Raas Leela–33– راس لیلا

Raas Leela

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ سسپنس رومانس جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر  ۔۔راس لیلا۔

راس لیلا۔۔ 2011-12 کی کہانی ہے جو موجودہ وقت سے تقریباً 12-13 سال پہلے کی ہے، انڈیا کے شہر  سورت میں  سال 2011-12 میں شروع ہوئی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے شہر سورت میں بہت  گھنی آبادی ہے اور لوگ شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح رہتے ہیں۔ زیادہ تر متوسط ​​طبقے کے خاندان بھیڑ والے علاقوں میں کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں دو بیڈ روم والے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ یہ کہانی ایک نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنی پڑوسیوں اور دیگر عورتوں کے ساتھ رنگ رلیوں ،  جنسی جذبات  اور جنسی کھیل کی  لازوال داستانیں رقم کی اور جب اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے پھر تو اُس کی راس لیلا کی داستان کو ایک نیا رنگ مل گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

راس لیلا قسط نمبر -33

پھر “لَو یو ایّنا” بولتے بولتے میں نے پھر لنڈ کو نکال کر ٹھوکا۔ میں اب ٹھوکنے کی رفتار آہستہ آہستہ بڑھاتا جا رہا تھا اور اس کے مموں  کو دبا رہا تھا، نچوڑ رہا تھا، چوس رہا تھا، اور اب اسے بھی چدائی میں مزہ آ رہا تھا اور وہ پھر سے شہوت کی گرمی   سے بھر رہی تھی۔ اسے کچھ دیر بعد درد کی جگہ مزے  کا  انعام مل رہا تھا، ہر دھکے کے ساتھ وہ مستی سے بھرتی جا رہی تھی۔ 

وہ کراہ رہی تھی، “آہ جانو، اوہ راجا، آآآآآ، ہاں ہاں، ہائے راجاااااا، آآآآہ امیییییی،”، پتا نہیں اور کیا کیا اس کے منہ سے نکل رہا تھا۔

وہ بھی نیچے سےچوتڑ اچھال اچھال کر بے ساختہ دھکوں کا جواب دھکوں سے دینے لگی۔ نیچے سے اس کی کمر چل رہی تھی، وہ اپنی پھدی اچھال رہی تھی۔ اب ہم دونوں چدائی کا لطف لے رہے تھے۔

 “چووووووود راجاااااا، چووووووود،” “فک می، زور سے چودو” کہہ کر وہ مجھے تیز تیز کرنے کو اکسا رہی تھی۔ 

میرے منہ سے بھی مستی بھری باتیں نکل رہی تھیں۔ وہ پاگلوں کی طرح اپنی پھدی میں غپا غپ لنڈ پلوا رہی تھی اور یہ دور تقریباً 15 منٹ تک چلا کہ اچانک ایّنا کا پورا جسم تھرتھرانے لگا۔  ادھر میں بھی پوری رفتار اور طاقت سے ایّنا کی پھدی کی دھمادھم کیے جا رہا تھا کہ اچانک ہم دونوں نے ایک دوسرے کو اس طرح مضبوطی سے جکڑ لیا جیسے ایک دوسرے میں سما ہی جائیں گے اور پھر وہ عجیب انعام دہ پَل، مجھے محسوس ہونے لگا کہ اس کی پھدی میں میرا گرم گرم لاوا گر رہا ہے۔ وہ بھی میرے ساتھ ہی جھڑتی ہوئی سُکھ کے دریا میں بہتے ہوئے  میں مجھ سے چپک گئی۔ ہم دونوں مانو پوری طاقت سے ایک دوسرے میں جذب ہو جانے کی زور آزمائش میں گتھم گتھا تھے۔ یہ حالت تقریباً ایک منٹ تک رہی، پھر میں اس کے اوپر نڈھال ہو گیا اور ایّنا بھی پہلی چُدائی اور ارگیزم کی مدہوشی میں آنکھیں موندے نڈھال پڑ گئی۔ 

تبھی جوہی وہاں آئی اور تھوڑی دیر عجیب مدہوش انداز سے ہمیں دیکھتی رہی پھر ہم دونوں کو مبارکباد دی اور وہاں سے چلی گئی۔ 

کچھ دیر بعد میں نے ایک چھوٹے سے تولیے کا استعمال کر کے لنڈ اور اس کی پھدی کو صاف کیا اور پھر سے اسے چودنے کے لیے خود کو تیار کیا۔ اس بار یہ تھوڑا آسان تھا۔ اسے بھی مزہ آیا۔ میرا لنڈ اس بار اس کی پھدی، جو اب کنواری نہیں رہی تھی، کے اندر ایک جھٹکے میں ہی گہرائی تک اتر گیا۔ اس کی پھدی کی دیواریں اب میرے لنڈ کو چوسنے لگی تھیں۔ 

میں لنڈ کو اندر باہر کرنے لگا، لیکن جب میں اپنے پک  پر پہنچا تو جھڑتے ہوئے میں نے اپنی منی  کا کچھ حصہ اس کی پھدی میں چھوڑا اور کچھ حصہ اس کے منہ پر، پیٹ پر اور تھوڑا اس کے مموں پر بھی چھڑک دیا۔ میں اسے اپنی منی  میں بھیگتا ہوا دیکھتا رہا اور وہ اس میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔ وہ خوش تھی کہ میں نے اس کا کھاتہ کھول دیا تھا۔ اس نے میری منی کی وہ ساری بوندیں چاٹ لیں۔ 

میں نے پھر سے اپنا لنڈ اس کی پھدی میں ڈالا اور نیچے جھک کر اس کے مموں کو اپنے منہ میں لے لیا۔ میری زبان نے ایّنا کے نپلوں پر پھر سے گھومنا شروع کر دیا۔

ایّنا نے اپنی آنکھیں کھولیں اور مسکراتے ہوئے کہا، “دیپک، آپ بہت اچھی چدائی کرتے ہیں اور ایک اچھے عاشق ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنا اچھا محسوس نہیں کیا۔ جوہی بہت خوش نصیب ہے”

اس پر میں چونک گیا اور میں نے کہا، “ایّنا، آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں اور جوہی صرف دوست ہیں۔”

ایّنا نے مسکراتے ہوئے کہا، “دیپک، تم نہیں جانتے کہ جوہی تمہیں بہت پسند اور پیار کرتی ہے، اور مجھے معلوم ہے کہ تم اسے بہت خوش کر دو گے۔

مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ جوہی مجھ سے پیار کرتی ہے اور ساتھ ہی یہ تعجب بھی ہوا کہ مجھے یہ کیوں نہیں پتا تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتی ہے۔ 

میں نے سوچا کہ جوہی سے بعد میں نمٹتے ہیں اور ابھی کے لیے پہلے اینا کی اچھے سے چدائی جاری رکھتے ہیں۔ اس طرح دونوں ہاتھ رکھ کر ایّنا کے اوپر آ کر میں نے اپنے کولہوں کو نیچے لایا اور اس کی پھدی کو اپنے لنڈ سے رگڑ دیا۔ ایّنا کراہ کے ساتھ اپنے  عروج کی منزل پر پہنچ گئی، اس کے ابلتے ہوئے سیال نے میرے لنڈ کو چاروں طرف سے بھگو دیا، اور میری گیندوں کے کچھ حصے پر بھی پھیل گیا ۔ اور میں نے اسے چومنا شروع کر دیا۔ 

کچھ دیر تک مسلسل اس کے مموں، نپلوں پر میں نے کس دیے۔ اس کے چمکتے ہوئے ہونٹ چوسنے کے بعد، اس کے کانوں اور گالوں پر کس کرتے  ہوئے میں نے اس کی پھدی کے اندر اپنا لنڈ ڈال دیا۔

ایّنا کراہ اٹھی، “اوووپس!”

میرا لنڈ اب اس کی پھدی کے مکمل کنٹرول میں تھا اور اس کی تنگ پھدی نے میرے لنڈ کو جکڑ لیا۔

میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی، “میری پیاری ایّنا؟”

 اس نے کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ وہ میرے لنڈ کے ہر دھکے کا لطف لے رہی تھی۔ 

میں نے اپنا لنڈ اس کی پھدی سے باہر نکال لیا اور بہت تیزی سے دوبارہ اس کی پھدی میں گھسا دیا اور کچھ تیز سٹروک لگائے۔ ایّنا نے بار بار میرے لنڈ کے چاروں طرف اپنے سیال کا بہاؤ جاری رکھا۔ 

میں ہر بار اپنا لنڈ مکمل باہرنکالتا اور پورے پک  کے ساتھ گھسا مارکر اُس کی پھدی کے اندر گھسا دیتا۔ میرا لنڈ مکمل اُس کی پھدی میں داخل ہونے کے بعد بھی اپنی لمبائی کی وجہ سے اس کی پھدی سے تقریباً 2 انچ باہر تھا۔ اور لنڈ کا ٹوپا اُس کی پھدی کی اینڈ پر جار کر اُس کی بچہ دانی کو زبردست سٹروک لگاتا جس سے  ایّنا نے اپنی آنکھیں بند کر لیتی اور اس کے ہونٹوں پر درد بھری مسکراہٹ آجاتی تھی اور وہ آہستہ آہستہ کراہتی ۔ میں نے اپنی رفتار بڑھا دی، وہ  ایک پھر سے اپنی منزل  پر پہنچ کر مزے کے ساتھ چلانے لگی تھی اور مجھے یقین تھا کہ اس بار گیٹ کے باہر سیکیورٹی گارڈ نے اس چلانے کی آواز ضرور سنی ہوگی۔ مجھے معلوم تھا کہ اس علاقے تک پہنچنے میں وقت لگے گا، اس لیے میں نے رفتار بڑھا دی۔ 

میں نے اپنے ہونٹ ایّنا کے ہونٹوں پر رکھ کر اسے کسنگ کرنا شروع کیا اور دھکے لگانے جاری رکھے۔ اور میں نے دیکھا کہ گارڈ ادھر ہی آ رہے تھے، تو راستے میں جوہی نے انہیں روکا اور واپس جانے کو کہا کیونکہ پول پر اس نے دیکھ لیا تھا کہ وہاں سب ٹھیک تھا۔ 

میں: “ایّنا، پانی میں جا کر چودنے کا دل کر رہا ہے۔”

ایّنا: “اووووہہہہ… تو لے چلیے ناں، جیسے مرضی ویسے چودئیے، خوب چودئیے، یہ پھدی صرف آپ کے لیے ہے، چودئیے میرے دیپک، لے چلیے مجھے۔۔ لیکن میرے جانو،اُس وقت تک میری چوت خالی نہیں ہونی چاہیے اب، جب تک میں تیسری بار تسکین نہ پا لوں، کچھ اس طرح لے چلو۔”

میں حیران ہوتے  ہوئے: “اوہ” 

ایّنا: “میرے سائیں، پول کے پانی میں مجھے اس طرح لے چلو کہ آپ کا موٹا لمبا  لنڈ میری پھدی سے نہ نکلے اور پول میں جانے سے پہلے ایک چکر پورے پول کا لگاؤ، پھر پول کے پانی میں جانا۔”

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page