Reflection–29–عکس قسط نمبر

عکس

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور بہترین کہانی ۔۔  عکس۔۔ایک ایسے لڑکے کی داستان جو اپنے والدین کی موت کے بعد اپنے چاچا چاچی  کے ظلم کا شکار ہوا اور پاگل بناکر پاگل خانے میں پہنچادیا گیا۔ جہاں سے وہ ایک ایسے بورڈنگ اسکول پہنچا  جہاں سب کچھ ہی عجیب و غریب تھا، کیونکہ یہ اسکول عام انسان نہیں چلا رہےتھے ۔ بلکہ شاید انسان ہی نہیں چلارتھے ۔چندرمکی ۔۔ایک صدیوں پرانی ہستی ۔ ۔۔جس کے پاس کچھ عجیب شکتیاں  تھی۔ انہونی، جادوئی شکتیاں ۔۔۔جو وہ  ان سے شیئر کرتی، جو اس کی مدد کرتے ۔۔۔وہ ان میں اپنی روشنی سے۔۔۔ غیرمعمولی صلاحیتیں اُجاگَر کرتی۔۔۔ جسمانی صلاحیتیں، ہزار انسانوں کےبرابر طاقتور ہونے کی ۔۔جو  وہ خاص کر لڑکوں کے  زریعےیہ طاقت حاصل کرتی ۔۔ ان لڑکوں کو پِھر دُنیا میں واپس بھیج دیا جاتا۔۔تاکہ وہ چندر مکی کی جادوئی صلاحیتوں کے ذریعے، اپنی جنسی قوتوں کا خوب استعمال کریں۔ وہ جتنے لوگوں سے ، جتنی زیادہ جسمانی تعلق رکھیں گے، ان کے اندر اتنی جنسی طاقت جمع ہوتی جائے گی ‘اور چندر مکی کو ان لڑکوں سے وہ طاقت، اس کی دی گئی روشنی کے ذریعے منتقل ہوتی رہتی ۔۔۔ اِس طرح چندر مکی کی جادوی قووتیں اور بڑھ جاتی ۔۔۔ اور پِھروہ ان قووتوں کا کچھ حصہ اپنے مددگاروں میں بانٹ دیتی ۔ اور صدیوں سے یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا آرہاہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

عکس قسط نمبر - 29

مافوق الفطرت ، طاقت، صلاحیت، خود اعتمادی کیا یہ سب ایک ہی چیز کے کئی رخ ہیں ؟یا پِھر یہ سب کچھ نہیں، ایسے ہی بکواس ہے۔انسان اصل میں ، اِس زمین پہ بسنے والی سب سے مظلوم آتما ہے۔ کرہ ارض پہ موجود تمام جانداروں کے برعکس، پیدائش کے بَعْد بے بس اور لاچار، چلنے، بولنے میں ہی سالوں لگا دیتا ہے۔اور پِھر خود کو پتہ نہیں کیا سمجھتا ہے، سب جانتا ہے، سب علم رکھتا ہے، لیکن حقیقت اور اپنی حماقتوں کے بیچ ایسا پھنسا رہتا ہے کہ اگر کچھ اِس سے ہٹ کر ہوجائے، تو اس سے خوف کھاتاہے۔ اس کو مافوق الفطرت سمجھتا ہے۔ میں بھی مافوق الفطرت تھا، الگ تھا۔  میری اُٹھان، میرا ہیجان، یقینا غیر انسانی تھی۔ اور سب سے بڑھ کر، میرے اندر ایک غیر انسانی یقین تھا۔

خود اِعْتِمادی۔۔۔ اور اسی خود اِعْتِمادی نےمیرے اندر چھپی صلاحیتوں کو چندر مکی کی روشنی میں اُجاگَر کیا تھا۔ جیسے کے اِس وقت، میری ایکٹنگ نیکسٹ لیول تھی۔ آسکر نہیں تو ایک کامیاب فلم ایوارڈ ضرور مل جاتے مجھے۔ میں نے اسکول سے نکلتے اور  اپنے گھر پہنچتے ہوئے، اپنی  پرسنلیٹی چینج کر ڈالی تھی۔ کندھوں کو ایسے جھکا لیا جیسے شکست کا بوجھ اٹھائےہوں۔  اپنے آپ کو سمٹا کر اپنی چال بَدَل لی۔راستے بھر اپنی آواز کو دھیمی اور خوفزدہ سی کرکے بولنے کی پریکٹس کرتا رہا تھا۔ گاڑی ، ٹھیک 15 : 12 پہ مجھے لیے بس اڈےپہنچ گئی ۔ ڈرائیور نے میرا سامان میری متعلقہ بس میں رکھوایا۔میں نے بس میں چڑھنے سے قبل ایک نظر ارد گرد دوڑائی۔ میں پہلی بار ایک نیا سفر ،  اکیلے شروع کرنے والا تھا۔ میں نے گاڑی کی طرف دیکھا اور بوڑھے ڈرائیور کو خدا حافظ کیا۔ اس نے مجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے سگریٹ  نکال کے لگائی اور ایک کاش بھرتا ہوا گاڑی لیکر بس اڈےکے گیٹ سے نکل گیا۔

اور اب ، بس لاہور شہر میں داخل ہوچکی تھی ، میرا ذہن مجھے آج سے کئی سال پیچھے لگایا تھا، اپنی کہانی کی شروعات دہرانے۔۔۔ تاکہ مجھے اپنا مقصد  یاد  رہے، اور اپنا  انتقام بھی۔۔۔کچھ دیر میں ہم لاہور کے اڈے پہنچے۔میں نے اپنا سامان اٹھوا کے ایک رکشہ میں رکوایا اوراکرم چاچا کے ایڈریس  کا بتا کر اس جانب روانہ ہو گیا۔پہلی بار اکیلے میں شہر کو ایکسپیرینس کر رہا تھا۔ایک ایک آواز ، ہر طرح کا شور، میں جیسے اپنےاندر جذب کر رہا تھا۔ اور اسی طرح روڈز اور گلیوں سے ہوتے ہوئے، رکشہ میرےگھر کے لان کے آگے رک گیا۔

گیٹ پہ وائٹ ٹی شرٹ اور بلیک شرٹ میں ملبوس اکرم چاچا کھڑے تھے۔ ان کے ساتھ پاگل خانے کا انچارج شمروز ہاتھ میں کچھ کاغذات لیے کھڑا تھا۔ اکرم چاچا نے ان پہ سائن کیے اوررکشہ  کی طرف بڑھے۔ میں نے پاؤں زمین پہ رکھا تو انہوں نے مجھےہاتھ سے پکڑ کے اتارا اور  بغلگیر ہوئے۔

ویلکم ٹو  ہوم بیٹا۔ ” وہ بولے۔ ان کےلہجے میں شدید بناوٹ تھی۔

 “شانی بیٹے،کیا حال ہیں ؟ ”

شمروزکی آہستہ سی آواز میری پشت سے ابھری۔

  “آئی ایم فائن انکل۔” میں نے ہلکی سی آواز میں جواب دیا۔

بیٹا ساری کاغذی کارروائی ہوچکی ہے۔ اب آپ کو آپ کے گھر جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ” اتنا کہہ کر وہ مڑنے لگے تو ان کو جیسے کچھ یاد آگیا اور ہاں۔۔۔۔،

وہ بولے، “ہر 2  ہفتے بَعْد اسپتال  سے کوئی نا کوئی آکر آپ کا چیک اپ کیا کرے گا۔ جسٹ ٹو سے۔۔۔ کہ آپ کی  دوائیں سہی کام کر رہی ہیں،  اوکے ؟ ” انہوں نے اپنی بڑی سی مونچیں کھجاتے ہوئے کہا۔
میں نے اپنی جیب ٹٹولی۔ جہاں ایک دوائیوں کا ڈبہ موجود تھا۔ شمروزکو مس کُنایہ کا قرب اور چندر مکی کے مددگاروں میں اپنی واپسی، بڑی پیاری تھی “

اچھا بیٹا میں چلتا ہوں۔ اپنا خیال رکھنا اوکے ؟ ” شمروز نےروندی سی شکل سے میرے ساتھ ہاتھ ملایا اورپِھر  اکرم چاچا سے ہاتھ ملا کر رخصت ہوگیا۔

اتنی دیر میں ، میرا سامان ایک نوکر اٹھا کر اندر لے گیا۔

آاو شانی، تمہیں سب سے  ملواؤں ” 

اکرم چاچا نے مجھے اشارے سے اندر بلاتے ہوئے کہا۔

ہم سب آپ کے بارے ایکسائیٹڈ ہیں جب سے پتہ چلا  ہے کہ تم واپس آرہے ہو

میں اپنی خوفزدہ سی چال چلتا ہوا ان کے پیچھے ہو لیا۔ میری ایکٹنگ ابھی بھی اسپاٹ آن تھی۔

میں اکرم چاچا کے پیچھے چلتے ہوئے باغیچے سے ہوکر گھر کےدروازے سے اندر داخل ہوا۔ایک ایک دَر و دیوار مجھے چیخ چیخ کےبچپن کی یاد دلا رہا تھا۔برامدہ ، راہداریاں ، بڑا کمرہ، چھوٹے کمرے، ڈرائنگ روم ، سب ویسے ہی تھا۔بس کچھ کچھ بَدَل گیا تھا۔ ہم ڈائیننگ روم میں پہنچے تو میرا سامان سائڈ میں پڑا تھا اور ایک بڑی سی ڈائیننگ ٹیبل کے پیچھے ایک عورت کھڑی تھی۔

میں ان کو غور سے دیکھنے لگا۔یہ ہنسیکا چاچی تھیں۔ رنگ و روپ ویسا ہی تھا،جیسے یاد تھا۔ بالکل نہ بدلی تھیں۔ بلکہ شاید اور بہتر لگ رہیں تھیں۔ گرین اور بلیک شلوار قمیض میں ان کا  جسم، کسی 26 سالا جوان عورت کی طرح جھلک رہا تھا۔ میری نظریں  ان کے سرخ ہونٹوں سے ہوتے  ہوئے ان کی بھاری چھاتیوں تک جاٹھہری۔ میرے منہ میں ایک بار پِھر سسٹرشیتل کےمموں کا ٹیسٹ آگیا۔ شاید یہ کوئی اشارہ تھا۔

سُوریا ، دیکھو کون آیا ہے

 اکرم چاچانے بناوٹی لہجے میں کہا، تو سائڈ میں کچن سے ایک ٹائیٹ ٹراؤزر اور ڈھیلی سی شرٹ میں ملبوس لڑکی  نمودار ہوئی۔ اس کے کھلے بال، کانوں کے پیچھے ہوتے،  اس کے شانو پہ ڈھلکتے ہوئے،
اس کے سینے پہ بکھر رہے تھے۔گہرا سرخی مائل ہیئر کلر اس کے بالوں کو چمکا رہا  تھا۔   اس میں سے اس کا چہرہ کسی سورج جیسے ابھر کر اپنے حُسْن کی کرنیں پھیلا رہا تھا۔ اس نے ایک قاتل نگاہ مجھ پہ  ڈالی اور اپنی خوبصورت پلکیں جھپکیں،اس کا سراپا ، کسی اپسرا سے کم نا تھا۔ یہ۔۔۔ کوئی اور نہیں ، سوریا تھی۔ میری کزن۔ اکرم چاچا کی پہلی بیٹی۔

ہنسیکا چاچی آگے بڑھیں اور انہوں نےمیرے سَر پہ  ہاتھ پھیرا۔کیسے ہو شانی بیٹا ؟ اتنا عرصہ ہوگیا۔آج تم کو دیکھ کےبہت اچھا لگ رہا ہے۔” پِھر وہ سوریا کیطرف مُڑیں تو وہ آہستہ سے چلتے ہوئےمیری  جانب آئی۔ اس کی ہر ادا دلفریب تھی۔

ہیلو شانی۔۔۔کیسے ہو ؟ ” اس نے بڑی بے رخی سے پوچھا۔ جیسے مجھ پہ احسان کر رہی ہو۔

میں ان دونوں کو جواب دیتے ہوئے بولا۔میں ٹھیک ہوں۔ آپ لوگ کیسے ہیں ؟ ہنسیکا چاچی آپ بالکل نہیں بدلیں۔اور سوریا آپی،  اٹس نائس ٹو سی یو ۔ ” میں اِس معصومیت سے بولا کہ ان کو بھی شایدمجھ پہ کچھ سیکنڈ ترس آگیا ہوگا۔

اتنی دیر میں ایک چھوٹا سا بچہ بھاگتا ہوا آیا اور ہنسیکا چاچی سے لپٹ گیا۔ یہ شام تھا۔ اکرم چاچا کا بیٹا ، جو ہنسیکا چاچی کے ہاں پیدا ہوا تھا۔ اورمیری آنکھوں کے سامنے پیدا ہوا تھا، جو دو تین دفعہ میں  نےدیکھا تھا  اسے۔ اب کم اَز کم 7 سال کا تو ہوگا۔

 “شام بیٹا، یہ آپ کے  سٹیپ کزن۔  آئی مین۔۔۔، کزن  ہیں۔ شانی بھائی۔ ” ہنسیکا چاچی جیسے کچھ پٹری سے اترنے لگی تھیں لیکن پِھر لائن پہ آگئیں تھیں۔

میں سب سے بڑی گرم جوشی لیکن اپنی دھیمی پرسنیلیٹی والے انداز سے ملا۔پِھر كھانا لگا۔ اور سب ٹیبل پہ بیٹھ گئے۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

ایک حسینہ سمگلر

Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا کہانی ۔۔سمگلر۔۔ ایکشن ، سسپنس ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔
Read more
ایک حسینہ سمگلر

Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا کہانی ۔۔سمگلر۔۔ ایکشن ، سسپنس ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔
Read more
ایک حسینہ سمگلر

Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا کہانی ۔۔سمگلر۔۔ ایکشن ، سسپنس ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔
Read more
ایک حسینہ سمگلر

Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا کہانی ۔۔سمگلر۔۔ ایکشن ، سسپنس ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔
Read more
ایک حسینہ سمگلر

Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا کہانی ۔۔سمگلر۔۔ ایکشن ، سسپنس ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔
Read more
ایک حسینہ سمگلر

Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا کہانی ۔۔سمگلر۔۔ ایکشن ، سسپنس ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔
Read more

Leave a Reply

You cannot copy content of this page