Raas Leela–36– راس لیلا

Raas Leela

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ سسپنس رومانس جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر  ۔۔راس لیلا۔

راس لیلا۔۔ 2011-12 کی کہانی ہے جو موجودہ وقت سے تقریباً 12-13 سال پہلے کی ہے، انڈیا کے شہر  سورت میں  سال 2011-12 میں شروع ہوئی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے شہر سورت میں بہت  گھنی آبادی ہے اور لوگ شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح رہتے ہیں۔ زیادہ تر متوسط ​​طبقے کے خاندان بھیڑ والے علاقوں میں کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں دو بیڈ روم والے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ یہ کہانی ایک نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنی پڑوسیوں اور دیگر عورتوں کے ساتھ رنگ رلیوں ،  جنسی جذبات  اور جنسی کھیل کی  لازوال داستانیں رقم کی اور جب اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے پھر تو اُس کی راس لیلا کی داستان کو ایک نیا رنگ مل گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

راس لیلا قسط نمبر -36

پرچین پرتھا کے مطابق، اگر کوئی شادی شدہ عورت کسی وجہ سے اولاد پیدا کرنے اور خاندان کو آگے بڑھانے میں ناکام ہوتی تھی، تو اس کے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت مل جاتی تھی۔ یہ اجازت اسے سماجی، مذہبی اور خاندانی تینوں شعبوں میں دی جاتی تھی۔ البتہ موجودہ دور میں قوانین کی سختی کے بعد اب ایسا کرنا اتنا آسان نہیں رہا، لیکن ایک وقت وہ بھی تھا جب عورت کو یا تو صرف جنسی تسکین کے لیئے سمجھا جاتا تھا یا پھر خاندان کو آگے بڑھانے کا ایک ذریعہ مانا جاتا تھا۔ 

لیکن اس کے برعکس، اگر کوئی مرد” نا مرد  ہو یا بچے پیدا کرنے کے قابل نہ ہو ” تو اس کی بیوی کو اولاد کے لیے دوسری شادی کی اجازت تو نہیں ملتی تھی، لیکن اُس کو حاملہ کرنے  کے لیے برادری کا  یا پھر اعلیٰ خاندان کے مرد کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنے کی سہولت ضرور دی جاتی تھی۔ 

اس سہولت کو ‘گربھدان’ کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا مطلب کسی بھی قسم کے جنسی لذت سے نہیں، بلکہ صرف اور صرف اولاد کو جنم دینے سے ہے۔ گربھدان کے لیے کس مرد کو چنا جائے گا، اس کا فیصلہ بھی اس کا شوہر ہی کرتا تھا۔ 

گربھدان شوہر کی طرف سے اولاد پیدا نہ ہونے یا شوہر کی اچانک موت کی حالت میں ایک ایسا طریقہ ہے جس کے تحت عورت اپنے دیور یا خاندان میں  سے کسی کے ساتھ جنسی تعلق  قائم کر سکتی ہے۔ اس میں عورت کی مرضی ہونا ضروری ہے۔ اگر شوہر زندہ ہو تو وہ شخص عورت کے شوہر کی خواہش سے صرف ایک ہی اولاد اور خاص حالت میں دو اولادیں پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس عمل کرنے والے سزا  کے حق دار ہوتے ہیں۔ ہندو پرتھا کے مطابق مقرر کردہ مرد ایک معزز شخص ہونا چاہیے۔ 

گربھدان’ بھارتی سماج میں موجود ایک انتہائی قدیم روایت ہے۔ آج بھی بہت سے بھارتی برادریوں میں ‘گربھدان’ کے ذریعے اولاد پیدا کرنے کے عمل کو پوری روایت کے مطابق اپنایا جا رہا ہے۔ 

سب سے پہلے گربھدان ایک ایسا پروسیجر ہے جب شوہر کی اچانک موت یا اس کے اولاد کو جنم دینے میں ناکام ہونے کی حالت میں عورت اپنے دیور یا خاندان  میں   سے کسی کے ساتھ  یا پھر کسی  اعلیٰ خاندان کے مرد کے ذریعے اولاد کی خواہش پوری  کرتی ہے۔ 

عورت اپنے شوہر کی خواہش اور اجازت ملنے کے بعد ہی ایسا کر سکتی ہے۔ عام حالات میں وہ صرف ایک ہی اولاد کو جنم دے سکتی ہے، لیکن اگر کوئی خاص مسئلہ ہو تو وہ گربھدان کے ذریعے دو اولادوں کو جنم دے سکتی ہے۔ 

گربھدان کے ذریعے پیدا ہونے والی اولاد، ناجائز ہونے کے باوجود جائز کہلاتی ہے۔ اس پر اس کے حیاتیاتی باپ کا کوئی حق نہ ہو کر اس مرد کا حق کہلایا جائے گا، جس کی بیوی نے اسے جنم دیا ہو۔ 

گربھدان کی پروسیجر بہت سی شرائط سے بندھی ہوئی ہے۔ جیسے کہ کوئی بھی عورت گربھدان کا استعمال صرف اولاد کو جنم دینے کے لیے ہی کر سکتی ہے، نہ کہ جنسی لذت کے لیے۔ گربھدان نیوگ کے لیے مقرر کردہ مرد دھرم کے پابند ہو کر ہی اسے اپنائے گا، اس کا دھرم عورت کو صرف اولاد پیدا کرنے میں مدد کرنا ہوگا۔ اولاد کے پیدا ہونے کے بعد مقرر کردہ مرد اس سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھے گا۔ 

گربھدان سے ایک ایسی عورت جو اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنے بھائی یا رشتے داروں میں سے کسی کے لیے اولاد کی خواہش رکھتی ہو (ایک بیٹے کو جنم دے سکتی ہو)۔ (ایک بہنوئی کی نامردی وغیرہ  پر وہ اُس کے لیئے اولاد حاصل کر سکتی ہے) (ایک ہم پلہ  کے ساتھ)، ایک انیک انسان کے ساتھ، یا ایک ہی ذات سے تعلق رکھنے والے کے ساتھ ہمبستری کر کے۔ 

ایک بیوہ ایک سال تک (شہد)، گوشت خوری، شراب اور نمک کے استعمال سے پرہیز کرے گی اور زمین پر سوئے گی۔ چھ ماہ کے دوران  وہ اعلان کرتی ہے کہ وہ ایسا کرے گی۔ اس کے وقت کے خاتمے کے بعد وہ اپنے گروؤں کی اجازت سے اپنے جیجا  وغیرہ کے لیے ایک بیٹے کو جنم دے سکتی ہے، اگر اس کا کوئی بیٹا نہ ہو۔ 

گربھدان کا ذکر اور بھی ہے:

ایک شوہر کا چھوٹا بھائی، اپنے بڑوں کی اجازت سے اپنے بھائی  کی  اولاد حاصل کرنے کی خواہش کے مقصد کے لیے اپنے بڑے بھائی کی بے اولاد بیوی کے پاس جا سکتا ہے ۔ 

خاندان میں ایک بیٹا اور ایک وارث پیدا کرنے کے لیے بہنوئی یا ایک چچا زاد بھائی یا ایک ہی خاندان  کا شخص حاملہ  ہونے تک بیوہ کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر سکتا ہے۔ اگر وہ اس کے بعد اسے چھوتا ہے تو وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔ اس طرح پیدا ہونے والا بیٹا، مرے ہوئے شوہر کا جائز بیٹا ہوتا ہے۔”

گربھدان طریقے  سے پیدا ہونے والے بیٹے کو اپنے پچھلے جنم کے ساتھ ساتھ اپنی ماں کے مرے ہوئے شوہر کا بھی شردھ (پنڈت کے زریعے  باپ کی روح کو سکون دینے کے لیئے عمل) کرنا چاہیے۔ تب وہ سچا وارث ہوگا۔ 

بھارتی سماج میں اولاد کو جنم دینا، مرد کے آن بان اور اُس  کی مردانگی سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے گربھدان کے لیے مقرر کردہ مرد مکمل طور پر قابل اعتماد ہوتا تھا تاکہ اس بات کا انکشاف کسی بھی صورت نہ ہو سکے، کیونکہ اگر ایسا ہوا تو ان کی مردانگی کو ٹھیس پہنچے گی۔ گربھدان کے ذریعے پیدا ہونے والی اولاد نے ان کے اپنے حیاتیاتی باپ کے نہیں بلکہ اپنی حیاتیاتی ماں کے شوہر کے خاندان کو آگے بڑھایا۔ 

گربھدان پرتھا کے قواعد درج ذیل ہیں

  1. کوئی بھی عورت اس پرتھا کو صرف اولاد حاصل کرنے کے لیے کرے گی، نہ کہ لذت کے لیے۔
  2. مقرر کردہ مرد صرف دھرم کا پابند ہو کر اس پرتھا کو نبھائے گا۔کہ وہ اس عورت کو اولاد حاصل کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ 
  3. اس گربھدان سے پیدا ہونے والا بچہ جائز ہوگا اور قانونی طور پر بچہ شوہر اور بیوی کا ہوگا، مقرر کردہ شخص کا نہیں۔
  4. مقرر کردہ مرد اس بچے کا باپ ہونے کا حق نہیں مانگے گا اور مستقبل میں بچے سے کوئی رشتہ نہیں رکھے گا۔
  5. اس عمل کے دوران مقرر کردہ مرد اور بیوی کے دل میں صرف دھرم ہونا چاہیے، ہوس اور جنسی مزے کا احساس  نہیں۔ بیوی یہ جنسی ملاپ صرف اپنے اور اپنے شوہر کے لیے اولاد حاصل کرنے کے لیے کرے گی۔ 

اس کے بعد جوہی نے پورے، قواعد اور گربھدان کی کہانیاں تفصیل سے سمجھائیں۔ 

تو میں نے پوچھا، “جوہی، تم مجھے یہ کیوں سنا رہی ہو؟ میں ان میں سے بہت سی کہانیاں جانتا ہوں یا سن چکا ہوں۔” 

تو جوہی بولی، “آپ کے سوالوں کے جواب جلد ہی مل جائیں گے۔” 

اگر عورت یا مرد میں سے کسی ایک کی موت ہو جاتی ہے اور ان کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے، تو اگر دوبارہ شادی نہ ہو تو ان کا خاندان ختم ہو جائے گا۔ دوبارہ شادی نہ ہونے کی صورت میں بدکاری اور جنسی آسودگی جیسے بہت سے برے کام ہوں گے۔ اس لیے دوبارہ شادی ہونا بہتر ہے۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page