Perishing legend king-320-منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی ایک بہترین سلسہ وار کہانی منحوس سے بادشاہ

منحوس سے بادشاہ۔۔ ایکشن، سسپنس ، فنٹسی اور رومانس جنسی جذبات کی  بھرپور عکاسی کرتی ایک ایسے نوجوان کی کہانی جس کو اُس کے اپنے گھر والوں نے منحوس اور ناکارہ قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔اُس کا کوئی ہمدرد اور غم گسار نہیں تھا۔ تو قدرت نے اُسے  کچھ ایسی قوتیں عطا کردی کہ وہ اپنے آپ میں ایک طاقت بن گیا۔ اور دوسروں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کرنے لگا۔ دوستوں کے لیئے ڈھال اور دشمنوں کے لیئے تباہی بن گیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ قسط نمبر -- 320

پر اس سے پہلے کہ وہ پنکی اور کیف کو ڈھونڈھنے نکل پاتے، 

 

ایئئئ ئئئئئئ~” 

 

پھر سے وہی چیخ انہیں سنائی دی۔ اس بار بہت قریب سے۔ اور اگلے ہی پل، پنکی اندھیرے میں سے نکلتے ہوئے بھاگتی ہوئی ان کے قریب آئی۔

 

اور سیدھا آکے ویر کی بانہوں میں کود گئی۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ گالوں پر آنسوؤں کی بوندیں سجی ہوئی تھیں۔ اور اس کا پورا  حلیہ ہی خوف کے مارے بگڑا ہوا تھا۔ پورا بدن اس کا  ڈر سے ٹھٹھر رہا تھا۔

 

ویر: ؟؟

 

گروک:

پپپپنکی؟؟؟ واٹ ہیپنڈ؟؟؟ وائے وئر یو اسکریمنگ؟ نو! وئیر وئر یو؟ وہئیرز کیف؟

 

پنکی (روتے ہوئے):

آئی سا  اِٹ۔۔۔ آئی سا  اِٹ۔۔۔ہووووو~ ہ-ہی کلڈ ہِم۔۔۔ ہی کلڈ کیف۔۔۔ *سنف* *سنف

 

پنکی اپنا منہ ویر کی چھاتی میں چھپائے بڑبڑائے جا رہی تھی۔ پر اس کی بات سبھی نے سن لی تھی۔ اور ان سبھی کو ایک بڑا جھٹکا لگا تھا۔ کیف!! مر چکا تھا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کیف کی موت کے بارے میں جان کے ان کے خود کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔

 

کینوز:

آئی۔۔۔ آئی تھنک وی شُڈ فرسٹ ہیڈ انسائیڈ۔ ریممبر!؟ اٹس نائٹ واکنگ ٹائم رائٹ  ناؤ!!! 

 

پنکی:

ہیز۔۔۔ ہیز بی ہائنڈ می۔۔۔ ہیز کمنگ۔ ہی وِل کِل می!!! ہہی ول کل می۔۔۔ آئی-آئی ول ڈائی۔۔۔*سنف* آئی ڈونٹ وانٹ ٹو ڈائی۔۔۔

 

ویر نے اس کے کندھے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے اور اس کی آنکھوں میں دیکھا، 

 

ویر:

 کام ڈاؤن!!! اوکے؟

 

پنکی:

آہہہ!؟ آئی۔۔۔*روتی ہوئی* آئی ڈونٹ وانا  ڈائی!! آئی  ڈونٹ۔۔۔*سنف

 

روش:

لیٹس گو ان  مائی روم

 

نیکول:

رائٹ!!! 

 

ابھی سب سے پہلا کام جو ضروری تھا وہ تھا ایک کمرے کے اندر ہونا۔ کیونکہ یہ وقت نائٹ واکنگ کا تھا۔ باہر رہنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔

 

روش کی بات مان کرسبھی اس کے کمرے میں چل دیئے۔ اور روش نے اندر سے دروازہ بند کر دیا۔

 

سنگل بیڈ پر بیچ میں پنکی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی ایک طرف ویر تھا  تو دوسری طرف کینوز۔ لڑکی ہونے کے ناطے کینوز ہی اسے اچھے سے کمفرٹ دے سکتی تھی اس ماحول میں۔ ویر کے بغل  میں روش خود بیٹھا ہوا تھا۔ اور نیکول، روکی اور گروک دیوار سے ٹیک لگاکے ہاتھ باندھے کھڑے ہوئے تھے۔

 

نیکول:

ناؤ ٹیل از  واٹ ایگز ایکٹلی  ہیپنڈ؟

 

اس کے بعد پنکی نے کانپتے ہوئے پوری واردات کا  تفصیل دیا۔ جسے سن  کر وہاں موجود ہر انسان اندر تک ہل کے رہ گیا۔

خاص کر جب انہیں کیف کے کٹے ہوئے سر کے بارے میں جاننے کو ملا۔

 

ایسے خوفناک ماحول میں جس بات کی لِیسٹ ایکسپیک ٹیشن/کم توقعات تھی کہ کم سے کم یہ نہ ہوجائے۔ پر ان کی قسمت خراب،  وہ بھی  ہو گیا۔

 

*گڑگڑانا* *گڑگڑانا*

باہر بادل زور سے گرجے اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ بجلی چمکی اور کمرے کی کھڑکی سے اس کی چم چماتی روشنی اندر کمرے میں آ پڑی، 

 

*کڈک کڈک کڈک کڈک

 

آاااہہہہہہہہ!!!!” 

 

بجلی کڑکنے اور بادل گرجنے کی آواز سے پنکی اور ڈر کے مارے ویر کے سینے سے لپٹ گئی۔ یہ آوازیں اس کالی رات کو اور بھی ڈراؤنی بنا رہی تھیں۔ پتا نہیں کیوں، پر ویر کے گلے سے لگے رہنے میں ہی وہ خود کو سلامت محسوس کر رہی تھی۔

 

کینوز بغل میں اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ بھی تھی یہاں۔ پر پنکی اسے چھوڑ کرویر کی بانہوں میں کود رہی تھی۔ جو کینوز  بھانپ چکی تھی۔

 

ویر کچھ نہ بولا۔ اس کی نظریں ایک بار پھر کینوز سے ٹکرائیں، اس کے بعد اس نے کہنا شروع کیا۔

 

ویر:

آئی ہیو  ا ے کویسچن فور  یو  آل۔

 

روش:

واٹ  از  اٹ؟

 

ویر:

ہاؤ  ڈڈ  یو گائز  ایرائیو  ہئیر؟

 

روش:

ہہہہ؟

 

گروک:

آئی ڈونٹ نو اباؤٹ آدرز۔ بٹ می اینڈ روش آر ان اے میوزک بینڈ ٹوگیدر۔ روشز فادر لوز فشنگ سو ہی  اونز اے  رن اباؤٹ بوٹ۔ وی کیم ہئیر بائی دیٹ اونلی۔

 

گروک نے اپنے اور روش کے آنے کا تفصیل بتایا کہ وہ ایک رن اباؤٹ بوٹ سے آئے تھے۔ رن اباؤٹ بوٹ کچھ ایسی تھی

 

ویر (روکی کو دیکھتے ہوئے):

واٹ  اباؤٹ  یو؟

 

روکی:

آئی کیم بائی اے  موٹر بوٹ۔

 

ویر نے ہامی بھری اور پھر کینوز کو دیکھا جو زمین کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اور بنا ویر کو دیکھ کر وہ بولی، 

 

کینوز:

آئی رینٹڈ  اے جیٹ سکائی اینڈ کیم ہئیر۔(میں نے جیٹ سکی کرائے پر لی اور یہاں آیا۔)

 

آخری بچی تھی پنکی پر وہ بتانے کو تیار نہیں تھی کہ وہ یہاں کیسے آئی۔

 

پنکی:

آئی ایم۔۔۔ آئی ایم ساری! اٹس پرسنل! آئی-آئی کین نٹ ٹیل یو۔۔۔

 

گروک:

واٹ اباؤٹ یو ویر؟

 

ویر (اسمائل):

نیکولز  فرینڈ از رِچ۔ ہی  اونز  اے ہیلی  کاپٹر۔

 

گروک:

ڈیمن! یو گائز کیم ہئیر  بائی ا ےہیلی کاپٹر؟؟؟

 

روش:

دیٹس کول

 

روکی:

دین دیٹ لیوز پنکی اونلی۔ گائز! کیف گوٹ کلڈ وین ہی واز  وِد پنکی۔ اینڈ ناؤ شیز نٹ ایون ٹیلنگ اس ہاؤ  ڈِڈ شی ایرائیو ہئیر۔ یو ڈو دی میتھ!!! (پھر توصرف پنکی  رہ گئی ہے۔ لوگوں! کیف اس وقت مارا گیا جب وہ پنکی کے ساتھ تھا۔ اور اب وہ ہمیں یہ بھی نہیں بتا رہی کہ وہ یہاں کیسے پہنچی۔ آپ  حساب کرتے ہیں !!!)



ایسا کہہ کر روکی نے سیدھا وار پنکی پر کیا۔ ظاہر تھا کہ اس کا شک پنکی پر جانا ہی تھا۔ پنکی اور کیف ساتھ میں تھے اور اب کیف مر چکا تھا۔ پنکی یہ بھی نہیں بتا رہی تھی کہ وہ کیسے یہاں پر آئی تھی۔ تو؟ شک کی سوئی پنکی پر جاکے تو رکنی ہی تھی۔

 

پنکی نے جب اپنے اوپر شک کی نظریں محسوس کیں تو وہ  رو پڑی، 

 

پنکی:

وا-واٹٹٹ؟؟؟ ن-نوووو!!!! آئی ڈڈ نٹ کِل کیف۔۔۔ آئی ڈڈنٹ۔۔ *روتی ہوئی* ٹرسٹ می!!! ہاؤ… ہاؤ کین آئی؟؟ و-ویررر؟؟ نن-نیکول؟؟ ٹ-ٹرسٹ می!!! آئی ڈڈنٹ کل ہِم… ہی واز کلڈ بائی دٹ نائٹ واکر۔ ہیز ریئل!!! ہیز آؤٹ دیئر ٹو ہنٹ از ڈاؤن۔ *سنف* *سنف* آئی-آئی ڈڈ نٹ۔۔۔۔

 

ویر نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا، پنکی نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، 

 

ویر:

آئی نو یو  ڈڈ نٹ! ڈونٹ  وری

 

پنکی:

آہہ! تھ-تھینک یو

 

اس کے نینوں سے آنسو چھلک پڑے۔ پر روکی ویر کی بات سے سہمت نہیں تھا۔

 

روکی:

ہاؤ کین یو بی سو شیور؟ شیز دی اونلی ون ہوز دی موسٹ سسپیشس ہئیر۔ (آپ اتنا یقین کیسے کر سکتے ہیں؟ وہ واحد ہے جو یہاں سب سے زیادہ مشکوک ہے۔)

 

ویر:

دین شی کین اسٹے  وِد  می۔ اف آئی گوٹ کِلڈ، دین دیٹ ول پروو  شی از دی ون۔ رائٹ؟

 

روکی:

ی-یووو

 

ویر نے روکی کی بولتی بند کر دی۔ اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ پنکی اس کے ساتھ رہ سکتی ہے اور اگر وہ مرا  تو پنکی ایک قاتل ہے یہ پروو  ہو جائے گا۔ پر اگر وہ نہیں مرا  تو پنکی کا انوسینس بھی پروو  ہو جائے گا۔

 

پنکی بیچاری ویر کو دیکھ کر اور زور زور سے رونے لگی اور اس کی چھاتی میں سماء گئی۔ کینوز چپ چاپ اس کے بغل میں سب کچھ ہوتا دیکھ رہی تھی۔

 

روکی:

ڈو  واٹ ایور یو  وانٹ۔ ٹچ!!! 

 

ویر:

بٹ آئی ہیو سم تھنگ ٹو ٹیل یو گائز۔ نیکول؟؟؟

 

نیکول:

ییہ؟

 

ویر:

وی ڈڈنٹ سی اینی بوٹس آؤٹ دیئر وین وی ایرائیوڈ  ہئیر  رائٹ؟ (جب ہم یہاں پہنچے تو ہمیں وہاں کوئی کشتی نظر نہیں آئی؟)

 

نیکول:

یسسس! دیئر ویئرنٹ اینی۔

 

*بووووووووممم

 

یہ سن کر سب کے ذہنوں میں ایک دھماکہ سا ہوگیا۔سبھی کے چہرے ڈر کے مارے پیلا پڑ گئے۔

 

بحث شروع ہو گئی۔ وہ گھبرانے لگے۔ ویر اور نیکول ہی تھے جو آخر میں آئے تھے۔ اور یہاں آتے وقت انہیں کوئی بھی بوٹ سمندر میں نظر نہیں آئی تھی سوائے پانی کی لہراتی لہروں کے علاوہ۔

 

نیکول:

گائز! گائز! لسن! ڈونٹ وری! آئی کین ٹیک یو آؤٹ فرام ہئیر۔ وی نیڈ ٹو کام ڈاؤن فرسٹ۔ اوکے؟ اینڈ وی نیڈ ٹو فائنڈ واٹ ہیپنڈ  وِد کیف۔

 

پنکی:

آئی ایم… آئی ایم نٹ گوئنگ دیئر اگین۔ آئی ایم  نٹ!! 

 

نیکول:

یو کین اسٹے ود ویر۔ ویر؟ ڈو یو ہیو اینی پرابلم ود  دیٹ؟

 

ویر:

نون

 

نیکول:

الرائٹ! اٹس آل کلیئر دین۔ می، گروک اینڈ روش۔ وی تھری وِل گو اینڈ لُک فار کیف۔ آئی وانٹ ٹو سی ود  مائی اون آئیز واٹ ہیپنڈ ٹو ہِم۔ اینڈ ویر، پنکی، کینوز اینڈ روکی۔ ہاؤ اباؤٹ یو گائز چیک دِی بیسمنٹ؟

 

نیکول نے سجھایا۔ جو کہ صحیح تھا۔ دو ہی جگہ تھیں مینشن کی جہاں اب تک ان لوگوں نے اپنے قدم نہیں رکھے تھے۔ سیکنڈ فلور اور بیسمنٹ۔ پنکی واپس اوپر جانے سے ڈر رہی تھی تو نیکول نے ویر کی ٹیم کو بیسمنٹ میں تحقیقات کرنے کی ذمہ داری سونپ دی۔

 

روکی:

فائن

 

کینوز:

اٹس اوکے

 

نیکول:

دین اٹس ڈیسائیڈڈ۔ آفٹر 12، ویل موو آؤٹ ایمیڈیئٹلی۔

 

جب تک 12 نہیں بجا  تب تک وہ سبھی روش کے کمرے میں ہی ٹھہرے ہوئے تھے۔ 12 بجتے ہی گراؤنڈ فلور کی وہ کلاک کی گھنٹی پھر سے بجی، 

 

*ڈنگ* *ڈونگ

 

اور سبھی ایک دوسرے کو آخری بار دیکھ  کرروش کے کمرے سے نکل گئے۔

 

ویر بیسمنٹ کی طرف میں جا ہی رہا تھا جب اچانک ہی پیچھے سے نیکول نے اس کو آواز دی، 

 

نیکول:

ویرررررررررر

ویر:

ہممم؟

 

اور نیکول نے اپنے ہاتھوں سے کچھ پھینکا۔ ویر نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے کھینچ کیا۔

 

نیکول:

ہولڈ آنٹو دیٹ۔ اف سم تھنگ ہیپنز۔ کنٹیکٹ می!!!   (اسے پکڑو۔ اگر کچھ ہو جائے۔ مجھ سے رابطہ کریں!!!)

 

اور وہ پلٹ کے گروک اور روش کے ساتھ سیکنڈ فلور کی طرف میں نکل گیا۔ ویر کے ہاتھوں میں تھا ~ ایک واکی  ٹاکی۔

 

پری:

نائسلی ڈن!!! یہ کافی کام آئے گا  ماسٹر۔ 

 

انڈیڈ!’ 

 

اور ویر، کینوز، پنکی اور روکی کے ساتھ چل دیا۔  نیچے بیسمنٹ کی طرف۔

 

اور بیسمنٹ میں جیسے ہی ان لوگوں نے قدم رکھے۔ سامنے کا نظارہ دیکھ کر ان کے بدن کے رُوئیں کھڑے ہو گئے۔

 

اتنا لمبا ہال وے تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس کا چھور ہے بھی یا نہیں؟ پر اتنا ہی نہیں۔ دائیں بائیں  سے کئی موڑ بھی تھے جو دوسرے ہال ویز سے مل رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا پوری کی پوری ایک کالونی بسی ہوئی ہے یہاں۔

 

جگہ جگہ انورٹرز اور جنریٹرز بھی موجود تھے۔ لائٹس سیلنگ پر لگی ہوئی تھیں اور فلور پانی سے گیلی پڑی ہوئی تھی۔

 

پنکی:

آئی ڈونٹ وانا گو ان دیئر۔۔۔آئی ڈونٹ وانا۔۔۔پپ-پلیز؟ کین وی گو بیک؟

 

ویر:

نو!!! وی مسٹ چیک دِس ایریا آؤٹ۔

 

اور وہ آگے بڑھے۔ روکی ان کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ پنکی ویر کی بازو تھامے اس سے ٹچ کے چل رہی تھی۔ تو وہیں کینوز ان کے آگے تھی۔ وہ بہت محتاط انداز میں آگے بڑھ رہےتھے۔

 

وہیں دوسری طرف نیکول سیکنڈ فلور پر جا رہا تھا۔ آگے وہی چل رہا تھا۔ اور اس کے پیچھے گروک اور روش۔ وہ بنا پیچھے دیکھے بات کرتے جا رہا تھا۔ پر کچھ دیر وہ شانت رہا۔ جب وہ کوریڈور تک پہنچ گیا تو بولا، 

 

نیکول:

اسٹے بی ہائنڈ می گائز۔ اوکے؟

 

پر پیچھے سے اسے کوئی جواب نہ آیا۔ جب اس نے پلٹ کے دیکھا تو۔۔۔اس کے پیچھے کوئی نہیں تھا۔ گروک اور روش اسے اکیلا چھوڑ کر وہاں سے کب نو دو گیارہ ہو چکے تھے، اسے پتا ہی نہ لگا۔

 

ٹچ!!! دِیز  باسٹرڈز!!!’ 

 

من میں ہی ان کو گالی بک دی، نیکول نے اپنی ٹارچ جلائی اور کوریڈور کے اندر چل دیا۔ لالچ سچ میں بری بلا ہوتی تھی۔

 

نیکول کو اس کے خود کے حال پر چھوڑ کر ادھر گروک اور روش بیچ راستے سے ہی کٹ لئے تھے۔

 

روش:

گروک؟ ڈو یو تھنک وی ڈڈ دی رائٹ تھنگ؟ آئی مین لیونگ ہِم ایلون۔ (کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم نے صحیح کام کیا؟ میرا مطلب ہے اسے اکیلا چھوڑ دینا۔)

 

گروک:

شٹ دی فک اپ مین! وی آر ہئیر ٹو گیٹ آؤر پاکٹس فلڈ۔ ناٹ ٹو پک اپ ڈیڈ باڈیز۔ لیٹ دیم ڈو دوز چورز۔(شٹ اپ یار! ہم یہاں اپنی جیبیں بھرنے آئے ہیں۔ لاشیں اٹھانے کے لیے نہیں۔ انہیں وہ کام کرنے دیں۔)

 

تو گروک تھا جس نے روش کو پکڑ کے راستہ بدل لیا تھا۔ اس کی سوچ ہی بتا رہی تھی وہ کیا کرنے نکلا تھا۔ وہ یہاں پیسے کمانے آئے تھے۔ لاشوں کو اٹھانے نہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منحوس سے بادشاہ کی اگلی قسط بہت جلد  

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page