوانا کی آنکھوں میں اب آنسو آ چکے تھے۔

 

بھوانا:

آروچچچییی~ لاکٹ!!!!! وہی لاکٹ!!! میں نے دیکھا۔۔۔

 

آروچی کوئی بیوقوف انسان نہیں تھی۔ جب اس نے بھوانا کے آنسو دیکھے اور بار بار لاکٹ لفظ اس کے منہ سے سنا، تو اسے یہ اندازہ لگانے میں دیر نہ لگی کہ بھوانا کس لاکٹ کی بات کر رہی تھی۔

 

آروچی:

تت-تمہارا مطلب ہے کہ۔۔۔

 

بھوانا (سر ہلاتی ہوئی):

ہاں! ہاں آروچی!!! ہاں!!! وہی  لاکٹ۔ میں نے دیکھا۔۔۔ اپنی آنکھوں سے۔وہ وہی لاکٹ تھا۔

 

آروچی:

ایک،،، ایک منٹ!!! کہاں؟  میرا مطلب تم نے کہاں دیکھ لیا وہ  لاکٹ؟ رکو!!! وہ  لاکٹ تو اس کے پاس ہونا چاہئے تھا  نا؟ تو تم نے کہاں اور کیسے۔۔۔!؟

 

بھوانا:

آروچی!!!!! میری مصر  کی انویسٹیگیشن کے دوران میری ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی تھی۔

 

آروچی:

لڑکا؟

 

بھوانا:

ہاں!!! قریب 20-22 سال کی عمر کا تھا۔ لمبا،  خوبصورت ، کالی آنکھیں۔۔مدھر آواز۔۔


بتاتے بتاتے بھوانا اپنے آپ ہی  ویر کو یاد کرکے اس کی خیالوں  میں کھو گئی۔

 

بھوانا:

وہ بھی ممبئی سے تھا۔ اس نے اپنا  نام  گنیش  بتایا تھا۔ وہ  انویسٹیگیشن میں صرف اپنی اسکلز کے کارن ہی لیا گیا تھا۔ اچانک سے ہی وہ ہمارے کیمپین میں شامل ہو گیا تھا۔ راتوں رات وہ آیا تھا  ایک دم سے۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page