Perishing legend king-317-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 317

روش:

بالکل! تم کیا توقع کر رہی تھیں؟ کیا کوئی تمہیں اس کے خزانے کو یونہی چرانے دے گا؟ ہمیں اس رات کو بچنا ہے۔ ایک قاتل یہاں آزادانہ گھومے گا اس میں سے کسی ایک کو مارنے کے لیے جو خزانہ چرانے کی کوشش کرے گا۔

 

گروک:

ہاں!!! یہ بالکل ویسا ہی ہے۔ کرو  یا  مر جاؤ۔

 

پنکی:

کیاااا؟؟ نہیں ممکن نہیں! م-میں فکنگ جا رہی ہوں۔ میں مرنا نہیں چاہتی۔

 

پنکی نے جب یہ بات سنی تو ڈر کے مارے اس کے پیر کانپنے لگے۔ روش نے کہا تھا کہ رات میں ایک قاتل مینشن میں گھومتا ہے۔ اور ان لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے جو بھی رات میں اس کی نظروں کے سامنے آتے ہیں۔

 

پنکی بھاگتے ہوئے باہر نکلنے کو ہوئی پر جیسے ہی وہ مین ہال کے گیٹ پر پہنچی اور اسے کھولا۔۔۔

 

اس کی گھبراہٹ اور بھی بڑھ گئی۔ مین ہال کا گیٹ بند ہو چکا تھا۔

 

پنکی (چلاتی ہوئی):

فکنگ کھولو یہ لعنتی دروازہ… آآآرگھھھ!!! کھولو اسے!!!! میں یہاں مرنا نہیں چاہتی! میں جانا چاہتی ہوں!!!

 

پر دروازہ نہیں کھلا۔ تبھی ایک آواز آئی اور ان سب کو سنائی دی۔ آواز بلند تھی پر اس میں ایک خراش تھی،  ڈراونی تھی  وہ آواز۔

“Welcome to the Nightwalker mansion!
You chose to come here. You purchased the card. Now you cannot leave the mansion until tomorrow morning.”

“Rules are pretty simple!!! Survive the night! 10 million worth of gold bars are hidden in this mansion. If any of you can find them, you can take them away.”

“Game will begin sharp @ 9 PM”

“Remember! You can only search the Mansion for half an hour during intervals. In other words, 9-9:30 will be your search time. After 9:30 Nightwalker will walk through the mansion. If he finds anyone of you roaming. YOU WILL BE KILLED.”

“He will walk till 12 AM. Then, again you can search the Mansion for half an hour. After 12:30 he will walk till 3 AM. Again a half hour will be alloted. And last time will be Nightwalker walking from 3:30 AM till 6 AM”

“There are many rooms on both the floors. You can choose whichever you want.”

“It’s 8:00 PM now. You have 1 hour. You can do whatever you want to do. Remember the time. Sharp 9 PM.”

“Good luck!”

نائٹ واکنگ مینشن میں خوش آمدید

تم نے یہاں آنے کا انتخاب کیا۔ تم نے کارڈ خریدا۔ اب تم صبح تک مینشن نہیں چھوڑ سکتے۔

 

قواعد بہت سادہ ہیں!!! رات کو بچو! 10 ملین مالیت کے گولڈن بارز اس مینشن میں چھپے ہوئے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی انہیں ڈھونڈ سکتا ہے، تو وہ انہیں لے جا سکتا ہے۔

 

کھیل ٹھیک رات 9 بجے شروع ہوگا۔

 

یاد رکھو! تم صرف آدھے گھنٹے کے وقفوں کے دوران مینشن کی تلاش کرسکتے ہو۔ دوسرے لفظوں میں، 9 سے 9:30 تک تمہارا تلاش کا وقت ہوگا۔ 9:30 کے بعد نائٹ واکنگ مینشن میں گھومے گا۔ اگر اس نے تم میں سے کسی کو گھومتے ہوئے پایا۔ تم مارے جاؤ گے۔

 

وہ رات 12 بجے تک گھومے گا۔ پھر، دوبارہ تم آدھے گھنٹے کے لیے مینشن کی تلاش کر سکتے ہو۔ 12:30 کے بعد وہ صبح 3 بجے تک پھر سےگھومے گا۔ پھر آدھا گھنٹہ مختص کیا جائے گا۔ اور آخری بار نائٹ واکنگ صبح 3:30 سے صبح  6 بجے تک گھومے گا۔

 

دونوں منزلوں پر بہت سارے کمرے ہیں۔ تم جو چاہو چن سکتے ہو۔

 

اب رات 8:00 بجے ہیں۔ تمہارے پاس 1گھنٹہ ہے۔ تم جو چاہو کر سکتے ہو۔ وقت یاد رکھو۔ ٹھیک 9 بجے۔

 

گڈ لک!”

 

اور آواز بند ہو گئی۔ آواز انٹرکام سے ہی آئی تھی پر ویر کو کہیں کوئی انٹرکام نظر نہیں آیا۔

 

پری:

ماسٹررر~

 

پری کی ایک پریشان کن آواز ویر کے من میں گونجی،

 

پریشان نہ ہو پری!! میں اپنا خیال اچھے سے رکھوں گا۔

 

پری:

ہاں براہ کرم!!! جتنا ہو سکے میں آپ کی مدد کروں گی۔

 

اس آواز کے بند ہوتے ہی سبھی ایک دوسرے کو دیکھنے میں لگے ہوئے تھے۔

 

پنکی (چلاتی ہوئی):

یہ کیا جہنم ہے؟ تم کہہ رہے ہو کہ ایک قاتل اس مینشن میں ہمارے ساتھ ہے؟؟؟

 

روکی:

ایسا لگتا ہے۔

 

پنکی:

یہ بکواس ہے… میں کیسے بارز کی تلاش کروں اگر کوئی باہر گھوم رہا ہے مجھے مارنے کے لیے؟


قواعد سادہ تھے۔ ٹھیک 9 بجے موت کا یہ کھیل شروع ہونا تھا۔ تین وقفے دیئے گئے تھے۔ 9 سے 9:30،  12  سے 12:30، اور 3 سے 3:30 تک کا وقت۔ یعنی کل ملا کر ڈیڑھ گھنٹے۔

 

اس ڈیڑھ گھنٹے کے وقت میں آپ کو بارز ڈھونڈنے تھے۔ اگر آپ ڈھونڈ سکتے ہیں تو ڈھونڈو۔ پر باقی کے وقت میں، نائٹ واکنگ پورے مینشن میں گھومے گا۔ اگر کوئی بھی اسے نظر آ گیا  تو۔۔۔۔

 

موت!!!

 

ویر کچھ پریشان تھا۔ پنکی کی تو پھٹ کے ہی چار ہو چکی تھی۔ پر باقی سبھی کافی ریلکس لگ رہے تھے۔

 

گروک:

ہہ؟ بس اتنا؟؟ یار!! یہ تو بہت آسان ہے۔ ہم آدھے گھنٹے تک تلاش کر سکتے ہیں اور جب وہ وقت ختم ہو، ہم اپنے کمرے میں واپس جاسکتے ہیں۔ سادہ ہے نا؟

 

کینوز:

کیا وہ نائٹ واکنگ واقعی ہے؟

 

کینوز نے پہلی بار کچھ کہا۔ ویر اور اس کی نظریں ایک بار پھر ٹکرائیں۔

 

نیکول:

ہمم! ہاں! میں پکے سے کہہ سکتا ہوں کہ نائٹ واکنگ اصلی ہے۔ یہ کوئی افسانہ یا لیجنڈ نہیں ہے۔ وہ یہاں ہے۔

 

روش:

رکو!!! اگر وہ ہم میں سے کوئی ہے تو؟؟؟

 

کینوز تصدیق کر رہی تھی کہ یہ نائٹ واکنگ سچ میں ہے بھی یا نہیں؟ کہیں یہ کوئی افواہ تو نہیں ہے؟  نیکول نے بھی نرکو کی ویڈیو دیکھی تھی۔ بے شک، نائٹ واکنگ کا ماسک بھی دیکھا تھا اس نے اس ویڈیو میں۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ ہے۔ اور اسی مینشن میں ہے۔ شاید وہ آواز بھی اسی کی تھی؟ کسے پتا؟  پر اتنا ضرور پتا تھا کہ وہ ہے یہاں پر۔

 

پر روش کی بات نے ایک بار پھر انہیں پریشانی میں ڈال دیا۔ کہیں انہی میں سے کوئی نائٹ واکنگ تو نہیں تھا؟

 

نیکول:

مجھے نہیں لگتا کہ یہ ممکن ہے۔ نائٹ واکنگ کوئی اور ہے۔ شاید وہی جو ہمیں تفصیلات بتا رہا تھا؟  یا شاید کوئی اور؟ اور اگر وہ ہم میں سے ہے، تو ہم اسے آسانی سے شناخت کر سکتے ہیں۔ جو بھی ہماری گروپ میٹنگ کے دوران غائب ہوگا۔ صرف وہی ہو سکتا ہے۔

 

نیکول نے سمجھاتے ہوئے کہا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر آپس میں سے کوئی نائٹ واکنگ نکلتا بھی ہے تو بھی اسے آسانی سے پکڑا جا سکتا ہے۔ گروپ میٹنگ کے دوران جو بھی ان کے بیچ غائب رہے گا۔ اس پر ہی شک جائے گا۔

 

کیف:

ہمیں پہلے ایک کمرہ منتخب کرنا چاہیے۔ ہم وہاں اپنے بیگ رکھ سکتے ہیں۔ اور پھر کیوں نہ مینشن میں ایک چکر لگائیں؟ اس طرح ہم اپنے ماحول سے واقف ہو سکتے ہیں۔

 

گروک:

ضرور! اچھا لگتا ہے!!!

 

کیف کی رائے سبھی مان گئے۔ اس کا کہنا تھا کہ جو یہ ایک گھنٹے کا وقت ملا تھا۔ کیوں نہ ہم اس گھنٹے میں اپنے اپنے کمرے منتخب کرکے اس میں سامان رکھ دیں اور باہر نکل کے مینشن کا ایک چکر لگائیں تاکہ ہمیں پتا چل سکے کون سی جگہ کدھر پر ہے۔

 

آئیڈیا  برا نہیں تھا۔ اور اگر کیف یہ بات نہیں بھی رکھتا تو بھی ویر ایک چکر مینشن کا مارتا  ہی۔

 

کینوز:

ٹھیک ہے!

 

روش:

ہاں!!! بس یہی ہے لوگو۔ 15 منٹ بعد یہاں ملیں گے۔

 

روکی:

اوکے!

 

پنکی:

کککیف، کیا میں تمہارے کمرے کے پاس والے کمرے میں رہ سکتی ہوں؟

 

کیف:

اوہ ضرور!!!

 

روکی، کیف، روش، پنکی، گروک یہ سبھی اوپر چڑھے اور بائیں طرف مڑ کے بائیں طرف ہال وے میں چلے گئے۔

 

تو وہیں ویر اور نیکول آگے بڑھے، ان کے پیچھے کینوز تھی۔

 

جیسے ہی وہ وہاں پہنچے ان کے سامنے دو کوریڈور کے لیے راستے تھے۔ ایک بائیں طرف جا رہا تھا جہاں وہ سبھی ابھی گئے ہوئے تھے۔ اور ایک دائیں طرف۔

 

ویر:

کون سا؟

 

نیکول (مسکراتے ہوئے):

میں ہمیشہ اپنے کام دائیں کرتا ہوں!

 

ویر (مسکراتے ہوئے):

تو چلو پھر!!!

 

نیکول کے کہنے پر دونوں آگے بڑھے اور دائیں طرف مڑ گئے۔ خاص بات یہ تھی کہ کینوز بھی ان کے پیچھے تھی۔

 

ویر نے پیچھے پلٹ کر اسے دیکھا تو ایک بار پھر ان دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے سے ملیں۔ پر دونوں نے ہی کچھ کہا نہیں۔ ویر کی پرائیڈ اور ایٹی ٹیوڈ اسے گفتگو شروع کرنے سے روک رہی تھی۔ الفا میل انسٹنکٹس ایکٹو تھے اس کے۔ اب وہ ان لڑکوں میں سے نہیں تھا  جو لڑکیوں کے پیچھے بھاگ کے ان کی چاٹیں۔

 

لڑکیاں خود بخود اس کے پاس آتی تھیں۔ اس کی پہچان ہی اب ایسی تھی۔

 

نیکول تو دوستانہ تھا ہی۔ اس نے ہی بات شروع کی،

 

نیکول:

تم ان کے ساتھ نہیں جا رہی؟

 

نیکول نے پوچھا۔ ظاہر ہے کہ کینوز ان کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی۔ پر پھر بھی وہ ابھی ویر اور اس کے ساتھ آ رہی تھی۔

 

کینوز:

I trust you guys more than them.

میں تم لوگوں پر ان سے زیادہ بھروسہ کرتی ہوں۔

 

ویر: !!!؟؟؟

 

نیکول:

ہاہاہا~ سمجھا! تو یہ بات ہے۔ ویر! میں یہ والا چن رہا  ہوں۔

 

نیکول نے ایک کمرے کے دروازے کے باہر رکتے ہوئے کہا۔

 

ویر:

ٹھیک ہے! میں اس کے پاس والا چن لیتا ہوں۔

 

وہ آگے بڑھا اور جیسے ہی کمرے کے باہر رکا وہ تو اس کا دھیان دروازوں اور کمرہ نمبروں پر گیا۔

 

ویر:

ہمم؟

 

دروازے کی بناؤٹ الگ قسم کی تھی۔ ریکٹینگولر بارز بنے ہوئے تھے دروازے میں۔

 

اس نائٹ واکنگ کو گولڈن بارز کا اتنا شوق ہے کہ دروازے پر بھی بارز بنوا دیے!? ہاہا~’

 

پری:

ہاں!!!!

 

جس طرح سے ریکٹینگولر بارز ایک چاکلیٹ میں ہوتے ہیں۔ کچھ اسی طرح دروازے کا سٹرکچر تھا۔ ویر نے جیسے ہی دروازہ کھولا اسے حیرت ہوئی۔

 

اوہہہ~’

 

دروازہ کافی بھاری تھا۔

 

ہمم؟ یہ عجیب ہے!’

 

پری:

کمرہ نمبر؟

 

ہاں!!! پری!!! نیکول کا کمرہ نمبر میرے سے ایک کم یا زیادہ ہونا چاہیے۔ اس کا کمرہ میرے بغل میں ہی ہے۔ پر اس کا کمرہ نمبر تو کچھ اور ہی تھا۔ یہاں کی نمبرنگ لگتا بڑی ہی عجیب ہے۔

 

پری:

میں متفق ہوں ماسٹر! یہاں کی کون سی چیز عجیب نہیں ہے؟ فکنگ ایوری تھنگ!


ہاہاہا~ یہ بات بھی ٹھیک ہے۔

 

کینوز ویر کے پیچھے سے نکلتے ہوئے آگے گئی اور ویر کے بغل والے کمرے میں گھس گئی۔ گھسنے سے پہلے ایک بار اس نے ویر کو ضرور دیکھا۔

 

پری:

ہہہہ~ وہ آپ میں دلچسپی رکھتی ہے۔

 

اوہ چپ کر! فیور ایبلٹی تم نے نہیں دیکھی کیا؟ 4 تھی۔

 

پری:

تو پھر وہ آپ کے ساتھ کیوں آئی؟ وہ بھی آپ کے بغل والے کمرے میں؟ *سنف *سنف* مجھے یہاں تجسس کی بو آ رہی ہے۔

 

ہاہاہا~ تم اوور تھنک کر رہی ہو پری۔ اس نے کہا تو۔ وہ ہم پر زیادہ بھروسہ کر رہی ہے۔ اور دوسری بات، میں نے پہلے نیکول کے بغل والا کمرہ لے لیا۔ تو ظاہر ہے کہ وہ میرے نیکسٹ والا ہی کمرہ چنے گی۔ بھلا اکیلے ہو کے وہ ہم سے دور والا کمرہ کیوں لینا چاہے گی؟

 

پری:

ہمم… پر پھر بھی! میں بتا سکتی ہوں… میں بھی لڑکی ہوں۔

 

نااااا!!!’

 

ویر نے اپنا بیگ اندر کمرے میں رکھا۔ کمرہ اچھا تھا۔ پر اس کے باوجود ڈراونی وائبز  دے رہا تھا۔

 

بیگ رکھ کر سبھی اسی ہال میں اکٹھے ہوئے۔ 15 منٹ بعد ملنے کا فیصلہ کیا تھا انہوں نے۔

 

سبھی اکٹھے ہوئے اور سب نے مینشن میں گھومنا شروع کیا ایک ساتھ۔ مینشن اتنا بڑا تھا کہ سبھی یہ جان کے حیران تھے۔

 

اور گھومتے گھومتے ان کی اصلی گانڈ تب پھٹی جب انہیں پتا چلا کہ واش روم ایک ہی تھا پورے مینشن میں۔

وہ بھی گراؤنڈ فلور پر۔ وہ سبھی تو اوپر والی فلور پر تھے۔ اوپر سے کچن بھی ایک دم اینڈ میں تھا۔ پانی کی سپلائی تو یہی تھی۔ یہ تو  پریشانی والی بات تھی۔

 

گھومتے گھومتے وہ ایک ایسے حصے پر پہنچے جہاں عجیب و غریب پینٹنگز لٹکی ہوئی تھیں۔

 

ویر ان پینٹنگز کے قریب پہنچا۔۔۔

 

یہ عجیب ہیں!! چیک!!!’

 

*ڈنگ*

 

تاشفین کے ذریعے جمع کی گئی ایک پینٹنگ۔

 

تاشفین؟؟ یہ تاشفین کون ہے؟ یہاں کا مالک؟ یا ماضی میں جو یہاں تھا؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page