Raas Leela–30– راس لیلا

Raas Leela

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ سسپنس رومانس جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر  ۔۔راس لیلا۔

راس لیلا۔۔ 2011-12 کی کہانی ہے جو موجودہ وقت سے تقریباً 12-13 سال پہلے کی ہے، انڈیا کے شہر  سورت میں  سال 2011-12 میں شروع ہوئی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے شہر سورت میں بہت  گھنی آبادی ہے اور لوگ شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح رہتے ہیں۔ زیادہ تر متوسط ​​طبقے کے خاندان بھیڑ والے علاقوں میں کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں دو بیڈ روم والے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ یہ کہانی ایک نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنی پڑوسیوں اور دیگر عورتوں کے ساتھ رنگ رلیوں ،  جنسی جذبات  اور جنسی کھیل کی  لازوال داستانیں رقم کی اور جب اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے پھر تو اُس کی راس لیلا کی داستان کو ایک نیا رنگ مل گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

راس لیلا قسط نمبر -30

اب مجھے کنفرم ہوگیا  تھا کہ وہ مجھے چاہتی ہےاور  ہم جو کر رہے تھے اس سے میں اتنا پرجوش ہو گیا تھا کہ اب میں رکنا نہیں چاہتا تھا۔  اس کے بعد وہ پھر سے مجھے کس کرنے  کے لیے آگے بڑھی تو میرے ہونٹوں نے آدھے راستے میں ہی لپک کر اس کے ہونٹوں سے ملاقات کی اور ہم دونوں جانتے تھے کہ ہم ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں، اس لیے یہ کسنگ ،  زیادہ جذباتی، ڈیپ کسنگ تھی ، اور ہم مدہوشی میں ایکدوسرے کو مکمل لپٹ گئے۔

اس نے اپنا سر ہلکا سا ایک طرف جھکا لیا، جس سے ہمارے منہ جڑ گئے اور ایک دوسرے سے ملنے کے لیے ہماری زبانیں باہر نکلیں۔ ہم دونوں نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں کیونکہ ہم نے اپنے منہ کی تھوک  کا تبادلہ کیا تھا۔ اس کی بانہیں میرے کندھوں کے گرد لپیٹی ہوئی تھیں، میری بانہوں اور ہاتھوں نے اس کی پیٹھ اور پھر اس کے  ملائم بازؤں کو سہلاتے ہوئے میں نے اس کے سنہرے بالوں کو سہلایا اور ایک بار پھر ہمارے ہونٹ جڑ گئے۔ کافی لمبی کسنگ کے بعد  ہم دونوں الگ ہوئے اور بے اختیار ہم دونوں نے اپنے آس پاس نظر دوڑائی۔۔ہمارے آس پاس کوئی نہیں تھا۔ ریزورٹ کا عملہ بھی نہیں۔ پول میں صرف  میں اور ایّنا  ایک دوسرے کے سامنے۔ 

ایّنا:آپ کا جسم بہت اچھا ہے۔ 

میں: تمہارابھی۔ 

ایّنا: میرا مطلب ۔۔ آپ کے مضبوط پٹھوں اور بازوؤں سے ہے ۔ 

میں:  اور میرا مطلب ۔۔۔ 

ایّنا: مجھے پتا ہے تمہارا کیا مطلب ہے۔ 

میں اُس کی بات سُن کر مسکرادیا 

ایّنا: کیا میں آپ کی بانہوں کو اچھے سے فیل کر سکتی ہوں؟ 

میں اس کے قریب آیا اور اس کی بانہوں کو پکڑتے ہوئے اُس کے چہرے پر جھکا اور اُس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کرکے چوسنے لگا۔ قریب ہوتے  وقت اس کے پاؤں میرے پاؤں کے بیچ آ گئے اور میرا لنڈ اس کی ران کو چومنے لگا۔ میں پھر اپنے ہاتھوں کو اس کے گول اور نرم چوتڑوں پر لے گیا۔ اس کے چوتڑ  اس کی لال بکنی میں پوری طرح فٹ تھے۔ وہ بالکل گول اور بلبلے جیسے تھے۔ جیسے ہی میرے ہاتھ اس کے جسم کے اس حصے پر گئے اور میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کی گانڈ کو سہلایا، ایّنا نے اس کا جواب اپنے ہاتھوں کو میری رانوں کے درمیان  لے جا کر دیا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرا لنڈ پکڑ لیا۔  اس نے کسنگ  روک دی اور مجھے میرے لنڈ سے پکڑ کر پول کی سیڑھیوں کی طرف لے گئی۔ ہم سب سے اوپر کی سیڑھی پر پہنچ گئے جہاں پانی تقریباً 6 انچ گہرا تھا۔ وہاں اس نے مجھے میری پیٹھ کے بل لٹا دیا اور میرے لنڈ کی کچھ ایسی جانچ کی جیسے اس نے واقعی اتنا بڑا اور سخت لنڈ پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔ وہ نیچے بیٹھی اور دونوں ہاتھوں سے میرے لنڈ کو سہلاتے ہوئے  لنڈ  کی ہلکے ہاتھ سے بہت سوفٹ مالش شروع کر دی۔  ایک لڑکی کا آپ کے لنڈ کے ساتھ اس طرح سے پیار  کرنا۔ایسے وقت  اس سے دلکش اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ 

میرا لنڈ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں سما نہیں رہا تھا۔ اس کی اس ہلکی مالش سے میرا لنڈ مزید  سخت ہو راکھڑ گیا تھا۔ اس نے آہستہ سے اپنے ہاتھ میرے لمبے، موٹے لنڈ کے نیچے سرکا کر میرے ٹٹوں  کو سہلا دیا۔ میرے لنڈ کی چمڑی اوپر نیچے لڑھک گئی کیونکہ پانی نے لنڈ کو چکنا اورلُبریکیٹڈ کرنے کا کام کیا تھا۔ 

ایّنا یوں ہی کرتی رہی اور تقریباً 5-6 منٹ کے بعد، ایّنا اٹھ کر چلی گئی اور میرے لنڈ کی طرف منہ کر کے میرے سینے پر بیٹھ گئی۔ اس کی نرم، گول اور چکنی گانڈ کا لمس مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا، حالانکہاُس کی  گانڈ   ابھی بھی اس کی لال بکنی کے نیچے چھپی ہوئی تھی۔ میرے اوپر بیٹھنے کے بعد، وہ میرے لنڈ کو پکڑ کر آگے کی طرف جھکی اور اپنے ہونٹ میرے لنڈ کے سر پر رکھ کر چومنا شروع کر دیا۔ شاید یہ پہلی بار تھا جب وہ کسی لنڈ کو چوم رہی تھی۔ 

پھر اس نے ہونٹ کھولے اور اس کے خوبصورت  ہونٹوں نے میرا لنڈ دبوچااور پھر اُس نے اپنے منہ میں لے لیا۔ وہ مشکل سے اسے اپنے چھوٹے سے منہ میں فٹ کر پائی اور صرف تقریباً 2 انچ ہی اندر لے سکی۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کا منہ میرے لنڈ کو صرف ڈھانپ رہا تھا۔ ہر بار جب وہ میرے لنڈ کو چوسنے کے لیے نیچے جھکتی، اس کی گانڈ بالکل میری آنکھوں کے سامنے آ جاتی تھی۔ یہ ایک شاندار نظارہ تھا۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو اس کی بکنی کے بچے ہوئے حصے کو ہٹانے کے لیے استعمال کیا، جو اب تک ایّنا کو ننگا ہونے سے روک رہا تھا۔ میں نے آہستہ سے اس کی لال بکنی نیچے کھینچ دی، جبکہ وہ میرا لنڈ چوس رہی تھی۔ اس کے ننگے، چکنے پاؤں میرے دونوں طرف تھے۔ اب ہم دونوں مکمل ننگے تھے۔ وہ میری طرف گھومی، اب میرا لنڈ اس کی گانڈ کو چھو رہا تھا۔ 

تم بہت خوبصورت ہو۔۔میں نے اس کی پیٹھ کو سہلاتے ہوئے کہا۔

دیپک، میں ابھی تک کنواری ہوں، میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے  کنوارے پن کا مزہ لیں۔۔ایّنا نے مجھ سے کہا۔ 

کیا آپ واقعی یہ چاہتی ہو کہ ہمیں اس سے آگے بڑھتے ہوئے یہ کرنا چاہیے؟۔۔ میں نے پوچھا۔ 

اس وقت میں کسی بھی چیز سے زیادہ یہی چاہتی ہوں۔۔ اس نے کہا۔ 

میں آدھا لیٹا ہوا تھا اور میں نے اسے پہلے سے کہیں زیادہ جوش کے ساتھ چومنا شروع کر دیا۔ میرا ایک ہاتھ اس کے مموں پر چلا گیا اور انہیں دبانے لگا، جبکہ دوسرا ہاتھ اس کی کنواری پھدی پر چلا گیا۔ اس کی پھدی نم ہونے لگی تھی۔ میرا ہاتھ اس کے نپلوں کو کھینچنے اور مسلنے لگا، جس سے وہ اور سخت ہو گئے۔ وہ میرے اوپر جھک گئی اور میں اس کی گردن پر چومنے لگا۔ 

اس نے کہا: چلو میرے کمرے میں چلتے ہیں۔

 ہم نے چومنا چاٹنا بند کر دیا کہ اچانک مجھے اپنی دوست جوہی کی آواز سنائی دی، جو اس ہوٹل کی مینیجر تھی۔ 

جوہی  بولی: ایّنا، آپ کو دیپک کیسا لگا اور دیپک، آپ کو ایّنا اچھی تو لگی؟۔۔ یہ میری دوست ہے اور یہاں گھومنے آئی ہے۔ 

میں نے کہا: ہیلو جوہی، آپ کی دوست بہت خاص ہے۔ ہم دونوں روم میں جا رہے ہیں۔

 تو جوہی بولی: آپ چاہیں تو یہیں پر اپنا پروگرام جاری رکھ سکتے ہیں۔ ہم نے پول کو باقی لوگوں کے لیے بند کر دیا ہے اور آپ کو کوئی ڈسٹرب نہیں کرے گا۔ 

میں کھڑا ہو گیا تو جوہی نے کہا: تم دونوں مزے کرو۔۔ اور یہ کہتے ہوئے چلی گئی ۔۔ہم جلد ہی پھر ملیں گے۔ 

ایّنا نے خود کو پانی میں ڈبویا اور اپنے مموں کو دکھاتے  ہوئے ٹرپانے کے لیے اوپر ہوئی۔ اس کے ممے  پہلے سے ہی سخت ہو چکے تھے اور اس کے نپل کڑک ہوکر ابھرے ہوئے تھے۔ میں نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اس کے چمکتے اور گیلے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کے اندر لے لیا۔ اس نے مجھے دور کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اپنی طاقت کی وجہ سے میں نے اسے مضبوطی سے گلے لگا لیا اور اپنی زبان اس کے منہ کے اندر ڈالنا جاری رکھا۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page