Raas Leela–49– راس لیلا

Raas Leela

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ  کی طرف سے پڑھنے  کیلئے آپ لوگوں کی خدمت میں پیش خدمت ہے۔ سسپنس رومانس جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر  ۔۔راس لیلا۔

راس لیلا۔۔ 2011-12 کی کہانی ہے جو موجودہ وقت سے تقریباً 12-13 سال پہلے کی ہے، انڈیا کے شہر  سورت میں  سال 2011-12 میں شروع ہوئی تھی۔آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے شہر سورت میں بہت  گھنی آبادی ہے اور لوگ شہد کی مکھیوں کے غول کی طرح رہتے ہیں۔ زیادہ تر متوسط ​​طبقے کے خاندان بھیڑ والے علاقوں میں کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس میں دو بیڈ روم والے چھوٹے فلیٹوں میں رہتے ہیں۔ یہ کہانی ایک نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنی پڑوسیوں اور دیگر عورتوں کے ساتھ رنگ رلیوں ،  جنسی جذبات  اور جنسی کھیل کی  لازوال داستانیں رقم کی اور جب اُسے پتہ چلا کہ وہ ایک شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہے پھر تو اُس کی راس لیلا کی داستان کو ایک نیا رنگ مل گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

راس لیلا قسط نمبر -49

جب ایشا کی ماسی مندر کے جوتا گھر سے جوتے واپس لینے گئی، تو ایشا ایک کونے میں کھڑی ہو کر چپکے سے اس کاغذ کے ٹکڑے کو دیکھنے لگی جو اس جوان لڑکے نے اس کے ہاتھ میں چپکے سے دیا تھا۔ اسے پڑھنے کے بعد وہ کچھ دیر تک سوچنے کی حالت میں کھڑی رہی۔

تبھی اس کی ماسی نے اسے بلایا، “چلو ایشا، چلیں،”

 اور ایشا اپنی ماسی کی طرف جلد بازی  میں بڑھ گئی۔ اس دوران وہ کاغذ کا ٹکڑا نیچے گر گیا، یا شاید اس نے جان بوجھ کر پھینک دیا۔ میں اس کے پیچھے ہی تھا، تو میں نے فوراً اس کاغذ کے ٹکڑے کو اٹھا لیا اور چونکہ وہ کھلا ہوا تھا، میں نے اسے آسانی سے پہلی ہی نظر میں پڑھ لیا۔ 

میں آج شام چار بجے پرانے مقام پر ہوں گا،”

 اس کاغذ میں صرف یہی الفاظ درج تھے، لیکن یہ ایشا کے لیے کچھ خاص دلچسپی اور معنی رکھتے تھے، جنہیں وہ راز رکھنا چاہتی تھی۔ مجھے فوراً سمجھ آ گیا کہ اسی لیے وہ کچھ دیر کے لیے سوچ میں ڈوبی کھڑی رہی تھی۔ 

جب وہ مندر سے باہر نکلی، تو کچھ منچلوں نے سیٹیاں ماریں اور فقرے کسے، لیکن اس نے اسے روزمرہ کی بات سمجھ کر نظر انداز کیا اور اپنی ماسی کے ساتھ مندر سے نکل گئی۔ 

اگرچہ وہ میرے پاس کئی بار چھوٹی بیماریوں کے لیے آئی تھی، لیکن آج میری تجسس جاگ اٹھی کہ وہ کہاں جا رہی ہے۔ میرے دل میں اس دلچسپ جوان لڑکی کے بارے میں مزید جاننے کی خواہش پیدا ہوئی، جس سے میں مندر میں خوشگوار حادثے  میں ملا تھا۔ میں نے گھڑی پر نظر ڈالی اور دیکھا کہ چار بجنے میں زیادہ وقت نہیں تھا۔ اس کے بعد کی پیشرفت کو چپکے سے دیکھنے کے لیے میں نے اس کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کیا۔ 

راستے میں وہ اپنی ماسی سے کچھ بہانے بنا کر الگ ہو گئی، اور میں اس کا پیچھا کرتا رہا۔ ایشا نے خود کو بہت احتیاط سے تیار کیا تھا، اور وہ اس باغ کی طرف بڑھ گئی جہاں میں مانوی بھابی کے ساتھ سیر کیا کرتا تھا۔ میں اس کے پیچھے گیا۔ 

ایک لمبے اور سایہ دار راستے کے آخر میں پہنچ کر، جوان لڑکی ایشا جھاڑیوں کے جھرمٹ کے بیچ ایک چھپی ہوئی بنچ پر بیٹھ گئی۔ یہ ایک ایسی خفیہ جگہ تھی جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، اور مجھے اندازہ بھی نہیں تھا کہ ان جھاڑیوں میں ایسی کوئی جگہ ہو سکتی ہے۔ میں نے دل میں سوچا کہ اگلی بار مانوی بھابی کے ساتھ یہاں ضرور آؤں گا۔ 

ایشا وہاں اس لڑکے کے آنے کا انتظار کر رہی تھی، اور میں ان جھاڑیوں کے بیچ اس طرح چھپ گیا کہ میں کسی کو نظر نہ آؤں اور ساتھ ہی ایشا کو صاف دیکھ سکوں اور ان کی باتیں سن سکوں۔ 

نرم مزاج لڑکی ایشا نے اپنی ایک ٹانگ اٹھائی اور دوسری ٹانگ پر رکھ دی۔ اس نے منی اسکرٹ پہنی ہوئی تھی، اور میں نے اس کی بھری ہوئی رانوں پر توجہ دی جو اس کی تنگ فٹنگ منی اسکرٹ کے اوپر اٹھنے سے نمایاں ہو گئی تھیں۔ میری آنکھیں اس کی اسکرٹ کے اندر تک دیکھ پا رہی تھیں، اور اس کی رانیں ایک نقطے پر مل کر اکٹھی ہو گئی تھیں۔ اس مقام پر اس کی پتلی اور ہلکی سی پینٹی سے اس کی پھدی کا آڑو کی طرح ترچھا اور ہلکا سا اندازہ ہو رہا تھا۔ اس کی پھدی کے ہونٹ آپس میں چپکے ہوئے تھے، اور ان بند ہونٹوں کے بیچ میں اس کی تنگ پھدی چھپی ہوئی تھی۔

کچھ ہی منٹوں میں وہ جوان لڑکا بھی وہاں آ گیا اور اسنے آتے ہی ایشا کا وہاں آنے کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں مندر میں ہونے والی باتوں کے بارے میں گفتگو کرنے لگے۔ تبھی تھوڑی ہوا چلی، اچانک چاروں طرف بادل چھا گئے، اور اندھیرا ہو گیا۔ ہوا گرم اور تیز ہو گئی، اور یہ جوان جوڑا بنچ پر ایک دوسرے کے اور قریب بیٹھ گیا۔ 

ایشا، تم نہیں جانتی کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں،” لڑکے نے سرگوشی کی، اور نرمی سے اپنی ساتھی کے ہونٹوں پر ایک چوما دیا۔ 

ہاں، میں بھی کرتی ہوں،” لڑکی نے سادگی سے کہا، “لیکن تم تو یہ ہمیشہ کہتے رہتے ہو؟ میں اسے سن کر تھک گئی ہوں۔”

 اور وہ نیچے کی طرف دیکھنے لگی اور سوچ میں ڈوبی نظر آئی۔تم مجھے ان تمام مزے کی چیزوں کے بارے میں کب اور سمجھاؤ گے جو تم نے مجھے بتائی تھیں؟” اس نے پھر سے پوچھا،لیکن ساتھ میں لڑکے کو  ایک گہری  نگاہ  سے دیکھتے ہوئے، اور پھر تیزی سے اپنی آنکھیں نیچے بجری  کی طرف  جھکا لیں۔ 

اب،” جوان نے جواب دیا۔ “ابھی میری پیاری ایشا، جب کہ ہم اکیلے ہیں اور کسی کے آنے کے ڈر سے آزاد ہیں، تو یہ ایک اچھا موقع ہے۔ تم جانتی ہو، ایشا، اب ہم کوئی بچے نہیں رہے؟” 

ایشا نے ہامی میں سر ہلایا۔ 

یہ ایسی چیزیں ہیں جو بچوں کو نہیں معلوم، اور جو عاشقوں کے لیے ہیں، جنہیں نہ صرف جاننا ضروری ہے بلکہ عمل میں لانا بھی ضروری ہے۔” 

اوہ ڈیئر،” لڑکی نے سنجیدگی سے کہا۔ 

ہاں،” اس کے ساتھی نے اپنی بات جاری رکھی، “ایسے راز ہیں جو عاشقوں کو خوش کرتے ہیں، جن سے عاشق پیار کرتے ہیں اور پیار کرنے کا لطف دیتے ہیں۔” 

بھگوان!” ایشا نے کہا، “کیسے؟ ارے، تم تو ویسے ہی جذباتی ہو گئے ہو، جیتو، جیسے تم اس وقت تھے جب تم نے مجھے پہلی بار اپنے پیار کا اظہار کیا تھا۔” 

میں سچ کہتا ہوں، میں ہمیشہ تم سے پیار کرتا رہوں گا،” جوان نے جواب دیا۔ 

بکواس، میں نے دیکھا ہے کہ تم مندر میں دوسری لڑکیوں کو بھی دیکھ رہے تھے،” ایشا نے جلدی سے جواب دیا پھر کہا، “لیکن جیتو، مجھے اور بتاؤ ،  تم نے کیا وعدہ کیا تھا۔” 

جیتو نے کہا، “میں تمہیں کر کے دکھا سکتا ہوں۔ علم صرف تجربے سے سیکھا جا سکتا ہے۔” 

اوہ، تو آؤ اور مجھے دکھاؤ،” لڑکی بولی۔

 اس کی چمکتی آنکھوں اور دمکتے گالوں کودیکھ کر  مجھے لگا کہ میں اس قسم کی ہدایت اُسے دے سکتا ہوں اور جس علم کو وہ جاننا چاہتی ہے، اس کے بارے میں میں بہت کچھ جان چکا ہوں اور اسے سکھا بھی سکتا ہوں۔ 

مجھے لڑکی کچھ بے چین لگی، اور لڑکے نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ اس نے خوبصورت اور بے چین ہو چکی ایشا کے منہ اور ہونٹوں پر اپنے ہونٹ لگا کر اسے جوش کے ساتھ چوما۔ 

ایشا نے اس کی کوئی مزاحمت نہیں کی،  اس نے بھی اس میں حصہ لیا اور اپنے عاشق کے پیار کو اسی جوش اور بے تابی کے ساتھ چومتے ہوئے واپس کیا۔ 

پھر جیتو تھوڑا ہلا اور ایشا کے قریب آیا۔ اس نے ایشا کو اپنی طرف کھینچا اور پھر بغیر کسی احتجاج  کے اس نے خوبصورت ایشا کی اسکرٹ کے نیچے سے اپنا ہاتھ گھسایا اور دوسرے ہاتھ کو ایشا کے مموں پر لے گیا۔ چمکتے ریشمی جرابوں کے اندر جو کشش اسے ملی، وہ اس سے مطمئن نہ ہوا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ اس کی بھٹکتی انگلیاں اب ایشا کی جوان رانوں کے نرم گوشت کو چھو گئیں، اور دوسرا ہاتھ اس کے ٹاپ کے اندر گھس گیا۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page