Reflection–50–عکس قسط نمبر

عکس

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور بہترین کہانی ۔۔  عکس۔۔ایک ایسے لڑکے کی داستان جو اپنے والدین کی موت کے بعد اپنے چاچا چاچی  کے ظلم کا شکار ہوا اور پاگل بناکر پاگل خانے میں پہنچادیا گیا۔ جہاں سے وہ ایک ایسے بورڈنگ اسکول پہنچا  جہاں سب کچھ ہی عجیب و غریب تھا، کیونکہ یہ اسکول عام انسان نہیں چلا رہےتھے ۔ بلکہ شاید انسان ہی نہیں چلارتھے ۔چندرمکی ۔۔ایک صدیوں پرانی ہستی ۔ ۔۔جس کے پاس کچھ عجیب شکتیاں  تھی۔ انہونی، جادوئی شکتیاں ۔۔۔جو وہ  ان سے شیئر کرتی، جو اس کی مدد کرتے ۔۔۔وہ ان میں اپنی روشنی سے۔۔۔ غیرمعمولی صلاحیتیں اُجاگَر کرتی۔۔۔ جسمانی صلاحیتیں، ہزار انسانوں کےبرابر طاقتور ہونے کی ۔۔جو  وہ خاص کر لڑکوں کے  زریعےیہ طاقت حاصل کرتی ۔۔ ان لڑکوں کو پِھر دُنیا میں واپس بھیج دیا جاتا۔۔تاکہ وہ چندر مکی کی جادوئی صلاحیتوں کے ذریعے، اپنی جنسی قوتوں کا خوب استعمال کریں۔ وہ جتنے لوگوں سے ، جتنی زیادہ جسمانی تعلق رکھیں گے، ان کے اندر اتنی جنسی طاقت جمع ہوتی جائے گی ‘اور چندر مکی کو ان لڑکوں سے وہ طاقت، اس کی دی گئی روشنی کے ذریعے منتقل ہوتی رہتی ۔۔۔ اِس طرح چندر مکی کی جادوی قووتیں اور بڑھ جاتی ۔۔۔ اور پِھروہ ان قووتوں کا کچھ حصہ اپنے مددگاروں میں بانٹ دیتی ۔ اور صدیوں سے یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا آرہاہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

عکس قسط نمبر - 50

وہ ہنسی اور انہوں نے آگے بڑھ کر میرے ماتھے پر کس کیا۔ چنگاریاں اڑیں اور ہنسیکا کا قہر انگیز سینہ کچھ لمحے میری آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ میں نے غور سے اس کے سینے کی وادیوں میں آنکھوں سے غوطہ لگایا اور اس کے جسم کی سمیل محسوس کرنے لگا۔ وہ جیسے ہی پیچھے ہوئیں تو میں نے ان کی آنکھوں میں غور سے دیکھا۔

شرارت اور لذت سے اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ یا پھر میں نے چندر مکی کی روشنی، چنگاریوں کی صورت میں ایک بار پھر اس میں داخل کی تھی۔ جو بھی تھا… اس وقت وہ مجھے بھوکی نظر آ رہی تھی۔ اس کا بدن اس کی فٹنگ کی شلوار قمیض میں ٹوٹ ٹوٹ کر مجھے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ میرے ہاتھ بڑھتے بڑھتے رک گئے اور میں نے ہلکی سی سمائل دے کر، دوبارہ برتن دھونے لگا۔

انہوں نے میرے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور اپنی بھرپور اور سڈول گانڈ مٹکاتی باہر چلی گئیں۔ ہنسیکا کو کوئی علم بھی نہیں تھا کہ وہ میرے چنگل میں پھنستی جا رہی ہے۔

میں اوپر چلا گیا فریش ہونے۔ آج  12  بجے سٹوڈیو جانا تھا ہنسیکا کے۔ میں نے سوچا کہ کریکٹر آہستہ آہستہ بریک کرنا  ہی ہے… کیوں نہ آج ایک ٹریلر دکھایا جائے؟

 جمال نے میری تائید کی اور پھر میں نے اپنے بکھرے بالوں کو دھویا۔ اس کے بعد اپنی الٹی سیدھی کہیں کہیں نکلتی خشخشی داڑھی کو شیو کیا۔ ڈھیلے ڈھالے کپڑوں کے بجائے ایک چست سی سلیو لیس ٹی شرٹ پہنی۔

انڈر ویئر پہنتے پہنتے میں رک گیا، اور میں نے انڈر ویئر کے بغیر ہی ایک تھوڑا ٹائٹ سا ٹراؤزر پہن لیا۔ جو زیادہ بینڈ کرنے سے کافی ٹائٹ سا ہو جاتا تھا۔ پھر میں نے کمرہ لاک کیا، لائٹ آف کی اور فرش پر دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔

میں نے آنکھیں بند کر کےچندرمکی کی روشنی کو محسوس کرنا شروع کیا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں اپنے جسم سے باہر آ گیا ہوں اور اپنے آپ کو فرش پر بیٹھا دیکھ رہا ہوں۔ میرے جسم سے سنہری روشنی پھوٹ رہی تھی اور میرے ارد گرد ایک دائرے کی صورت میں جمع ہو رہی تھی۔ دائرہ روشنی سے گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ حتی  کہ مجھے اپنا آپ نظر آنا بند ہوگیا اور صرف ایک سنہری روشنی کا گولہ ہی نظر آنے لگا۔ اسی ٹائم ایسا لگا جیسے میں نے زور سے سانس اپنے اندر کھینچی ہو اور میں جھٹ سے اپنے جسم میں واپس چلا گیا۔

میں نے آنکھیں کھولیں تو میرے ارد گرد سنہری روشنی میری ناک اور منہ کے ذریعے میری سانس بن کر میرے جسم میں واپس جا رہی تھی۔ اور پھر کچھ سیکنڈز میں سب روشنی میرے ناک منہ سے واپس مجھ میں چلی گئی۔ کمرے میں دوبارہ صرف کھڑکی سے آتی دن کی روشنی چھلکنے لگی۔

میں نے کھڑے ہوکر اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔ میرے ہاتھ گویا سنہری روشنی سے چمک رہے تھے۔ شیشے میں دیکھا تو میرا چہرہ بھی ویسے ہی چمک رہا تھا۔ یہ عمل مجھے  چندرمکی نے خاص طور سے بتایا تھا۔ میرے اندر کی روشنی کو میں کچھ دیر خود سے باہر نکال کر ایک طرح سے سپر چارج کرتا اور پھر اسے دوبارہ اپنے اندر کھینچ لیتا۔

ایسا کرنے سے میری تمام جسمانی صلاحیتوں، بشمول مردانہ ابھاروں کے، کچھ دیر میں 1000 گنا بڑھ جاتی تھی۔ میرا کریکٹر آج بریک پر تھا۔ اور آج یوگا سٹوڈیو کی ساری خواتین کی موت تھی!

میں اپنی پوری تیاری کیے روم سے نکلا تو سپنا ٹیرس سے آتی نظر آئی۔ ٹیرس کا راستہ ہمارے اوپر کے رومز کی راہداری سے ہی نکلتا تھا۔ وہ شاید اپنی ماں کے کپڑے سکھانے ٹانگ کر آئی تھی۔ اس کی نظر جیسے ہی مجھ پر پڑی… اس کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔

شانی بھائی… یہ آپ ہیں؟” اس نے منہ کھولے کہا۔

میں نے ایک دل لبھاتی مسکراہٹ سے کہا۔ہاں میں ہی ہوں… کیوں کیا ہوا؟

نہیں… کچھ نہیں… وہ آپ بہت… اچھے… آئی مین  ڈفرنٹ لگ رہے ہیں…”

وہ بوکھلا گئی تھی میرے پرسنیلیٹی سے۔ ویسے بھی میں نے نوٹ کیا تھا کہ وہ میرے آس پاس تنہائی میں ہوکر اکثر گھبرائی ہی رہتی ہے۔

تھینک یو…” میں نے بدستور اسی سمائل سے کہا اور اسے وہیں کھڑا چھوڑ کر نیچے اترا اور راہداری سے ہوتا باہر جانے لگا۔

یوگا سٹوڈیو پیچھے گیراج کی سائیڈ پر تھا جس کی انٹرینس الگ تھی۔ میں باغ سے ہوتا گیراج تک پہنچا تو دیکھا کہ سوریا چست کپڑے پہنے گیراج کا ڈور کھول کر اندر جارہی تھی۔ سوریا کے بال پیچھے لانگ پونی میں تھے۔ اس کی بل کھاتی کمر پیچھے سے انتہائی چست ورزش ٹاپ میں سیکسی لگ رہی تھی اور نیچے یوگا پینٹس میں قید اس کی گانڈ، اااففففف قیامت!

اور یہ دیکھتے ہی میرے لن میں حرکت ہوئی۔ ویسے بھی میں آج جان بوجھ کر انڈر ویئر کے بغیر آیا تھا کہ ذرا کچھ دیدار ہی کرا دوں سب کو۔

میں گیراج میں داخل ہوا  تو اندر بڑا  سکسی ماحول  بنا ہوا تھا۔ اچھا خاصا بڑا گیراج تھا۔ ایک زمانے میں ادھر 4 گاڑیاں کھڑی ہوتی تھیں۔ لہذا کافی جگہ تھی۔ زیادہ تر ابھی بھی خالی ہی تھا۔ فرش پر یوگا میٹ بچھے تھے اور سامنے ہنسیکا اور سوریا کھڑے تھے۔ ہنسیکا نے بھی سوریا  کی طرح چست ٹاپ اور یوگا پینٹس پہنی تھیں۔

ان کے ممے ٹاپ میں قید اپنی بھرپور شیپ دکھا رہے تھے اور اس کی سڈول بھری بھری ٹانگوں سے جڑی گانڈ مجھے اکسانے لگی۔ شاید ابھی کوئی اور نہیں آیا تھا۔

12 بجے کے ۱۰ منٹ ہو چکے تھے۔ ہنسیکا اور سوریا نے مجھے دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئیں۔

ارے آج یہ میک اوور کیسے ہو گیا؟؟؟” ہنسیکا نے پوچھا۔

“بہت الگ لگ رہے ہو شانی…” سوریا  کی آواز آئی۔

بس کچھ نہیں۔ سوچا آج فریش ہوجاؤں تھوڑا۔ ویسے کمرے میں جب ورزش کرتا ہوں تو یہی پہنتا ہوں۔ آئی ہوپ آپ لوگ  مائنڈ نہیں کریں گے..”

میں نے بڑے تحمل اور کانفیڈنس سے کہا۔ وہ دونوں کچھ کنفیوزڈ سی تھیں۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کون سا  والا شانی ہوں۔ کیونکہ آج میری چال ڈھال، لہجہ اور وضع قطا بالکل الگ تھی۔ ہنسیکا خاص طور سے مجھے بڑی للچائی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔اس کی آنکھوں میں خواہش تھی۔ اور وہ بار بار مجھ سے قریب ہو کر مجھے چھونے کی کوشش کرتی۔

سٹارٹ کریں پھر؟” سوریا نے کہا۔

“ہاں آئی تھنک سو… باقی لوگ آتے ہی ہوں گے…” ہنسیکا بولی اور پھر اس نے سائیڈ پر پڑے ایک اسپیکر کو آن کر کے اپنے فون سے کوئی ہلکی سی میوزک لگا دی۔

چلو شانی لیٹس سی کہ تمہارے مسکلز کتنے کھلے ہیں۔” ہنسیکا نے کہا اور میرے ساتھ ایکسرسائز کرنے لگی۔ وہ جھکتی، مڑتی، اوپر نیچے ہوتی رہی اور میں ان کے جسم کا معائنہ کرتا رہا۔ اتنے دن ہوگئے تھے اور ایک سیکسی بھرپور جسم اپنے سامنے دیکھ کر میری رال ٹپکنے لگی تھی۔ اس کے بعد سوریا نے بھی کچھ سٹائل سے ایکسرسائز کروائی اور اتنی دیر میں  گلفام  اور سپنا بھی آ گئیں۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page