Shemale Hunter -37- شکاری کھسرا

شکاری کھسرا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکاری کھسرا ۔ ایک ٹرانس جینڈر (شیمیل، خسرا، کھسرا، وغیرہ وغیرہ) ، کی کہانی جو ہم جنس پرستی یعنی گانڈ مروانے کی  نہیں لڑکیوں کو چودنے کی  شوقین تھی۔ اور وہ ایک امیر خاندان کی بہو کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس کی   دیوانی ہوگئی ، اور اُس کو پٹانے کے لیئے مختلف حیلے بہانے استعمال کرنے لگی ، اور لڑکی   اُس کو ایک  سمارٹ مضبوط ورزشی جسم  کی لڑکی سمجھتی تھی اور اُس کی اپنی طرف ایٹریکشن دیکھ کر اُس کو ایک لیسبین  لڑکی سمجھنے لگی ۔

   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکاری کھسرا -- 37

اسی لیئے ریا بغیر زیادہ سوچ بچار کیئے  آگے ہو کر زُبینہ کے گلاس سے ایک سپ لے لیتی ہے۔۔ ریا کو ڈرنک بہت کڑوی لگتی ہے۔اُس کا منہ بن جاتا ہے اور لگتا ہے کہ جیسے گلے سے لے کر سینے تک کوئی آگ دہک اُٹھی ہو۔۔جبکہ  باقی سب ہنسنے لگ جاتے ہیں۔ 

ریا: اتنی کڑوی چیز کیسے پی لیتی ہو آپ لوگ؟ 

زُبینہ: ارے میری جان، یہ ٹیسٹ کے لیے نہیں ہے۔ اس کے بعد آنے والے سرور کے لیے ہے۔ 

ریا شرما جاتی ہے۔ اسے پہلی بار کسی نے اس طرح کہہ کر  بلایا تھا۔ اُس کو بہت اچھا لگا تھا ، لیکن اُس کے دل میں ایک خیال یہ بھی آیا تھا، کہ کاش یہ سب اُس کو کہنے والی کوئی عورت نہ ہوتی، ایوناش یا پھر اُس کا من پسند کوئی مرد ہوتا۔ 

ریا: اچھا، تو ویٹ کرتی ہوں سُرمیں آنے  کا۔

زُبینہ: ارے، ایک سپ سے کیا سُرمیں آئے گی۔

ریا اب اچھے سے کمفرٹیبل ہو چکی تھی اور زُبینہ کے ٹچ سے تھوڑا ایکسائٹ بھی ہو چکی تھی۔ ریا آگے ہو کر خود سے ایک اور سپ لے لیتی ہے۔ اسے ابھی بھی کڑوی لگتی ہے۔ وہ جلدی سے ایک اسنیک کا پیس لے کر منہ میں ڈال لیتی ہے۔ تبھی زُبینہ کہتی ہے 

زُبینہ: مجھے بھی کھلا۔ 

ریا ایک پیس اپنے ہاتھوں سے زُبینہ کے منہ میں ڈال دیتی ہے۔

 اتنا رومانٹک سین چل رہا تھا کہ ایک ہائی کلاس شادی شدہ  ایک لو کلاس شادی ہال  میں ایک کھسرے کی گود میں بیٹھ کر اسے اپنے ہاتھوں سے کھلا رہی تھی اور ڈرنک شیئر کر رہی تھی۔ 

جبکہ ریا دل میں سوچ رہی ہوتی ہے کہ :کاش اس وقت میں زبینہ کی طرح کسی تگڑے مرد کی آغوش میں بیٹھی ہوتی تو  کتنا مزہ آتا ، میری چوت  میں تو زبینہ کے ٹچ سے ہی کھجلی شروع ہوگئی ہے ، اور زبینہ زیادہ سے زیادہ کیا کرے گی ، اگر وہ میرے ساتھ لیسبین سیکس بھی کرتی ہے تو جیسے دوسری لڑکیوں کو میں نے موویز وغیرہ میں دیکھا ہے ویسے ہی انگلیاں مارے گی اور میری چوت کو چاٹے گی ، لن تو نہیں ملے گا۔کیونکہ اصل مزہ تو لن سے ہی آتا ہے۔اُففففففف ۔۔میں بھی کیا کیا سوچنے لگ گئی ہوں۔

یہ خیالات ہی زبینہ کو بہت ایکسائٹ کر رہے تھے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے وہ یہ سب سوچ رہی ہے اور زبینہ کی گود میں بیٹھ کر اُس کو اپنے جسم سے کھیلنے دے رہی ہے ۔ یہ سچویشن وہ خواب میں بھی کبھی نہیں سوچ سکتی تھی۔ مگر  آج  یہ سب رئیل میں ہو رہا تھا۔

ریا اب تھوڑا سُر میں بھی آگئی تھی اور انجوائے کر رہی تھی۔ اسے اب کوئی فکر نہیں تھی کہ وہ کیسی جگہ پر بیٹھی ہے۔ وہ بس زُبینہ کی گود میں بیٹھ کر ایک ایک سپ اس کے گلاس سے ڈرنک کر رہی تھی اور اپنے ہاتھوں سے زُبینہ کو اسنیکس کھلا رہی تھی۔ کچھ دیر ایسے ہی چلتا رہا۔ ریا مزے مزے میں 5-6 سپ لے چکی تھی۔ اور پہلی بار پینے والے کے لیئے یہ بہت تھی ۔وہ  اب اچھی خاصی  سرور میں آچکی تھی۔

تبھی زُبینہ کہتی ہے:چلو اب ڈنر کر لیتے ہیں۔ 

جب ریا کھڑی ہوئی  تو اس کا سر ہلکا ہلکا گھوم رہا تھا۔ زُبینہ  ریا کا ہاتھ پکڑ کر ڈنر جہاں لگا تھا اس طرف چلنے لگی۔ مگر  ریا کے لیے سیدھا چلنا تھوڑا مشکل ہو رہا تھا۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد اس کا ہلکا سا پیر مڑ جاتا ہے اور  وہ گرنے لگتی ہے۔ زُبینہ جلدی سے اسے پکڑ لیتی ہے اور گرنے نہیں دیتی۔ وہ اسے کھڑا کرتی ہے، مگر  ریا سے چلا نہیں جا رہا تھا۔ اس کے پیر میں درد ہو رہی تھی۔ زُبینہ بغیر کچھ سوچے اسے اپنی گود میں اٹھا لیتی ہے۔ 

ریا کو تو پہلے یقین ہی نہیں ہوا کہ زُبینہ نے اسے اٹھا لیا ہے۔ زُبینہ نے اتنی آسانی سے، بغیر کسی ایفرٹ کے، بڑے آرام سے اسے اٹھا لیا تھا۔ ریا اپنا درد کچھ دیر کے لیے بھول گئی تھی۔ اسے بس یقین نہیں ہو رہا تھا۔ وہ دل  میں سوچ رہی تھی 

کتنی سٹرانگ ہیں زُبینہ جی… ایک سیکنڈ میں مجھے اٹھا لیا، وہ بھی اتنی آسانی سے۔ ایوناش نے لاسٹ ٹائم جب اٹھایا تھا تو ان کی بیک میں درد ہو گیا تھا۔ 

زُبینہ اب ریا کو اپنی گود میں اٹھائے سیدھا ایک ٹیبل کے پاس لے گئی جہاں وہ پہلے بیٹھے تھے۔ زُبینہ بہت آرام سے چل رہی تھی۔ ریا کو آج احساس ہوا کہ زُبینہ کتنی سٹرانگ ہے۔ اسے ابھی درد تو ہو رہا تھا، لیکن ایکسائٹمنٹ زیادہ ہو رہی تھی۔ زُبینہ اسے بٹھا دیتی ہے اور اس کا سینڈل اتار کر اس کا پیر رَب کرنے لگ جاتی ہے۔ ریا کو اب تھوڑا آرام آنے لگتا ہے۔ 

زُبینہ: اب ٹھیک لگ رہا ؟ 

ریا:  جی،اب پہلے سے  بہتر ہے۔ 

زُبینہ: اچھے سے پیر ہلا کر دیکھ… زیادہ تو نہیں لگی؟ 

ریا: نہیں نہیں… بس تھوڑا مڑ گیا تھا پیر۔ 

ریا کو بہت اچھا لگ رہا تھا جس طرح سے  زُبینہ نے اس کی کیئر کی۔ وہ اب تھوڑا ایمویشنل ہو گئی تھی۔ شادی کے بعد  سے ایسی کیئراُس کی  کسی نے نہیں کی ۔ یہ سوچ کر وہ رونے لگتی ہے۔ ریا کو خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیوں رونے لگی۔ شاید یہ ڈرنک کے نشے کی وجہ سے تھا، مگر اس نشے سے  اس کے دبے ہوئے جذبات باہر آنے لگے۔ زُبینہ کو لگا شاید ریا کو درد ہو رہی ہے اسی لیے وہ رونے لگی۔ وہ اب تھوڑا پریشان  ہو گئی اور ریا کے پاس ہی بیٹھ گئی۔ 

جیسے ہی زُبینہ بیٹھی، پتا نہیں ریا کو کیا ہوا، اس نے فوراً زُبینہ کو ہگ کر لیا۔ زُبینہ بھی چونک گئی۔ اس نے بھی ریا کو ہگ کر لیا۔ کچھ دیر تو دونوں ایسے ہی رہے۔ پھر زُبینہ دھیرے دھیرے اپنے مظبوط  ہاتھ ریا کی نرم کمر اور شولڈر پر پھیرنے لگی ۔ ریا بھی دھیرے دھیرے نارمل ہونے لگی۔ اسے اب پھر سے اچھا لگنے لگا۔ اس کا اپنے پیر پر تو بالکل دھیان ہی نہیں تھا۔ اسے بس اچھا لگ رہا تھا۔ 

زُبینہ: ٹھیک ہے تو؟ 

ریا: جی، ٹھیک ہوں۔ 

زُبینہ: رو کیوں رہی ہے پھر؟ درد ہو رہی کیا؟ 

ریا: نہیں… درد نہیں ہو رہی۔ 

زُبینہ: پھر کیا ہوا؟ 

ریا: بس ایسے ہی ایمویشنل ہو گئی… مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہا کیوں۔ 

زُبینہ سمجھ گئی کہ ریا کو تھوڑی چڑھ گئی ہے۔ اسے لگا اچھا موقع ہے اس کے دل کی باتیں باہر نکلوانے کا۔ تو زُبینہ۔ روحانہ اور شبنم کو اشارہ کر کے جانے کو کہتی ہے۔ اس سے ریا بھی اور کمفرٹیبل ہو جائے گی۔ 

زُبینہ: ایمویشنل کیوں ہو گئی؟ 

ریا اب تھوڑا ہائی تھی۔ وہ اب بغیر کچھ سوچے دل کی باتیں بولنے لگی۔ 

ریا: بس جس طرح آپ میری کیئر کرتی ہو… وہ دیکھ کر ایمویشنل ہو گئی۔ میری شادی کے بعد کسی نے میری  اتنی کیئر نہیں کی۔ 

زُبینہ: تیرے پتی نے بھی نہیں؟ 

ریا: اس کا تو نام نہ لو… وہ تو اپنے مزے کر رہا۔ سوری زُبینہ جی، لاسٹ ٹائم آپ نے مجھے سمجھایا بھی، مگر  میں نے آپ کی سنی نہیں۔ لیکن  اب مجھے سب سمجھ آ گیا ہے۔ 

زُبینہ: چل، اچھا ہے، سمجھ آ گیا تجھے تو۔ 

ریا: آپ کتنی کیئر کرتی ہو میری… اتنی کوئی نہیں کرتا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page