Reflection–54–عکس قسط نمبر

عکس

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور بہترین کہانی ۔۔  عکس۔۔ایک ایسے لڑکے کی داستان جو اپنے والدین کی موت کے بعد اپنے چاچا چاچی  کے ظلم کا شکار ہوا اور پاگل بناکر پاگل خانے میں پہنچادیا گیا۔ جہاں سے وہ ایک ایسے بورڈنگ اسکول پہنچا  جہاں سب کچھ ہی عجیب و غریب تھا، کیونکہ یہ اسکول عام انسان نہیں چلا رہےتھے ۔ بلکہ شاید انسان ہی نہیں چلارتھے ۔چندرمکی ۔۔ایک صدیوں پرانی ہستی ۔ ۔۔جس کے پاس کچھ عجیب شکتیاں  تھی۔ انہونی، جادوئی شکتیاں ۔۔۔جو وہ  ان سے شیئر کرتی، جو اس کی مدد کرتے ۔۔۔وہ ان میں اپنی روشنی سے۔۔۔ غیرمعمولی صلاحیتیں اُجاگَر کرتی۔۔۔ جسمانی صلاحیتیں، ہزار انسانوں کےبرابر طاقتور ہونے کی ۔۔جو  وہ خاص کر لڑکوں کے  زریعےیہ طاقت حاصل کرتی ۔۔ ان لڑکوں کو پِھر دُنیا میں واپس بھیج دیا جاتا۔۔تاکہ وہ چندر مکی کی جادوئی صلاحیتوں کے ذریعے، اپنی جنسی قوتوں کا خوب استعمال کریں۔ وہ جتنے لوگوں سے ، جتنی زیادہ جسمانی تعلق رکھیں گے، ان کے اندر اتنی جنسی طاقت جمع ہوتی جائے گی ‘اور چندر مکی کو ان لڑکوں سے وہ طاقت، اس کی دی گئی روشنی کے ذریعے منتقل ہوتی رہتی ۔۔۔ اِس طرح چندر مکی کی جادوی قووتیں اور بڑھ جاتی ۔۔۔ اور پِھروہ ان قووتوں کا کچھ حصہ اپنے مددگاروں میں بانٹ دیتی ۔ اور صدیوں سے یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا آرہاہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

عکس قسط نمبر - 54

روحیلہ ایک کمپلیکیٹڈ لڑکی ہے۔” میرے بیٹھتے ہی اس نے پانی کا ایک گھونٹ بھرتے ہوئے کہا اور مجھے دیکھا۔ سر چڑھی اور خودسر بھی۔ لیکن وہ میری بیسٹ فرینڈ ہے… پچھلے 6 سالوں سے۔

اوکے۔” میں نے سر ہلایا۔

“میں نہیں چاہتی کہ تمہاری وجہ سے میرے اس کے بیچ کوئی آن بن ہو۔” اس نے مجھے تھوڑا سیریس ہو کر کہا۔ یو نو، اگر تمہارے اور اس کے بیچ کچھ ہو جاتا ہے… تو یہ نہ سمجھنا کہ وہ ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔ محبت میں گرفتار نہ ہو جانا اس کی…” سوریا  مجھے سمجھاتے ہوئے بولی۔

ہاہا۔ سوریا آپی آئی تھنک آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔” میں ہنسا۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ میں تو بس تھوڑا شہری زندگی میں دوبارہ ایڈجسٹ ہونا چاہتا ہوں۔ یو نو؟ نارمل ہونا چاہتا ہوں۔ لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا، دوستی کرنا۔ اسی لیے میں نے روحیلہ کی انویٹیشن ایکسپٹ کی تھی۔

میں نے شدید ٹوپی گھمائی اور پھر اپنی معصومیت کا ماسک چڑھاتے ہوئے بولا۔ “اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایسا ہونے سے آپ کی سوشل لائف کمپلیکیٹڈ ہو جائے گی، تو میں اسے منع کر دیتا ہوں، بلکہ آپ میری طرف سے خود کر دیں۔

سوریا نے ایک پیاری سی سمائل دی۔ شانی، ناؤ آئی انڈرسٹینڈ کہ تمہاری سپلٹ پرسنالٹی کیوں ہے۔ ایک وہ ہے جو بورڈنگ سکول کی سختی میں اتنے سالوں رہا… اور ایک وہ ہے جو بچپن میں اسی شہر سے جڑا تھا….”

اس نے مجھے اینالائز کیا۔ آئی ایم سوری اگر میں نے تم کو تھوڑے بھاری الفاظ میں کچھ کہہ دیا… مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔ تمہارا بھی حق ہے انجوائے کرنے کا۔ میں تو بس تمہیں وارن کر رہی تھی۔ روحیلہ تم سے بڑی ہے اور تم ابھی ینگ ہو۔ اکثر اس طرح کے افیئرز میں جو ینگ ہوتا ہے وہ جلدی بڑے سے اٹیچ ہوجاتا ہے۔ لیکن بڑے کو اور آگے بڑھنا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ینگ بندے کو بہت برا ایموشنل جھٹکا لگتا ہے….” اس نے کافی تفصیل سے ایکسپلین کیا۔

امپریسو۔” میں بولا۔ آپ سائیکالوجی میں کافی انٹریسٹڈ لگتی ہیں۔

بیوقوف، میں امریکہ میں کرمنل سائیکالوجی پڑھنے گئی تھی…” اس نے ہنستے ہوئے کہا اور پھر اس کی آنکھوں میں پرانا وقت یاد کر کے کوئی چمک سی آئی… یا نمی۔

خیر، میں تم سے کچھ بات شیئر کرنا چاہتی تھی جو یہاں سب کو نہیں پتا… بٹ آئی تھنک اگر تم میرے دوستوں سے ملو گے تو تم کو کچھ چیزیں میں کلیئر کرنا چاہوں گی۔” اس نے سیریس انداز سے کہا۔

“بتائیں سوریا آپی۔” میں آگے ہو کر بولا۔

میری یونیورسٹی کے ٹائم سے میرا ایک بوائے فرینڈ ہے…” اس نے آہستہ سے کہا۔

اچھا؟ کون؟” میں نے ایکٹنگ کی۔ میرے اور روحیلہ کے ساتھ پڑھتا تھا۔ امریکہ میں… ریحان،  نام ہے اس کا۔

سوریا نے مجھے رازداری سے بتایا۔ وہیں سیٹلڈ ہے اب۔ اور ہر کچھ مہینوں میں یہاں آتا ہے مجھے سے ملنے…”

اوہ تو جس فرینڈ سے ہم ملنے جا رہے ہیں وہ ریحان ہے؟” میں نے بھرپور حیرت زدہ ہونے کی ایکٹنگ کی۔

یسس۔” سوریا مسکرائی۔

کس کس کو پتا ہے یہاں؟” میں نے پوچھا۔

 ہنسیکا کو… دیٹس آل۔” سوریا نے کہا۔ اور اب تم کو۔

ہممم۔ تو کیا آپ شادی کریں گی اس سے؟” میں نے جھٹ سے سوال کیا۔

ارے؟ یہ کیا تم اس ایج میں شادی وادی کی بات لے آئے ہو؟ دنیا چینج ہو گئی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم شادی کر کے ساتھ رہیں۔ دیٹس دی ریزن میں واپس امریکہ جانا چاہتی ہوں جلد از جلد!” سوریا کی آواز میں اس کے خواب بول رہے تھے۔ اس گھر کے لوگوں کے ساتھ میرا  زیادہ گزارا نہیں ہوتا۔

پھر اس نے ریحان سے متعلق کچھ اور باتیں بتائیں۔ لگ رہا تھا کہ وہ اس لڑکے پر فل لٹو ہے۔ اکثر چیزیں مجھے  شمروز کے ذریعے ویسے ہی پتا چل گئی تھیں۔ لیکن کچھ چیزیں نئی بھی تھیں۔ جیسے کہ روحیلہ اور ریحان ایک دوسرے کو پہلے جانتے تھے اور روحیلہ نے ہی اسے ریحان سے انٹروڈیوس کیا تھا۔ ہممم۔ اس لو سٹوری میں ٹوئسٹ لانے کے زریعے مل رہے تھے۔

کچھ دیر ہم ایسے ہی باتیں کرتے رہے۔ وہ بھی کافی کھل کر گفتگو کر رہی تھی۔ شاید اس گھر میں اسے کوئی اور ایسا میسر نہ تھا جس سے وہ یہ باتیں کر سکتی۔ پھر میں نے کچھ دیر بعد اجازت چاہی تو وہ کھڑے ہوتے ہوئے کہنے لگی۔

 “بس جو میں نے روحیلہ کے بارے میں بتایا ہے اس کا وہ یاد رکھنا۔” وہ دروازے تک مجھے چھوڑنے جا رہی تھی۔

اور ہاں… کیونکہ تم اب میرے دوستوں سے ملو گے تو یہ مت بھولنا کہ سب تم سے بڑے ہیں، لہذا ضروری نہیں کہ تم کو سب باتیں سمجھ آئیں… بور ہوئے تو مجھے بلیم نہ کرنا…” اس نے یہ کہتے ہوئے سمائل کے ساتھ دروازہ کھولا اور میں اسے گڈ بائے کرتا ہوا باہر آ گیا۔

اب سوریا کی گیم میرے سامنے تھی۔ وہ اپنے بوائے فرینڈ سے کافی پیار کرتی تھی، تو پہلے مجھے اس کو راستے سے ہٹانا ہو گا۔ میں اتنا سوچتا ہوا دوبارہ اوپر کمرے میں جانے لگا۔

شام ڈھلنے تک میں اور جمال الٹی سیدھی بکواس کر کے ایک دوسرے کا وقت ضائع کرتے رہے۔

میں بتا رہا ہوں ہنسیکا نے پوری پلاننگ کی ہوئی ہے… یہ اکرم بہت بھڑوا ہے… اپنی بیوی بیچ دے یہ پیسوں کے لیے…” جمال نے اپنے انداز سے اپنا تجزیہ پیش کیا۔

ہنسیکا سے پہلے روحیلہ میرے ہتھے چڑھ سکتی ہے… پرسوں جا رہا ہوں اس کے ساتھ…” میں نے اپنا تجزیہ دیا۔

روحیلہ تو بہت ہی خوار ہے بھائی۔ دیکھا نہیں کیسے بےغیرتوں کی طرح کھلے عام تمہارا لن پکڑ رہی تھی…؟ سیکس کی بھوکی ہے بہت شاید… دیکھ کر ہاتھ ڈالنا اس پر…” جمال مزے لیتے ہوئے بولا۔

روحیلہ فی الحال جو بھی ہے… بہت امپورٹنٹ ہے۔ آئی ہیو اے پلان۔” میں نے خلاؤں میں گھورتے ہوئے کہا۔

 اگر تم چاہو، تو وہ مزید امپورٹنٹ ہو سکتی ہے…” جمال کی آواز آئی۔

کیا مطلب؟” میں نے پوچھا۔

سوچو شانی… میرے دماغی طور سے پسماندہ دوست… سوچو…” جمال میرا مذاق اڑاتے بولا۔

بکواس نہ کر، بتا مجھے سیدھی طرح..” میں نے تھوڑا غصہ کیا۔

اچھا بھائی سن… روحیلہ کی فیملی کافی زیادہ با اثر ہے۔ وہ تم سے ڈھیر ہو گئی تو آگے بڑی کام آئے گی…” جمال نے بتانا شروع کیا۔

مجھے یقین ہے کہ مس کُنایہ اس چوہدری صاحب کے ساتھ کوئی ذریعہ ڈھونڈھ رہی ہوں گی شاکا گارنیٹ سے لڑنے کا… لیکن تمہیں بھی کچھ آپشنز دیکھنے چاہییں۔ اکرم خاموش نہیں بیٹھے گا۔ کچھ کرے گا…”

تو  تو ایسے کہہ رہا ہے جیسے روحیلہ نہیں کوئی ونڈر وومن کی بچی ہو جو مجھے بچا لے گی آکر… ابے اس کی فیملی کے با اثر ہونے سے کچھ ہوتا تو وہ سوریا کو گلفامٰ سے نہیں بچا رہی ہوتی؟” میں نے اس کا آئیڈیا  رد کرتے ہوئے کہا۔

ابے چوتیا انسان، روحیلہ سے میل جول بڑھا۔ میری بات مان۔ اس کے ساتھ اٹھے گا بیٹھے گا، تو تیرا چچا  یا شاکا تجھ پر ہاتھ ڈالتے ہوئے سوچیں گے… تو بس اس کو ڈھیرکر… میرے پاس بھی ایک پلان ہے…” جمال نے مجھے بدستور اپنے آئیڈیا پر پش کرتا ہوئے کہا۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page