Raas Leela–26– راس لیلا

Raas Leela

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ سسپنس رومانس جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر  ۔۔راس لیلا۔

راس لیلا۔۔ 2011-12 کی کہانی ہے جو موجودہ وقت سے تقریباً 12-13 سال پہلے کی ہے، انڈیا کے شہر  سورت میں  سال 2011-12 میں شروع ہوئی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے شہر سورت میں بہت  گھنی آبادی ہے اور لوگ شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح رہتے ہیں۔ زیادہ تر متوسط ​​طبقے کے خاندان بھیڑ والے علاقوں میں کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں دو بیڈ روم والے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ یہ کہانی ایک نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنی پڑوسیوں اور دیگر عورتوں کے ساتھ رنگ رلیوں ،  جنسی جذبات  اور جنسی کھیل کی  لازوال داستانیں رقم کی اور جب اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے پھر تو اُس کی راس لیلا کی داستان کو ایک نیا رنگ مل گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

راس لیلا قسط نمبر -26

میں اس سے پوچھتا رہا کہ کیا تمہیں  اس سے مزہ آرہا ہے ؟

 اس نے جواب میں کہا: ہاں، ہاں، پلیز، اوہ، آہ…”

اور اُس کی یہ سسکیاں  مجھے اپنے کام کو جاری رکھنے کے اشارے تھے۔ میری دونوں انگلیاں اب آرام سے اندر باہر ہونے لگی تھیں۔ اور میں نے بہت سارا تیل لگا کر اپنے لنڈ کو چکنا کر دیا اور چودنے کی پوزیشن میں آ گیا۔ 

مانوی نے کہا: پلیز آرام سے کرنا 

میں نے اس سے کہا: میں نے اب تک بہت صبر اور پیار کے ساتھ کیا ہے، آپ کو کیسا لگا؟

 تو وہ بولی: آگے بھی ایسے ہی کرنا۔

 میں نے اسے چوما اور آہستہ آہستہ اس کی کنواری گانڈ پر انگلیوں سے کام کرتا رہا۔ میں اس سے پوچھتا رہا کہ کیا آپ کو مزہ آ رہا ہے؟ کیا تم مجھے روکنا چاہتی ہو؟

مانوی بولی: میں آپ کے لیے اس درد سے گزرنے کے لیے تیار ہوں۔

 اور اب وہ میرے لنڈ کو اپنی گانڈ کے سوراخ میں  لینے کے لیے تیارہوگئی  تھی۔ 

میں نے پوچھا: میں اندر ڈالوں؟ 

تو مانوی نے کہا: ہمم۔ 

میں نے اپنا لنڈ اس کی گانڈ کی موری پر رکھا اور تھوڑا دھکا دیا، لیکن میرے لگائے ہوئے چکنے پن اور طاقت ور دھکے کے باوجود میرا لنڈ گانڈ کی موری میں نہیں گھسا۔ میں نے پھر سے لنڈ اور گانڈ کی موری پر ڈھیر سارا تیل لگایا۔  

پھر میں نے اس کی کمر کو پکڑا، ایک ہاتھ  سے لنڈ کو سوراخ پر لگایا اور پھر آہستہ آہستہ لنڈ پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ہلکے ہلکے دھکے مارنے لگا۔ چکنا ہونے کی وجہ سے لنڈ کا سر اس کی گانڈ میں پھنس گیا۔ 

اور وہ ہلکے سے درد سے چلائی: اوہہہہہہہہہ

میں نے کہا: پلیز، درد جلدی ختم ہو جائے گا اور پھر تمہیں مزہ آئے گا۔ 

اور آہستہ سے، میں نے اپنا کھڑا اور سخت تیل میں بھیگا  ہوا چکنا لنڈ اس کی گانڈ کے سوراخ کے اندر تھوڑا سا پیچھے کیا۔ اور ایک زور دار دھکے کے ساتھ لنڈ اس کی گانڈ کی موری میں گھسا دیا اور میرا لنڈ کا ایک انچ اس کی گانڈ کی موری میں گھس گیا۔

 تب مانوی نے پھر سے آہیں بھریں، “اوہہ، آہہ، اییی…”

میں نے اپنا ہاتھ اس کی پھدی پر رکھ دیا اور اس کی پھدی میں انگلی کرنے لگا تو  اسے مزہ آنے لگا اور وہ درد کو بھولنے لگی۔ میں نے پھر تھوڑا دباؤ بڑھایا اور اندر ڈالا تو میرے زور لگانے کی وجہ سے مانوی آگے کو سرک گئی۔

میں نے پوچھا: بھابھی، آپ ٹھیک ہیں؟

 تو بھابھی نے ایک آہ بھری، پیچھے مڑ کر دیکھا اور ہاں میں سر ہلایا۔ 

میں نے آہستہ آہستہ لنڈ کو پیچھے کیا اور پھر آگے بڑھانا شروع کر دیا اور آہستہ آہستہ اندر کی طرف دباؤ بڑھاتا گیا۔ لنڈ مانوی بھابھی کی کنواری گانڈ کے چھلوں اور پٹھوں کو کھول رہا تھا۔ 

میں نے تھوڑا تیل اور ڈالا اور اسے کہا کہ وہ اپنی گانڈ کی موری کو باہر کی طرف دباؤ دے جیسے ٹوائلٹ کرتے وقت کرتے ہیں۔

تو بھابھی بولی: اس سے تو لنڈ باہر ہو جائے گا۔

 میں نے کہا: نہیں، اس سے گانڈ ڈھیلی ہوگی، اس سے گانڈ کی موری کے چھلے کھل جائیں گے اور لنڈ آگے بڑھ جائے گا۔

 میں نے مزید اُس کو کہا: جب میں تین (3) کہوں گا تو آپ اپنے گانڈ کی موری کے چھلوں کو ڈھیلا کرنے کی کوشش کریں گی اور میں لنڈ کو آگے بڑھاؤں گا۔

 پھر میں نے کہا: ایک، دو، تین

 اور مانوی نے ڈھیلا کرنے کی کوشش کی، لیکن ایسا نہ ہوا۔ میں نے اسے کئی بار کوشش کرنے کو کہا اور پھر ہم ایک ساتھ کرنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ لنڈ کے دباؤ اور ہم دونوں کے مسلسل مشترکہ کوششوں نے گانڈ کے چھلے کھول دیے تھے۔ 

پھر آہستہ آہستہ میں نے دھکے لگانا جاری رکھا اور میرا پورا10 انچ کا لنڈ اس کی گانڈ کی موری کے اندر چلا گیا۔ تب میں نے اسے کس کیا۔ اس کی گانڈ بہت ٹائٹ تھی، گانڈ کی موری کے چھلوں نے میرے لنڈ پر مضبوط گرفت بنا لی تھی۔ 

مجھے اس کساوٹ میں بہت مزہ آ رہا تھا۔ میں نے لنڈ اور گانڈ کی موری پر مزید تیل ڈالا اور پھر آہستہ آہستہ لنڈ کو ایک ایک انچ کرتے آگے پیچھے کرنے لگا۔ آہستہ آہستہ میں نے لنڈ کو اندر باہر کرنے کی لمبائی بڑھانی شروع  کی ۔ میں نے آہستہ سے رفتار بڑھائی اور “فٹ فٹ” کی آواز کے ساتھ چدائی شروع کر دی۔ اور اس دوران اس کی پھدی کے دانے کو میں اپنی انگلی سے چھیڑتا رہا۔ 

میری مزے سے آہیں نکل رہی تھیں: آہہ… آہہ… آہہ… مانوی۔ آہ… شکریہ مانوی… آہہ۔ 

مانوی بھی میرے زور دار دھکوں کے ساتھ آگے پیچھے ہونے لگی اور زور زور سے کراہنے لگی۔ 

ایسے ہی میں 6-7 منٹ تک مسلسل دھکے لگاتا رہا اور پھر گانڈ کی موری سے لنڈ کو نکال دیا۔

 اس نے کہا: آپ رک کیوں گئے؟ آپ پیچھے کیوں ہٹے؟

 میں نے کہا: آپ زور سے کراہ رہی ہیں، میں نے سوچا کہ آپ کو  درد ہورہا ہے  اس لیئے ۔

 اس نے کہا: نہیں، پلیز اسے جاری رکھیں، یہ مزے کی کراہیں ہیں۔” 

پھر سے میں نے آہستہ آہستہ لنڈ اس کی گانڈ کی موری میں گھسا دیا، لیکن اس بار گانڈ کی موری کے پٹھوں کے ساتھ بہت کم محنت کرنی پڑی کیونکہ اب اس کی گانڈ کے چھلے ڈھیلے ہو کر کھل گئے تھے اور لنڈ آسانی سے اندر چلا گیا تھا۔ اور اسے بھی اب مزہ آنے لگا تھا۔ مجھے تو ٹائٹ گانڈ میں مزہ آ ہی رہا تھا۔ 

مانوی بول رہی تھی: آہہ… جانو، آہ… اور تیز، اور تیز… اور تیز جانو۔ چودو… مزہ آ رہا ہے، مجھے چودو، اور تیز، اور زور سے… آہ… جانو۔ آئی لو یو… جانو۔ 

میں بھی بول رہا تھا: آہہ… آہہ… مانوی… آہہ۔ تمہیں چودنے کے لیے… میرا لنڈ ہمیشہ تیار ہے میری جان، آہ… آہ… مانوی… آہہ۔

پھر ہم دونوں 5-6 منٹ تک پوری رفتار سے چدائی کرتے رہے اور اُس کی ٹائٹ گانڈ کی وجہ سے میں بہت جلد عروج کے قریب پہنچ گیا۔ مانوی اپنی پھدی  کی مالش کرتی رہی تھی وہ بھی اس مزے سے جھڑنے کو بہت جلد تیار ہوگئی تھی تھوڑی ہی دیر میں   مانوی کا پورا جسم کانپ اٹھا اور وہ پاگلوں کی طرح چلائی

اور تیز… آہہ… جانو، اور تیز، اور تیز۔ 

میں بھی جھڑنے والا تھا اور کچھ ہی دیر  میں کرنٹ مانوی کے پورے جسم میں دوڑ گیا۔ دونوں مزے سے اتنے  مدہوش ہوگئے تھے کہ ہمیں کچھ خبر ہی نہیں رہی کہ ہم کہا پر ہیں اور کب ہم زور زور سے کراہنے لگے

میں اس کی پیٹھ پر گرتے ہوئے چدائی کرتا رہا۔ اور پھر وہ بھی اپنی پھدی میں انگلی کرتے ہوئے اپنی گانڈ کی زبردست  چدائی کے دوران جھڑ گئی۔ ہم دونوں ایک ساتھ جھڑ گئے تھے اور کمبل کے اوپر گر گئے اور زور زور سے ہانپنے لگے۔ 

اس طرح اس کی گانڈ چودنے میں تقریباً 2 گھنٹے لگ گئے۔ مانوی نے بتایا کہ اسے بہت مزہ آیا۔ اور میں نے کہا کہ اس کی تنگ گانڈ کی موری کا چھوٹا سوراخ مجھے بہت پسند آیا۔ مانوی نے کہا کہ وہ چاہتی تھی کہ میں ایک بار اور اس کی پھدی کو چودوں۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page