Perishing legend king-313-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 313

وہ کہتے ہیں نا،  شکار جتنا مشکل ہو، اسے پکڑنے میں اتنا ہی مزہ آتا ہے۔ شروتی کو بھی ابھی ویر کو پکڑنے کے چیلنج میں ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا۔

 

ویر نے ادھر اپنی جیب سے ایمرجنسی کے لئے رکھی ہوئی ایک بینڈیج نکالی اور شروتی کے ہاتھ پر بڑی ہی آرام سے وہ اسے باندھنے لگا۔ خون فوراً ہی بینڈیج پر ابزورب ہونا شروع ہو گیا۔ پر اس وقت، نہ ہی خون اور نہ ہی بینڈیج تھی جو شروتی کا دھیان کھینچے ہوئے تھی۔ شروتی کی  نبض مسلسل بڑھتی جا رہی تھی، جیسے جیسے ویر کی انگلیوں کی لمس اس کے ہاتھ پرمحسوس ہو رہی تھی۔ کئی لڑکے دیکھے تھے اس نے پر ویر جیسا آج تک کوئی نہ دیکھا۔ کچھ الگ ہی بات تھی اس میں۔

 

لمس کا وہ لمحہ شروتی کے دل کی دھڑکن تیز کرنے کے لیے کافی تھا۔ جب ویر نے پٹیاں باندھیں تو اس نے سر اٹھا کر دیویا کی طرف دیکھا جو خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

 

ویر:

فی الحال یہ خون کو تھوڑا روک کے رکھے گی۔ یو ول گیٹ سٹیچز۔ میں ٹیم کو کال کر رہا ہوں۔ یو کین ناٹ کنٹینیو ناؤ۔

 

شروتی:

تھینک یو

 

شروتی نے اس بار اپنے دل سے کہا۔ اور اس کی آنکھوں میں جھانکتی رہی جب تک ویر خود اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ ویر نے ابھی بھی اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، جس کے بارے میں سوچ کرشروتی کے ہونٹوں پر اپنے آپ ایک مسکان سج گئی۔ اور بے پرواہی سے، بنا کچھ سوچے سمجھے ہی، شروتی نے اپنا  انگوٹھا  ویر کے ہاتھ پر پیارسے  پھرا  دیا۔

 

کشش واقعی ایک بہت طاقتور ہتھیار تھا۔ دیویا یہ کیسے بھول سکتی ہے!؟

 

اوہہ نوووو~ یہ میں نے کیا کیا؟ شکاری میں ہوں۔ وہ نہیں۔ ہاؤ کین آئی لوز  مائی سیلف ان ہِز چارم؟’   (میں اپنے آپ کو اس کے سحر میں کیسے کھو سکتی ہوں؟’)

 

جب اسے اپنی حرکت کی بھنک لگی تو وہ اپنا سر نا  میں ہلاتے ہوئے خود کی تیز سانسوں کو تھامنے کی کوشش کرنے لگی۔ ویر نے فوراً ہی ٹیم کو کال کرکے اپنی نئی لوکیشن بھیج دی اور بے شک، کچھ دیر بعد ہی۔۔۔۔

 

ششروتییییی!!!!” 

 

سہانا کی اچانک آواز نے دونوں کو چوکنا کردیا۔ دونوں ایک دوسرے سے تھوڑا دور کھڑے تھے۔ انہوں نے دیکھا تو ٹیم کے دو اور ممبر بھی سہانا اور ڈیکسٹر کے ساتھ باہر آرہے تھے۔

 

ڈیکسٹر (پاس آتے ہوئے):

واٹ دی ہیل  ہیپنڈ  ہئیر؟

 

سبھی کی نظریں شروتی کے بینڈیجڈ ہاتھ کی طرف گئیں تو شروتی نے اپنا سر جھکا لیا۔ نہ جانے کیا سوچ رہی تھی۔

 

شروتی:

وی فاؤنڈ آل دی گائز۔ آئی گوٹ انجرڈ  بائی بھیم۔ بٹ تھینکس ٹو ویر۔ ناٹ اونلی ہی ہینڈلڈ دیم ویل، ہی آلسو پروٹیکٹڈ می۔ ہی پرووائیڈڈ  می ود دی فرسٹ ایڈ۔ آئی ایم ان آ مچ بیٹر اسٹیٹ کمپئرڈ ٹو ہاؤ آئی وڈ ہیو اینڈڈ اپ  ود آؤٹ ہیم۔  (ہم نے تمام لڑکوں کو ڈھونڈ لیا۔ میں بھیم سے زخمی ہو گئی۔ لیکن ویر کا شکریہ۔ اس نے نہ صرف انہیں اچھی طرح سنبھالا بلکہ اس نے میری حفاظت بھی کی۔ اس نے مجھے ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ میں اس کے مقابلے میں بہت بہتر حالت میں ہوں کہ میں اس کے بغیر ختم ہوجاتی۔)

 

ڈیکسٹر:

یو آر فائن؟ واٹ دی ہیل یو آر ٹاکنگ اباؤٹ؟ لُک ایٹ یور ہینڈ۔ کویک! وی نیڈ میڈیکل ہیلپ۔

 

اور وہ شروتی کو تھام کے لے جانے لگا۔ پر جانے سے پہلے اس نے ایک بار پیچھے مڑ کر ویر کو ضرور دیکھا اور بولا، 

 

تھینکس!!” 

 

اور وہ اسے لے کر آگے بڑھ گیا۔ شروتی نے بھی ایک جھلک پیچھے مڑ کے دونوں ہی سہانا اور ویر کو دیکھا۔ ویر کو خاص کر اور پھر وہ کار کے اندر بیٹھ گئی۔ اور ادھر، 

 

سہانا:

تھینکس

 

ویر:

ہممم؟؟؟

 

سہانا:

تھینکس فار سیونگ ہر۔ یو نو، وہ جیسی بھی ہے۔ میری بہت ہی خاص دوست ہے۔ سب سے خاص۔ شی ہیز سپورٹڈ می ان مائی ڈارکیسٹ ٹائمز۔ تو اس کا تمہاری طرف روڈ بی ہیوئر ہونے کے بعد بھی تم نے اس کی ہیلپ کی۔ ریئلی!! تھینکس!! 

 

ویر:

آلرائٹ!! 

 

سہانا:

اینڈ۔۔۔

 

ویر:

!!؟؟؟

 

سہانا:

آر  یو  اوکے؟

 

پوچھتے ہوئے وہ ویر کی طرف آگے بڑھی اور اس کے بدن کو اچھے سے دیکھنے لگی کہ کہیں ویر تو  زخمی نہیں ہوا۔

 

ویر:

آئی ایم فائن!!! 

 

ویر کے کہنے پر سہانا کی نظر پھر پیچھے گلی میں گئی جہاں کئی سارے آدمی پڑے ہوئے تھے۔ اور انہیں اس حالت میں دیکھتے ہی اس کے بدن میں ایک کپکپاہٹ پھیل گئی۔ اور وہ ایک سوچ میں پڑ گئی۔

 

جسٹ ہاؤ مچ سٹرینتھ از نیڈڈ ٹو ہینڈل آل دوز گائز  ایلون؟؟ ویر۔۔۔ تم۔۔۔ کتنے سچ چھپاؤ گے مجھ سے؟’ 

 

ویر:

وی شُڈ موو  ایز  ویل۔

 

سہانا:

آہہ!! رائٹ

 

اور کچھ اسی طرح سے، ‘بھیم دی سلپری’ ان کے ہاتھ لگا۔ فرسٹ کرِمنل واز کیپچرڈ۔ اسی کے ساتھ، مشن بھی کلیئر ہو چکا تھا۔

 

*ڈنگ

 

مشن: ‘کیپچر ~ بھیم دی سلپری’ ہیز بین کمپلیٹڈ۔

 

*ڈنگ

 

یو ہیو بین ریوارڈڈ 3000 پوائنٹس۔ 

 

شروتی ناؤ ہیز آ فکسڈ فیور ایبلٹی آف 50۔ ہر تھنکنگ ہیز بین چینجڈ ٹووارڈز  یو۔ نو میٹر واٹ ایکشنز یو ٹیک، شروتیز فیور ایبلٹی وونٹ ڈراپ بی لو 50۔

 

یو ہیو اسٹیبلشڈ آ نیم آف یور سیلف بائی کیچنگ دی کرمنل سپلینڈڈ لی۔ یو ہیو بین ریوارڈڈ  200 فیم پوائنٹس۔ 

 

ون ٹارگٹ ڈاؤن!!! نہ جانے کتنے باقی ہیں ابھی۔’ 

 

پری:

اٹس گوئنگ ٹو بی ریئلی ٹف ماسٹر! ریئلی ٹف!!! 

 

پری کی بات سے سہمت ہوکے، ویر چل دیا سہانا کے ساتھ  کار کی طرف۔

 

پہلا کرِمنل تو آسانی سے پکڑ ا گیا۔ پر کیا باقی بھی اتنی آسانی سے پکڑ میں آنے والے تھے؟  یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا۔

۔

۔

۔
دنیا میں ہر طرح کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ خوشی کا لمحہ ہو یا غم کا، کسی سے ناراض ہو جائے تو مار پڑتی ہے۔ کبھی شہرت ہوتی ہے تو کبھی جرم۔ کبھی جھگڑے ہوتے ہیں، کبھی کرپشن ہوتی ہے۔

 

اور اسی طرح ویگاس میں کل رات ایک کرائم کرنے والے کرمنل کو پکڑا گیا تھا۔ اس  حادثے کو انجام دیا گیا تھا۔

 

اور اس آپریشن کا ہیرو کون تھا؟ بے شک، ویر

 

پر کیا خطرہ ٹل چکا تھا؟ ہرگز نہیں! بھیم تو صرف شطرنج کے کھیل میں ایک  مہرہ تھا۔ وہ مہرہ ، جو کھیل میں سب سے پہلے مارا جاتا تھا۔

 

ان مہروں کے پیچھے ایک سے ایک درندے بیٹھے ہوئے تھے۔ ایسے لوگ جن کا نام سن  کرلوگ کانپ اٹھتے۔

 

یہ بات شروتی اچھی طرح جانتی تھی۔ اسے یہ احساس ہو گیا تھا کہ بہت ہی بڑی کوئی پلاننگ کر رہا ہے۔ پر سوال یہ تھا کہ اسے اتنا سب کیسے پتا چلا؟

 

کیا شروتی کچھ اور بھی بات چھپا رہی تھی؟ ویر نے یہ بھانپ لیا تھا۔ شروتی کچھ نہ کچھ تو ضرور چھپا رہی تھی۔ پر کیا؟ یہ جاننا باقی تھا۔

 

تب تک ممبئی میں کیا ہو رہا تھا یہ بھی جاننا ضروری تھا۔

 

ادھر راگنی صبح کا  ناشتا  آنیسہ اور شویتا کے ساتھ بنانے کے بعد چپ چاپ اپنے گھر کی ٹیرس پر کھڑی ہوئی تھی۔

 

بیچاری کا من ہی نہیں لگ رہا تھا کہیں۔ کیسے لگے گا؟ ویر کے جانے سے پہلے ہی راگنی نے جی بھر کے اسے چوما تھا۔ اور وہ احساس اسے پاگل کر چکا تھا۔

 

اب تو ایک پل بھی اس کے بغیر جینا مشکل ہورہا تھا۔

 

ہے بھگوان!! میں نے اس کے جانے سے پہلے ہی کیوں کیا وہ سب؟ اب تو مجھ سے رہا بھی نہیں جا رہا۔ بار بار وہی یاد آ رہا ہے۔ آخر روز روز کتنی ویڈیو کال کروں اس سے؟’ 

 

وہ اپنے آپ سے باتیں کرکے اپنی ہی خیالوں میں ڈوب گئی۔ روز روز ویڈیو کالز پر وہ ویر سے کم سے کم ایک گھنٹہ تو بات کر ہی لیتی تھی۔

 

ویر کی یاد راگنی کو اتنی زیادہ ستائیگی اسے اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا۔ پچھلی بار جب ویر مصر گیا تھا یا راجستھان۔ تب راگنی کو اتنی یاد نہیں آئی تھی۔ شاید اسے دل لگی کہتے تھے!؟

 

وہ یہاں خیالوں  میں کھوئی ہوئی کھڑی تھی کہ اس کے پیچھے سے تبھی آنیسہ بالٹی بھر کر کپڑے لے کے آئی اور اوپر تار پر گیلے کپڑے پھیلانے لگی۔

 

آہٹ پاتے ہوئے راگنی نے مڑ کے آنیسہ کو دیکھا اور پھر سے منہ پھیر کے وہ  اداسی میں ڈوب گئی۔  پر آنیسہ کے چہرے پر ایک قاتل مسکان سجی ہوئی تھی۔ وہ کپڑے ضرور پھیلا رہی تھی، پر اس کی نظریں راگنی کی پیٹھ پر ہی گڑی ہوئی تھیں۔

ویر جی کو یاد کر رہی ہو؟” 

 

راگنی کے کانوں میں آنیسہ کی آواز پیچھے سے پڑی۔ پل بھر کے لئے وہ ہچکچائی۔ لیکن جب اسے دھیان آیا کہ آنیسہ تو اس کی اپنی ہی تھی۔ گھر کے ممبرزمیں سے ایک تھی وہ۔ تو اس نے دھیرے سے سر  ‘ہاں’  میں ہلا دیا۔

 

آنیسہ (اسمائل):

میں جانتی تھی یہی بات ہوگی۔

 

راگنی:

اس کی عادت جو ہو گئی ہے۔ اس کی باتیں سن سن کے دن کیسے گزر جاتا تھا پتا ہی نہیں چلتا تھا۔ کالج کے لئے جب وہ جاتا تھا تو سارا سامان میں ریڈی کر کے دیتی تھی اسے۔ پر اس کے جانے سے دن جیسے کٹ ہی نہیں رہے اب۔ 

 

آنیسہ:

ہممم! یہ بات تو ہے۔ پر فکر  نہ کریں۔ ویر جی جلد ہی لوٹ آئیں گے۔

 

راگنی:

ہاں! پر کیا کروں؟ دل ہے کہ مانتا نہیں۔ خیر! آپ بھی آرام کر لو۔ صبح صبح مشین میں اتنی کپڑے دھوئے ہیں آج آپ نے۔

 

کہتے ہوئے وہ نیچے جانے لگی، تو آنیسہ نے دھیمی سی آواز میں کہا، 

 

صرف آپ ہی نہیں ہو جس کی راتوں کی نیند حرام ہوئی ہے۔ گھر میں میرے اور آپ کے علاوہ بھی اور کوئی ہے جو مجھ سے اور آپ سے بھی زیادہ بے چین ہے۔۔۔ فففف~” وہ کھل کھلائی۔

 

آنیسہ کی کھسر پسر سن کر  راگنی  پلٹی، 

 

راگنی:

کچھ کہا کیا آپ نے؟

 

آنیسہ (اسمائل):

ہممم؟ نہیں! کچھ بھی تو نہیں۔

 

راگنی:

اوہ! شاید میرے ہی کان بج رہے ہیں۔

 

کہتے ہوئے وہ نیچے چلی گئی۔ اور آنیسہ ادھر مسکراتے ہوئے کپڑے جھٹکار کر دوبارہ انہیں پھیلانے لگی۔

 

اس کے لبوں سے مسکان غائب ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ نہ جانے کیا سوچ رہی تھی وہ۔

۔

۔

۔

وہیں ادھر نندنی کے گھر میں صبح صبح جوہی بوال مچائے ہوئے تھی۔

 

شریا تو جاب کے لئے نکل گئی تھی۔ پر آج دونوں ماں بیٹی نے چھٹی لی ہوئی تھی۔ جوہی گھر میں بیچاری نندنی کو ہلا کے رکھی ہوئی تھی۔ اور ضد پر ضد کر رہی تھی، 

 

جوہی:

مامو سے بات کراؤ پہلے۔۔۔ نہیں،،، تو میں بریک فاسٹ نہیں کھاؤں گی۔

 

نندنی:

جوہی~ گندی باتیں نہیں کرتے۔ بیڈ مینرز ہیں نا  یہ!؟ مما نے سمجھایا ہے نا آپ کو۔ بریک فاسٹ کے ٹائم ضد نہیں کرتے،،، چپ چاپ بریک فاسٹ کرو  اپنا۔

 

جوہی:

نہییییی~ پہلے مامو سے بات کراؤ!!! 

 

نندنی:

تمہارے مامو یہاں نہیں ہیں۔ وہ باہر گئے ہیں۔

 

جوہی:

فون پر بات کراؤ پہلے۔ نہیں کھاؤں گی میں ورنہ۔۔۔

 

نندنی:

تم بھی نا!!!! ہے بھگوان! کیا کروں اس لڑکی کا!؟ ججوہی،،، بیٹا،،، مامو بزی ہوں گے۔ انہیں کال کرنا صحیح نہیں۔

 

جوہی:

مامو جوہی کے لئے بزی نہیں ہوتے کبھی۔ پہلے بات کراؤ۔۔۔ نہیں  تو میں نہیں کھاؤں گی۔۔۔ مامو سے مجھے چاکلیٹ منگوانی ہے۔

 

نندنی:

کل ہی تو اتنی بڑی چاکلیٹ کھائی تھی نا؟ اب اور نہیں!!! روز ہی کھاتی ہو تم۔ دانتوں میں کیڑے ہوجائیں گے۔ تو سب چھیڑیں گے تمہیں پھر اسکول میں۔ بولیں گے دیکھو جوہی کے تو دانت خراب ہوگئے۔ ہنسیں گے سب، پھر مت آنا مما کے پاس روتے ہوئے۔

 

جوہی:

ہاں؟؟؟

 

نندنی :

ہاں!!!! 

 

جوہی:

تو میں نانا جی کی طرح نئے دانت لگوا لوں گی۔ جیسے ان کے دانت نکل جاتے ہیں نا؟ میرے بھی ڈاکٹر انکل نکال کے نیو نیو دانت لگا دیں گے۔

 

نندنی:

اگھ!!!! یہ لڑکی… ججوہی!!! تمہارے نانا جی کی بتیسی نکلتی ہے۔

 

جوہی:

مامو سے بات کراؤؤؤؤ!!!! 

 

نندنی (سسکی):

یہ لڑکی ایسی نہیں  مانے گی۔

 

اب تو فون لگانا ہی تھا۔ اور کیا ہی کر سکتی تھی نندنی؟ اس نے فون لگا کے سیدھا جوہی کو ہی پکڑا  دیا۔ کسی وجہ وہ  ویر سے بات کرنے میں ہچکچا رہی تھی۔

 

پر یہ پہلے کی طرح ناراضگی نہیں تھی۔ کچھ اور ہی بات تھی۔ کچھ الگ سی بات۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page