Raas Leela–31– راس لیلا

Raas Leela

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ سسپنس رومانس جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر  ۔۔راس لیلا۔

راس لیلا۔۔ 2011-12 کی کہانی ہے جو موجودہ وقت سے تقریباً 12-13 سال پہلے کی ہے، انڈیا کے شہر  سورت میں  سال 2011-12 میں شروع ہوئی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے شہر سورت میں بہت  گھنی آبادی ہے اور لوگ شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح رہتے ہیں۔ زیادہ تر متوسط ​​طبقے کے خاندان بھیڑ والے علاقوں میں کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں دو بیڈ روم والے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ یہ کہانی ایک نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنی پڑوسیوں اور دیگر عورتوں کے ساتھ رنگ رلیوں ،  جنسی جذبات  اور جنسی کھیل کی  لازوال داستانیں رقم کی اور جب اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے پھر تو اُس کی راس لیلا کی داستان کو ایک نیا رنگ مل گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

راس لیلا قسط نمبر -31

 اس نے بھی اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی۔ آہستہ آہستہ میں نے اسے چوسنا شروع کر دیا۔ اس کی آنکھیں لذت کے مارے  بند ہونے لگیں، اور اس نے خود کو اپنے پاؤں کے انگوٹھوں کی مدد سے اوپر اٹھایا اور میری اونچائی تک پہنچنے کی کوشش کی اور میری زبان کو مزید اپنے منہ میں گھسانے کی اجازت دی۔ اس کا ایک ہاتھ میری گردن پر چلا گیا اور دوسرا ہاتھ میری پیٹھ کو مضبوطی سے پکڑنے لگا۔

ایّنا نے کہا کہ وہ اپنا کنوارپن مجھے تحفے کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ وہ بولی، “میں بس یہی چاہتی ہوں کہ میرا کنوارپن اس شخص کے ہاتھوں ٹوٹے جسے میں ہمیشہ یاد رکھوں، اور تم وہ بہترین  مرد ہو جو میں چاہتی ہوں کہ میں جس کو کبھی نہ بھولوں۔” 

اس کی یہ بات سن کر میں جذباتی ہو گیا اور راضی ہو گیا۔ میں اسے دیکھتا ہی رہ گیا اور اس نے میرا چہرہ چومنے کے لیے پکڑا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ اس کے ہونٹ تازہ پھل کی طرح میٹھے اور نرم تھے، اور میں سارا دن رات ان پھلوں کی دعوت اُڑانے کے لیئے تیار تھا۔ 

پھر میں نے اس کے نچلے ہونٹ کو چوستے ہوئے اس کا پیارا سا چہرہ پکڑ لیا۔ اب میں کیا کروں گا، اس توقع میں اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔ میں ایّنا کو چومتے ہوئے پول کے ایک کونے میں لے گیا جہاں اندھیرا تھا۔ اس نے مجھے چوم کر اشارہ دیا کہ وہ تیار ہے۔ میں  اسے دوبارہ کسنگ کرنے لگا  تو اس نے میری زبان کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا۔  وہ بالکل پکے ہوئے آم کی طرح دکھ رہی تھی۔ ایّنا کے ممے  بہت سیکسی تھے۔ 

ایسا لگ رہا تھا جیسے مکھن کے دو گولے ہوں اور ان کے اوپر گلابی انگور لگا دیے گئے ہوں۔ میں ایک ٹک ان کو دیکھنے لگا۔ اس کے ممے  گلابی نپلوں کے ساتھ دودھ کی طرح سفید، گول، مضبوط اور بالکل بھی ڈھلکے ہوئے نہیں تھے۔ میں نے اس کے نپلوں کو دانتوں سے ہلکا سا کاٹا تو وہ کراہ اٹھی اور میں اس کے مموں کو دبانے لگا اور نپلوں کے ساتھ کھیلنے لگا۔ 

میرا لنڈ اب بار بار کھڑا ہو کر  اب اکڑا ہوا  جھٹکے لیتے ہوئے پورا  موسل بن چکا تھا اور اس کی پھدی پر دستک دے رہا تھا۔ میں نے ایّنا کی سُراحی دار گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ گردن ایّنا کا بہت حساس حصہ تھا، جیسے ہی وہاں میرے ہونٹ لگے، اس کی سسکاری نکل گئی۔ 

ایّنا: “آہ۔ کیا کر رہے ہو۔” ایّنا نے سسکتے ہوئے کہا۔ 

میں نے اپنے ہاتھوں سے ایّنا کے دونوں مموں کو پکڑ لیا۔ مموں پر میرا ہاتھ لگتے ہی ایّنا کو ایک دم کرنٹ لگا۔ اس کی سانسیں تیز چلنے لگیں۔ ادھر  ایّنا کے  لاجواب مموں کو ہاتھ لگاتے ہی میرا لنڈ اور بھی سخت ہو گیا۔ میں ہولے ہولے ایّنا کے مموں کو سہلانے لگا۔ جس سے ایّنا کے پورے جسم میں سیکس کی لہریں بہنے لگیں۔ 

پھر میں نے ایّنا کے دونوں مموں کو ایک ہاتھ سے اپنے منہ میں دبا لیا۔ اس کے ممے  اور نپل آم سے ملتے جلتے تھے،  اپنے انگوٹھے  اور انگلی کا استعمال کر کے میں نے اس کے دونوں نپلوں کو چھیڑا، پھر دوسرے ہاتھ سے اس کے چوتڑوں کو  سہلایا۔ 

اور پھر میں نے ایّنا کے دونوں نپلوں کو اپنی انگلیوں میں پھنسا لیا اور انہیں آہستہ آہستہ موڑنے لگا۔ میری اس حرکت سے ایّنا  اور زیادہ گرم ہونے لگی۔ اب میں نے کندھے سے لے کر گلے تک چاٹنا شروع کر دیا۔ ایّنا کے لیے اس تین طرفہ حملے کو برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ نیچے اس کی پھدی پر میرے موٹے لمبے  لنڈ نے ہنگامہ مچا رکھا تھا، پستان میرے ہاتھوں کے قبضے میں تھے،   گردن اور کندھے پر میرے ہونٹ اور زبان ہلچل مچائے ہوئے تھے۔ کمسن عمر اور الہڑ جوانی میں ایّنا ان سب کو سنبھال نہ پائی اور اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ 

وہ میرے سامنے یوں ہی آنکھیں موندے کھڑی تھی۔ کام دیوی کو بھی چیلنج دینے والی اس کی خوبصورتی میرے سامنے بے نقاب تھی۔ میں نے اس کی گردن پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اس کے رسیلے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر ایّنا کے ہونٹوں  کے امرت کو پینے لگا۔ ایّنا اب مکمل طور پر سیکس کی آگ کا گو لہ بن گئی تھی، میری کسنگ اسے اور بھی بھڑکا رہی تھی۔ 

پھر میں اس کے پورے جسم پر اپنا ہاتھ پھیرنے، بلکہ  رگڑنے لگا۔ پورے پیٹ، چھاتی، گردن وغیرہ پر ہاتھ ملنے کے بعد میں اس کی ننگی مخملی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔  مردانہ ہاتھ کا کھردرا پن ایّنا کو اور پرجوش کر رہا تھا، سانسیں ایک بار پھر تیز ہو گئیں۔ 

اپنے  منہ سے وہ زور زور سے  گہری گہری سانس لینے لگی۔ دنیا کی ہر وہ عورت جو مکمل ترقی یافتہ مموں کی مالک ہوتی ہے، وہ مرد کے ہاتھوں ان کو سہلانا، مسلنا اور ان سے کھیلنا پسند کرتی ہے۔ پرجوش ہو کر اس کی پستان تن گئے اور پورے جسم میں کرنٹ دوڑنے لگا۔ 

میں پوری طاقت سے ایّنا کے مموں کو چوسنے لگا۔ جب ایّنا برداشت نہ کر پائی تو اپنی کمر کو نیچے پٹکنے لگی۔ نیچے کوبرا پھن پھیلائے بیٹھا تھا ڈسنے کے لیے۔ اس کی پھدی بار بار لنڈ سے بھڑنے لگی۔ ایّنا نے میرے لنڈ کو دونوں رانوں کے بیچ پھدی کے اوپر پھنسا لیا۔ اب جتنا وہ کمر پٹکتی، لنڈ کا شافٹ اس کی پوری پھدی کی مالش کرتا، جس سے وہ اور گرم ہوتی جا رہی تھی۔ 

میں نے اس کے نپلوں کے چاروں طرف اپنی زبان سے گھیرے بنائے، جس سے وہ زور سے “آہہہہہہہہ ۔۔ہائئئئئئئ ۔۔آہہہہہ ” کرتے ہوئے  کراہنے لگی۔

 میں نے کبھی مموں  کو کاٹا، تو کبھی پیار سے نپل کے اوپر زبان کو پھیرتے ہوئے چوسا مارتا، تو کہیں گھنڈیوں کو داڑھوں میں رکھ کر ہولے ہولے چبایا۔ 

میں نے اپنی لپلپاتی زبان نکالی اور ایّنا کے نپل کے چاروں طرف گھمانے لگا۔ میری زبان کا چھاتی سے لمس ہوتے ہی اینا  گنگنانے لگی۔ اس کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگیں۔ میں نیچے جھکا اور ایّنا کے دونوں مموں کو ہاتھ سے قریب قریب کیا اور دونوں کو ایک ساتھ منہ میں بھر لیا۔ اور دونوں نپلوں کو اپنے منہ کے اندر لے لیا۔ 

جب میں نے مموں کو چوسنا شروع کیا تو ایّنا میرے بالوں کو سہلانے لگی۔ میں چوستے چوستے اب دانت بھی گڑانے لگا۔ کرنٹ ایّنا کی چھاتی سے نکل کر اس کی پھدی تک پہنچتے ہی وہ بے حال ہو گئی اور خود بڑبڑانے لگی،

اینا :”ہاں، کھا جاؤ ان کو۔ یہ آپ کے لیے ہی ہیں۔ خوب مسل ڈالو ان کو۔ بہت پریشان کرتی ہیں یہ۔

دونوں مموں کا ایک ساتھ میرے منہ میں جاتے ہی ایّنا کے پورے جسم میں بجلی کے کرنٹ کے جھٹکے لگنے لگے۔ میں دونوں مموں کو زور زور سے چوسنے لگا۔ دونوں مموں کو ایک ساتھ چوسنے سے ایّنا نے اپنا آپا کھو دیا۔

“It feels amazing. Oh my God!

اوہہ، آہہ، آہ، ہہہ، ہےئی، جانو، یہ کیا کر رہے ہو، مار ہی ڈالو گے کیا؟

You are driving me crazy.

آیی، اییی، اوہہ، ماں، اوہہ، ماں، اوہہ، جوہی! ٹھیک کہہ رہی تھی دیپک! تم سچ میں جادوگر ہی ہو۔

 I am going to die.” 

شہوت کی آگ میں جلتے ہوئے ایّنا نے اپنی کمر اوپر نیچے کرنا شروع کر دی۔ وہ ایک بھیانک شہوانی  آگ میں جل رہی تھی۔ اس نے اپنی پھدی کو میرے لنڈ  پر پٹکنا شروع کر دیا۔ میں بھی اس کی گانڈ کو ہاتھ سے سہلا سہلا کر دبا رہا تھا۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page