Shemale Hunter -44- شکاری کھسرا

شکاری کھسرا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکاری کھسرا ۔ ایک ٹرانس جینڈر (شیمیل، خسرا، کھسرا، وغیرہ وغیرہ) ، کی کہانی جو ہم جنس پرستی یعنی گانڈ مروانے کی  نہیں لڑکیوں کو چودنے کی  شوقین تھی۔ اور وہ ایک امیر خاندان کی بہو کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس کی   دیوانی ہوگئی ، اور اُس کو پٹانے کے لیئے مختلف حیلے بہانے استعمال کرنے لگی ، اور لڑکی   اُس کو ایک  سمارٹ مضبوط ورزشی جسم  کی لڑکی سمجھتی تھی اور اُس کی اپنی طرف ایٹریکشن دیکھ کر اُس کو ایک لیسبین  لڑکی سمجھنے لگی ۔

   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکاری کھسرا -- 44

زُبینہ: “ہاہاہاہاہاہاہا… تیرے شوہر سے بڑا ہے نا؟ 

ریا: “بہت بڑا ہے آپ کا اس سے۔” (شرما کر بولتی ہے) 

زُبینہ: “اچھا… اس کا کتنا ہے؟ 

ریا: “4 انچ کے اراؤنڈ ہوگا۔ 

زُبینہ: “ہاہاہاہاہاہا… چوتیا کہیں کا… اتنے لنڈ سے تمہیں کیسے  خوش رکھتا ہوگا۔ 

ریا اس پر بھی شرما جاتی ہے۔ ایسی باتیں کرتے کرتے دونوں اپنے اپنے جسموں کے ساتھ خود کھیلنے لگ جاتی ہیں۔ 

زُبینہ کے دماغ میں چل رہا تھا 

کیا مست ممے  ہیں یار… پنک نپلز ہیں۔ سامنے ہوتی تو اچھے سے دباتی، اچھے سے چوستی کہ یاد رکھتی یہ بھی۔ اس کی چوت بھی پکا پنک کلر کی ہی ہوگی… اور ابھی کھلی بھی نہیں ہوگی… 4 انچ کے لنڈ سے  اس کے شوہر نے کیا  کر لیا ہوگا … میں ہی سیل توڑوں گی اس کی کل… کل تو پوری رات اچھے سے چودوں گی اسے۔ 

زُبینہ یہ سوچتے سوچتے فارغ ہو جاتی ہے۔ اسے سمجھ نہیں آتا کیا ہے ریا میں ایسا کہ اس کے بارے میں سوچ کر اتنی جلدی کیسے جھڑ جاتی ہے وہ۔ 

ریا: “جی 

زُبینہ: “فکر مت کر… میں ہوں ناں اب۔ 

ریا شرما جاتی ہے۔

ریا: “جی بلکل۔ 

زُبینہ: “چل اب میں سوتی ہوں۔ کل ملتے ہیں پھر… پھر سامنے بیٹھ کر یہ سب باتیں کریں گے۔ 

ریا: “ہاں جی… اسی کا ہی ویٹ ہے۔ 

زُبینہ: “گڈ نائٹ میری سیکسی۔ 

ریا: “گڈ نائٹ۔” (کس) 

زُبینہ تو جھڑ کر سو جاتی ہے۔ ریا ابھی بھی فارغ نہیں ہوئی تھی۔ وہ ابھی بھی زُبینہ کے لنڈ کی فوٹو دیکھ رہی تھی۔ وہ دل  میں سوچتی ہے 

یہ تو کل سے بھی بڑا لگ رہا… کیسے اس کی رگیں بھی تنی ہوئی  دکھ رہی ہیں… اور کتنا لمبا اور موٹا بھی ہے… ایوناش کا تو سچ میں اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ 

ریا اب سوچتے ہوئے موازنہ کرنے لگ گئی۔ وہ پھر سے سوچتی ہے 

فرسٹ ٹائم سیکس جب ایوناش کے ساتھ کیا تھا تب اتنا درد ہوا تھا… اس کا تو ہے بھی  اتنا چھوٹا سا ۔ زُبینہ جی جیسا ہو پھر تو کتنا  درد ہوتا ہوگا… کیا میں لے پاؤں گی اپنے اندر اتنا بڑا لنڈ… مجھے تو سوچ کر ہی ڈر لگ رہا۔ 

یہ سب سوچ کر ریا بہت زیادہ گیلی  ہو چکی تھی۔ وہ اب اپنی چھوٹی سی چوت میں تیزی  سے اپنی انگلی اندر باہر کرنے لگ گئی تھی۔ 

اگر ایوناش کا چھوٹا سا لنڈ اتنا مزہ دیتا تھا تو سوچ زُبینہ جی کا لنڈ  کتنا  مزہ دے گا… اوپر سے زُبینہ جی کا اسٹیمنا بھی کتنا زیادہ ہوگا۔ 

اب وہ  خیال میں تصور کرنے لگ جاتی ہے زُبینہ کا لنڈ اپنے اندر جاتے ہوئے۔ اسے بہت ایکسائٹمنٹ ہونے لگتی ہے۔ 

ریا: “آہہہ… زُبینہ جی۔ 

اور ساتھ میں اُس کی انگلی کی چوت میں رفتار بھی تیز ہوجاتی ہے جس سے وہ کچھ دیر میں ہی  جھڑ جاتی ہے۔

ریا آج صبح گھر میں تھوڑے شور شرابے سے اٹھتی ہے۔  کیونکہ سب گھر والے جانے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ ریا بھی جلدی سے اٹھ کر سب کی ہیلپ کرنے میں لگ جاتی ہے۔ اس کا پیر کل سے ٹھیک تھا، مگر  وہ سب کو ایسے دکھا رہی تھی کہ جیسے ابھی بھی اُس کے پیر میں درد ہے ۔ 

تھوڑی دیر بعد تقریباً 11 بجے سب نکل جاتے ہیں۔ وہ اب خوش تھی، مگر  ابھی بھی بہت کام کرنا تھا، اوپر سے محتاط بھی رہنا تھا کہ کسی کو پتا نہ چل جائے۔ ریا سوچ رہی تھی کہ دوپہر میں ڈیکوریشن والے کو بلا لے گی۔ اس ٹائم موسٹلی لوگ سو رہے ہوتے ہیں، تو کم چانس ہوگا  کہ کوئی دھیان دے۔ اور شوبھا کو بھی پارٹی سے پہلے ہی بلا لے گی، اس سے اسے بھی تھوڑی  ہمت ملے گی  اور ہیلپ بھی ہو جائے گی۔ 

ریا اب سب سے پہلے ڈیکوریشنز اور کیک ایپ کے ذریعے  بک کر دیتی ہے۔ پھر وہ نہانے چلی جاتی ہے۔ آج وہ بہت آرام سے ٹائم لگا کر نہاتی ہے۔ اسے آج بہت اچھا نظر آنا  تھا۔ ریا اب ریڈی ہو کر زُبینہ کو کال کرتی ہے۔ 

ریا: “ہیلو۔ 

زُبینہ: “ہیلو سیکسی۔ 

ریا: “کیا کر رہی ہے؟ 

زُبینہ: “کچھ نہیں… وہ شبنم کے گھر جا رہی تھی۔ 

ریا: “اچھا 

زُبینہ: “چلے گئے تیرے گھر والے؟ 

ریا: “ہاں جی، سب گئے۔ 

زُبینہ: “پھر تو اچھی بات ہے ۔ 

ریا: “پارٹی کا ٹائم تقریباً 10 بجے رکھ لیتے ہیں… اس ٹائم تک سب آس پاس والے سو جائیں گے۔ پھر 12 بجے کیک کاٹ  لیں گے۔ 

زُبینہ: “ٹھیک ہے… ایسا کر لیتے ہیں۔ 

ریا: “اور آپ کہہ رہی تھی ناں بتائیں گی کیا پہننا ہے رات کو… میں تیاری کر لوں گی۔ 

زُبینہ: “ہاں وہ تو میں بھول ہی گئی… تو وہ ہوتی ہے ناں ون پیس ڈریس… سیکسی سی۔ ایسا کچھ پہنو۔ 

ریا: “جی سمجھ گئی۔ اب بس آپ شام کو دیکھنا مجھے… آج پھر ہوش اڑھا دوں گی آپ کے۔ 

زُبینہ: “ہاہاہا ہاہاہاہا… اسی کا انتظار ہے میری جان۔ چل شام میں ملتے ہیں۔ 

ریا: “بائے۔ 

ریا اب اپنی ڈریس فائنل کرنے میں لگ جاتی ہے۔ اسے پہلے تو کچھ پسند نہیں آ رہا تھا، پھر فائنلی اسے ڈریس مل جاتی ہے جس میں وہ بہت زیادہ سیکسی لگے گی۔ 

دوپہر میں ڈیکوریشن والے بھی آ جاتے ہیں۔ ریا اچھے سے ڈیکوریٹ کرواتی ہے اپنے گھر کو زُبینہ کے لیے۔ اور کیک بھی بڑا والا منگواتی ہے۔ یہ سب وہ ایوناش کے پیسوں سے کر رہی تھی  زُبینہ کے لیے… اور اسے بڑا پراؤڈ بھی فیل ہو رہا تھا۔ 

تبھی اسے شوبھا کی کال آ جاتی ہے۔ 

شوبھا: “ہیلو ریا۔ 

ریا: “ہاں بول۔ 

شوبھا: “ڈریس کوڈ کیا ہے پارٹی کا؟ 

ریا: “ڈریس لے آ کچھ اچھی سی 

شوبھا: “اوکے… اور کتنے لوگ ہوں گے وہاں؟ 

ریا: “زیادہ نہیں… زُبینہ جی کی 3 فرینڈز ہوں گی بس اور ہم۔ 

شوبھا: “اوکے اوکے… چل میں نکل کر کرتی ہوں میسج… 1 گھنٹہ لگے گا مجھے آنے میں۔ 

ریا: “اوکے ٹھیک ہے۔ 

ریا پھر سے اپنی تیاری میں لگ جاتی ہے۔ وہ زُبینہ کے لیے اسپیشل سویٹ ڈش بھی بنا رہی تھی۔ تبھی زُبینہ کا میسج آتا ہے 

زُبینہ: “دارو کا انتظام بھی کر لے جانی۔ 

ریا یہ پڑھ کر تھوڑا چونک جاتی ہے۔ دارو کا انتظام کرنا اس کے لیے مشکل تھا کیونکہ یہ آن لائن بھی نہیں مل سکتی… نہ ہی کسی کو بھیج کر منگوا سکتی ہے۔ پھر اس نے سوچا شوبھا کے ساتھ جا کر لے آئے گی… ،گر  وہاں کسی نے دیکھ لیا تو… تبھی اسے یاد آیا  کہ  ایوناش لاسٹ ٹائم کچھ مہنگی بوتلیں لایا تھا۔ وہ نکال کر دے دے گی زُبینہ کو… وہ بھی خوش ہو جائیں گی۔ ریا بس زُبینہ کو خوش کرنا چاہتی تھی… وہ کچھ نہیں سوچ رہی تھی آگے کیا ہوگا۔ 

ریا: “جی ہو جائے گا انتظام… آپ ٹینشن نہ لو۔ 

زُبینہ: “ٹھیک ہے۔ ملتے ہیں رات کو۔ 

ریا: “جی ٹھیک ہے۔ 

ریا پھر سے کچن کے کاموں  میں لگ جاتی ہے۔ اور کرتے کرتے شام ہو جاتی ہے۔ تبھی بیل بجتی ہے۔ ریا دروازہ کھولتی ہے تو سامنے شوبھا کھڑی ہوتی ہے۔ 

ریا: “ویلکم۔ 

شوبھا آگے ہو کر گلے لگتی ہے۔ 

ریا: “آ جا اندر۔ 

شوبھا: “واہ کیا بھڑیا سجایا ہے گھر۔ پورا زور لگا دیا زُبینہ کو امپریس کرنے کے لیے… ہاہاہا۔ 

ریا: “تو بھی ناں… چل آ جا اندر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ 

شوبھا: “آج تو الگ ہی چمک رہی ہے… کیا کرنے کا ارادہ ہے؟ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page