Perishing legend king-314-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 314

نندنی:

ز-زیادہ لمبی بات مت کرنا  جوہی۔

 

جوہی:

ہیلوووو؟؟؟؟ ماموووو~


ویر:

جوہی؟؟؟ کیسی ہو؟؟

 

جوہی:

اچھی ہوں…!!!! 

 

ویر:

اسکول نہیں گئی آج؟

 

وہی:

آج مما اور میں دونوں نہیں گئے۔ ہہہہ ~ آج چھٹی۔۔۔

 

ویر:

اوہ!! اچھا؟؟ اور تمہاری ممی کدھر ہے؟

 

نندنی نے فون جان بوجھ کے لاؤڈ اسپیکر پر کرکے دیا تھا جوہی کو۔ تو اسے ساری باتیں سنائی دے رہی تھیں۔

 

جوہی:

مما یہیں کھڑی ہے۔

 

ویر:

کیا کر رہی ہے؟ بس کھڑی ہی ہے کیا؟

 

جوہی:

مما مجھے ڈانٹ رہی تھی۔ مامو مما کہہ رہی ہے کہ چاکلیٹ کھانے سے دانت خراب ہو جاتے ہیں،،، مامو،،،آپ چاکلیٹ لاؤ گے نا میرے لئے؟

 

ویر:

ہاہاہاہاہا ~ روز روز کھانے سے تو سچ میں دانت خراب ہو جاتے ہیں۔ ہممم! میں ضرور لاؤں گا تمہارے لئے چاکلیٹ۔

 

جوہی:

بڑی والی۔۔۔

 

نندنی:

جوہی نہیں!!! بڑی چاکلیٹ نہیں!!! 

 

ویر:

ہاہاہا~ ٹھیک ہے بابا بڑی والی لے کے آؤں گا۔ اور تمہاری ممی کیوں بھڑک رہی ہے؟

 

جوہی:

مما روز ایسا کرتی ہے۔ مما  مامو کو مس کر رہی تھی۔۔۔ اور کہہ رہی تھی۔۔۔

 

نندنی:

جججووووہیییی۔۔۔۔

 

اس سے پہلے کہ ننھی جوہی اور راز کھول پاتی نندنی نے فوراً ہی اس کے ہاتھوں سے فون چھین لیا۔

 

نندنی:

ہ-ہیلو!!؟

 

جوہی کا اپنا کام تو نکل ہی گیا تھا۔ چاکلیٹ بڑی والی آنے والی تھی۔ مامو سے بات بھی ہو گئی تھی۔ بچوں کا من ویسے ہی چنچل ہوتا ہے۔ ایک جگہ زیادہ دیر ان کا من ٹکتا  کہاں ہے۔ اپنا کام نکلوانے کے بعد وہ ٹی وی چالو کرکے اپنا فیورٹ پروگرام دیکھنے میں لگ گئی۔ اور صوفے پر اچھل ناچنے لگی۔

 

ادھر اس کی ماں بیچاری فون پکڑے بونگی وہیں کھڑی ہوئی تھی۔

 

ویر:

ہیلو۔۔۔میم!! 

 

نندنی:

ممم

 

ویر:

کیسی ہیں آپ؟

 

نندنی:

مم-میں ٹھیک ہوں۔

 

بیچاری نندنی کی آواز اتنی دھیمی تھی کہ ویر کو ڈھنگ سے سنائی ہی نہیں دی پل بھر کے لئے۔

 

ویر:

اور شریا جی کیسی ہیں؟

 

نندنی:

و-وہ بھی اچھی ہے۔ آفس کے لئے نکل گئی۔

 

ویر:

اچھا!!! 

 

نندنی:

تتتم۔۔۔۔

 

ویر: ؟؟؟

 

نندنی:

تم۔۔۔ کب تک لوٹو گے؟

 

ویر (اسمائل):

آر  یو مسنگ می؟

 

نندنی (شرماتی ہوئی):

ہ-ہو  وُڈ؟؟  میں،،، میں تو جوہی کے لئے پوچھ رہی تھی۔ ویسے بھی،،، تم کون سا کالج آتے ہو؟  ان سب کے لئے تم نے کبھی دھیان ہی نہیں دیا۔ س-سو  ہو  وِل مس  یو؟ آئی-آئی ڈونٹ۔۔۔ بس! اپنی اسٹڈیز پر دھیان دو۔۔۔ اور۔۔۔

 

ویر:

ہاہاہاہاہاہاہا

 

نندنی:

وہ-واٹ؟ ہنس کیوں رہے ہو؟

 

ویر:

ہنس اس لئے رہا ہوں کہ اتنا سفید جھوٹ جب آپ بولتی ہو تو اسے پکڑنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ الگ ہی پتا لگ جاتا ہے۔ اور۔۔۔یہی باتیں آپ کو کیوٹ بناتی ہیں۔

 

ویر کی بات سن  کر نندنی کے گال سرخ لال ہو چلے۔ وہ جواب میں کچھ نہ بولی۔

بس خاموش رہ گئی۔

 

ویر:

مجھے آنے میں ابھی تھوڑا  وقت  لگ سکتا ہے۔

 

نندنی:

آئی-آئی سی!! 

 

ویر:

ایک ارجنٹ کال آ رہا ہے۔ میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں۔

 

نندنی:

او-اوکے!! 

 

اور ویر نے فون کاٹ دیا۔

 

نندنی:

بببائے…!!! 

 

بیچارا ویر نندنی کا بائے سن ہی نہیں پایا۔ ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے نندنی نے فون رکھا۔ جوہی کو ایک نظر دیکھا جو اپنا کام نکلوا کے ایک دم مزے میں اچھل کود رہی تھی۔ کیا ہی زندگی تھی اس کی۔

 

ایسے پیار لٹانے والے مامو ملے تھے اسے۔ لمحہ بھر کے لئے نندنی کو جلن سی محسوس ہوئی۔ پر پھر وہ جوہی کے لئے خوش بھی ہو گئی۔

 

گال ابھی بھی لال تھے اس کے۔ من کے خیالوں سے باہر آنے کے لئے وہ کچن میں بھاگ گئی۔

۔

۔

۔

ویر وہاں ویگاس میں تھا پر اس کے خلاف بل میں گھسے سانپ یہاں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے تھے۔

 

چاہے قائرہ  ہو، چاہے پرانجل یا چاہے راجت۔ تینوں ہی اپنی سازش کو انجام دینے کے لئے صحیح موقع کا انتظار کر رہے تھے۔

 

 

یسسسس~ سَک مائی کلِٹ بچیز!!!!” 

 

ہر بار کی طرح، قائرہ  واش روم میں تھی۔ نیچے سے پوری ننگی۔ اس کا ایک پیر ٹوائلٹ سیٹ پر تھا اور دوسرا نیچے فرش پر۔ اور اس کی دو سلیوز، اس کی پھدی  چاٹنے میں لگی ہوئی تھیں۔

 

ان دونوں کے بالوں کو کھینچ کر وہ ان کا منہ اپنی  پھدی  پر  دبا رہی تھی۔

 

سَک اٹ!!!! زور سے چاٹو کتیوں!!!! زور سے!!! آہہہہہ!!!! ممم~ ایسے ہی۔۔۔ دانہ چباؤ۔۔۔ ہاں!!! یسسسس~ چوسووو چوسووو۔۔۔اور چوسووو  امممم زور سے~”   

 

اپنی کمر مٹکاتے ہوئے وہ اپنی گیلی  پھدی کو ان کے چہروں پر رگڑ رہی تھی۔ ان کی زبان کو اپنی پھدی  کے چھید میں گھسا کے وہ کمر ہلاتے جا رہی تھی۔

 

کہیں ایک لڑکی کے منہ میں اپنی  پھدی دیتی تو کہیں دوسری کے، تو کہیں دونوں کو ہی ساتھ میں چاٹنے کو کہتی  وہ۔

 

پر من میں اس کے کچھ اور بھی چل رہا تھا۔ جب سے ویر نے اس کے دونوں چھیدوں کو چودا  تھا۔ تب سے ہی اسے مشت زنی سے وہ سنتوشٹی نہیں مل پا رہی تھی۔ یہاں تک کہ لیسبین سیکس میں بھی اسے وہ مزہ نہیں آ رہا تھا۔

 

اور اس بات سے قائرہ کو اپنے آپ پر اتنا غصہ آ رہا تھا کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ وہ ایک عورت۔۔۔ کیسے ایک مرد کے نیچے آ سکتی تھی؟؟؟ پر اس کا جسم تو کچھ اور ہی  مانگ رہا تھا۔

 

 

پھدی کی خارش سے وہ پریشان ہو چکی تھی۔ جب جب وہ  پھدی میں انگلی کرتی، یا اپنی سلیوز سے اپنی پھدی چٹواتی، ویر اپنا لن اس کے چھیدوں میں ڈالتے ہوئے۔۔۔ اس کی وہ لذت اس کے من میں آ جاتی۔ اور   نتیجہ؟

اس کی آنکھیں کھل جاتیں، اور ساری بنائی گئی  جوش غصے کے چلتے کہیں غائب ہو جاتی۔

 

فک دِسسس….!!!! ارررگھ!!!!” 

 

آج بھی وہی ہوا۔ جب وہ اپنے کلائمیکس پر لگ بھگ پہنچ ہی گئی تھی۔ تبھی، اسے وہ  سین یاد آ گیا، جب ویر اس کی  پھدی میں اپنا  لن پیل رہا تھا اور اس کا اپنا  ہسبنڈ دروازے کے ٹھیک باہر موجود اس سے بات کر رہا تھا۔

 

آرررگھ!!!! آئی ہیٹ ہِم سووو مچھ!!!!”

یاد کرتے ہی اس کی آنکھیں کھل گئیں غصے میں پر۔۔۔۔

 

*ڈرپ

 

ہ-ہہہہ!!؟؟ آہہہہہہ سسسس~” 

 

*سکویئرٹٹٹٹ

*سکویئرٹٹٹٹ

 

اس کی پھدی کسی فوارے کی طرح کھلی اور ڈھیر سارا  پانی بہاتے ہوئے ان دو لڑکیوں کے چہروں کو بھگو دیا۔

 

وواااٹٹٹٹ؟ آہہہہہ!! دِس۔۔ دِس۔؟؟” 

 

قائرہ  کو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا۔ وہ جھڑ گئی؟؟؟ جیسے ہی اسے پتا لگا کہ وہ کیا سوچ کے جھڑی۔۔۔ اس کا بدن کانپ اٹھا۔

 

نووو!!! اٹ کین نٹ  بی!!!” 

 

وہ جھڑی تھی۔۔۔ ویر کو یاد کر کے۔ اس کی چدائی یاد کر کے۔ اس کا خود سے بڑا لن یاد کرکے۔ لن ٹوپے کی اندر  بھرپور رگڑائی یاد کرکے۔۔۔ بھلے ہی وہ اپنے من سے کتنا ہی کیوں نہ  نفرت کرے ویر سے۔ پر ایک عورت کا جسم کبھی نہیں جھوٹ بولے گا۔ وہی ہوا۔۔۔


اپنے شوہر سے باتیں کرکے ایک انجان جوان لڑکے سے بھرپورحد تک چدائی کروائی۔ اس  خیال  نے ہی اس کے جسم میں ایک آگ لگا دیا  تھا۔ کتنا ہی کیوں نہ  نفرت کر لے وہ ویر سے۔ پر پھدی  یہ نہیں دیکھتی تھی کہ لن  کس  کا ہے۔

 

لن  اگر تگڑا  ہو، تو  پھدی اس کے آگے ہار ہی جاتی ہے۔ قائرہ بھی ہار چکی تھی۔ اور اس کی پھدی بھی۔

 

نہیں!!! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔۔۔ اس کمینے کے سامنے میں جھک جاؤں؟ ہرگز نہیں!!!”

 

اور پھر اسے وہ منظر یاد آیا۔ جب ویر کے مضبوط ہاتھ اس کے بالوں کو جکڑے ہوئے تھے۔ اور کیسے وہ کار کے اندر اسے پکڑ کر جھکایا ہوا تھا۔ کیسے وہ اس کے موٹے ٹوپے والے لن کو منہ میں بھر کر چوس رہی تھی۔ کیسے ویر کی دوسری غلام آنیسہ سارے نظارے کو مزے سے دیکھ رہی تھی۔

 

*سپلللووورٹٹٹ*

*ڈرپ* *ڈرپ*

آآآآہہہہہہہہہہنننننننن~”

 

اور ایک بار پھر، اس کی پھدی نے اپنا پانی چھوڑ دیا۔

 

قائرہ  اپنی پھدی کو آنکھیں پھاڑ کر اور منہ کھول کر حیرت میں دیکھنے لگی۔ ایسا کیسے ہو سکتا تھا بھلا؟ وہ ایک ڈومینیٹر تھی۔ مطیع فیمیل نہیں۔ پھر ایسا کیسے ہو سکتا تھا؟

 

کیسے اس کی پھدی  اتنا پانی بہا رہی تھی؟؟؟

 

آئی فکنگ ہیٹ دس سو مچ!!”

 

اس نے زور سے چلاتے ہوئے اپنے ہاتھوں میں لی ہوئی اپنی پینٹی دور پھینک دی۔

 

دور ہٹو  کتیوں!!!!! گیٹ فکنگ لوسٹ!!!!”

 

وہ گرج پڑی!!! اور اپنی دونوں ہی بندیوں کو باہر بھاگنے کا بول دیا۔

 

اس کی دونوں بندیاں، جن میں سے ایک عاشی تھی۔ شریا کی ساتھی تو دوسری کا نام تھا رِیا۔ دونوں مجبوری کے چلتے قائرہ  کی داسی بنی ہوئی تھیں۔

 

پر دونوں اس بات سے انجان تھیں، کہ ان کی یہ مالکن خود کسی مرد کی داسی بنتی جا رہی تھی۔

 

نہاریکا ہانپتے ہوئے ٹوائلٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔ پھدی کا حال بے حال تھا۔ پانی چھوڑ چھوڑ کر وہ پوری گیلی ہو چکی تھی۔ اور لن لینے کے لیے تڑپ رہی تھی۔

 

اگھھھھ!!!!” اس نے زور زور سے انگلی کی اور کچھ ہی لمحوں میں پھر ایک بار۔۔۔۔

 

*سپلرررٹٹٹٹٹ*

*اسکویئرررٹٹٹٹ*

وہ پھر جھڑگئی۔

 

میں۔۔۔ *ہف* مجھے کچھ کرنا ہوگا! *ہف* مجھے اس کے۔۔۔ مجھے اس کے پاس سے وہ ویڈیو حاصل کرنی ہی ہوگی۔ ہاں!!!! *ہف* ویر! خود کو بہت سمارٹ سمجھتے ہو؟؟؟ *ہف* میں نے پہلے ہی تمہارے فون میں کی لاگر انسٹال کر رکھا ہے۔ *ہف* ہاہاہاہا~”

 

سوچتے ہوئے ایک خطرناک مسکراہٹ اس کے چہرے پر سج گئی۔

 

جلد ہی۔۔۔ *ہف* جلد ہی تم میرے پیروں کے نیچے ہونگے…!!”

۔

۔

۔

ویگاس

شام ~ 7:14 بجے

 

صبح ویر کی بات جب نندنی سے ہو رہی تھی۔ تب اسے بیچ میں ایک ایمرجنسی کال آ گئی تھی۔ جو کسی اور کی نہیں، شمائل  کی تھی۔

 

ایک خوشخبری تھی۔

 

ویر نے اپنا پیسہ جس وٹسالہ اسٹیل انڈسٹریز کے شیئرز پر لگایا تھا۔ اس کے دام بڑھ چکے تھے۔

 

شمائل کو تو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا۔ جو کمپنی اتنا لاس میں چل رہی تھی وہ آخر اچانک سے اوپر کیسے اٹھ سکتی تھی؟ اور اگر اٹھی بھی تو ویر کو پہلے سے اتنا بھروسہ کیسے تھا کمپنی پر؟ اسے کیسے پتا چلا؟

 

اس کا راز تو ویر ہی جانتا تھا۔ اسٹاک ماسٹر!!! ایک ایسی اسکل جو اس کے کاروبار میں اس کی مدد کے لیے تھی۔

 

ویر نے بیٹھے بیٹھے ہی لاکھوں روپے کا منافع کما لیا تھا۔ اور یہ لاکھ جلد ہی کروڑ میں تبدیل ہونے والے تھے۔

 

آج کی ان کی ٹولی واپس سے انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف جا رہی تھی۔

 

سب پہلے کی ہی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ ڈرائیور سیٹ پر ڈیکسٹر، اس کے بغل میں سہانا۔ اور پیچھے شروتی کے ساتھ  ویر۔

 

کل کی ہوئی واردات کے باوجود، شروتی اپنے ہاتھوں پر پٹی باندھ کر کام کر رہی تھی۔

 

بات ہی کچھ ایسی تھی۔ پولیس نے جب بھیم کی اچھی طرح خاطر داری کی تو کئی گھنٹوں کے بعد جا کے بھیم نے اپنا منہ کھولا۔

 

اور اس نے کچھ تفصیلات دی تھیں۔ اگلے مجرم کی۔۔۔۔

 

جیسے ہی وہ جانکاری کرائم انویسٹی گیشن والوں کو پتا چلی،  وہ جان کے ان کی روح کانپ گئی۔

 

شروتی اور ڈیکسٹر بھی ان میں سے ایک تھے۔ دن کا دورہ تو ان کا چھان بین کرنے میں ہی گزر گیا تھا۔ وہ  ڈینیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹس بھی چیک کرنے گئے تھے۔ تو وہیں کرائم سین کے آس پاس بھی جتنا ہو سکتا تھا اتنا پتا  لگایا۔ پر ہاتھ کچھ نہ آیا۔

 

اور بھیم کی دی گئی معلومات کے چلتے، اس کی تصدیق کرنے کے لیے انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ نے نرکو(Narko)  کو بھیجا تھا۔

 

وہ بھی ایک ڈیٹیکٹو/جاسوس  تھا۔ ایک سینئر ڈیٹیکٹو۔

 

تجربے میں کوئی کمی نہیں تھی اس کے پاس۔ صحیح فیصلہ، صحیح وقت پر لینا بخوبی آتا تھا اسے۔

 

بے شک، وہ موت کے کنویں میں تھا ایک طرح سے۔ پر یہی تو اس کا کام تھا۔

 

لیکن، جس بات کا ڈر تھا  وہی ہوا۔ شروتی اور ڈیکسٹر کو اچانک ایمرجنسی کال آیا ڈیپارٹمنٹ سے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں، جلد سے جلد ڈیپارٹمنٹ پہنچیں۔

 

اس لیے، سبھی پھر سے اس طرف جا رہے تھے۔

 

پیچھے کی سیٹ پر شروتی آج ویر کو الگ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ کل ویر نے پوائنٹس بڑھائے تھے۔ اپیرینس کے بھی۔ ظاہر تھا اس کی جلد اور کِھلی کِھلی نظر آ رہی تھی۔ شروتی اس لیے آج اسے بڑی ہی تجسس سے گھور  رہی تھی۔

 

کبھی وہ شرارتی ڈھنگ میں کچھ سوچ  کرمسکراتی تو کبھی ویر کو دیکھ کراسے آنکھ مار دیتی۔

 

ایکدم سے  ویر کی نظر جب شروتی پر گئی تو اس نے دیکھا کہ وہ اس کی طرف تھوڑا جھکتے ہوئے اپنےکلیوج  کی جھلک دکھا  رہی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page