Perishing legend king-315-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 315

اس کے گورے بدن کا کلیویج صاف صاف جھلک رہا تھا۔ ویر کو وہ مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔

 

اور پھر بڑی ہی دھیمی آواز میں بولی،

 

شروتی (مسکراتے ہوئے):

تم انہیں چھو سکتے ہو۔

 

ویر:

ہہ؟؟

 

پری:

آئی ول فکنگ کِل ہر!!!! (ʘᴗʘ) ماسٹررر~ اسے مت چھونا!!

 

شروتی کی حرکت ویر تو دیکھ ہی رہا تھا اچھے سے پر سامنے ڈرائیور سیٹ پر بیٹھا  ڈیکسٹر بھی آئینے سے سب کچھ دیکھ چکا تھا۔

 

وہ سن تو نہیں پایا کہ اس کی بیوی نے کیا کہا پر وہ اتنا ضرور جان گیا تھا کہ شروتی ویر کے ساتھ فلرٹ کر رہی تھی۔ فی الحال وہ کچھ نہیں بولا۔ پر آنکھیں گاڑ کے ان کو دیکھتا رہا تو مجبوراً شروتی کو اپنی فلرٹنگ روکنی پڑی۔


انہیں نہیں پتا تھا کہ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اتنی ایمرجنسی میں کیوں بلایا گیا ہے۔ اس لیے ابھی وہ آگے آنے والے جھٹکے سے پہلے کچھ ریلکس تھے۔

 

گاڑی رکی، سبھی اس سے اترے اور اندر گئے۔

 

ویر اور سہانا کو باہر ہی روک دیا گیا تھا۔ ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کے کیبن میں صرف اور صرف ڈیکسٹر اور شروتی ہی گئے تھے۔

۔

۔

۔

*کلک*

 

دروازہ بند ہوا اور دونوں میاں بیوی، ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ یعنی  جیکی کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔

 

ڈیکسٹر:

کیا ہوا؟

 

جیکی:

خود دیکھ لو۔

 

کہتے ہوئے اس نے دونوں کے سر پر ایک ایک ہیڈفون پہنا دیا۔ سامنے کمپیوٹر اسکرین تھی۔

 

اور کنکشن سیدھا  نرکو سے تھا۔

 

نرکو گیا ہوا تھا ایک مینشن میں۔ ڈیکسٹر اور شروتی دونوں ہی نرکو کی شکل دیکھ سکتے تھے۔ کیمرہ کنیکٹ تھا۔ اور آڈیو بھی۔

 

ان دونوں کو نرکو کی ساری باتیں سنائی دے رہی تھیں۔

 

جیکی:

یہ لائیو نہیں ہے۔ یہ کچھ منٹ پہلے ہوا۔

 

اور پھر انہوں نے دیکھا۔۔۔۔

 

نرکو کچھ کہہ رہا تھا۔ اس کا چہرہ پوری طرح پسینے میں بھیگ چکا تھا۔ اس کا چہرہ بالکل پیلا پڑ گیا تھا۔ مکمل طور پر خوفزدہ!!! وہ گہری سانسیں لیتے ہوئے ہانپ رہا تھا۔

 

اس کی حالت دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے اس نے کوئی بھوت سامنے دیکھ لیا ہو۔

 

اور وہ بولنا شروع کیا،

“I WILL FUCKING DIE!!!!! I’M TRAPPED!!!! I’M TRAPPED!!!! *huff* H-Help me!”

“This is much bigger than we thought of… It’s insane… We all will die here!!! Listen to me!!! *huff* This is live killing!!!! FUCKING LIVE KILLING!!! There are few of us. They too participated here. But we are being recorded!! IT’S FUCKING DARK WEB!!!!”

“H-HE WILL KILL ONE OF US!!! REMEMBER! HIS NAME IS… *********** PEOPLE ARE PAYING TO WATCH US GETTING KILLED!!! IT’S A FUCKING HOUSE OF KILLERS. DANIEL WAS GODDAMN RIGHT!! *huff* *huff* THERE’S AIN’T A SINGLE ONE. *huff* P-PLEASE!!! GUYS!!! SEND ME THE HELP!!! SEND ME THE HELP!!!! I DON’T WANNA DIE HERE!!!!”

“H-Huhhhhhh????”

میں فکنگ مر جاؤں گا!!!!! میں پھنس گیا ہوں!!!! میں پھنس گیا ہوں!!!! *ہف* میری مدد کرو!”

یہ اس سے کہیں بڑا ہے جتنا ہم نے سوچا تھا… یہ پاگل پن ہے… ہم سب یہاں مر جائیں گے!!! میری بات سنو!!! *ہف* یہ لائیو قتل ہے!!!! فکنگ لائیو قتل!!! ہم میں سے کچھ ہیں۔ وہ بھی یہاں شریک ہوئے ہیں۔ لیکن ہمیں ریکارڈ کیا جا رہا ہے!! یہ فکنگ ڈارک ویب ہے!!!!”

 

وہ ہم میں سے ایک کو مار ڈالے گا!!! یاد رکھو! اس کا نام ہے… *********** لوگ ہمیں مرتے ہوئے دیکھنے کے لیے پیسے دے رہے ہیں!!! یہ ایک فکنگ قاتلوں کا گھر ہے۔ ڈینِل بالکل ٹھیک تھا!! *ہف* *ہف* یہاں ایک بھی نہیں ہے۔ *ہف* پلیز!!! لوگو!!! میری مدد بھیجو!!! میری مدد بھیجو!!!! میں یہاں مرنا نہیں چاہتا!!!!”

ہ-ہہہہ؟؟؟؟

 

پر تبھی۔۔۔۔۔

 

نرکو کسی جگہ کودیکھ کر گھبرا گیا۔ اس کی سانسیں اٹک گئیں۔ وہ چلایا،

“WHAT’S…? WHAT’S HAPPENING? N-Nooooo!!?!!!”

یہ کیا…؟ کیا ہو رہا ہے؟ نہیں!!!؟؟؟

 

اور اگلے ہی پل

 

*تھڈ* *تھڈ* *تھڈ*

 

اس کے ہاتھوں سے کیمرہ گر گیا

 

چیخنے چلانے کی آواز آنے لگی۔ نرکو کی چیخ وہاں اور ڈیکسٹر اور شروتی کے ہیڈفونز میں گونجنے لگی۔

 

اور پھر کیمرہ میں  ڈیکسٹر اور شروتی نے دیکھا۔ اسے دیکھ کردونوں کا بدن ٹھنڈا پڑ گیا۔ مانو جیسے سانپ سونگھ گیا۔

 

شروتی اپنا منہ ڈھک کر زور زور سے بلبلاتے ہوئے رونے لگی۔ اس کے پورے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

 

ڈر کے مارے اس کا جسم کانپنے لگا۔ وہ گھبراتے ہوئے دوڑ کر باہر نکل کے آئی۔

 

ادھر باہر ویر اور سہانا قریباً ایک گھنٹے سے ان دونوں کے باہر آنے کا انتظار کر رہے تھے۔

 

ویر:

ایک گھنٹے سے اوپر ہو چکا ہے۔ وہ اندر کیا کر رہے ہیں؟

 

سہانا:

مجھے کوئی اندازہ نہیں!

 

ویر:

اوہ! وہ آ گئے…!

 

سہانا:

ہممم؟؟

 

سہانا نے جب ویر کی نظروں کو فالو کرکے اس طرف دیکھا تو پایا کہ شروتی گھبراتے ہوئے باہر نکلی اور سیدھا اپنے گھٹنوں کے بل گر پڑی۔

 

سہانا:

شروتییییی!!!!

 

دونوں ویر اور سہانا دوڑتے بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے اور اسے سنبھال کر اٹھایا۔

 

سہانا:

شروتی کیا ہوا؟؟؟؟

 

پر شروتی کچھ نہ بولی۔ اسے سنبھلنے میں کچھ وقت لگ گیا۔

 

جب اس کی حالت کچھ ٹھیک ہوئی تو اس نے روتے ہوئے بتایا،

 

شروتی (رونے لگی):

نر- نر کو مر گیا!!!!

 

سہانا:

کیاااااا؟؟؟؟

 

شروتی:

نرکو  مر گیا  سہانا۔۔۔ وہ مر گیا!!!!

 

سہانا: …

 

شروتی:

مجھے۔۔۔ مجھے تمہیں کچھ دکھانا ہوگا!!!

 

وہ آنسو پونچھ کر اٹھ کے اندر گئی۔ اور اس نے جو دیکھا، اس کا ایک کاغذ پر پرنٹ آؤٹ نکالنے لگی کمپیوٹر اسکرین کو صحیح ٹائم اسٹیمپ پر روک کر۔

 

ادھر جیکی شروتی کو آتا دیکھ کر اپنی بات رکھی،

 

جیکی:

کس نے فیصلہ کیا کہ اسے اکیلے وہاں بھیجا جائے؟

 

ڈیکسٹر:

وہ۔۔۔ صبح کی میٹنگ میں فیصلہ ہوا تھا۔

 

جیکی:

یہی پوچھ رہا ہوں۔۔۔ کس نے ووٹ دیا کہ وہ اکیلا جائے؟

 

ڈیکسٹر:

وہ۔۔۔وہ۔۔۔

 

جیکی (چلاتے ہوئے):

جواب دو!!!!

 

شروتی:

ہہہم سب نے اس کی حمایت کی۔ نر،نر کو نے بھی خود اسے چنا تھا۔

 

جیکی:

YOU DUMB IDIOTSSSS!!!!!!! WE LOST HIM!!! WE LOST OUR ANOTHER PERSON!!!!!! I DON’T CARE WHAT YOU GUYS WILL DO NOW. BUT NEXT… I WANT YOU GUYS TO SEND SOMEONE FROM YOUR TEAM NOW MY SO CALLED PRIVATE DETECTIVES…. WE WON’T BE SENDING OUR DEPARTMENT’S DETECTIVES NOW!!!!!!! YOU GET THAT….??

تم لوگ بیوقوف ہو!!!! ہم نے اسے کھو دیا!!! ہم نے اپنا ایک اور آدمی کھو دیا!!!! مجھے پرواہ نہیں کہ تم لوگ اب کیا کرو گے۔ لیکن اگلی بار۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تم لوگ اپنی ٹیم سے کسی کو بھیجیں اب میرے نام نہاد پرائیویٹ ڈیٹیکٹوز۔۔۔ ہم اب اپنے ڈیپارٹمنٹ کے ڈیٹیکٹوز نہیں بھیجیں گے!!!! سمجھے…؟؟

 

ڈیکسٹر:

ہہہم… ہم سمجھ گئے!!!

 

جیکی:

تم لوگ جا سکتے ہو!!!!

 

شروتی جیسے ہی باہر آئی، وہ سہانا اور ویر کو ہاتھ پکڑ کر اپنے کیبن میں لے گئی۔

 

شروتی:

دوسرا  مجرم…!!!!!

 

ویر:

ہہ؟؟؟

 

سہانا: !!؟؟؟؟

 

اور اگلے ہی پل۔۔۔ اس نے ٹیبل پر ایک کاغذ پٹختے ہوئے رکھا۔ یہ وہی پرنٹ آؤٹ تھا۔۔۔

 

اسے دیکھتے ہی سہانا کا بدن کانپ اٹھا۔

 

سامنے پرنٹ آؤٹ میں جو تھا،  وہ تھا

 

ایک  وانٹڈ  پیپر!!!!

 

شروتی:

اور اس کا نام ہے۔۔۔

 

ویر: ؟؟؟؟

 

“THE NIGHTWALKER!!!!”

رات کو گھومنے والا۔۔۔

 

پری:

کیا یہ وہی ہے؟ ماسٹر! براہ کرم! بہت احتیاط کریں۔ اسے دیکھ کر مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا۔

 

تم اکیلی نہیں ہو پری! مجھے بھی وہی  تاثر مل رہی ہیں۔ یہاں کچھ بہت ہی بھیانک ہم سے چھپا ہوا ہے۔ کچھ ایسا، جس کے لیے شاید ہم تیار نہیں۔

 

پری:

میں اس ڈیکسٹر کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔ کبھی نہیں۔ سب کچھ اسی کی وجہ سے ہوا ہے۔ میں اس جوڑے سے نفرت کرتی ہوں۔

 

نہیں پری! یہ تو ہونا ہی تھا۔ میں سمجھتا ہوں شاید مجھے یہاں اگلا مشن مل جائے؟ تم جانتی ہو ہمیں پوائنٹس کی کتنی ضرورت ہے۔

 

پری:

ماسٹررر~ آپ صرف پوائنٹس کے لیے اپنی جان داؤ پر نہیں لگا سکتے۔ مشنز کا کیا ہے؟ وہ تو ملتے رہیں گے۔ میں آپ کو اس طرح نہیں کھو سکتی ٹھیک ہے؟ آپ سن رہے ہیں  نا؟

 

‘آئی ایم لسن پری’ میں سن رہا ہوں پری! پر، ایسا کون سا وقت تھا میری زندگی میں جہاں میں نے رسک نہیں اٹھائے؟ میری زندگی خطروں سے ہی بھری تھی پری۔ ابھی بھی بھری ہے۔ اور آگے بھی بھری رہے گی۔ یہ بات تو میں تب ہی جان گیا تھا جب تم میرے اندر آئی تھی۔

 

پری:

“آاائی ایم سو سوری”مممیں بہت معذرت کرتی ہوں۔

 

پگلی! میں تمہیں الزام نہیں دے رہا۔ تمہارے آنے سے ہی تو میں پھر سے زندہ ہوا ہوں۔ میں تمہیں کبھی الزام نہیں دے سکتا۔ چاہے کچھ بھی ہو! تم میری روح ہو، پری۔

 

پری:

ممماسٹررر! ()

 

پری اور ویر کے بیچ جذباتی باتیں چل ہی رہی تھیں جب،

 

“I’m dropping you both here. You better survive. I won’t come here to pick your dead meat.”

میں تم دونوں کو یہاں اتار رہا ہوں۔ بہتر ہے تم دونوں بچ جاؤ۔ میں یہاں تمہارا مردہ گوشت اٹھانے نہیں آؤں گا۔

 

سامنے سے پائلٹ نے ویر اور نیکول سے کہا۔ ہیلی کاپٹر میں وہ  دونوں سوار تھے۔ اور اس کے بغل  میں بیٹھا ہوا نیکول نامی انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ سے ہی تھا۔

 

ان کے نیچے ایک ہی منظر تھا۔ ایک خوبصورت جزیرہ!!!

 

ہیلی کاپٹر کچھ نیچے ہوا اور اترنے کے لیے ایئر اسٹیئرز کو ہوا میں نیچے گرا دیا گیا۔

 

فککک! میری پھٹ رہی ہے اترنے میں۔ میں نے کبھی کیا نہیں  یہ۔

 

پری:

ماسٹررر! پریشان نہ ہوں! بس مضبوطی سے پکڑے رکھیں اپنی۔ مضبوط رہیں ماسٹرر~

 

ہاں!!!’

 

نیکول کے پیچھے ویر سیڑھی سے اترنا شروع کیا اور۔۔۔۔

 

*پلاپ*

 

دونوں نے زمین پر گرتے ہوئے اپنے قدم رکھے۔

 

میں فکنگ جا رہا ہوں!! گڈ لک!!!”

 

اوپر سے پائلٹ نے زور سے چلایا، پر ہیلی کاپٹر کی گھومتی ہوئی بلیڈز کی آواز کے آگے اس کی آواز ٹھیک سے سنائی نہ دے سکی ویر اور  نیکول  کو۔ اور  ہیلی کاپٹر وہاں سے نکل گیا۔

 

ایک لمبی آہ چھوڑ کر ویر نے اپنے سامنے دیکھا۔ اس کے سامنے یہ خوفناک سا جزیرہ موجود تھا۔ دور دور تک پیڑ  پودوں کے علاوہ کچھ نہیں دِکھ رہا تھا  اسے۔

 

سورج ڈھل چکا تھا، اندھیرا  برقرار تھا۔ چاند پر گھنے کالے بادلوں کی چادر بچھی ہوئی تھی۔ اور منڈ منڈ چلتی ٹھنڈی ہوائیں، جو ویر کے بدن میں رونگٹے کھڑے کر رہی تھیں۔

 

یہاں سے آگے کا راستہ اسے اور نیکول کو اکیلے ہی طے کرنا تھا۔ وہ دونوں اس جزیرے کے چور پر اکیلے کھڑے ہوئے تھے۔

 

انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سےہیلی  کاپٹر انہیں یہاں چھوڑ کے نکل چکا تھا۔ کچھ خاص الفاظ تو نہیں کہے تھے پائلٹ نے اس سے کچھ دیر پہلے۔ پرائیویٹ ڈیٹیکٹوز سے جڑے لوگوں کو واقعی کچھ زیادہ ہی نفرت دے رہے تھے یہ انویسٹی گیشن والے۔

 

خیر! ویر اور نیکول آگے بڑھے۔ ان کے پاس کافی سامان تھا یوٹیلٹی کا۔ چاہے ایمرجنسی ٹارچ ہو، چھری ہو، یا کچھ بھی۔ تیاری کے ساتھ وہ یہاں آئے تھے۔ یہاں آنے سے پہلے کافی ہنگامہ بھی ہوا تھا۔ جیسا کہ پری نے ڈیکسٹر  کا ذکر کیا۔

 

ایک طرح سے ویر اسی  وجہ سے یہاں تھا۔ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ جیکی نے صاف صاف ڈیکسٹر کو خبردار کر دیا تھا کہ ان کے ڈیپارٹمنٹ سے اب اس کیس کو لے کر کوئی بھی اپنی ٹانگ نہیں اڑائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہہ ڈالا تھا کہ اب تم لوگ ہی اپنی طرف سے بھیجو کسی کو۔ بڑا شوق ہے نا پرائیویٹ ڈیٹیکٹوز ہونے کے بعد پبلک کیسز حل کرنے کا؟

 

تو لو پھر۔ دیا کیس! جاؤ! رسک اٹھاؤ! اور ثابت کرو۔

 

نتیجہ؟ ڈیکسٹر نے ویر کو آگے کر دیا۔ وہ بیوقوف نہیں تھا جو خود ایسی خطرناک جگہ جاکے اپنی ہی گانڈ مروائے۔ اور وہ شروتی  کو بھی نہیں بھیجنے والا تھا۔ سہانا کو بھی نہیں بھیجتا وہ۔ تو بچا کون؟

 

بالکل! کوئی اور نہیں سوائے ویر کے!!!

 

اور ویر سے تو اس کی کوئی پہچان بھی نہیں تھی۔ شروتی  بھی بڑا ہی فلرٹ کر رہی تھی ویر سے۔ اس لیے ویر کو خطرے میں ڈالنے سے پہلے ایک بار بھی اس نے ویر کے بارے میں نہیں سوچا۔ جلن سچ میں کُتی چیز ہوتی ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page