Raas Leela–24– راس لیلا

Raas Leela

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ سسپنس رومانس جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر  ۔۔راس لیلا۔

راس لیلا۔۔ 2011-12 کی کہانی ہے جو موجودہ وقت سے تقریباً 12-13 سال پہلے کی ہے، انڈیا کے شہر  سورت میں  سال 2011-12 میں شروع ہوئی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے شہر سورت میں بہت  گھنی آبادی ہے اور لوگ شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح رہتے ہیں۔ زیادہ تر متوسط ​​طبقے کے خاندان بھیڑ والے علاقوں میں کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں دو بیڈ روم والے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ یہ کہانی ایک نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنی پڑوسیوں اور دیگر عورتوں کے ساتھ رنگ رلیوں ،  جنسی جذبات  اور جنسی کھیل کی  لازوال داستانیں رقم کی اور جب اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے پھر تو اُس کی راس لیلا کی داستان کو ایک نیا رنگ مل گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

راس لیلا قسط نمبر -24

میں نے کہا: اب تم کمبل پر لیٹ جاؤ۔ تمہیں چودنے کی اب میری باری ۔ 

مانوی اپنی رانوں کو پھیلا کر لیٹ گئی۔ میں سامنے آیا اورایک ہی جاندار گھسے سے پورا  لنڈ  مانوی  کی پھدی میں گھسیڑ دیا۔ اور ہاتھوں  کو مانوی کے مموں پر رکھ دیا اور آہستہ آہستہ پمپ کرنا شروع کر دیا۔ مانوی کو بہت مزہ آ رہا تھا۔ پھر بغیر دیر کیے میں نے رفتار بڑھانی شروع کی اور لنڈ کو تیزی سے اندر باہر کرنا اور پھر آگے پیچھے کرنا شروع کر کے  میں مانوی کو چودنے لگا۔ میرا لنڈ اس کی پھدی میں گہرائی تک جا رہا تھا، مانوی کو پورا مزہ آ رہا تھا۔ ہم دونوں کھلے آسمان کے نیچے زور زور سے سسک اور کراہ رہے تھے، کھلے آسمان میں روشنی کے بیچ ہماری چدائی چل رہی تھی۔  پھر تھوڑی دیر بعد جب میں تھک گیا تو میں نے لنڈ کو باہر نکال لیا اور بیٹھ گیا۔ میں نے کچھ لمبی لمبی سانسیں لیں، اور  مانوی کو دوبارہ لنڈ ڈالنے کے لیے اُس پر جھکا اور اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ 

ہاتھ ہٹاتے ہوئے مانوی نے کہا: وہاں نہیں، اسے پھدی میں ڈالو۔

 اور تیل کی بوتل لے کر اپنے پاس رکھ لی اور مجھے دینے سے انکار کر دیا۔ 

میں نے کہا: پلیز مانوی، پلیز مجھے اپنی گانڈ مارنے دیجیئے۔ 

مانوی نے کہا: نہیں یار، پلیز نو نو نو۔ 

میں نے کہا: پلیز مانوی، بس ایک بار 

میں اس طرح بیٹھ گیا جیسے چُدائی کی ہڑتال کر دی ہو۔ مانوی مجھے اس طرح بیٹھے دیکھ کر مسکرائی اور مجھے چومنے لگی۔

 مجھ سے کہا: کاکا، پلیز مجھے چودو۔ بیچ میں نہ چھوڑو۔ ٹھیک ہے، تم پہلے میری پھدی کو ڈوگی اسٹائل میں چودو، پھر ہم دیکھیں گے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔

 اُس کی بات سُن کر میں بھی راضی ہوگیا اور اُس کو کس کیا ۔ میں نے پھر اسے اس کے پیٹ کے بل  لٹا دیا اور اُس کی چوتڑوں  کو اوپر اٹھا لیا اور اپنے ڈوگی اسٹائل میں اس کے پیچھے چلا گیا۔ وہ فوراً سمجھ گئی، اور خود اپنی ٹانگوں اور پھدی کو میرے لیے کھول دیا۔ میں نے بغیر کسی دشواری کے اس کی پھدی میں لنڈ ڈال دیا۔ مجھے ڈوگی اسٹائل میں چودنا بہت پسند ہے؛ اس طرح میں پھدی کی گہری میں مزے سے گھسے مارسکتا ہوں۔ اور اس طرح  میں اُس کے چھوٹے سے گانڈ کے سوراخ کو  بھی دیکھ سکتا ہوں اور پھدی میں لنڈ اندر باہر کرتے  ہوئے اس کی گانڈ، پیٹھ، چوتڑ اور مموں کو پیار کر سکتا ہوں۔ اس نے اپنے چوتڑوں  کو اپنے دونوں ہاتھوں میں مضبوطی سے پکڑکر پھیلا  لیا اور زور سے پیچھے دھکا دیا اور تھوڑی دیر کی گھمسان چودائی کے بعد پھر ہم دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے۔ میں اس پر گر گیا اور اسے کس کرنے لگا۔ 

کچھ دیر بعد مانوی نے لنڈ کو باہر نکال کر اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنی چکنی پھدی کو میرے لنڈ سے رگڑنے لگی۔ ایسا کرنے سے اسےبہت مزہ  آ رہا تھا کہ اس کی آنکھیں آدھی بند ہو گئی تھیں۔ میری منی اور اس کی پھدی کا رس مل کر باہر نکل رہا تھا، جو لنڈ کو مزید چکنا کر رہا تھا۔ ہم نے پھر سے کنٹرول کھونا شروع کر دیا۔ اس کے چھونے سے میرا لنڈ کھڑا ہو رہا تھا اور اس نے میرا لنڈ پھدی پر رکھ دیا۔ میں نے سوچا کہ اب یہ اسے اندر لے گی۔ لیکن اس نے اس لمحہ بھر کی خوشی کو یہاں روکتے ہوئے مجھے بستر پر لٹا کر  مجھے پیچھے کی طرف دھکیل دیا اور خود میرے لنڈ پر جھک گئی اور اس نے میرے لنڈ کوکس کیا۔ 

اس نے کہا: بولو میرے پیارے… تمہیں تمہاری دوست کیسی لگی، مزہ آیا

اس کے چھونے سے میرا لنڈ پہلے ہی اپنے پورے سائز اور سختی کو واپس پا چکا تھا۔ میں نے اپنی طاقت کو اکٹھا کیا اور لنڈ نے ایک جھٹکا مار کر سلام کیا اور رسیلے کس کے لیے اس کا شکریہ ادا کیا۔ مانوی نے ایک لفظ نہیں کہا، لیکن پھر میں اور مانوی مزے کے ساتھ ہنسے اور اس نے میرے لنڈ کو بار بار چومنا شروع کر دیا۔ اس سے مجھے مزہ آنے لگا۔ میرے اور میرے لنڈ پر اس نے رحم کھاتے ہوئے آخر کار اسے اپنے منہ میں بھر لیا۔ مانوی نے پہلے بھی میرا لنڈ چوسا تھا، لیکن اس بار اس کا انداز اور بھی منفرد تھا۔ میری شہوت کی بے چینی بھی بڑھ گئی، اس لیے میں نے مانوی کے پاؤں اپنے اوپر کھینچ لیے۔ مانوی کو اشارہ سمجھنے میں دیر نہ لگی۔ اس نے اپنے پاؤں میرے چہرے کے دونوں طرف رکھ دیے اور اپنی خوبصورت پھول جیسی پھولتی ہوئی پھدی کو میرے منہ پر رکھ دیا۔ میں نے بھی اس بار اسے الگ سکھ دینے کے مقصد سے اپنی انگلی سے پھدی کے دانے کو چھیڑتے ہوئے اس کی پھدی میں گھسا دی اور پھدی سے لے کر گانڈ تک چاٹنے لگا۔ اس طرح اس کے جسم میں پیدا ہونے والا وائبریشن  بتا رہا تھا کہ وہ کتنا لطف اٹھا رہی تھی۔

اور سچ کہوں تو میرا ایک دوسرا ارادہ بھی میری ان حرکتوں کے پیچھے چھپا تھا۔  مانوی کی گوشت دار گول گانڈ مجھے شروع سے ہی تڑپا  رہی تھی۔ جب میں اپنی زبان اس کی گانڈ پر لے کرگیا، تو مانوی کو بھی میرے ارادوں کی خبر  ہو گئی، جس کے لیے اسے تیل کی بوتل دیکھ کر اشارہ ملا تھا۔ لیکن اس وقت میں نے مرکزی پروگرام اور مرکزی مہمان – اس کی رسیلی پھدی – پر ہی توجہ دینا مناسب سمجھا۔ میں نے مانوی کی پھدی پر زبان پھیرنا شروع کی اور اس کی چکنی گانڈ پر دو سے چار تھپڑ جڑ دیے۔ ساتھ ہی پھدی میں دو انگلیاں ڈال کر اس کی شہوت کو بڑھانے کی پوری کوشش کرنے لگا۔ 

مانوی زور زور سے مستی میں میرا لنڈ چوس رہی تھی۔ اس نے میرے پاؤں پکڑ رکھے تھے اور لنڈ کو پوری طرح منہ کے اندر لے جا رہی تھی، میرا لنڈ اس کے گلے سے ٹکرا رہا تھا۔ میرا لنڈ اس کے منہ میں نہیں آ رہا تھا کیونکہ یہ بہت بڑا تھا۔ لیکن اس نے اسے پوری طرح اپنے منہ میں لینے کی پوری کوشش کی اور لنڈ چوسنے میں مانوی کا انداز بہت زبردست  تھا۔ 

اب ہم دونوں ہی چدائی کرنا چاہتے تھے۔ میں نے مانوی کو اپنے اوپر سے ہٹایا اور کمبل پر لٹا دیا۔ مانوی میرے ہدایات کی پوری طرح پیروی کر رہی تھی۔ میں نے مانوی کے دونوں پاؤں ہوا میں پکڑ لیے اور انہیں اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر مانوی کے چہرے کی طرف جھک کر اسے چومنے لگا۔ میں نے اس کی پھدی میں لنڈ کو سیٹ کرنے کا کام اس پر ہی چھوڑ دیا۔ 

مانوی نے میرا موٹا، لمبا، چپچپا لنڈ اپنی پھدی کے سوراخ پر  سیٹ کیا۔ پھدی کا رس اور میری منی کے ملے جلے رس کی وجہ سے پھدی پہلے سے ہی چکنی اور چپچپی ہو گئی تھی، اس لیے جب اس نے پھدی کے منہ پر لنڈ کا اگلا حصہ رکھا تو پھدی نے اپنا منہ کھول کر لنڈ کا استقبال کیا۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page