Perishing legend king-318-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 318

پری:

نہیں پتا ماسٹر! پر آپ بس اپنا خیال رکھو۔ پیسوں یا کسی اور چیز کی پرواہ نہ کرو۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ محفوظ رہیں۔ بس۔

 

تم تو میری ماں بن رہی ہو پری! ہاہا~’

 

پری:

کیونکہ میں آپ سے پیار کرتی ہوں۔ آپ یہ جانتے ہیں۔ اور آپ جانتے ہی ہیں میرا کیا حال ہوتا ہے۔ آپ کیوں نہیں سمجھتے؟

 

ویسے…’

 

پری:

ہمم؟

 

کیا میری ماں واقعی میری فکر کرتی ہے؟ اصلی ماں…’

 

پری:

جذباتی نہ ہوں۔ وہ یقیناً آپ سے پیار کرتی ہیں۔

 

ان کی طرف سے ابھی تک کوئی رسپانس نہیں آیا ہے پری۔ انہیں لاکٹ دکھانے کے بعد بھی۔

 

پری:

تھوڑا انتظار کیجئے۔ وہ ضرور آپ کو ڈھونڈنے آئیں گی۔

 

کاش….!’

 

پورا مینشن گھومنے کے بعد۔

 

نیچے رکھی بڑی سی گھڑی کا گھنٹا بج چکا تھا۔

 

*ڈنگ  ڈونگ*

 

گھڑی سے چڑیا نکل ککو ککو کر رہی تھی۔ 9 بج چکے تھے۔ انٹرکام سے اس بار کوئی آواز سنائی نہیں دی تھی۔

 

آدھے گھنٹے تک ان لوگوں نے ڈھونڈا پر کہیں کوئی خزانہ نہیں ملا۔

 

کینوز:

ہم نے زیادہ کوشش نہیں کی۔ کیا پتا پیسہ بیسمنٹ میں چھپا ہو؟ یا شاید پینٹنگز کے پیچھے؟ آپ سمجھ رہے ہیں میرا مطلب؟

 

روش:

ضرور! ہم اگلی شفٹ میں یہ کریں گے۔

 

اور یہی سوچ  کرسبھی اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے۔

 

کیونکہ نائٹ واکنگ کے گھومنے کا وقت شروع ہو چکا تھا۔

 

سب نے اندر سے اپنے کمرے کو لاک کر لیا۔ رات میں وہ گھومتا تھا، تبھی اس کا نام پڑا تھا۔ نائٹ واکنگ!!!

 

خوف کے مارے سب اندر دبک گئے۔ ویر بستر پر لیٹے کچھ سوچ رہا تھا جب اچانک ہی۔۔۔

 

اییررررررررغغغغغہ”

ایک رونگٹے کھڑے کر دینے والی چیخ پورے مینشن/حویلی میں گونج اٹھی۔

 

 

ویر کے بدن میں ایک جھرجھری سی دوڑ گئی۔ وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کی نظریں کمرے کے دروازے کی طرف اٹھیں، جو ابھی تک لاک تھا۔ چیخ اتنی بلند تھی کہ اس نے سب کے ہوش اڑا دیئے تھے۔

 

پری:

ماسٹررر~ یہ کیا تھا؟؟

 

نہیں پتا پری! لیکن کچھ گڑبڑ ہے۔ یہ چیخ۔۔۔یہ کسی کی موت کی چیخ ہو سکتی ہے۔

 

پری:

اوہ نو! آپ۔۔۔ آپ باہر تو نہیں جا رہے نا؟

 

نہیں! ابھی نہیں۔ نائٹ واکنگ گھوم رہا ہے۔ اگر میں ابھی باہر نکلا  تو…’

 

ویر نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ وہ جانتا تھا کہ باہر نکلنا اب موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ نائٹ واکنگ کے قواعد واضح تھے۔ 9:30 سے 12 بجے تک وہ مینشن میں گھومے گا۔ اور جو بھی اس کی نظروں کے سامنے آیا، اس کی موت یقینی تھی۔

 

کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ ویر کے دل کی دھڑکنیں تیز تھیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ یہ چیخ کس کی ہو سکتی ہے۔ پنکی؟ کینوز؟ یا شاید کوئی اور؟ سب کے چہرے اس کے ذہن میں گھوم رہے تھے۔

 

پری:

ماسٹر، آپ ٹھیک ہیں  نا؟

 

ہاں پری، میں ٹھیک ہوں۔ بس۔۔۔ ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔ 12 بجے تک۔ پھر دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

 

ویر نے اپنی ٹارچ اٹھائی اور کمرے کے کونوں کو چیک کیا۔ اسے یقین دلانا تھا کہ وہ محفوظ ہے۔ کمرہ بھاری دروازے کی وجہ سے کافی محفوظ لگ رہا تھا، لیکن اس چیخ نے اس کے ذہن میں ایک خوف بٹھا دیا تھا۔

 

کمرے کے باہر سے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔ بس ایک گہری خاموشی۔ جیسے مینشن موت کی وادی میں بدل چکا ہو۔ ویر نے اپنی سانسوں کو کنٹرول کیا اور بستر پر واپس لیٹ گیا، لیکن اس کی آنکھیں بند نہیں ہو رہی تھیں۔ وہ ہر آہٹ پر کان لگائے رکھتا تھا۔

 

پری:

ماسٹر، اگر۔۔۔ اگر یہ نائٹ واکنگ واقعی ہم میں سے کوئی ہے تو؟

 

روش نے بھی یہی کہا تھا۔ لیکن نیکول کی بات سچ ہے۔ اگر وہ ہم میں سے کوئی ہے تو ہم اسے پکڑ لیں گے۔ بس ہمیں گروپ میٹنگ میں سب کو چیک کرنا ہوگا۔ جو غائب ہوگا، وہی مشکوک ہوگا۔

 

پری:

لیکن اگر وہ کوئی باہر کا ہے؟ کوئی جو اس مینشن کا حصہ ہے؟

 

تو پھر ہمیں اسے ڈھونڈنا ہوگا۔ اس مینشن میں کچھ راز چھپے ہیں، پری۔ یہ پینٹنگز، یہ تاشفین کا نام، یہ عجیب نمبرنگ۔۔۔ سب کچھ ایک پزل کی طرح ہے۔

 

ویر کے ذہن میں خیالات کا طوفان چل رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ رات آسان نہیں ہوگی۔ نائٹ واکنگ کوئی عام قاتل نہیں تھا۔ اس کی پلاننگ، اس کا طریقہ، سب کچھ ایک بڑی سازش کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔

 

کچھ دیر بعد، ویر نے اپنی گھڑی دیکھی۔ رات کے 11:45 بج رہے تھے۔ بس 15 منٹ اور، پھر وہ باہر نکل کر دیکھ سکتا تھا کہ کیا ہوا۔ لیکن اس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ وہ چیخ ابھی تک اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔

 

پری:

ماسٹر، آپ کچھ کھا لیں۔ آپ کو طاقت کی ضرورت ہوگی۔

 

ہاہا، تم واقعی میری ماں بن رہی ہو۔ لیکن ٹھیک ہے، کچھ کھا لیتا ہوں۔

 

ویر نے اپنے بیگ سے ایک انرجی بار نکالا اور کھانا شروع کیا۔ اسے اپنی طاقت برقرار رکھنی تھی۔ اس رات کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے ہر ممکن تیاری کرنی تھی۔

 

جیسے ہی گھڑی نے 12 بجے کا وقت دکھایا،  ویر نے اپنی ٹارچ اور چھری اٹھائی۔ وہ آہستہ سے دروازے کے پاس گیا اور کان لگا کر باہر کی آواز سننے کی کوشش کی۔ کوئی آواز نہیں تھی۔ بس ایک ڈراونی خاموشی۔

 

پری:

ماسٹر، احتیاط سے!

 

ہاں، پری۔ میں تیار ہوں۔

 

ویر نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور باہر جھانکا۔ ہال وے خالی تھا۔ لیکن اسے ایک عجیب سی بو آ رہی تھی۔ خون کی بو۔ اس کے دل کی دھڑکنیں اور تیز ہو گئیں۔ وہ آہستہ آہستہ ہال وے میں نکلا اور نیکول کے کمرے کی طرف بڑھا۔

 

نیکول کا دروازہ بند تھا۔ ویر نے آہستہ سے دستک دی۔

 

نیکول؟ تم ٹھیک ہو؟

 

کوئی جواب نہیں آیا۔ ویر نے دوبارہ دستک دی، لیکن پھر بھی خاموشی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ کیا نیکول…؟

 

وہ پیچھے ہٹا اور کینوز کے کمرے کی طرف دیکھا۔ اس کا دروازہ بھی بند تھا۔ ویر نے فیصلہ کیا کہ وہ پہلے ہال میں جا کر سب کو چیک کرے گا۔ شاید سب وہیں اکٹھے ہوں۔

 

وہ ہال کی طرف بڑھا، لیکن جیسے ہی وہ مین ہال کے قریب پہنچا، اسے زمین پر کچھ دکھائی دیا۔ خون کے چھینٹے۔ اس کا دل بیٹھ گیا۔ وہ آہستہ سے آگے بڑھا اور دیکھا کہ ہال میں چند لوگ موجود تھے۔ کینوز، روش، اور گروک۔ لیکن پنکی، کیف، اور روکی غائب تھے۔

 

کینوز نے ویر کو دیکھتے ہی کہا،

 

کینوز:

ویر! تم ٹھیک ہو؟ ہم نے چیخ سنی۔

 

ویر:

ہاں، میں ٹھیک ہوں۔ لیکن نیکول… وہ اپنے کمرے میں نہیں ہے۔ اور یہ خون… یہ کیا ہے؟

 

روش:

ہم نہیں جانتے۔ ہم ابھی یہاں آئے۔ لیکن پنکی، کیف، اور روکی کہیں نہیں ہیں۔

 

گروک:

شاید۔۔۔ شاید نائٹ واکنگ نے۔۔۔

 

ویر نے کینوز کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر خوف تھا، لیکن وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ویر نے فیصلہ کیا کہ اب وقت تھا ایکشن لینے کا۔

 

ویر:

ہمیں مل کر ڈھونڈنا ہوگا۔ اگر نائٹ واکنگ ابھی تک گھوم رہا ہے، تو ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔ کینوز، تم میرے ساتھ چلو۔ روش، گروک، تم گراؤنڈ فلور چیک کرو۔

 

کینوز نے سر ہلایا  اور ویر کے ساتھ چل پڑی۔ وہ دونوں نیکول کے کمرے کی طرف واپس گئے۔ ویر نے دروازہ زور سے کھٹکھٹایا، لیکن پھر بھی کوئی جواب نہیں آیا۔ آخر کار، اس نے دروازہ زور سے دھکیل کر کھول دیا۔

 

کمرہ خالی تھا۔ لیکن بستر پر خون کے دھبے تھے۔ ویر کا دل بیٹھ گیا۔ نیکول۔۔۔ کیا واقعی۔۔۔؟

 

پری:

ماسٹر! یہ… یہ بہت خطرناک ہے۔ ہمیں یہاں سے نکلنا چاہیے!

 

نہیں پری۔ اب پیچھے ہٹنے کا وقت نہیں ہے۔ اگر نیکول زندہ ہے، تو ہمیں اسے ڈھونڈنا ہوگا۔ اور اگر نائٹ واکنگ نے یہ کیا ہے۔ تو میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔

 

ویر نے کینوز کی طرف دیکھا، جو اب اس کے قریب کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں خوف کے ساتھ ساتھ ایک عزم بھی تھا۔

 

کینوز:

ہمیں بیسمنٹ چیک کرنا چاہیے۔ اگر نائٹ واکنگ کہیں چھپا ہے، تو شاید وہ وہیں ہو۔

 

ویر:

ٹھیک ہے۔ لیکن ہم اکیلے نہیں جائیں گے۔ ہمیں روش اور گروک کو ساتھ لینا ہوگا۔

 

وہ دونوں واپس ہال کی طرف بڑھے، لیکن ان کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا۔ نائٹ واکنگ کون ہے؟ اور اس کی اگلی شکار کون ہوگا؟.
۔

۔

۔

۔
 ٹینشن مت لو۔۔۔وہ ٹھیک ہوگا!!”

 

آواز شروتی کی تھی جو کھڑی ہوکے سہانا کو دیکھ رہی تھی۔ سہانا گھر کی کھڑکی کے پاس کھڑی ہوکے باہر آسمان کو گھور رہی تھی۔ شروتی کے گھر میں صرف وہی دونوں تھیں۔ ڈیکسٹر کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔

 

سہانا کا من اتنا مضطرب تھا کہ بیچاری بے چینی کے چلتے کچھ بھی نہ بول پا رہی تھی۔

 

پر آخر کب تک خاموش رہتی وہ؟ ایک لمبی سانس لینے کے بعد اس نے بولنا شروع کیا،

 

سہانا:

ڈیکسٹرنے ایسا کیوں کیا؟

 

شروتی:

ہہ؟ کیا؟  اس نے کیا  کیا؟

 

سہانا:

میرے ساتھ مذاق مت کرو شروتی!!

 

وہ اچانک ہی چلا اٹھی،

 

شروتی:

سسسہانا–!؟

 

سہانا (پلٹتے ہوئے):

میرے ساتھ مذاق مت کرو!! کیا میں نہیں جانتی؟  جیکی نے کہا تھا  ڈیکسٹر کو کہ وہ اپنی ٹیم سے کسی کو بھیجے۔ اس کی ہمت کیسے ہوئی ویر کا نام آگے کرنے کی؟

 

شروتی:

سہانا  رکو! میں جانتی ہوں میرا شوہر۔۔۔

 

سہانا:

ایک نمبر کا چوتیا ہے!!!

 

شروتی:

ہہہہہ؟؟

 

سہانا:

وہ ایک فکنگ ایڈیٹ ہے! اور تم بھی یہ جانتی ہو۔ تمہارے کہنے پر میں ویر کو یہاں لائی۔ صرف اس لیے کہ تم نے مجھ سے کہا تھا۔اس دن اس نے تیری جان بھی بچائی۔ اتنا سب کچھ کافی تھا ثابت کرنے کے لیے کہ وہ کوئی نارمل ایوریج انسان نہیں ہے۔ وہ کچھ طریقے جانتا ہے۔ پر اس کے بعد بھی تم نے۔۔۔۔

 

شروتی (بھوئیں سکیڑتے ہوئے):

سہانا! میں کچھ باتوں سے متفق ہو سکتی ہوں۔ پر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم میرے شوہر ڈیکسٹر کو اس طرح۔۔۔۔

 

سہانا:

بھاڑ میں گیا تمہارا  ڈیکسٹر!! گانڈ میں لے لو اسے اپنی۔

 

شروتی:

تت۔۔۔تم۔۔۔۔

 

اس نے گھور کے سہانا کو دیکھا۔

 

سہانا:

ہومف~ کیا میں نہیں جانتی؟ ڈیکسٹر تمہیں انویسٹی گیشن کی فیلڈ میں لے کر آیا تھا۔ پر تم نے اسی کی فیلڈ میں آکے اسے مات دے دی۔ اب اس میں تمہاری کیا غلطی اگر تم اس سے زیادہ ہوشیار ہو تو؟ لیکن ڈیکسٹر ٹھہرا ایک مرد۔ وہ کیسے برداشت کرتا کہ اس کی بیوی اس سے زیادہ کما رہی ہے؟ تبھی تو ہر پبلک کیسز میں اپنی ٹانگ اڑاتا ہے وہ۔ یہ دکھانے کے لیے کہ وہی سب سے ماہر ہے۔ ہومف~ ایڈیوٹک تھنکنگ/بیوقوفانہ سوچ!

 

شروتی (ناراضگی سے):

سہانا! تم حد سے بڑھ رہی ہو۔

 

سہانا:

میں تمہیں بتا رہی ہوں! اگر اسے کچھ ہوا تو سارا کا سارا الزام میں تم پر ہی ڈالنے والی ہوں۔ یہ ذہن میں رکھو۔

 

شروتی (غصے میں):

ووواٹٹٹٹ دَ  فک سہانا؟؟ تم ایک ایرے گھیرے تیسرے لڑکے کے لیے ہماری بچپن کی دوستی کو یوں داؤ  پر لگا دو گی؟

 

سہانا  (اونچی آواز میں):

اسے کبھی اس طرح مت کہنا۔ وہ کوئی ایرا گھیرا نہیں ہے۔ سن رہی ہو؟ وہی تھا جس نے میری سب سے بڑی ٹینشن کو دور کیا تھا۔ آتش کو مار کے۔ اور میں نے اس کے بدلے کیا کیا؟

 

شروتی: …

 

سہانا:

اس نے حقیقت میں مجھ پر احسان کیا تھا۔ پر بدلے میں میں نے اس پر احسانات چڑھا دیئے۔ تمہاری یہ بری عادت جو لگ گئی ہے مجھے۔ کبھی کبھی۔۔۔ کبھی کبھی میں بس اس پر ترس کھاتی ہوں اور اپنے فیصلے پر پچھتانے لگتی ہوں۔ وہ کبھی شکایت نہیں کرتا۔ جو میں کہتی ہوں وہ کرتا ہے۔ اور بدلے میں کبھی کچھ نہیں مانگتا۔

 

شروتی: ؟؟؟!

 

سہانا:

اور۔۔۔ اور یہاں میں اسے اپنی ذمہ داری پر لے کر آئی ہوں۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو کیا منہ دکھاؤں گی اس کے چاہنے والوں کو؟ تمہیں ذرا بھی خبر ہے اس کے گھر کی؟

 

شروتی:

کک-کیا؟

 

سہانا:

تمہیں نہیں پتا۔ بالکل! ہاہا~ تو میں بتاتی ہوں تمہیں۔ اس کے بارے میں.۔۔۔۔

 

اس کے بعد سہانا نے ویر کا سارا ماضی بتا ڈالا۔ جتنا اسے پتا تھا اتنا ہی۔ شروتی نے جب ویر کے بارے میں جانا کہ وہ بیچارہ گھر سے نکال دیا گیا تھا اور اپنی اصلی ماں کی تلاش میں تھا۔ تو اپنے آپ اس کے من میں ویر کے لئے ایک ہمدردی جاگ گئی۔

 

شروتی:

مممیں سمجھی! مجھے نہیں پتا تھا کہ ویر۔۔۔

 

سہانا:

توبہتر ہے اپنے الفاظ واپس لو۔

 

شروتی:

تم پہلے لو۔ڈیکسٹر کے بارے میں تم نے ابھی جو بھی بولا۔

 

سہانا:

ہہ؟ فک آف! میں نے صرف اور صرف سچ کہا۔ تم کتنا ہی خود سے جھوٹ بولو۔ اندر ہی اندر تم جانتی ہو کہ تمہارا شوہر تمہارے لیے اچھا میچ نہیں ہے۔ ایک مینڈک جو بس ہنس کا گوشت کھانے کی خواہش رکھتا ہے۔ ہومف~

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page